بازی کون جیتے گا
04 جولائی 2018 2018-07-04

اگلے انتخابات کے نتائج اور ان سے جنم لینے الی سیاسی صورت حال کا انحصار بڑی حد تک آئندہ چار پانچ روز کے دوران ہونے والے دو واقعات پر منحصر ہو گا ۔۔۔ ایک یہ کہ احتساب عدالت نواز شریف ، مریم نواز اور کیپٹن صفدر میں سے کسی ایک یا تینوں کو کیا سزا دیتی ہے اور دوسرے کیا میاں نواز شریف انتخابات سے پہلے وطن واپس آ کر سزا کا فیصلہ عملاً قبول کرنے یا اپنی جماعت کی انتخابی مہم کی براہ راست قیادت کا فیصلہ کر لیں گے۔۔۔ کیا موصوف ہر دو صورتوں میں میدان کارزار میں اترنے کے لیے تیار رہیں۔۔۔ گزشتہ دو تین ہفتوں سے قیاس آرائیاں کہہ لیجئے، افواہیں یا خبریں گردش کرتی رہی ہیں کہ مسلم لیگ (ن) انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کر سکتی ہے۔۔۔ وطن کے اندر جماعت کی انتخابی مہم اس کے موجودہ صدر اور پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف چلا رہے ہیں اور بلاشبہ دن رات ایک کئے ہوئے ہیں۔۔۔ گزشتہ دس برس کے دوران بطور وزیراعلیٰ اپنی کارکردگی بھی عوام کے سامنے رکھ رہے ہیں لیکن اس کے باوجود عمران خان اور آصف زرداری جمع بلاول بھٹو کے مقابلے میں میاں نوازشریف کی بہت کمی محسوس کی جا رہی ہے۔۔۔ ان کی جماعت کے کئی امیدواران اور کارکنان خواہش کا اظہار کر رہے ہیں کہ تمام تر نامساعد حالات کے باوجود نوازشریف پاکستان آئیں، انتخابی مہم کی قیادت کریں تاکہ عوام کے اندر ان کی جماعت کے امیدواروں کے حق میں جوش و ولولہ پیدا ہو۔۔۔ جس کا ووٹ بینک کے باوجود فقدان محسوس کیا جا رہا ہے۔۔۔ اسی دوران میں ان قیاس آرائیوں نے زور پکڑ لیا ہے نوازشریف انتخابات کے بائیکاٹ کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔۔۔ اگرچہ میاں شہباز شریف نے ایک حالیہ ٹی وی انٹرویو میں واضح الفاظ میں کہا ہے کہ میاں نوازشریف اور ان سمیت لیڈر شپ کے سرکردہ افراد کے دماغوں میں اس کا خیال نہیں پیدا ہوا۔۔۔ لیکن اندرون ملک ان کی جماعت کو جن حالات کا سامنا ہے وہ کئی مبصرین اور باخبر حلقوں کے لوگوں کی سوچ اور خیالات کو اس طرح کے اندازے لگانے پر لدرہی ہے کہ نوازشریف بائیکاٹ کا اعلان کر دیں گے۔۔۔ خاص طور پر جنوبی پنجاب کے امیدواروں کے ٹکٹ واپس کر دینے کے اعلانات ہیں جو ایسے موقع پر کئے گئے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) متبادل امیدواروں کے کاغذات نامزدگی بھی جمع نہیں کرا سکتی۔۔۔ چند ماہ قبل سینٹ کے انتخابات کے موقع پر اسٹیبلشمنٹ کی مرضی کا ایوان بالا ’’منتخب‘‘ کرانے اور صادق سنجرانی نامی ایک غیرمعروف شخصیت کو اس کا چیئرمین بنانے کا اوپر والوں کی جانب سے جو ’تخلیقی‘ تجربہ کیا گیا تھا اب اسے بانداز نو قومی اسمبلی کے انتخاب میں دہرانے کی شروعات ہو چکی ہیں۔۔۔ راولپنڈی میں چودھری نثار علی کے مقابلے میں جس لیگی کارکن راجہ قمر الاسلام کو ٹکٹ جاری کیا گیا، دوسرے روز اسے نیب نے ایسے الزامات کی پاداش میں گرفتار کر لیا جن کے حوالے سے انہیں کلین چٹ دی جا چکی تھی یا کم از کم جرم ثابت ہوئے بغیر حراست میں لئے جانے کے متقاضی نہ تھے۔۔۔ نوازشریف، ان کے خاندان کے افراد اور دیگر مسلم لیگی رہنماؤں کے خلاف مقدمات کی یکدم بھرمار اس پر مستزاد ہیں۔۔۔ سب سے اہم مقدمے یعنی پاناما کے حوالے سے ایوان فیلڈ اپارٹمنٹ کا فیصلہ کل جمعہ کے روز سامنے آنے والا ہے اور اس میں نوازشریف اور ان کی بیٹی و داماد میں سے کسی ایک کو سزا بھی ہو سکتی ہے۔۔۔ ان تمام اور دوسری وجوہ کی بنا پر نوازشریف، ان کے ساتھیوں، ہمدردوں اور ملک بھر میں ان کی سیاست کے ساتھ اتفاق رکھنے والوں کے علاوہ کئی غیر جانبدار مبصرین کی مشترکہ رائے ہے کہ ان کے گرد گھیرا سخت تنگ کیا جا رہا ہے۔۔۔ ان سے دوسری جماعت اور ان کے لیڈروں کے مقابلے میں انتخابی دوڑ میں شریک ہونے کے یکساں مواقع چھین لئے گئے ہیں۔۔۔ مقتدر طبقے ان کے در پے زار ہیں۔۔۔ سپریم کورٹ اور نیب کی جانب سے بھی مخالفانہ فیصلے اور کارروائیاں سامنے آ رہی ہیں۔۔۔ ان حالات میں کچھ مبصرین اور دیگر حلقے اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ زچ ہو کر نوازشریف بائیکاٹ کا راستہ اختیار کر سکتے ہیں یا کم از کم مقتدر قوتیں اور چند نواز مخالف سیاسی عناصر شدت کے ساتھ خواہشمند ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت ایسی فضا کے اندر جس میں ان کے لیے گھٹن بڑھتی چلی جا رہی ہے اس ماحول میں ان کا انتخابی مہم چلانا مشکل سے مشکل تر بنا دیا جائے اور وہ اپنے طور پر انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کر کے مخالفین کی مشکلات آسان کر دیں۔۔۔
لیکن کیا مسلم لیگ ن کے قائد کو واقعی بائیکاٹ کر نا چاہئے۔۔۔ ملکی سیاست پر نگاہ رکھنے والے کئی ایک اصحاب بصیرت اور دیگر پارٹیوں کے کچھ سیاستدان یہاں تک کہ بلاول بھٹو انہیں اس کے برعکس مشورہ دے رہے ہیں اور امکان غالب ہے کہ نواز شریف انتخابی مقابلے میں ڈٹے رہیں گے۔۔۔ پاکستان کی انتخابی تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو سب
سے پہلے بے نظیر بھٹو مرحومہ کی قیادت میں (جو اس وقت بیرون ملک مقیم تھیں) بحالی جمہوریت کی تحریک ایم آر ڈی میں شامل پیپلز پارٹی سمیت تمام جماعتوں نے بائیکاٹ کیا تھا۔۔۔ تیسرے فوجی ڈکٹیٹر جنرل ضیاء الحق نے اپنی آمریت کو طول بخشنے کی خاطر غیرجماعتی انتخابات کا اس لئے اعلان کیا تھا کہ جمہوریت کی بحالی کی جدوجہد کرنے والی جماعتیں حصہ نہ لے سکیں اور جنرل صاحب اپنی پسند کے افراد سے قومی اسمبلی کا ایوان بھر لیں۔۔۔ بے نظیر اور ایم آر ڈی کا ایسے انتخابات میں حصہ نہ لینا اصولی جواز کے باوجود عملی حقائق اور مقتضیات کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا تھا۔۔۔ عام ووٹروں کے جو رجحانات سامنے آئے وہ بتا رہے تھے کہ عوام ہر حالت میں اپنے جمہوری حق کا استعمال کر کے مرضی کے نمائندے چننا چاہتے ہیں۔۔۔ یہی ہوا لوگوں نے انتخابی عمل میں شرکت کی اور جنرل ضیاء الحق مرضی کی قومی اسمبلی وجود میں لانے میں کامیاب ہو گئے جبکہ ایم آر ڈی کی تمام جماعتیں اگلے چند سالوں کے لئے پارلیمانی سیاست سے باہر ہو گئیں۔۔۔ اس کا فائدہ آمریت اور اس کی حامی قوتوں کو ہوا۔۔۔ بے نظیر بھٹو نے بعد میں کئی بار اپنے اس فیصلے پر اظہار تاسف کیا کیونکہ اس سے ان کی جماعت اور جمہوری قوتوں کو نقصان پہنچا تھا۔۔۔ اسی طرح کچھ سیاستدانوں اور ان کی جماعتوں کے لئے عام انتخابات کے بائیکاٹ کا راستہ اختیار کرنے کا سوال 2007ء میں اس وقت پیش آیا جب چوتھے فوجی ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف نے 3 نومبر کی ایمرجنسی لگائی۔۔۔ آئین مملکت کو اس کے عہد میں دوسری بار رگید ڈالا گیا تھا اور اس سب پر مستزاد تمام کی تمام اعلیٰ عدلیہ کو اس کے ساٹھ سے زائد ججوں سمیت ان کی کرسیوں سے اٹھا کر باہر پھینک دیا گیا تھا۔۔۔ فوجی آمریت نے اپنے تاریک سائے نہ صرف گہرے کر دیئے بلکہ ننگی ہو کر سامنے آ گئی ۔۔۔ تب میاں نوازشریف اور اس وقت کی جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑے عمران خان، جماعت اسلامی اور دوسری ہم خیال سیاسی قوتوں نے اگلے انتخابات کے بائیکاٹ کا فیصلہ کر لیا۔۔۔ لیکن بے نظیر بھٹو مرحومہ آڑے آ گئیں۔۔۔ انہوں نے میاں نوازشریف کو پُرزور طریقے سے مشورہ دیا کہ ہمیں مل کر جنرل مشرف کے آمرانہ ہتھکنڈوں کا مقابلہ کرنا چاہئے۔۔۔ ان کی ایک ایک حرکت کو بے نقاب کرنا چاہئے۔۔۔ اس مقصد کی خاطر عوام کے پاس جا کر انہیں صورت حال کی سنگینی سے آگاہ کرنے کے ساتھ ووٹ کی شکل میں ان کی بھرپور حمایت بھی حاصل کرنی چاہئے۔۔۔ اس موقع پر پی پی پی کی مرحومہ قائد نے 1985ء والے بائیکاٹ کے اپنے تلخ تجربے کی بھی یاد دلائی اور کہا کہ آمریت کی پیدا کردہ مشکل ترین حالات میں بھی انتخابی عمل میں بھرپور حصہ لینا بہترین راہ عمل ہے۔۔۔ نوازشریف نے ان کے مشورے سے اتفاق کر لیا۔۔۔ لیکن عمران خان اور جماعت اسلامی بائیکاٹ کے فیصلے پر قائم رہے۔۔۔ اس کے بعد بے نظیر بھٹو کو نہایت ظالمانہ طریقے سے قتل کر دیا گیا۔۔۔ لیکن پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے فروری 2008ء کے چناؤ میں پوری سیاسی قوت اور جوش و خروش کے ساتھ حصہ لیا۔۔۔ میدان خالی نہ چھوڑا۔۔۔
انتخابی نتائج دونوں جماعتوں کے حق میں تھے۔۔۔ پیپلز پارٹی نے وفاق اور صوبہ سندھ میں حکومتیں بنائیں اور مسلم لیگ (ن) نے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے اور سیاسی طور پر موثر ترین صوبے پنجاب میں۔۔۔! جبکہ ڈکٹیٹر جنرل مشرف کو دم دبا کر ایوان صدارت سے بھاگنا پڑا۔۔۔ جماعت اسلامی کے رہنما آج تک افسوس کا اظہار کرتے چلے آ رہے ہیں کہ انہوں نے 2008ء کے انتخابات کا بائیکاٹ کیوں کیا۔۔۔ پاکستان کی انتخابی و پارلیمانی تاریخ کا یہ تمام تر تجربہ سیاسی بصیرت اور ملک اور عوام کو درپیش حالات سب تقاضا کرتے ہیں کہ صورت حال سنگین ترین کیوں نہ ہو ، ان کا گھیرا خواہ کتنا تنگ کر دیا ہو، ان کے راستے پر آگے خواہ کتنے کانٹے چن دیئے گئے ہوں، انہیں اسٹیبلشمنٹ اور اس کے اشاروں پر ناچنے والے دیگر اداروں کی جانب سے جتنے بھی انتقامی اقدامات کا سامنا کرنا پڑا ہو، اس معاندانہ فضا میں وہ اپنا اور اپنی جماعت کے امیدواروں کا دم جتنا بھی گھٹتا محسوس کریں، انہیں ان سب کا مردانہ وار مقابلہ کرنا چاہئے۔۔۔ انتخابات میں ڈٹ کر کھڑے رہنا چاہئے۔۔۔ بیلٹ بکس پر عوام کا اعتماد حاصل کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھنی چاہئے۔۔۔ اگر وہ واقعی سمجھتے ہیں کہ ان کے ساتھ زیادتیاں ہو رہی ہیں تو ان کا ازالہ بھی عوام کا مینڈیٹ حاصل کرنے کی ہرممکن کوشش کرنی چاہئے۔۔۔ انتخابات کا بائیکاٹ مخالف قوتوں کے آگے ہتھیار پھینکنے کے مترادف ہو گا جو اس ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت اور اس کے آج بھی خاص حد تک مقبول لیڈر کے سیاسی مستقبل کے لئے موزوں نہ ہو گا ۔۔۔ نہ اس سے جمہوری عمل کے حقیقی فروغ اور صحیح معنوں میں آزاد و شفاف انتخابات کی راہ پر مقتدر حلقوں کی جانب سے کھڑی کی گئی رکاوٹوں کو جو اب ننگی آنکھ کو بھی نظر آ رہی ہیں دور کرنا اور آمریت کے آزمودہ ہتھکنڈوں کو حقیقی معنوں میں ناکام بنانا ممکن ہو گا ۔۔۔ اسٹیبلشمنٹ اپنے ہتھکنڈوں کے بارے میں پیپلزپارٹی کو بھی شکایت پیدا ہوئی ہے کہ ان کے امیدواروں پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے اور انہیں پارٹی ٹکٹ واپس کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔۔۔ درون مے خانہ آمرانہ قوتیں بلاشبہ شدت کے ساتھ خواہش رکھتی ہیں کہ نوازشریف ازخود انتخابی عمل میں ازخود شریک نہ ہوں تاکہ انہیں اگلے پانچ سال کے لئے سیاسی میدان میں غیرمؤثر بنا کر رکھ دینا آسان ہو جائے۔۔۔ نوازشریف کو سخت تر بادمخالف کا سامنا کرتے ہوئے مقتدر قوتوں کی آرزوئیں ناکام بنا کر رکھ دینی چاہئیں۔۔۔ تازہ ترین رپورٹوں کے مطابق ان کی اہلیہ محترمہ کی حالت قدرے بہتر ہے۔۔۔ لہٰذا انہیں جلد از جلد پاکستان واپس آنے کا فیصلہ کرنا چاہئے۔۔۔ خواہ نیب عدالت کی جانب سے انہیں جیل بھیجنے کا حکم سنا دیا جائے۔۔۔ پاکستان کے عوام کے روشن جمہوری مستقبل اور خود میاں نوازشریف کے لئے سیاست میں زندہ اور ملک کی مؤثر ترین سیاسی قوت کے طور پر اپنا وجود منوانے کی خاطر ان کا جیل میں بند ہو جانا اور ان کی جماعت کا ڈٹ کر چناؤ میں حصہ لینا موصوف کے لندن میں قیام اور بائیکاٹ کے مقابلے میں کہیں بہتر اور نتیجہ خیز ہو گا ۔۔۔رائے عامہ کے تازہ ترین جائزوں کے مطابق جو ایک نہیں تین مختلف اداروں نے پیش کیے ہیں سخت ترین ماحول میں بھی اور خاص طور پر پنجاب جیسے اہم اور فیصلہ کن کردار ادا کرنے والے صوبے میں نواز شریف اور ان کی جماعت کی مقبولیت میں زیادہ فرق نہیں پڑا بلکہ اپنی جگہ قائم ہے صرف اتنا ہوا ہے کہ عمران خان نے 2013ء کے مقابلے میں اپنا فیصلہ قدرے کم کر لیا ہے۔۔۔ قابل توجہ بات یہ ہے نوجوانوں اور خواتین میں مسلم لیگ (ن) زیادہ مقبول ہے اس سے بھی زیادہ دلچسپ رجحان سامنے آیا ہے کرپشن صرف ایک فیصد رائے دہندگان کے نزدیک سب سے بڑا قومی مسئلہ ہے۔۔۔ تو کیا کرپشن محض اسٹیبلشمنٹ کا سیاستدانوں کے خلاف ہتھکنڈا ہے۔۔۔ 20 فیصد رائے دندگان نے ابھی فیصلہ کرنا ہے۔۔۔ نواز شریف اگر میدان میں کود پڑتے ہیں تو اس بیس فیصد کے بڑے حصے کو اپنا ہمنوا بنا سکتے ہیں۔۔۔ اور اگر انہیں جیل کی سزا ہو گئی تو سمجھیے بازی جیت گئے۔


ای پیپر