Source : Yahoo

نواز شریف سے اختلافات کے متعلق فیصلہ آنے کے بعد بتاﺅں گا :نثار
04 جولائی 2018 (20:14) 2018-07-04

ٹیکسلا/واہ کینٹ:سابق وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ احتساب عدالت سے 6جولائی کو لندن فلیٹس ریفرنس کا فیصلہ آنے کے بعد قوم کوبتاﺅں گا کہ نوازشریف اور میرے درمیان کیا اختلاف ہے ،ہر کوئی اپنی گیم کھیل رہا ہے ، عمران خان ،نوازشریف اور آصف زرداری حکومت کے حصول کےلئے زور لگا رہے ہیں لیکن ملکی مسائل اور چیلنجز کیکسی کو کوئی پرواہ نہیں ،الیکشن کے بعد اس کا ساتھ دوں گا جو ملک کےلئے آگے آکر سب کو ساتھ لیکر چلے گا ۔

میری آواز قومی اتفاق رائے کےلئے بلند ہوگی ، ایک دن (ن) لیگ کے صدر شہباز شریف نے بیان دیا کہ قومی حکومت کی ضرورت ہے ،دوسرے روز (ن) لیگ کے گمنام ترجمان نےکہا کہ شہباز شریف کا بیان پارٹی کا موقف نہیں،نوازشریف اور مریم نوازچاہتے ہیں کہ پارٹی کے اندر کوئی آواز بلند کر سکے نہ اختلاف رائے کرے ، اگر نوازشریف سچے ہیں تو قوم کو بتائیں کہ میری کونسی بات پر انہیں دکھ ہوا ہے ،میری جیپ پر25جولائی تک صرف اور صرف حلقے کے عوام کی اوورلوڈنگ ہوگی ۔بدھ کو یہاں کوہستان ہاﺅس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ میں نے اپنے انتخابی حلقے میں مدمقابل قمر الاسلام کی گرفتاری کی پہلے ہی لمحے میں مذمت کردی تھی ،میں سیدھا سوچتا ہوں اور سیدھا بولتا ہوں ، آئندہ عام انتخابات میں نتیجہ کیا رہے گا 25جولائی کو سب کو پتہ چل جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ میں نے گزشتہ الیکشن میں چار نشستوں سے حصہ لیا تھا یہ کوئی انہونی بات نہیں ہے ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں حکومت کرنا انتہائی مشکل ہے ،تنقید ہر کوئی کر لیتا ہے لیکن تعبیر مشکل ہے ، حالیہ بارشوں میں لاہور میں جو صورتحال بنی اس پر نون لیگ کا نمائندہ ہی بات کرسکتا ہے لیکن ٹی وی پر لاہور میں پانی کا جو منظر میں نے دیکھا وہ افسوسناک ہے ، جذباتی تقریروں اور دعوﺅں سے کام نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا کہ میرے حلقے میں شہباز شریف سمیت نون لیگ کا جو مرضی لیڈر آجائے علاقے کے عوام یا مجھ پر کوئی فرق نہیں پڑتا، سابق وزیراعظم نوازشریف کے خلاف آج کھل کربات کرنا چاہتا تھا ان کے اور میرے درمیان کیا اختلافات ہیں لیکن اب 6جولائی کو احتساب عدالت سے ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ آرہا ہے اسلئے اب 6جولائی کے بعد ہی حقائق قوم کے سامنے رکھوں گا کیونکہ اگر ابھی بات کی تو ہوسکتا ہے کہ لوگ کہیں کہ شاید میں عدالتی فیصلے پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہوں ۔انہوں نے کہا کہ (ن) لیگ کا پرسان حال کون ہے یا کون نہیں اس کا فیصلہ میں نہیں کرسکتا ، ایک دن (ن) لیگ کے صدر شہباز شریف نے بیان دیا کہ ملک میں قومی حکومت کی ضرورت ہے ،دوسرے روز (ن) لیگ کے ایک گمنام ترجمان نے بیان دیا کہ پارٹی کے صدر نے جو کہا وہ پارٹی کا مو¿قف نہیں ،سوال یہ ہے کہ (ن) لیگ کدھر جا رہی ہے اور پارٹی کا صدر کون ہے اس پر لیگی ارکان کو سخت دکھ ہے ۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ دس ماہ سے میرے خلاف ون وے پراپیگنڈہ چل رہا ہے ، نوازشریف قوم کو بتائیں کہ میرے کون سے بیان سے ان کو دکھ ہوا ہے ،میں نے نوازشریف کی بہتری کےلئے کہا تھا کہ آپ مشکل میں اس لئے مزید دشمن نہ بنائیں ،میں نے فوج یا کسی اور سے کوئی تمغہ نہیں لینا ۔انہوں نے کہا کہ نوازشریف کی پارٹی صدارت کے معاملے پر ضمیر پر بوجھ سمجھتے ہوئے نہ صرف میں نے ووٹ دیا بلکہ (ن) لیگ کے 35ارکان کوووٹ دینے کےلئے قائل کیا ،یہ تمام ارکان میرے پاس آئے اورانہوں نے کہا کہ نوازشریف کو ووٹ نہیں دینا چاہتے لیکن میں نے انہیں ہمیشہ کہا کہ وہ پارٹی میں رہیں ۔چوہدری نثار نے کہا کہ نوازشریف نے شیخ مجیب الرحمان کو محب وطن قرار دیا ، ممبئی حملوں کا الزام پاکستان پر لگایا لیکن اس کے باوجود مخصوص نشستوں پر من پسند خاندانوں کے افراد کو بٹھا دیا لیکن پارٹی کے اندر سے کوئی آواز نہیں آتی صرف میں واحد شخص تھا جو پارٹی کے اندر اختلاف رائے کرتا تھا اب پارٹی کے لوگوں کو (ن) لیگی قیادت کے فیصلوں پر سوال کرنا چاہیے ، میں نے ہر دور میں خود پر جبر کر کے پارٹی کا ساتھ دیا ۔

