ٹیکس اور ہمارے مسا ئل
04 جولائی 2019 2019-07-04

حکومت معاشی بحران سے نبرد آزمائی میں مختلف پالیسیاں تشکیل دے رہی ہے۔ ایمنسٹی سکیم بھی انہی پالیسیوں کا ایک تسلسل ہے جس کی مدت حکومت کے اعلان کے مطابق گزشتہ اتوار کو ختم ہوگئی۔ اطلاعات کے مطابق ایف بی آر کو ٹیکس ایمنسٹی سکیم سے اب تک 35 ہزار لوگوں کی جانب سے 1575 ارب روپے کے اثاثے ظاہر کرنے کے نتیجے میں مجموعی طور پر 34 ارب روپے کا اضافی ریونیو ملا ہے۔ تاہم اس کے باوجود ایف بی آر جون کے دوران اب تک کل 350 ارب روپے کی ٹیکس وصولیاں کر پایا ہے اور اب بھی ہدف حاصل ہونے کے بجائے ریونیو شارٹ فال کا خطرہ ہے جس کے باعث ایف بی آر کے لیے رواں مالی سال 2018-19ء کے لیے مقرر کردہ 4398 ارب روپے کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف حاصل کرنا ناممکن ہوگیا ہے۔ ادھر وزیراعظم عمران خان نے ہفتے کے روز قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو ساڑھے 19 ارب ڈالر کا خسارہ ملا۔ معاشی بدحالی کی و جہ ملک کا یہی سب سے بڑا خسارہ ہے اورروپیہ گرنے کی بڑی وجہ منی لانڈرنگ ہے۔یوں دیکھا جا ئے تو حکومت کی ایمنسٹی سکیم بظاہر کامیاب نظر آرہی ہے۔ اس سکیم کے تحت حکومت کو 350 ارب روپے ٹیکس وصولی کی صورت میں فائدہ پہنچا ہے۔ ایف بی آر حکام کے مطابق ٹیکس ایمنسٹی میں دبئی سے اثاثے ظاہر کرنے والے سب سے آگے ہیں۔ پاکستانیوں نے دبئی کی جائیدادوں کو بڑے پیمانے پر ظاہر کیا۔ صورت حال یہ ہے کہ ایمنسٹی سکیم کے آخری تین دنوں میں اثاثہ جات ظاہر کرنے والے درخواست گزاروں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوا جس کے باعث ایف بی آر کا آن لائن سسٹم ہی بیٹھ گیا۔ اس صورت حال کے باعث تاجروں، سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں کی طرف سے ٹیکس ایمنسٹی کی مدت میں تین ماہ کی توسیع کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ بعض حکومتی ارکان بھی ایسا تاثر دے رہے ہیں جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ شاید حکومت ایمنسٹی سکیم میں توسیع کا اعلان کردے۔ بہرحال یہ پالیسی میٹر ہے اور حکومت کی صوابدید ہے کہ وہ کیا کرنا چاہتی ہے۔ ایک جانب حکومت نے ٹیکس وصولیوں کے لیے ایمنسٹی سکیم دی تو دوسری جانب وہ پٹرول، بجلی، گیس سمیت دیگر یوٹیلٹی بلز کی قیمتوں میں وقفے وقفے سے اضافہ کر رہی ہے جن کے منفی اثرات روزمرہ کی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کے صورت میں سامنے آرہے ہیں۔ گراس روٹ لیول پر عام آدمی تیزی سے بڑھتی ہوئی مہنگائی کے ہاتھوں شدید پریشان ہوگیا ہے۔ معاملہ یہیں رکا نہیں بلکہ حکومت اب بھی پٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافے کی ’’خوشخبری‘‘ سنا رہی ہے۔ معاشی بحران کے حل کے لیے حکومت سخت فیصلے ضرور کرے لیکن اس کا بوجھ عام آدمی پر نہ ڈالا جائے تو بہتر ہے۔ اس وقت سفید پوش اور درمیانے طبقے کی مالی حالت خراب ہوگئی ہے۔ اسے اپنا ماہانہ بجٹ بنانے میں سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ یومیہ اجرت پر کام کرنے والوں کی حالت تو انتہائی خراب ہوگئی ہے جس کی وجہ سے غربت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ جاگیردار، قبائلی سردار، بڑے زمیندار، گدی نشین اور روایتی طبقے کے بااثر افراد کی ایک بڑی تعداد یا تو ٹیکس ہی ادا نہیں کرتی یا پھر ٹیکس چوری میں ملوث ہوتی ہے۔ پاکستان کے قبائلی علاقے تو ہر قسم کے ٹیکس سے آزاد ہیں۔ ان افراد کا رہن سہن کسی شاہانہ انداز سے کم نہیں مگر جب ٹیکس دینے کی باری آتی ہے تو یہ راہِ فرار اختیار کرتے ہیں۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ یہ اشرافیہ حکومت میں آکر تمام مراعات سے بھی مستفید ہوتی ہے۔ اگر روپے کی قیمت کی بڑی وجہ منی لانڈرنگ ہے تو حکومت کو اس کے تمام جھو ل ختم کرنے کی جانب توجہ دینی چاہیے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت اپنے مخالفین پر کرپشن او رمالی بدعنوانی کے حوالے سے تو اعتراضات کر رہی ہے لیکن اگر بہ نظر غائر دیکھا جائے تو حکومت میں شریک بہت سے افراد بھی انہی الزامات کا سامنا کرتے نظر آئیں گے۔

