اشرف غنی نام رکھ دینے سے کیا فرق پڑتا ہے؟
04 جولائی 2019 2019-07-04

حضور کا فرمان ہے کہ پہاڑ اپنی جگہ سے ہل سکتا ہے، مگر انسان کی جبلت تبدیل نہیں ہوسکتی۔

اشرف غنی احمد زئی کو بھی افغانستان پہ امریکہ نے مسلط کررکھا ہے جس کی حکومت کابل تک محدود ہے، امریکہ کا ٹرمپ چونکہ ایک عالمی طاقت کا حکمران ہے، اور اب وہ یقیناً یہی سمجھتا ہے کہ میں دنیا کا واحد حکمران ہوں اسی لیے تو وہ کبھی گولان کی پہاڑیاں، مسلمانوں سے کھینچ کر یہودیوں کو دے دیتا ہے، جیسے وہ ان کے باپ کی جاگیر ہو، اور کبھی سعودی عرب میں کرائے کا سکیورٹی گارڈ بن کر سعودی دارالخلافے ریاض میں اپنی فوجی چھاﺅنی قائم کرلیتا ہے، اور پھر اس کا معاوضہ ڈالروں میں لیتا ہے، دراصل امریکہ کا طریقہ واردات، بڑا منظم ، مگر سیدھا سادہ ہے وہ امریکہ کی یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے، بیرون ملک کے طلباءسے بڑے طریقے سے ان کے ملک سے انفارمیشن لیتا ہے، کہ ان کے والدین کیا کام کرتے ہیں؟ اور ان کا ذریعہ آمدنی کیا ہے، اور کتنا ہے، اس کے بعد جب وہ متعلقہ طلباءکی معلومات حاصل کرلیتا ہے، تو پھر اسے نہایت ہی معصومانہ اور ہمدردانہ طریقے سے یہ پیش کش کرتا ہے کہ اگر وہ ہماری خاطر چھوٹا سا ایک کام کردیں، تو اس کا معقول معاوضہ آپ کو دے دیا جائے گا، ابتداءمیں واقعی ایک معمولی سا کام ذمے لگایا جاتا ہے، اور اس کا معقول معاوضہ دے کر آہستہ آہستہ انہیں شیشے میں اتار لیا جاتا ہے، حتیٰ کہ اُنہیں ملکوں کا حکمران بھی بنادیا جاتا ہے، اسی لیے تو میں کہتا ہوں کہ میر جعفر نام رکھ دینے سے کیا فرق پڑتا ہے، شکیل آفریدی ، اور اشرف غنی بھی تو مسلمانوں والے نام ہیں، مگر کیا ان کے کام مسلمانوں والے ہیں؟

قارئین بات کو آگے بڑھانے سے پہلے آپ کو بتادیں افغانستان بلکہ کابل کے صدر اشرف غنی احمد زئی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں، انہوں نے بھی امریکہ کی یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی ہے، جہاں ان کی ملاقات لبنانی طالبہ رولہ سے ہوئی، اور بعدمیں وہ ان کی بیوی بن گئیں، بیوی کیسے بنیں؟ اس سے آپ کو اور مجھے کیا فائدہ اتنی کرید اور کھوج لگانے کی اسلام اجازت نہیں دیتا۔

بہرحال میں ذکر کررہا تھا اشرف غنی کا ان کا ارادہ پہلے سے تو وکالت کرنے کا تھا، مگر غالباً امریکہ نے انہیں (Anthropology)میں تعلیم حاصل کرنے کا کہا جس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ معاشرے میں انسانی رویوں کی بناپر معاشرتی اور انسانی اقدار کے عروج وزوال کے بارے میں مطالعہ کرنا، یہ تعلیم دے کر جب اشرف غنی کی تعلیم مکمل ہوگئی، تو پھر انہیں ایک سال کے لیے پاکستان بھیج دیا گیا، یہ 1985ءکی بات ہے۔ فل برائیٹ Ful Brighitامریکی پروگرام کے تحت انہوں نے پاکستان آکر پاکستان کے ”مدرسوں“ کے بارے میں معلومات اکٹھی کیں، اب ان معلومات کا فائدہ کس کو پہنچا، یہ عوام کے سوچنے کی بات نہیں، حکمرانوں کو یاد کرنے کی بات ہے، ابتداءمیں، میں نے جو بات کی تھی کہ امریکہ اور برطانیہ کی یونیورسٹیوں میں یہ طریقہ واردات ہوتا ہے، جیسے عمران خان، اور بے نظیر بھی جانتی تھیں، بے نظیر بھٹو مرحومہ کا ایک کلاس فیلو میرا دوست ہے، یہ باتیں انہوں نے اور ایک میرے کراچی کے دوست فیصل فاروق جو ہاروڈ یونیورسٹی سے پڑھے ہوئے ہیں، انہوں نے مجھے بتائی تھیں، اور انہوں نے مجھے یہ بھی بتایا تھا، کہ اگر آپ کو میری ان معلومات کے بارے میں کوئی شک ہے، تو بے شک اپنے صحافی، اور دانشور بھائی جناب نجم سیٹھی سے پوچھ لیں۔

