جی ٹی روڈخاموش ہے
04 جولائی 2018 2018-07-04

زیادہ دنوں کیلئے ٹھہرنے کا وقت نہ تھا۔ لہٰذالاہور سے واپسی کا سفر صرف ایک دن تک محدود رہا۔طلوع سحر کے کچھ دیر بعد روانگی اور پھر رات گئے واپسی۔کیونکہ اگلی صبح ورکنگ ڈے پر۔ایک مرتبہ معمولات زندگی، کاروبار، صحافت کی کشاکش،ہماہمی بندہ مزدور کی منتظر تھی۔ جی ٹی روڈ کا یہ سفر الیکشن سے 24 روز محض انتخابی ماحول اور اب تک کی مہم کا خاموش جائزہ لینا تھا۔ سفر کیلئے دن کا انتخاب اتوارٹھہرا۔ اتوار کو ذرا نسبتاً فرصت بھی ہوتی ہے ۔ اور ٹریفک کا ایسا اڑدہام بھی نہیں ہوتا۔ ویسے بھی اپنی طبعی قدامت پرستی کے سبب سفر کیلئے پہلی ترجیح جی ٹی روڈ ہی ٹھہرتی ہے ۔ موٹر وے پر میسر سہولتیں سفر میں آسانی ٹریفک کا نظم اور بہاؤ یہ سب کچھ اپنی جگہ لیکن پھر بھی موٹر وے ہمیشہ اجنبی لگتی ہے ۔ ایک ہی جیسے مناظر ایک ہی جیسی یکساں رفتار مسافر کو معلوم ہوتا ہے کہ اگلے کتنے منٹوں میں کونسا ریسٹ ایریا، کونسا انٹر چینج، کونسا انٹری یا ایگزٹ پوائنٹ آئے گا۔ نارمل زندگی کا بے ساختہ پن موٹر وے پر کہاں۔ پھر جی ٹی روڈ کے وہ طعام خانے۔ گنوانے بیٹھ جائیں تو کتابوں کے صفحات سیاہ ہو جائیں لیکن ان کا بیان مکمل نہ ہو۔ راوی پل سے اسلام آباد کی حدود تک چائنیز ڈشوں سے لیکر دہی طعام کے ہوٹل راہوالی کی قلفی سے گوجرانوالہ کے سیٹلائٹ ٹاؤن کے وہ دہی بھلے جن کے تذکرے سے ہی منہ میں پانی بھر آتا ہے ۔ نہیں نہیں ان کا تذکرہ ممکن نہیں۔ ایک مرتبہ بات شروع ہو گئی تو دور تلک جائے گی۔ اور انتخابی مہم کا تذکرہ ادھورا رہے گا۔ ان لذیز پکوانوں کے ساتھ انصاف ہو پائے گا نہ انتخابی حلقوں کا۔ سو طعام کی اس مہمانی داستان کا ذکر پھر کبھی سہی جب وقت،فرصت میسر ہو گی۔ جی ٹی روڈ پر میسرریستورانوں،ان کی خصوصیات،پکوانوں کیلئے کم از کم ایک مہینہ کامسلسل سفر درکار ہے ۔ تب کہیں جا کر یہ داستان مکمل ہو تی ہے ۔ صدیوں پہلے کابل سے کلکتہ کو ملا دینے والی گزر گاہ کا خیال فرید خاں المعروف شیر شاہ سوری نے ذر خیز ذہن میں آیا۔ صدیوں پہلے اس مرد جری نے کب سوچا ہو گا کہ ایک روزاس رنگ رنگیلی شاہراہ پرزندگی چوبیس گھنٹے جیتی جاگتی رہے۔ یہ پشتون روایات کے حامل شنواری طعام خانوں سے لیکر پنجابی ڈھابوں کا مرکز ہو گا۔ سر کش گھوڑوں کے سوار اس شمشیربدست کو کیا معلوم کہ خونی جنگوں کی بجائے صدیاں گزرنے کے بعد اقتدار کی کش مکش فتح و شکست کا فیصلہ تیر و تفنگ کی بجائے ووٹ کی پرچی سے ہو گا۔ شوریدہ سندھ کے اس پار اٹک سے لیکر لاہور تک جہلم پنجاب کے دوآبوں اور رادی کے کناروں تک انتخابی امیدوار اپنے اپنے لشکروں کے نشان سے مزین پرچم لیے معرکہ آرا ہوں گے۔ اب کی مرتبہ حتمی معرکہ 25 جولائی کو بر پا ہو گا۔ اس سے قبل جو کچھ بھی ہے
وہ اس حتمی معر کے کی تیاری ہے ۔انتخابی مہم تو اپنے ووٹر کو منظم کرنے کی کوشش ہے ۔ اس مرتبہ یہ معرکہ مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کے درمیان ہے ۔ اٹک سے لاہور تک پھیلے یہ انتخابی حلقے فیصلے کرتے ہیں کہ اگلے پانچ سالوں کیلئے وطن عزیز کا حکمران کون ہو گا۔ جی ٹی روڈ کے دونوں اطراف پھیلے پاک انڈیا سرحد سے متصل شہروں میں راولپنڈی شہیدوں،غازیوں کی سر زمین چکوال راجہ پورس کی جنم بھومی مسلم جس نے سکندر اعظم کے بدن پر وہ زہر یلا زخم لگا یا۔ جو آخر کار اس فاتح اعظم کی جان لے گیا۔ پاکستان کی صنعتوں کی ریڑھ کی ہڈی،کھیلوں کی دنیا میں عالمی پہچان سیالکوٹ رمانوی داستانوں کا خم دید گواہ گراں گجرات جو اب پنکھا سازی میں شناخت بنا چکا۔ پہلوانوں اور صنعت کاروں کی دھرتی گوجرانوالہ۔ گوجرانوالہ کا ہمسایہ سرحدی دیہات پر مشتمل شیخوپورہ اس کے علاوہ ننکانہ صاحب اور نارووال اور پھر داتا نگری، قلب پاکستان شہر لاہور۔قلم کار تو لاہور سے ملتان تک کو بھی جی ٹی روڈ ہی شمار کرتا ہے ۔یہ وہ شہر ہیں جو سیاسی جماعتوں کے مستقبل کا فیصلہ کرتے ہیں سیٹوں کے اعدادوشمار کے گو رکھ دھندے میں جائے بغیر چند حقائق ہیں جو سامنے ہیں آج کی سچائی آج کی حقیقت ہے ۔ کل کیا ہو گا؟ کوئی نہیں جانتا۔ تجزیے،تبصرے،پیش گوئیاں خواہشیں ہیں۔ جو خبر بن جاتی ہیں۔مسلم لیگ (ن) عرصہ دراز سے جی ٹی روڈ کے حلقوں پر حکمران اور بالا دست ہے ۔ وہ گنجان آباد شہر ہوں یا قدیم صدیوں سے بستے دیہات۔ جیت مسلم لیگ (ن) کی ہی رہی۔ البتہ معرکہ ہمیشہ زور اور غضب کے رہے ہیں۔ 2013 کے معرکے بھی دیکھنے کے لائق تھے۔ پیپلز پارٹی میدان میں موجود تھی۔ پاکستان تحریک انصاف سونامی کی لہر بن کر ابھری۔خبرنگار بتاتے تھے کہ الیکشن کا دن تو محض فارمیلٹی ہے ۔ بس الیکشن کا دن ہو گا نتیجہ آئے گا تو پی ٹی آئی حکمران ہو گی اور عمران خان حاکم اعلیٰ۔ یہ تاثر اتنا گہرا تھا کہ بڑے بڑوں کے دل بھی دہلتے تھے۔ کئی ڈگ مگاگئے۔لیکن نتیجہ نکلا تو منظر کچھ اور تھا۔ پی ٹی آئی کے کارکن،فالوورزاور فدائین دلیل پر یقین نہیں رکھتے۔نہ وہ کوئی معقول بات گو ارا کرتے ہیں۔ بہت لحاظ کریں تو لفافہ صحافی کہہ کر اپنی جانب سے بری الزمہ ہو جاتے ہیں۔حقائق یہ ہے کہ پی ٹی آئی نے سارے پنجاب سے صرف آٹھ قومی اسمبلی کی نشستیں جیتیں۔ راولپنڈی سے دو،اسلام آباد سے ایک، دو میانوالی سے۔ ایک لاہور،ایک ساہیوال اور ایک ملتان۔گویا اٹک سے لاہور تک قومی اسمبلی کی صرف چار نشستیں۔گزرے پانچ سالوں میں جہاں مسلم لیگ (ن) کو کارکردگی ووٹر کے سامنے ہے ۔ وہاں پی ٹی آئی بھی ایکسپوز ہوئی ہے ۔ مسلم لیگ (ن) کے ناقدین بھی بہت ہیں۔ اور اس کے خیر خواہ بھی بہت ہیں۔ ایسے بھی ہیں جو ترقیاتی کاموں کے باب ہیں اس کی کارکردگی کے معترف ہیں۔کرپشن کے مبینہ الزامات نے مسلم لیگ (ن) پر گہرا داغ لگا یا ہے ۔لیکن پھر نواز شریف کے ساتھ ناانصافی کا بیانیہ بھی ہے ۔جو ووٹر قبول کر چکا ہے ۔ پی ٹی آئی پاپولر پارٹی ہے ۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا آج کی پی ٹی آئی کل ایسی پی ٹی آئی ہے ۔کیا ان گزرے پانچ سالوں میں نظریے سے ہٹ جانے پر اس کی ساکھ پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ کیا یو ٹرن کی سیاست نے اس کو متاثر نہیں کیا۔ کیا قابل انتخاب شخصیات کو ترجیح دینے سے اس کا ووٹ بنک متاثر نہیں ہوا۔کیا پانچ سال کی کے پی کی حکومت کی کارکردگی نے بہت کچھ عیاں نہیں کیا ہو گا۔ کیا بے مقصد احتجاج کی روش سے پی ٹی آئی مزید مقبو ل ہو تی یا غیر مقبول۔
جی ٹی روڈ پر سفر اور سڑکوں،بازاروں اور تھڑوں پر عام آدمی کہتا ہے کہ مقابلہ دو جماعتوں کے مابین ہے ۔ بالکل درست۔لوگ کہتے ہیں مقابلہ بہت سخت ہے سوال ذہن میں اٹھتا ہے کہ ایسا کونسا چمتکار ہوا ہے پانچ سالوں میں جس کی سیٹیں آٹھ تھیں وہ اسی ہو جائیں گی۔ ایسا ہوا تو یہ ورلڈ ریکارڈ ہو گا۔حساب کتاب کے سارے فارمولے فیل ہو جائیں گے۔ جی ٹی روڈ کا ایک روز ہ سفر کچھ اور ہی کہانی سناتا ہے ۔روات سے شاہدرہ تک فی الحال کوئی بڑا انتخابی ماحول نہیں۔چند جھنڈے،چند پینا فلیکس سے تو الیکشن نہیں بنتا۔نواز شریف واپس آگئے تو ماحول بنے گا۔ورنہ فی الحال تو جی ٹی روڈپر خاموشی ہے ۔


ای پیپر