مصلوںسے اٹھ جاؤ…
04 جولائی 2019 2019-07-04

دوستو،یہ بات تو طے ہوچکی ہے کہ پاکستانی ٹیم کا ورلڈ کپ میں سفر اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے۔۔اب مصلّوں سے اْٹھو،دعائیہ سلسلے ختم کرو اور سکون،تسلی سے ورلڈ کپ انجوائے کرو۔۔کیوں کہ بنگلہ دیش کو جس مارجن سے شکست دے کر سیمی فائنل کے لئے کوالیفائی کرنا ہے اس کے لئے یہ ٹیم ’’اہلیت‘‘ نہیں رکھتی۔۔ ورلڈ کپ کے دوران ہم شروع سے اپنی بندوق دوسروں کے کاندھوں پر رکھتے رہے، جس کا نتیجہ آج سامنے آرہا ہے۔ بھارت جس طرح سے انگلینڈ سے ہارا، پھر نیوزی لینڈ جس طرح ہارا اس سے صاف اندازہ ہورہا تھا کہ سیمی فائنل کی دوڑ میں ایک مسلمان ٹیم کو دور رکھنے کے لئے سارے کفار ایک پیج پہ آچکے ہیں۔۔ باباجی تو پہلے ہی کہہ چکے ہیں ،کرکٹ تو کافروں کا کھیل ہے، لعنت بھیجو پورا دن ضائع کرو، نتیجہ کیا نکلتا ہے،اپنا ہی خون جلانا پڑجاتا ہے، اسی لئے شاید باباجی ’’لڈو‘‘ شوق سے کھیلتے ہیں۔۔

ہمارے پیارے دوست نے سیمی فائنل میں پہنچنے کا آسان کلیہ بتایا ہے۔۔ وہ کہتے ہیں کہ ۔۔ اگر آج بنگلا دیش کے خلا ف میچ میں کمنٹری پر صابر شاکر، کاشف عباسی، عارف حمید بھٹی، ڈاکٹر شاہد مسعود اور کامران خان کو بٹھا دیا جائے تو شاید ہماری ٹیم کچھ حوصلہ پکڑ لے۔۔قوم کو بلڈپریشر اور دیگر متعدی امراض سے بچانے کے لئے حکومت فوری طور پر میچ کی لائیو کوریج پر پابندی کا اعلان کردے ۔۔۔ شکیب الحسن ' تمیم اقبال اور مشفیق الرحیم کو عدلیہ سے نااہل کروا دیا جائے۔ ۔4۔ کپتان مشرفی مرتضی کو چھوٹے بھائی سے ایزی لوڈ کروانے پر نیب مقدمہ بنائے اور اس جرم میں عمر قید کی سزا سنائی جائے۔۔۔ ایمپائرنگ کے فرائض وہی عملہ ادا کرے جنہوں نے پاکستان کے جنرل الیکشن 2018 میں ووٹوں کی گنتی کی۔ یہی عملہ مخالف ٹیم کی فیلڈنگ بھی لگائے گا۔ جیسے ہی یہ سب تدابیر اختیار کر لی جائیں گی تو ہم’’ دشمن ‘‘کو قابو کر لیں گے مگر۔۔ رنز کپتان اور اسکی ٹیم کو خود ہی بنانے پڑیں گے۔۔

