گھوڑوں کا کاروبار اور الٹی گنتی
04 جولائی 2019 2019-07-04

ہم سیاست کے نئے دور میں داخل ہو چکے ہیں۔ مسلم لیگ نواز کے درجن بھر اراکین پنجاب اسمبلی حکمران جماعت پی ٹی آئی کی طرف بڑھے ہیں۔ نواز لیگ کی چار ارکین پنجاب اسمبلی نے بھی عمران خان سے ملاقات کی ہے۔ چونکا دینے والی خبر رانا ثناء اللہ کی منشیات کیس میں گرفتاری ہے۔ حکومتی حلقے یہ کہہ رہے ہیں کہ سب جیل جائیں گے۔شاید رانا ثناٗ اللہ کی طرح اور مثالیں بھی قائم کی جائیں گی۔

جولائی کے عام انتخابات سے قبل قوم نے یہ منظردیکھا کہ مسلم لیگ (ن) کے بہت سے ارکان پی ٹی آئی میں شامل ہوئے ۔ کچھ مقدمات اور تحقیقات کی بھی بات چلی۔بعض نے جنوبی صوبہ محاذ کی آڑ لی۔ نواز لیگ نے قبل از انتخابات ان اقدامات کو ’پولیٹیکل انجینئرنگ ‘ قرار دیا کہ الیکٹ ایبل امید واروں کو پی ٹی آئی میں لانے کے لئے بعض مقتدر ادارے کچھ زیادہ ہی سرگرم ہیں ۔

پاناماگیٹ میںمیاں نواز شریف کو نااہل قراردینے کے بعد واضح ہو گیا تھا کہ یہ جماعت وفاق اور پنجاب میں برسراقتدار نہیں آرہی اور مقتدر حلقوں کی پسندیدہ جماعت تحریک انصاف ہے ۔پھریہ ہوا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے بہت سے ارکان اپنی جماعتوں سے نکل کر پی ٹی آئی کی جھولی میں آگئے ۔ پیپلز پارٹی کوامید بھی نہیں تھی کہ وہ ان انتخابات میںپنجاب میں برسراقتدار آئے گی ۔یہاںزیا دہ ترارکان الیکٹ ایبل مسلم لیگ (ن) میںتھے ۔ وہی جماعت زیادہ متاثر ہوئی،تاہم پیپلز پارٹی کے کچھ الیکٹ ایبل بھی پی ٹی آئی میں پہنچ گئے۔ ان تمام کوششوں اور انجنیئرنگ کے باوجود تحریک انصاف وفاق اور پنجاب میںاتنی اکثریت حاصل کر پائی کہ اکیلے حکومت بنا سکے۔اسے حکومت بنانے کے لئے مسلم لیگ (ق)، ایم کیو ایم ،بی این پی اور جی ڈی اے کو اپنے ساتھ ملانا پڑا۔

حالیہ صورتحال میںمسلم لیگ (ن) کے 15 ناراض ارکان نے مبینہ طور پر خان صاحب کے ہاتھ پر بیعت کرلی ہے۔چار خواتین اراکین پنجاب اسمبلی بھی اس لائن میں لگی ہیں۔اس کے حکومت کے اتحادیوں پر بھی اثرات پڑیں گے۔ خاص طور پر پنجاب

میںق لیگ کی اہمیت کم ہو جائے گی۔ گورنرپنجاب چودھری سرور کہتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) اپنی لیڈر شپ کی وجہ سے ٹوٹ رہی ہے۔

یہ کارروائی صرف پنجاب کی حد تک نہیں۔ سندھ میں بھی اشارے دیے جا رہے ہیں کہ گورنر سندھ جادوگرآدمی ہیں۔ انہیں بس ایک اشارہ کرنے کی دیر ہے۔ نہ تو یہ گورنروں کا کام ہے نہ گورنر عمران اسماعیل کے یہ بس کی بات ہے۔ پھر آخر کیا کیا جا رہاہے؟۔ کون کرے گا یہ سب کام۔ سندھ میں پہلے بھی جوڑ توڑ سے حکومتیں بنتی رہی ہیں۔ کبھی وہاں کے منتخب نمائندوں کو حکومت کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ پیپلز پا رٹی کے شریک چیئر مین آصف زرداری کے گرد بھی گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے ۔ممکن ہے آنے والے دنوں میں بلاول بھٹو کو بھی نیب کے جال میںپھانس لیا جائے۔