انہوں نے کہا کہ جن چار حلقوں سے میں الیکشن لڑ رہا ہوں ،میری خواہش تھی کہ ان چاروں سے ایک ہی انتخابی نشان ہو جو واضح ہو اور علاقے کے عوام بھی اس کو سمجھ سکیں اس لئے یہ فیصلہ کیا تھا کہ آخری گھنٹے میں انتخابی نشان کے حصول کےلئے درخواست دیں گے ،جیپ ،کیتلی اور کرسی میز کے انتخابی نشان پر مشاورت کی تھی ۔انہوں نے کہا کہ میں کبھی بکا نہیں نہ ہی استعمال ہوا اور نہ ہی کبھی کوئی ایجنڈا رہا شاید25جولائی کے بعد میرا کوئی ایجنڈا ہو اور وہ پاکستان کےلئے ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ جیپ والے کسی بھی امیدوار سے میرا کوئی رابطہ نہیں اور نہ ہی کسی امیدوار کو کہا کہ وہ جیپ کا نشان حاصل کرے ۔ انہوں نے کہا کہ مریم نواز سوچتی بعد میں ہیں اور بات پہلے کرتی ہیں،تمام باتیں احتساب عدالت کے فیصلے کے بعد کروں گا ،اگر (ن) لیگ کا صدر پارٹی موقف بیان نہیں کرسکتا تو گمنام ترجمان کون ہے ۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ میری جیپ پر صرف اور صرف میرے حلقے کے ووٹر بیٹھیں اور25تاریخ پر اپنی جیپ پر اوورلوڈنگ کروں گا ۔ انہوں نے کہا کہ احتساب عدالت کے فیصلے کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا ،میرے ذاتی خیال کے مطابق نوازشریف کے خلاف کیس کو بہتر انداز میں لڑا جا سکتا تھا اور میری کوشش تھی کہ نوازشریف سرخرو ہوں ۔انہوں نے کہا کہ میں نے سیاسی مخالفوں پر سیاسی تنقید ہی کی ہے ذاتی حملے نہیں کئے اور نہ ہی نوازشریف پر تنقید کی ،اگر میں نے نوازشریف کے بارے میں غیرارادی طور پر ”اوئے“کا لفظ استعمال کیا تو اس پر معذرت کرتا ہوں ۔انہوں نے کہا کہ احتساب عدالت سے جوفیصلہ بھی آئے ابھی مجھے نہیں لگتا کوئی ایسی قیامت آئے گی کہ تمام (ن) لیگی صاف ہوجائیں کیونکہ (ن) لیگ میں ڈوریاں ہلانے والے ابھی وہی ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ (ن) لیگ کا کوئی نثار گروپ نہیں بنے گا ، میں نے کبھی اس قسم کی سیاست نہیں کی ،میں سیاست سے دلبرداشتہ ہو کر اسے خیر باد کہنا چاہتا تھا لیکن (ن) لیگی سینئر حکام نے مجھے سیاست چھوڑنے سے روکا اور کہا کہ اس سے پارٹی کو نقصان ہوگا ، اگر (ن)لیگی قیادت مجھے خاموشی سے کہتی کہ آپ الیکشن میں نہ کھڑے ہوں تو میں گھر بیٹھ جاتا۔انہوں نے کہا کہ ہر کوئی اس مہم لگا ہے کہ آئندہ کس کی حکومت ہوگی لیکن دوسری طرف پاکستان کو ریگستان بنانے اور معاشی طو رپر کچلنے کی سازشیں ہو رہی ہیں ، عمران خان چاہتے ہیں کہ ہر حال میں ان کی حکومت بنے جبکہ نوازشریف کی کوشش ہے کہ ان کو اقتدار ملے دوسری طرف آصف زرداری بھی حکومت بنانے کےلئے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں ، میں کسی آزاد امیدوار سے رابطے میں نہیں ہوں ہر کوئی اپنی گیم کھیل رہا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کے بعد میں اس کا ساتھ دوں گا جو آگے بڑھ کر تمام لوگوں کو صرف اور صرف ملک کےلئے گلے لگائے گا اور میری آواز اس کے ساتھ ہوگی جو ملکی مسائل حل کر نے کےلئے اپنی ترجیحات کا تعین کرے گا اور ملکی بہتری کےلئے ایجنڈا دے گا ۔ انہوں نے کہا کہ میری آواز قومی اتفاق رائے کےلئے اٹھے گی تا کہ خطرات کا مقابلہ کر سکیں ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نوازشریف اور اس کی بیٹی چاہتی ہیں کہ پارٹی کے اندر کوئی آواز اٹھا سکے اور نہ اختلاف رائے کر سکے حالانکہ ایک وقت پر 38اور ایک وقت پر 20جبکہ ایک وقت پر 10ارکان نے سابق وزیراعظم نوازشریف کے مو¿قف سے اختلاف کرتے ہوئے انہیں یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ اپنا بیانیہ بدلیں تاکہ پارٹی کو نقصان سے بچایا جا سکے ۔


ای پیپر