Photo Credit ISPR Twitter

2018 تبدیلی کا سال ہے، ترجمان پاک فوج
04 جون 2018 (18:24) 2018-06-04

راولپنڈی : ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ حکومت کی مدت پوری ہونے پر ہمیں سب سے زیادہ خوشی ہے ، فوج کو سیاست اور الیکشن میں نہیں گھسیٹنا چاہیے، 2018 تبدیلی کا سال ہے ، الیکشن کروانا الیکشن کمیشن کا کام ہے فوج کا نہیں ، الیکشن میں سیکورٹی طلب کی تو قانون کے مطابق کام کریں گے ، فوج کو آئینی حدود میں جو کردار سونپا گیا وہ اسے ادا کرے گی، فاٹا کا خیبرپختون خوا میں انضمام تاریخی کامیابی ہے، فاٹا انضمام کا افغانستان کے ساتھ نہ پہلے کوئی تعلق تھا اور نہ آئندہ ہو گا.

امن کیلئے فوج اور حکومت پر اعتماد رکھنا ہوگا، غیر ملکی میڈیا پی ٹی ایم کے جلسے کو کیوں براہ راست نشر کررہا ہے، ہمارے پاس بہت سے ثبوت ہیں کہ کس طریقے سے پی ٹی ایم کو استعمال کیا جا رہا ہے، وانا میں پی ٹی ایم کارکن فوج مخالف نعرے لگا رہے تھے، آپ ریاست کو طاقت کے استعمال پر مجبور کررہے ہیں،پاکستان میں حقانی نیٹ ورک سمیت کوئی منظم دہشت گرد گروپ موجود نہیں ہے، آپریشن ضرب عضب میں تمام دہشت گروپوں کا صفایا کیا، افغان مہاجرین کی باعزت واپسی ضروری ہے ، ایران کے ساتھ سرحد پر حالات بہتر ہوئے ہیں،محفوظ سرحد دونوں ممالک کے مفاد میں ہے، اسد دروانی کیخلاف انکوائری کا نتیجہ جلد آئے گا ، اس نے جو باتیں کیں وہ ان کی ریٹائر منٹ کے بعد کی ہیں ، وردی پہننے سے فرشتہ نہیں بن جاتے، غلطی کرنے پر سزا بھگتنی پڑتی ہے.

غلطی پر پاک فوج نے چاہے جرنل ہو یا سپاہی کسی کو معاف نہیں کیا ، بھارت نے 13برس میں 2ہزارسے زائدبارجنگ بندی کی خلاف ورزی کی ، 2018میں 1ہزار77سیز فائر خلاف ورزیاں ہوچکی ، بھارت اور پاکستان دونوں ایٹمی طاقت ہیں، ہماری امن کی خواہش کو ریاست، حکومت اور فوج کی سطح پر کمزوری نہ سمجھا جائے،پاکستان سیز فائر سمجھوتے کی پاسداری کرنا چاہتاہے،بھارت کی جانب سے اگر دوسری گولی آتی ہے تو پھر بھرپور جواب دیتے رہیں گے،پاکستان سے زیادہ کسی کی خواہش نہیں کہ افغانستان میں امن قائم ہو، افغانستان کے ساتھ جیو فینسنگ شروع کی تو سرحد پار فائرنگ سے 7 سپاہی شہید اور 39 زخمی ہو چکے،سلمان بادینی کی ہلاکت کے بعد بلوچستان میں امن کی صورتحال بہتر ہونے کی امید ہے ،جب بھی کسی بیرونی خطرے پر بات کی تو پوری لیڈرشپ نے فیصلہ کیا،جو ہم نے دہشت گردوں کے خلاف حاصل کیا سپر پاور سمیت کسی ملک نے نہیں حاصل کیا ۔

پیر کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ مجھے بہت زیادہ ٹیلی فون آرہے تھے صحافیوں کی جانب سے اسی سے متعلق پریس کانفرنس کرنا پڑی،2003سے 2016تک ٹوٹل 2007جنگ بندی کے خلاف ورزیاں ہوئیں، 2017میں 1881جنگ بندی کی خلاف ورزیاں ہوئیں، بھارت کی طرف سے کی گئیں، اس کے نتیجے میں دونوں جانب سے جانی نقصان ہوتا رہا، بھارت کی جانب سے ہمایر شہری آبادی کو نشانہ بنایا جاتا رہا، 