سوال یہ ہے کہ اچانک مسلم لیگ (ن) کو توڑ کر پنجاب سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی کو ساتھ ملانے اور وزیر اعظم عمران خان سے ملاقا ت کرانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟پیپلزپارٹی کے خلاف ازسرنو کارروائیاں کیوں کی جارہی ہیں؟ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ً یہ سب کچھ حالیہ آل پارٹیز کانفرنس میں ہونے والے فیصلوں بالخصوص سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی کو ہٹانے کے فیصلے کا جواب ہے۔مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو عددی اکثریت حاصل ہے کہ سینیٹ کے چیئرمین کو ہٹاسکے۔ لیکن یہ ایک سٹرٹیجک فیصلہ ہوگا ۔ اقتدار میں طاقت کا توازن کو تبدیل کر دے گا۔ سینیٹ چیئرمین کو لانے والے آصف زرداری تھے جنہوں نے بلوچستان میں مسلم لیگ ن کی حکومت کی تبدیلی کا بھی کھل کر کریڈٹ لیا ۔

ایک جوڑ توڑ الیکشن سے پہلے ہوئی۔ اب دوبارہ ہورہی ہے۔ یہ جوڑ توڑ ا آسان نہیں ۔ اراکین اسمبلی کو توڑنا عمران خاں یا جہانگیر ترین کے بس کی بات ہے۔صرف پیسہ ہی کافی نہیں۔پاکستان کی سیات میں اس کے لئے اور طرف سے اشارے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔

تمام تر پشت پناہی اور مدد کے باوجود یہ حکومت بھی تو چلتی دکھائی نہیں دیتی۔نظام مملکت چل نہیں رہا۔کیا ایسا نہیں لگتا کہ حکمران پارٹی کی فرمائشیں مطالبے بڑھتے جا رہے ہیں؟ ہر فرمائش کو مینڈیٹ کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔ اگر سب کچھ ہم کو دے دو تو ہم ’’کارکردگی‘‘ دکھائیں گے۔ سب کچھ ٹھیک کر کے دے دیں گے۔ ایسی فرمائش لگتی ہے کہ پنجاب میں مسلم لیگ اور سندھ میں پیپلز پارٹی کا صفایا کر دو۔ہر جگہ ہمیں مکمل بالادستی دے دو۔

معیشت کی حالت خراب ہے کہ معیشت کی بہتری کے لئے بنا ئے ادارے میں پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار آرمی چیف کو بیٹھنا پڑا ۔یعنی ہمارے سکیورٹی اداروں کوملک کی صورت حال پر تشویش ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ حکومت وقت اکیلے معاملات کو ٹھیک سے ہینڈؒ ل نہیں کر پارہی۔ یہ چیزیں بھی سامنے آئی ہیں کہ وہ براہ راست آکر جمہوریت کو پٹڑی سے اتارنا نہیں چاہتے۔ مارشل لاء ملکی مسائل کا کوئی حل نہیں ہے ۔

اس پس منظر میں آمرانہ سیاست اور چھانگا مانگا نسخے آزمائے جا رہے ہیں۔ نئی سیاست کے نام پر تجربے اصل میںنئے نہیں‘ پرانے حربے ہی ہیں۔ چھانگامانگا ہو یا آمرانہ نسخہ اس طرح کے نسخے حکومت کو مہنگے پڑیں گے۔سیاسی تاریخ بتاتی ہے کہ جب گھوڑوں کا کاروبار شروع ہونے لگتا ہے تو الٹی گنتی شروع ہو جاتی ہے۔


ای پیپر