باباجی فرماتے ہیں کہ۔۔پاکستانی ٹیم کی آج صورت حال کچھ یوں ہے کہ ۔۔اگر رضوانہ کی شادی نہ ہوئی ہوتی یا نائلہ کی طلاق ہوجاتی،یا عرفانہ بیوہ ہوجاتی تو مشتاق انکل شاید کنوارے نہ رہتے۔۔لاہوریوں نے تو عجب ہی مطالبہ کیا ہے، انہوں نے کہا ہے کہ قومی ٹیم کو لاہور قلندرز کی وردی میں وطن واپس لایا جائے ۔۔ایک ’’پٹواری‘‘ نے بڑا دل جلا تبصرہ مارا ہے، کہتا ہے، پاکستان اب صرف ایک ہی صورت میں سیمی فائنل میں پہنچ سکتا ہے اگر ورلڈ کپ کا تمام ریکارڈ جلا دیا جائے۔۔ورلڈ کپ میں ایسا کئی بار ہوا کہ ہمیں اپنے دشمنوں کے حق میں بھی دعائیں کرنی پڑ گئی، سمجھ نہیں آتی تھی کہ کون سی ٹیم کیلئے دعا کریں سرفراز تجھے اللہ پوچھے۔۔میچ سے قبل نیوزی لینڈ کے جیتنے کی دعا۔۔میچ کے درمیان نیوزی لینڈ کے بری طرح شکست کی بددعا۔۔ایک ورلڈ کپ نے پورے پاکستان کو فضل الرحمان بنادیا۔۔دوسری جانب ’’تپتان‘‘ یعنی کہ ہمارے کپتان سرفرازنے عجیب ہی بیان دے ڈالا، کہتے ہیں کہ ۔۔قوم کو سوچنا ہو گا کہ ان کی دعائیں کیوں اثر نہیں کر رہی ۔۔باباجی کہتے ہیں کہ ۔۔زندگی میں سکون چاہتے ہو توایک بات یاد رکھناکبھی کوئی بات یاد مت رکھنا!!ہمارے پیارے دوست نے ان کی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ، اگر زندگی میں سکون چاہتے ہوتو ورلڈ کپ کو ذہن سے جھٹک دینا،دنیا اور آخرت دونوں میں فلاح پاؤ گے۔۔وہ مزید کہتے ہیں کہ ۔۔قومی ٹیم کی بیٹنگ پرفارمنس دیکھ کر اکثر دل چاہتا تھا کہ کاش کرکٹ میں بھی پروڈکشن آرڈر ہوتا۔۔

ورلڈ کپ کے سیمی فائنل تک پہنچنے کے لئے تمام تر دعائیں رد اور ساری ’’لوجکس‘‘ فیل ہوچکیں۔۔اب آپ پوچھیں گے کہ لوجکس کیاہوتی ہے؟ تو پھر سنیں۔۔دیہاتی لڑکا شہر سے پڑھ لکھ کر واپس گاؤں گیا تو پنڈ کے چوہدری صاحب نے سوال کیا کہ پتر پڑھنے لکھنے کا کیا فائدہ ہے؟لڑکے نے جواب دیا، چودھری صاحب پڑھنے لکھنے سے ’’لوجکس‘‘ کلیئر ہوجاتی ہے۔۔چودھری نے لوجکس سے متعلق پوچھا تو لڑکے نے کہا کہ اسے منطق کہتے ہیں۔۔چودھری کو منطق کا بھی علم نہیں تھا، لڑکے نے انہیں تفصیل سے سمجھانا شروع کیا اور پوچھا، آپ کے گھر میں کتا ہے؟ چودھری نے کہا ،ہاں جی ہے۔ لڑکے نے کہا، اس کا مطلب آپ کا گھر بڑا ہوگا؟ (جس کی حفاظت کے لئے کتا رکھا ہوا ہے)چودھری نے کہا،گھر تو واقعی بڑا ہے، لڑکا پھر بولا، پھر آپ کے گھر نوکرچاکر بھی کافی ہوں گے،گھر کی دیکھ بھال کے لئے۔چودھری نے کہا، ایسا ہی ہے،کافی نوکر ہیں۔۔لڑکے نے پھر کہا، اس کا مطلب آپ کی آمدنی بھی اچھی خاصی ہوگی،اسی لئے تو نوکروںکی تنخواہیں بھی برداشت کرلیتے ہونگے۔۔چودھری نے کہا، ایسا ہی ہے۔۔لڑکے نے مسکرا کر کہا، اس کا مطلب ہے آپ کی ماں کی دعائیں آپ کے ساتھ ہیں اورآپ کی ماں کی دعائیں آپ کے حق میں قبول بھی ہوئیں۔ اسکا مطلب یہ ہوا کہ آپ کی ماں ایک نیک عورت تھی۔۔۔چودھری نے گہری سانس لی اور کہا، بس اب میں سمجھ گیا کہ پڑھنے لکھنے سے لوجکس کیسے کلیئرہوتی ہے۔۔ اگلی ہی رات وہ اپنی بیٹھک میں دوستوں کے ساتھ بیٹھا ہے، لوجکس کالفظ اچانک ہی چودھری کی زبان سے اچانک ہی نکل گیا، ساتھ والے گاؤں کے چودھری دوست نے پوچھ لیاکہ لوجکس کسے کہتے ہیں۔؟ پہلے والاچودھری اپنے دوست کو کہنے لگا، لوجکس کیا ہوتی ہے ابھی تجھے سمجھاتا ہوں، یہ بتا، تیرے گھر کتا ہے، دوست چودھری نے کہا ، نہیں۔۔ میزبان چودھری کہنے لگا اس کا مطلب تیری ماں کوئی نیک عورت نہیں تھی۔۔