2015میں ہونے والے جانی نقصان کے مطابق 39 لوگ شہید جبکہ 142زخمی ہوئے، 2016میں 46شہید جبکہ 142زخمی ہوئے، 2017میں 52شہید جبکہ 254زخمی ہوئے،2018میں 48شہید اور 265زخمی ہوئے، ان حالات پر دونوں ممالک کے ڈی ایم اوز بات چیت کرتے ہیں، آخری ہفتے ہونے والی بات چیت میں دونوں ممالک اس بات پر متفق ہوئے کہ جنگ بندی کے معاملات پر پابندی کریں گے، اس کے باوجود بھارت کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی جاری رہی، بھارتی میڈیا نے اس کے باوجود اس کو پاکستان کے خلاف قرار دے دیا جو بات چیت ڈی جی ایم اوز کے درمیان جنگ بندی کے معاملے پر ہوئی ہم اس کااحترام کرتے ہیں، جب ان کا فائر ہماری شہری آبادی کی جانب آتا ہے ہمیں اس کی جوابی کارروائی کرنا پڑتی ہے، اگر وہ جنگ بندی کی خلاف ورزی نہ کریں جس میں کسی شہری کا جانی نقصان نہ ہو ہم ایک فائر بھی نہ کریں، ہماری امن کی خواہش کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے، ہم امید کرتے ہیں کہ بھارتی فوج اور میڈیا اس مسئلے کو بہتری کی طرف لے کر جائے گا، پچھلے دنوں اسلام میں سارک ممالک کے کچھ جرنلسٹ آئے ہوئے تھے، ان جرنلسٹ میں چار کا تعلق بھارت سے تھا، ہم نے انہیں شمالی وزیرستان کا دورہ کرایا تا کہ وہ خود جا کر دیکھیں کہ جو الزامات بھارت کی جانب سے پاکستان پر لگائے جاتے ہیں اس کا اندازہ لگائیں تا کہ وہ خود دیکھ سکیں کہ پاکستان نے امن کی بحالی کےلئے کتنی قربانیاں دیں، ان جرنلسٹوں نے بھارت جا کر بہت مثبت آرٹیکل لکھے، ان میں سے ایک جرنلسٹ نے سوال کیا کہ جب بھی پاکستان اور بھارت کے تعلقات خوشگوار ہونا شروع ہوتے ہیں تو کوئی واقعہ پیدا ہو جاتا ہے، میں نے ان سے کہا کہ آپ کی طرف صرف دو واقعات وقوع پذیر ہوئے ہیں، اس کے متعلق آپ سے پاکستان ثبوت مانگ رہا ہے، اس کے باوجود پاکستان میں سینکڑوں دہشت گردی کے واقعات ہوئے ہیں جن کے ثبوت پاکستان کے پاس ہیں، پاکستان افغانستان میں امن کا خواہشمند ہے، افغان قومی سلامتی کے مشیر نے پاکستان کا دورہ کیا اور آرمی چیف سے ملاقات کی، افغان سلامتی مشیر سے بہت مفید بات چیت ہوئی، جب سے ہم نے سرحد پر باڑ لگانا شروع کی ہے تب سے اب تک 100سے زائد مرتبہ جنگ بندی خلاف ورزیاں ہو چکی ہیں، وہ لوگ جو باڑ لگارہے ہیں اور قلعے بنا رہے ہیں، ہمارے 7فوجی شہید اور 39زخمی ہو چکے ہیں، امریکہ کے ساتھ ہمارے تعلقات دباﺅ کا شکار ہیں، ہماری فوج نے پچھلی دو دہائیوں سے دہشت گردی کا مقابلہ جس طرح کیا ہے اس کی مثال پوری دنیا میں کہیں نہیں ملتی، ہم نے یہ سیکھا ہے کہ سب سے پہلے پاکستان چاہتا ہے کہ افغانستان کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے مشترکہ چیلنجز سے نمٹیں،ہم چاہتے ہیں کہ امریکہ اغفانستان سے کامیاب ہو کر نکلے اور افغانستان میں امن ہو اور افغان عوام کی خواہشات کے مطابق حکومت قائم ہو، پاکستان نے حقانی نیٹ ورک سمیت تمام دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کی ہے، ہمارے ہاں کسی بھی دہشت گرد تنظیم کا نیٹ ورک موجود نہیں ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ امریکی اور دیگر ممالک بھی اس بات کو تسلیم کر رہے ہیں کہ آپریشن ضرب عضب کے مثبت اثرات سامنے آرہے ہیں، ایران کے ساتھ بارڈر پر حالات بہتر ہوئے ہیں، ہم نے بلوچستان میں خوشحال بلوچستان پروگرام شروع کیا ہوا ہے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے سلمان بدینی کو مقابلے کے بعد ہلاک کیا گیا، سلمان بدینی 100 سے زائد ہزارہ کمیونٹی اور پولیس والوں کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث تھا، سلمان بدینی کے نیٹ ورک ٹوٹنے سے بلوچستان میں مزید امن کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ سلمان بدینی کی ہلاکت پر ہزارہ کمیونٹی نے شکریہ ادا کیا، فاٹا کا کے پی کے میں انضمام ایک یادگار کام ہوا ہے، یہ تاریخی فیصلہ ہے جو قومی لیڈر شپ نے کیا ہے، تمام قبائل کو اب ساتھ لے کر چلنا ہے، اب فاٹا کو ترقی کی جانب لے کر جانا ہے، منظور پشتین اور محسن داوڑ سے میری آفس میں ملاقات ہوئی، جس میں انہوں نے مجھ سے نقیب محسود، چیک پوسٹ اور گمشدہ افراد سے متعلق بات کی، میں نے ان کی ملٹری کمانڈرز سے بھی ملاقات کرائی، بعد میں محسن داوڑ کا مجھے شکریہ کا پیغام بھی ملا، بعد میں سوشل میڈیا پر کس طرح 5ہزار اکاﺅنٹس بن گئے اور کس طریقے سے ٹوپی باہر سے بن کر پاکستان آ گئی اور کس طرح ملک سے باہر اینٹی پاکستان مظاہرے شروع ہو گئے اور کس طرح غیر ملکی میڈیا اس کو سوشل میڈیا پر دکھانا شروع کر دے، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باوجود نے ہمیں سختی سے ہدایت کی تھی کہ ان لوگوں کو کسی بھی جگہ سختی سے ڈیل نہیں کرنا، پشتون تحفظ موومنٹ کے لاہور جلسے پر آرمی چیف نے کہا کہ ان کے ساتھ نرمی سے برتاﺅ کیا جائے، محسود اور احمد زئی قبیلے نے امن کمیٹی میں دہشت گردوں کے خلاف سالہا سال جنگ لڑی، علی وزیر نے اپنے علاقے میں جا کر پاک آرمی مخالف نعرے لگائے جس سے وہاں ان کے آپس کے حالات کشیدہ ہو گئے اور کچھ اموات ہوئیں اور لوگ زخمی بھی ہوئے، ان زخمیوں کو پاک فوج نے وہاں سے نکالا اور ان کو آپس میں لڑنے سے منع بھی کیا، ہم طاقت کا استعمال نہیں چاہتے، اب وقت اکٹھا رہنے کا ہے اور ملک کو آگے لے کر جانے کا ہے، پچھلے دس سال میں عوام کی محبت فوج کےلئے بڑھی ہے، ہم پر اگر الزام لگایا جائے گا تو ہمیں فرق نہیں پڑے گا، ہم ہر کسی کی بات کا جواب نہیں دے سکتے، ہم پر لگنے والے الزامات وقت کے ساتھ جھوٹے ثابت ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں کوئی فوج دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیاب نہ ہو سکی، صرف پاکستان کی فوج کامیاب ہوئی ہے، سپاہی چیک پوسٹ پر شہید ہوتا ہے، افواج پاکستان نے اپنی زندگی پاکستان کے نام پر لکھی ہوئی ہے، فوج کو گالیاں نکالنے سے آپ کا قد اونچا ہوتا ہے تو ضرور کریں لیکن اگر پاکستان کا قد نیچا ہوتا ہے تو نہ کریں۔ ڈی جی آئی ایس پی آرنے کہا کہ کراچی جرائم کی سطح میں 6ویں نمبر پر تھا اب 60ویں نمبر پر آ گیا ہے، کراچی کے عوام کو امن کےلئے خود کھڑا ہونا پڑے گا، جب تک سول ایڈمنسٹریشن اور پولیس کراچی میں افیکٹو نہیں ہو گی اس وقت تک جرائم پر مکمل قابو ممکن نہیں ہے، آپریشن رد الفساد کے تحت پنجاب میں آپریشن جاری ہیں، رینجرز پر کچھ ماہ سے بہت دباﺅ تھا، کیونکہ ورکنگ باﺅنڈری پر بھی بھارت کی جانب سے متعدد بار سیز فائر کی خلاف ورزی کی گئی تھی، اگر میڈیا مالکان یا صحافیوں کو آئی ایس پی آر کی جانب سے کسی قسم کی کوئی ہدایت ملی ہے تو بتائیں، ہمیں سوشل میڈیا کو عقلمندی سے ڈیل کرنا ہے، ہم اگر سوشل میڈیا کے استعمال میں احتیاط نہیں کریں گے تو کون کرے گا۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اسد درانی سیاسی وجوہات کی وجہ سے فوج سے قبل از وقت ریٹائر ہوئے، انہوں نے اپنی کتاب میں ریٹائرمنٹ کے بعد کے واقعات لکھے، سروس کے بعد کی باتوں پر آپ اپنا تجربہ اور مشاہدہ لکھ رہے ہیں تو وہ غلط ہے، جلد از جلد انکوائری کا نتیجہ سامنے آجائے گا، وردی پہننے سے فرشتہ نہیں بن جاتے، غلطی کرنے پر سزا بھگتنی پڑتی ہے، غلطی پر پاک فوج نے چاہے جرنل ہو یا سپاہی کسی کو معاف نہیں کیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ انتخابات کا سال ہے، 2018 تبدیلی کا سال ہے سیاسی جماعتیں ایک دوسرے سے مقابلے میں ہیں، سیکیورٹی فورسز کو اس میں نہیں گھسیٹنا چاہیے، فوج پر ماضی میں لگنے والے الزامات غلط ثابت ہوئے، فوج کو حکومت کی مدت پوری ہونے کی بہت خوشی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فاٹاانضمام کا پاک افغان بارڈر سے نہ پہلے کوئی تعلق تھا اور نہ اب ہو گا، فوج ملک کی اسٹرٹیجی نہیں بناتی، انتخابات وقت پر ہوں اور ملک آگے چلے، طاقت مسائل کا حل نہیں ہے، افغانستان کی جنگ میں افغانستان کی عوام کو ان کا حق ملنا چاہیے، ہم پاکستان کےلئے برداشت کر رہے ہیں، ہم ذات پر برداشت کر سکتے ہیں پاکستان کےلئے برداشت نہیں کر سکتے، انتخابات کا معاملہ الیکشن کمیشن دیکھ رہا ہے، الیکشن کرانے سے فوج کا کوئی تعلق نہیں، ڈپلومیسی کے فیل ہونے سے جنگ ہوتی ہے، بات چیت میں ہمیشہ بھارت پیچھے ہٹا، پانی کی کمی کا حل صرف کالا باغ ڈیم نہیں ہے، پانی کی کمی کے مسئلے کو دیکھنے کی ضرورت ہے، اگر اگلی جنگیں ہوئیں تو پانی کے مسائلے پر ہوں گی، حکومت کو اس معاملے کو دیکھنے کی ضرورت ہے، جنگ ایک بدترین عمل ہے، ایل او سی پر معصوم شہری شہید ہو رہے ہیں، کیا 16ہزار فوجی شہید ہوئے ان کا کوئی قصور تھا، اس میں سب کو قربانی دینی پڑتی ہے، بم دھماکے میں مارے جانے والوں کا کیا قصور ، ہر دہشت گرد پشتون نہیں ہے اور ہر پشتون دہشت گرد نہیں ہے، گمشدہ افراد کا معاملہ 7ہزار افراد سے 3ہزار افراد پر آ گیا ہے۔


ای پیپر