عمرہ نامہ !....نویں قسط
04 جولائی 2019 2019-07-04

(گزشتہ سے پیوستہ)....

گزشتہ کالم کے اختتام پرمیں نے پی ٹی آئی کے رہنما بابر اعوان کا ذکر کیا تھا، وہ اُن دِنوں پیپلزپارٹی کے وزیر قانون تھے، مجھے نہیں معلوم پیپلزپارٹی اپنے ایک محنتی اور محبتی رہنما سے محروم کیوں ہوگئی؟ نہ ایک ذاتی تعلق ہونے کے باوجود جناب بابر اعوان سے میں نے اِس کی تفصیلات کبھی پوچھیں، اُن کے ساتھ میرا محبت کا رشتہ عمرے کے سفرمیں قائم ہوا تھا، اُن دنوں وزیرقانون کی حیثیت میں اُن کے کارناموں کے اس قدر چرچے تھے اُنہیں ڈپٹی پرائم منسٹر سمجھا جاتا تھا، شاید اُن کی اِسی حیثیت اور اہلیت نے اُس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو پریشان کررکھا تھا، بابر اعوان ، زرداری کے جتنا قریب ہوتے جارہے تھے یوسف رضا گیلانی اُتنا ہی اُن سے خطرہ محسوس کرنے لگے تھے، میرے خیال میں وہ اس یقین میں مبتلا ہوچکے تھے زرداری کسی بھی وقت بابر اعوان کو وزیراعظم بناسکتے ہیں، اور اُن کی چھٹی ہوسکتی ہے۔ سو اُنہوں نے بابر اعوان کے خلاف سازشوں کا ایک جال تیار کیا جس میں بعد میں وہ خود ہی پھنس گئے اور وزارت عظمیٰ سے محروم ہوگئے، اُن کی جگہ راجہ پرویز اشرف کو وزیراعظم بنادیا گیا، ....میں عرض کررہا تھا میں اُس وقت کے صدر زرداری کے ساتھ عمرے کے سفر پر روانہ ہونے سے پہلے اسلام آباد ایئرپورٹ کے وی وی آئی پی لاﺅنج میں بیٹھا اخبار پڑھ رہا تھا اچانک میرے کندھے پر کسی نے ہاتھ رکھا یہ بابر اعوان تھے، یہ میری اُن سے پہلی ملاقات تھی، وہ بڑی محبت سے ملے، نوائے وقت میں شائع ہونے والے میرے کچھ کالموں کا تذکرہ کیا۔ کچھ دیر اُن کے ساتھ گپ شپ ہوتی رہی، پھر ہم جہاز میں بیٹھ گئے۔ ساڑھے تین گھنٹے کی انتہائی آرام دہ فلائٹ کے بعد ہم جدہ ایئرپورٹ پہنچے وہاں سعودی عرب میں پاکستانی سفیر اور سفارتخانے کے دیگر سٹاف اور سعودی حکام نے ہمارا استقبال کیا، جدہ ایئرپورٹ کے وی وی آئی پی لاﺅنج میں ہماری تواضع چائے اور دیگر اشیاءسے کی گئی، تقریباً آدھا گھنٹہ وہاں رُکنے اور آرام وغیرہ کرنے کے بعد ہم جہازی سائز کی انتہائی آرام دہ فلائنگ کوچز کے ذریعے مکہ مکرمہ کی جانب روانہ ہوئے۔ پیپلزپارٹی سندھ سے ایک بزرگ ایم این اے میرے ساتھ والی نشست پر تشریف فرما تھے، مجھے اِس وقت اُن کا نام یاد نہیں آرہا، وہ بڑی دلچسپ شخصیت کے مالک تھے، دوران گفتگو ایک آدھ فحش لطیفہ اُنہوں نے سنایا میں نے اُنہیں احساس دلایا آپ نے احرام باندھا ہوا ہے اور ہم عمرے پر جارہے ہیں، اُس کے بعد وہ سوگئے، میں نے بھی سونے کی کوشش کی مگر اُن کے چیخ نما خراٹوں کی وجہ سے میں سونے میں ناکام رہا، .... خیر تھوڑی دیر بعد وہ اپنے ہی ایک زوردار خراٹے کی وجہ سے جاگ گئے اور بدحواسی کے عالم میں اِدھر اُدھر دیکھ کر کہنے لگے ”کون اے، کون اے“،....میں نے اُنہیں بتایا ”کوئی نہیں ہے، اصل میں آپ اپنے ہی خراٹے سے ڈر کر جاگ گئے ہیں “.... انہوں نے ایک لمباسانس لیا اور ”اچھا“ کہہ کر دوبارہ خراٹوں کی دنیا میں چلے گئے، میرا جی چاہا میں سیٹ بدل لُوں مگر فلائنگ کوچ بھری ہوئی تھی، خیر جدہ سے ہم مکہ مکرمہ پہنچے سب سے پہلے ہمیں ہمارے ہوٹل میں لے جایا گیا، یہ ایک سیون سٹار ہوٹل تھا جو مکہ مکرمہ کی حدودمیں ہی تھا، وفد کے تمام اراکین کو اُن کے کمرے الاٹ کردیئے گئے، میں اپنی ”روم کی“ لے کر کمرے میں گیا، سامان وغیرہ وہاں رکھ کر وضو کرکے ہوٹل کی لابی میں پہنچا سامنے بابر اعوان کھڑے تھے، انہوں نے حال احوال پوچھا، میں نے اُنہیں ایم این اے صاحب کے خراٹوں بارے بتایا وہ بڑے محظوظ ہوئے۔ میں نے اُن سے اگلے پروگرام کی تفصیل پوچھی، اُنہوں نے بتایا ”ابھی سعودی حکام نے صدر زرداری اور اُن کے اراکین کے اعزاز میں لنچ کا اہتمام کیا ہوا ہے، مگر میں اب ”غائب“ ہورہا ہوں، میں سمجھ گیا وہ فوراً عمرہ کرنا چاہتے ہیں جبکہ وفد کے دیگر ارکان جن میں کچھ ارکان اسمبلی اور وفاقی و صوبائی وزراءبھی شامل تھے لنچ کے بعد شام کو صدر زرداری کے ساتھ عمرہ کرنے کے خواہشمند تھے، مجھے بابر اعوان کی اِس تڑپ اور جذبے نے بڑا متاثر کیا، وہ اپنا وقت صدر