اب آخر میں چلتے چلتے ایک بہت ہی کام کی بات جسے اپنے پلو سے باندھ لیں گے تو کافی فائدہ اٹھائیں گے۔۔اخلاقیات کے ایک استاد نے طلباء سے پوچھا !اگر تمہارے پاس 86،400 روپے ہوں اور کوئی لٹیرا ان میں سے 10 روپے چھین کر بھاگ جائے تو تم کیا کرو گے؟ کیا تم اْس کے پیچھے بھاگ کر اپنی لوٹی ہوئی 10 روپے کی رقم واپس حاصل کرنے کی کوشش کروگے یا پھر اپنے باقی کے بچے ہوئے 86،390 روپے کو حفاظت سے لیکر اپنے راستے پر چلتے رہو گے؟کلاس روم میں موجود اکثریت نے کہا کہ ہم 10 روپے کی حقیر رقم کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے باقی کے پیسوں کو حفاظت سے لیکر اپنے راستے پر چلتے رہیں گے۔استاد نے کہا : تمھا را بیان اور مشاہدہ درست نہیں۔ میں نے دیکھا ہے کہ ذیادہ تر لوگ اْن 10 روپے کو واپس لینے کے چکر میں ڈاکو کا پیچھا کرتے ہیں اور نتیجے کے طور پر اپنے باقی کے بچے ہوئے 86،390 روپے سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ طلباء نے حیرت سے استاد کو دیکھتے ہوئے کہا: سر، یہ ناممکن ہے، ایسا کون کرتا ہے؟استاد نے کہا! یہ 86،400 اصل میں ہمارے ایک دن کے سیکنڈز ہیں۔ کسی 10 سیکنڈز کی بات کو لیکر، یا کسی 10 سیکنڈز کی ناراضگی اور غصے کو بنیاد بنا کر ہم باقی کا سارا دن سوچنے، جلنے اور کْڑھنے میں گزار کر اپنا باقی کا سارا دن برباد کرتے ہیں یہ والے 10 سیکنڈز ہمارے باقی بچے ہوئے 86،390 سیکنڈز کو بھی کھا کر برباد کر دیتے ہیں۔ اللہ پاک ہمیں روزانہ وقت اور دنیا میں رہنے کی مہلت عطا کرتے ہیں جن پر اللہ کے ساتھ ساتھ ہمارے خاندان، بیوی بچوں، دوستوں اور بہت لوگوں کا حق ہے۔ باتوں کو نظر انداز کرنا سیکھئے۔ ایسا نہ ہو کہ آپ کا کوئی وقتی اشتعال، ناراضگی آپ سے آپ کے سارے دن کی طاقت چھین کر لے جائے۔


ای پیپر