مری: سیف سٹی پراجیکٹ کا آغاز
04 جولائی 2019 2019-07-04

وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار جہاں عوامی فلاح و بہبود کے کاموں میں اپنی توانائیاں صرف کر رہے ہیں وہیں سیاحت کے فروغ کیلئے بھی ان کی کاوشیں اپنی مثال آپ ہیں۔ نئے پاکستان میںصوبہ پنجاب کو ہر لحاظ سے ترقی یافتہ بنانے کیلئے سیاحت کے میں میدان میں بھی نئے مقامات کو دریافت کرنا اور دریافت شدہ مقامات کو مزید ترقی دے کر سیاحوں کو ہر طرح کی سہولیات کی فراہمی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پنجاب میں سیاحت کو صنعت کے طور پر فروغ دینے کے بے پناہ مواقع موجود ہیں ۔

جنوبی پنجاب کے علاقے کو سیاحت کے حوالے سے ماضی میں بری طرح نظرانداز کیاگیا۔جنوبی پنجاب کے سیاحتی مقامات کی ڈویلپمنٹ سے سیاحت کو فروغ ملے گا۔ نئے مقامات کے ضمن میں وزیراعلیٰ نے ڈیرہ غازی خان کے علاقے کوہ سلیمان کو سیاحتی مقام کیلئے مختص کرنے اور سیاحتی سہولیات فراہم کرنے کیلئے فوری اقدامات کی ہدایت کی۔ ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن پنجاب کے ریزارٹس کی تزئین و آرائش کافیصلہ بھی کیا گیا۔ سیاحت کو پروموٹ کرنے کیلئے کیمپنگ سائٹس ،ہپ سفاری،پیراگلائیڈنگ اور لوکل ہیرٹیج بازار بھی بنائے جائیں گے۔کوہ سلیمان کے علاقے میں سیاحت کی بہت صلاحیت ہے۔کلچرل ٹورازم کے فروغ سے مقامی لوگوں کو روزگارکے مواقع میسر ہوںگے۔یہ بھی ہدایت کی گئی کہ سوشل میڈیا کے ذریعے کوہ سلیمان کے سیاحتی مقامات کی تشہیر کی جائے اورنئے سیاحتی مقامات میں پانی ،سکیورٹی اوردیگر ضروری سہولتوں کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔نئے سیاحتی مقامات پر سولر پینل کے ذریعے بجلی فراہم کرنے کا بھی جا ئزہ لیا جائے۔ پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے سمال ڈیمز کی تعمیر کے منصوبے بھی زیر غور ہیں۔مبارکی ٹاپ میں سیاحوں کیلئے تمام تر ضروری سہولتیں فراہم کی جائیںگی۔

سیاحت کے فروغ کیلئے وزیر اعلیٰ نے ایک بہت ہی مستحسن قدم اٹھایا ہے کہ پنجاب میں مختلف محکموں کے 177 ریسٹ ہاؤسز کو عوام کیلئے کھول دیا۔ یوں پنجاب میں سفر کرنے والے عام شہری خصوصاً تفریحی مقامات پر بنے ہوئے ریسٹ ہاؤسز میں ایک رات کا 1500 سے 3000 تک کرایہ ادا کر کے قیام کر سکتے ہیں۔ اس سے قبل یہ ریسٹ ہاؤسز صرف سرکاری عہدیداروں کیلئے ان کے ذاتی استعمال میں ہوتے تھے جو کئی کئی دن تک اپنے پورے خاندانوں کے ساتھ یہاں مفت سرکاری خرچ پر قیام کرتے اور ان کے جانے کے بعد ان ریسٹ ہاؤسز کی مرمت اور تزئین و آرائش کا کام دوبارہ کروانا پڑ جاتا تھاجس پر الگ سے خرچہ آتا تھا۔ اب عام لوگ مہنگے ہوٹلوں میں قیام کرنے کی بجائے انتہائی کم قیمت پر ان ریسٹ ہاؤسز میں قیام کر سکتے ہیں۔

وزیر اعلیٰ کے زیر صدارت اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سیف سٹی پراجیکٹ کے تحت مری اورراولپنڈی شہر میں 12 ہزار سے زیادہ کیمرے لگائے جائیں گے۔ خاص طورپر سیاحتی مقام مری میں سیاحوں کی سہولت اور جرائم کو روکنے میں یہ کیمرے بہت اہم کردار ادا کریں گے۔ کیمرے اندرون شہر کی سڑکوں پر لگیں گے جس کی وجہ سے مری شہر مکمل طور پر مانیٹر ہوسکے گا اور شہر میں سٹریٹ کرائم ، ڈکیتی ، حادثات اور امن و امان کی صورتحال کنٹرول کرنے کیلئے پولیس مستعدی سے کام کرسکے گی۔ سیف سٹی عمار میں بم ڈسپوزل سکواڈ ، سول ڈیفنس ، ریسکیو1122 ، ڈولفن فورس سمیت دیگر ایمرجنسی سورسز کے دفاتر بھی ہوں گے۔

اس طرح مری میں بڑھتے ہوئے جرائم اور سیاحوں کیساتھ بدسلوکی کے واقعات کے بعد پنجاب حکومت نے ڈولفن فورس تعینات کردی ہے ۔ ڈولفن فورس ناصرف سیاحوں اور شہریوں کو تحفظ فراہم کرے گی بلکہ ٹریفک کے نظام کو بہتر بنانے میں بھی معاون ثابت ہوگی۔تعنیاتی کے فوری بعد ڈولفن فورس کے اہلکاروں نے مری میں گشت بھی شروع کردیا۔

گذشتہ سال مری میں ہوٹل مالکان کی طرف سے سیاحوں کیساتھ بدسلوکی کے متعدد واقعات رونما ہوئے تھے۔تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کے بعد سیاحوں کی جانب سے مری کے بائیکاٹ کی مہم بھی چلائی گئی۔ان واقعات میں سوشل میڈیا پر خواتین سیاحوں پر بھی تشدد کی ویڈیوز سامنے آئی تھیں۔تاہم ڈولفن فورس کی تعیناتی سے اب مری میں سیاحت کے فروغ میں مدد مل سکے گی۔وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت کے مطابق سیاحوں کی شکایات پر فوری کارروائی کی جائے گی۔ مری میں ڈولفن فورس کی تعیناتی سے سیاحوں اور شہریوں میں تحفظ کا احساس بڑھے گا۔سیاحوں اور شہریوں کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں میسر ہوں گیں۔وزیراعلیٰ نے مری میں اوور چارجنگ اور کھانے پینے کی غیر معیاری اشیاء کے بارے میں شکایات کانوٹس لیتے ہوئے انتظامیہ کو سیاحوں کی شکایات کے فوری ازالے کا حکم دیا ہے ۔

اس سلسلے میں ہماری تجویز ہے کہ اوورچارجنگ اور کھانے پینے کی غیر معیاری اشیاء فروخت کرنیوالوں کے خلاف بلاتفریق کارروائی کی جائے کیونکہ سیاحتی مقامات پر اوورچارجنگ کرکے سیاحوں کو لوٹنا کسی صورت برداشت نہیں کیاجائے گا۔اس کے علاوہ مری میں پارکنگ کا مسئلہ بہت بڑا ہے۔ اس دیرینہ مسئلے کا مستقل حل تلاش کیا جائے ۔اہم مقامات پر پارکنگ اور طے شدہ فیس کے بورڈ نمایاں طو رپر لگائے جائیں۔


ای پیپر