معاشی مسائل تو رہے ایک طرف، گلی محلوں کے مسائل حل کرنے کے لیے حکومت بلدیاتی نظام ہی درست طریقے سے رائج نہیں کرسکی۔ بلدیاتی الیکشن تو ہوگئے لیکن بلدیاتی اداروں کو عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے نہ اختیارات دیئے گئے اور نہ ہی فنڈز۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بلدیاتی اداروں کو اختیارات دینے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ایم پی ایز اور ایم این ایز ہیں۔ صوبائی حکومتیں بلدیاتی اداروں کو بے بس کیے ہوئے ہیں۔ اب تو موجودہ حکومت نے پنجاب کے بلدیاتی ادارے ہی ختم کردیئے ہیں۔ کراچی سمیت بڑے شہروں کے مسائل کی جب بھی بات کی جاتی ہے تو میئرز یہی شکوہ کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ ان کے پاس اختیارات ہی نہیں ہیں۔ بلدیاتی ادارے جمہوریت کے استحکام کے لیے کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ لہٰذا ناگزیر ہے کہ عوام کے مسائل گراس روٹ لیول پر حل کرنے کے لیے بلدیاتی اداروں کو متحرک اور موثر بنایا جائے اور پنجاب میں بلدیاتی الیکشن کراکے ان اداروں کو بحال کیا جائے۔ حکومت عوام سے مختلف پالیسیوں کے تحت ٹیکس تو وصول کرنے پر زور دے رہی ہے لیکن اسے عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے تعلیمی اداروں، ہسپتالوں اور سرکاری اداروں کی بہتری کی جانب بھی توجہ دینی چاہیے۔ جب عوام کو حکومتی اداروں پر اعتماد ہوگا تو وہ خودبخود ٹیکس ادا کرنے میں خوشی محسوس کریں گے۔

موجودہ حکومت کو چاہیے کہ وہ معیشت کو بہتر بنانے کے لیے قوانین کو تاجر اور سرمایہ کار دوست بنائے بیورکریسی کے اختیارات کم سے کم کیے جائیں۔ ملک کے ایسے علاقے جو قانون کی گرفت سے باہر ہیں، وہاں سے ٹیکس وصول کیے جائیں۔ خیبرپختونخواہ، بلوچستان وغیرہ میں نان کسٹمز پیڈ گاڑیاں چل رہی ہیں، ان گاڑیوں اور موٹر سائیکلز پر نمبر پلیٹس نہیں ہیں۔ حکومت کو اس حوالے سے قوانین کا نفاذ کرنا چاہیے تاکہ صوبائی اور مرکزی حکومت کے ریونیو میں اضافہ ہوسکے۔تا ہم ٹیکسو ں کی اس بھر ما ر کا منطقی نتیجہ عوا م کی بھلا ئی کی صورت میں بر آ مد ہو نا چا ہیے ۔مگر جب گر دو پیش پہ نظر جا تی ہے تو دیکھنے میں آ تا ہے کہ عا م آ دمی کے حصے میں تو سوا ئے مز ید اور روز برو ز بڑھتی مشکلا ت کے،کچھ بھی نہیں آ رہا۔ مہنگا ئی کا عا لم یہ ہو چکا ہے کہ محض چٹنی سے ایک و قت کی رو ٹی کھا نے کی غر ض سے صرف دھنیا پو دینہ خر ید نے کیلیئے پچا س کا نو ٹ در کا ر ہے۔ گو یا یہی وہ عا لم ہے جس کے لیئے کہا گیا ہے کہ گنجی کیا نہا ئے اور کیا نچو ڑے۔


ای پیپر