ایک اور خاص بات جب یہ طلباءباہر کی یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہوجاتے ہیں، تو پھر لازماً ان کو ”ورلڈ بینک“ میں نوکری کرائی جاتی ہے، اگر آپ اس کی تفصیل جاننا چاہیں تو خاصی طویل ہے، کیونکہ پاکستان میں بھی بہت سے بیرون ملک سے تعلیم یافتہ ورلڈ بینک میں ایک معینہ مدت تک جوکم یا زیادہ ہوسکتی ہے، مگر کام ضرور کرتے رہتے ہیں۔

مگراشرف غنی تو تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہاں امریکہ کی یونیورسٹی میں پڑھاتے بھی رہے ہیں، کیونکہ امریکہ ہی کے کرائے گئے ایک سروے کے مطابق 2013ءمیں ذہین ترین افراد میں ان کا نام 50ویں نمبر پر تھا، جیسا کہ میں پہلے عرض کررہا تھا، امریکہ ورلڈ بینک میں ملازمت کرا کے پھر جس ملک سے ان کا تعلق ہوتا ہے، اُنہیں وہاں کا پہلے وزیرخزانہ ضرور لگواتا ہے، اشرف غنی بھی افغانستان کے وزیر خزانہ لگے اور بعد میں چونکہ انہیں افغانستان کی کوئی بھی پارٹی ٹکٹ دینے کو تیار نہیں تھی، تو یہ آزاد امیدوار کے طورپر انتخابی دنگل میں اتروائے گئے، اور پھر اس کے بعد بقول حضرت اقبالؒ

اے شیخ امیروں کو مسجد سے نکلوا دے

ہے، ان کی نمازوں سے محراب ترش ابرو!

اب اشرف غنی کا دوبارہ، صدر بننے کا ارادہ ہے، کیونکہ غالباً ستمبر میں افغانستان میں انتخاب ہونے والے ہیں، اشرف غنی ، عمران خان کے ”آئی ایم، ایف فیلو“ ہیں، انہوں نے افغانستان کو قرضوں کی دلدل میں جھونک کر 2011میں 133.6اور پھر 2016میں 45ملین ڈالر کا مقروض بنادیا ہے، افغانستان کی پاکستانیوں سے پرخاش ، کیا افغانی صدر کے دورے سے کم ہوسکے گی؟

ادھر پاکستانی آرمی چیف معاشی خودمختاری کی بات تو کرتے ہیں مگر کیاازخود روپے کی قدر چارگنا کم کرنے کی بنا پر اربوں کے قرضے عوام پہ چڑھا کر مہنگائی بڑھا کر غریبوں اور سفید پوش عوام کو زندہ درگور کردیا گیا، ان کے علم میں نہیں ہے۔

آرمی چیف کو اگر افغان صدر کی باتوں اور دوروں پہ اعتبار ہوتا، تو وہ پاک افغان سرحد پہ جو بہت ہی طویل ہے، خطیر رقم لگاکر باڑ کیوں لگواتے، یہ باڑ جنرل راحیل شریف کے دور میں شروع کی گئی تھی ....مگر ایسے لگتا ہے کہ باجوہ صاحب کو پاک افغان حکومتوں، دونوں پر اعتبار ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے اعتبار کو قائم رکھے، کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے ”کہ میں ہی ہوں خرابیوں کو درست کرنے والا“ لہٰذا بیس کروڑ عوام اپنا معاملہ اور حالت زار اللہ کے سپرد کرتے ہیں جو بہترین بدلہ لینے والا بھی ہے۔


ای پیپر