زرداری کے آگے پیچھے پھرنے کے بجائے یا یوں کہہ لیں نمبر ٹانکنے کے بجائے عبادت میں گزارنا چاہتے تھے، کچھ وفاقی وزراءاور ارکان اسمبلی ایسے بھی تھے جن کی باتوں سے یہ احساس ہورہا تھا وہ عمرے کی سعادت زرداری صاحب کے اردگرد طواف کرکے حاصل کرنا چاہتے ہیں، میں نے بابر اعوان سے کہا ” میں بھی آپ کے ساتھ ”غائب“ ہونا چاہتا ہوں۔ چند لمحوں بعد میں اُن کے ہمراہ خانہ کعبہ چلے گیا، یہ میرا پہلا عمرہ تھا، جناب بابر اعوان نے جس طرح مجھے گائیڈ کیا میں اُن کی یہ محبت ساری عمر نہیں بھلا سکتا، میرے دل کی حالت یہ تھی میں خود کو دنیا کا سب سے بڑا ”مجرم“ سب سے بڑا ”گناہ گار“ سمجھ رہا تھا، میں اِس احساس میں مبتلا تھا میں ایک پلید انسان ہوں جو اتنے مقدس مقام کے لائق نہیں ہے، بابر اعوان خانہ کعبہ چلے گئے، میں باہر سڑک کنارے ایک فٹ پاتھ پر بیٹھا سوچ رہا تھا کیا منہ لے کر جاﺅں؟۔ میں بہت دیروہیں بیٹھا رہا، پھر یہ سوچ کر خانہ کعبہ کی حدود میں داخل ہونے کا حوصلہ ملا کہ یہ ”بلاوہ “ مالک کی منظوری سے ہی آیا ہے، ورنہ بڑے بڑے عبادت گزار بڑے بڑے دولت مند شدید خواہش اور کوشش کے باوجود اس حاضری اِس ”بلاوے“ سے محروم ہی رہتے ہیں، بہت سے یہ تمنا لے کر دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں، پوری کوشش کے باوجود اُن کے لیے ایسے حالات ہی پیدا نہیں ہوتے خانہ کعبہ اور روضہ رسول کاوہ دیدار کرسکیں، میں اُس وقت خود کو دنیا کا خوش قسمت ترین انسان تصور کررہا تھا، مجھے یوں محسوس ہورہا تھا دنیا کے سب سے بڑے گناہ گار سے کوئی نہ کوئی ایسی نیکی ضرور ہوئی ہے جس کے بدلے میں اللہ نے اپنے گھر بلالیا ہے، بے شمار دوستوں اور عزیزوں نے مجھے بتایا تھا خانہ کعبہ پر پہلی نظر پڑتے ہی جو دعا مانگیں ضرور قبول ہوتی ہے، سب سے پہلے میں نے اپنے ملک کی سلامتی کے لیے دعا کی، اُس کی ترقی کے لیے دعا کی، پھر اپنے والدین کی سلامتی کی دعا کی جو ان دنوں حیات تھے، پھر میں نے دعا کی اللہ مجھے اور میری اولاد کو اپنے پسندیدہ راستے پر چلادے، میں نے اپنے دشمنوں اور حاسدین کے لیے دعا کی اللہ اُنہیں ہدایت دے اور لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے والا بنادے، میں نے اپنے دوستوں اور عزیزوں کے لیے دعاکی اللہ اُن کی تمام جائز حاجات پوری فرمائے، اُس کے بعد میں نے آہستہ آہستہ آنکھیں کھول دیں اور جی بھر کر خانہ کعبہ کو دیکھا۔ (جاری ہے)!


ای پیپر