پی ٹی آئی پالیسی شفٹ۔۔۔جیسا دیس ویسا بھیس

04 جولائی 2018

چوہدری فرخ شہزاد

پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار غیرملکی قرضوں کا حجم 90 بلین ڈالر کا ہدف عبور کر چکا ہے جو کہ ہماری جی ڈی پی کا 70 فیصد ہے۔ گردشی قرضوں کا حساب لگایا جائے تو وہ گیارہ بلین ڈالر سے زیادہ ہیں۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 10 بلین ڈالر ہے اسی طرح ادائیگیوں کا توازن بھی کافی خراب ہے کیونکہ ہماری امپورٹ زیادہ اور ایکسپورٹ کم ہیں۔ ملک کے زمبادلہ کے ذخائر ہوا میں اڑ چکے ہیں۔ قومی ادارے پی آئی اے، سٹیل مل، ریلوے سب خسارے میں چل رہے ہیں جو بھی نئی حکومت بنے گی اسے اقتدار میں آتے ہی 4 بلین ڈالر کی آئی ایم ایف کے قرضے کی قسط ہر صورت واپس کرنا ہو گی جس کے لئے چائنا یا آئی ایم ایف سے نیا قرضہ لئے بغیر چارہ نہ ہو گا۔ پٹرول کی قیمتوں میں ماہانہ اضافہ کی وجہ سے ملک میں مہنگائی کا طوفان اپنا اثر دکھا رہا ہے۔ فروٹ اور سبزیوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ پانی کی صورت حال انتہائی خطرناک ہے کیونکہ انڈیا نے منظم منصوبہ بندی کے تحت پاکستان کو صحرا میں تبدیل کرنے کا پروگرام بنا رکھا ہے۔ تعلیم اور صحت کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں اور ملک میں بے روزگاری میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ سفارتی طور پر پاکستان، انڈیا کے محاصرے میں ہے۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کا نام اسے مشکوک فہرست (Grey List) میں شامل کر دیا ہے جہاں دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لئے قوانین موجود نہیں ہیں اگر یہ صورت حال برقرار رہی تو FATF کے فروری 2019ء کے اجلاس میں پاکستان کو گرے لسٹ سے بلیک لسٹ میں ڈال دیا جائے گا۔ یہ چند اہم ملکی و قومی معاملات ہیں جس کا آنے والی حکومت کو مقابلہ کرنا ہے لیکن اس وقت قومی سطح پر خصوصاً قومی میڈیا میں جو موضوعات زیربحث ہیں ان میں ایک یہ ہے کہ عمران خان کا دربار کی چوکھٹ کا بوسہ لینا درست ہے یا نہیں دوسرا موضوع یہ ہے کہ بیگم کلثوم نواز اور کتنی دیر تک وینٹی لیٹر پر ہوں گی، شہباز شریف کا کراچی کو کرانچی کہنا یا مہدی حسن کی غزل سنانا جائز ہے یا نہیں یا پھر ایک موضوع یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کا منشور بلاول بھٹو نے کیوں پیش کیا۔ پوری قوم کو Frivilous یا غیرسنجیدہ معاملات کے پیچھے لگا دیا جاتا ہے جبکہ اصل چیلنجز پر بات نہیں کی جا تی۔ صحافتی دنیا کا ایک حربہ یہ بھی ہوتاہے کہ چلائی جانے والی ہر بریکنگ نیوز حقیقت میں کسی اس سے بڑی خبر کو چھپانے کی کوشش ہوتی ہے۔
مستقبل کی حکومت کا اندازہ لگانے کے لئے ہمیں پارٹی پوزیشن پر نظر ڈالنی ہو گی اس وقت پاکستان تحریک انصاف اپنی 22 سالہ سیاسی جدوجہد کے نقطہ عروج پر ہے۔ عوامی مقبولیت میں اس سے آگے کوئی اور درجہ باقی نہیں رہا۔ یہی وجہ ہے کہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے غیردانشمندانہ فیصلوں کوبھی عوامی سطح پر نہ چاہتے ہوئے بھی قبول کیا جا رہا ہے۔ اس میں سب سے زیادہ اعتراضات پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم کے طریق کار پر اٹھائے گئے ہیں اور یہ اعتراضات پارٹی کے باہر سے نہیں بلکہ اندر سے آوازیں اٹھ رہی ہیں اور احتجاج ہو رہا ہے۔ عمران خان نے بالآخر وہی کیا جو باقی پارٹیاں کرتی آئی ہیں۔ انہوں نے بھی اپنی پرانی روش چھوڑ کر الیکٹیبلز کی بھرتی شروع کر دی اور دیکھتے ہی دیکھتے دیگر جماعتوں سے الیکٹیبلز جوق در جوق پی ٹی آئی کا رخ کرنے لگے۔ عمران خان نے سب کو گلے لگا لیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایسے عناصر کے پی ٹی آئی کی صفوں میں گھسنے سے طرز حکمرانی میں کونسی تبدیلی آئے گی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اخلاقی طور پر اور اصولی طور پر پاکستان تحریک انصاف کے لئے اور لوٹا بن جانے والے ارکان کے لئے بھی ایک غیرمناسب ڈیل تھی کہ جن لوگوں نے ایک ہفتہ پہلے تک اقتدار کے مزے لوٹے وہ اب مستقبل کی برسراقتدار پارٹی کے ساتھ ہم آغوش ہو گئے۔ لیکن پاکستان کے سیاسی کلچر اور روایات میں اس کو برا نہیں سمجھا جاتا۔ عوام لوٹا بن جانے والوں کو اکثر اوقات قبول کر لیتے ہیں اور انہیں دوبارہ اپنے ووٹوں سے اسمبلی میں بھیجتے ہیں۔ ہماری تاریخ یہی بتاتی ہے۔اب اہم ترین سوال یہ ہے کہ ایسے موقع پرست عناصر کی موجودگی میں تبدیلی کیسے آئے گی۔ اس کے جواب کے لئے بھی ہمیں تاریخ پر نظر دوڑانی ہو گی جب 2013ء میں راتوں رات ق لیگ پوری کی پوری 115 ارکان اسمبلی ن لیگ سے جا ملے تو کیا انہوں نے 5 سال تک حکومت کے لئے کوئی مسئلہ پیدا کیا۔ اس طرح کے ممبران یقیناًعمران خان کے لئے بھی مسائل پیدا نہیں کریں گے۔ پارٹیاں بدلنے کے عادی ممبران اسمبلی میں اتنی اخلاقی جرأت نہیں ہوتی کہ وہ قیادت کے ساتھ اصولوں کی بنیاد پر اختلاف کر سکیں۔ لہٰذا پاکستان تحریک انصاف اگر ملک میں برسراقتدار آ کر اپنا ایجنڈا نافذ کرنا چاہے تو اسے رکاوٹ نہیں ہو گی۔
سیاسی پارٹیوں میں Defection ایک دائمی مسئلہ ہے جسے ہمار�آئین قانون الیکشن کمیشن اور عوام سے تسلیم کرتے ہیں۔ اس لیے اسے رولز آف گیم کا درجہ حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 22 سالہ جدوجہد کے بعد عمران خان نے سوچا کے جب تک وہ جیسا دیس ویسا بھیس کے اصول کو نہیں اپنائیں گے وہ کبھی اقتدار کے ایوانوں تک رسائی حاصل نہیں کر سکتے۔ بالآخر انہیں اصولوں پر سمجھوتا کر نا پڑا جس کے پیچھے ایک وسیع تر قومی مفاد کا حصول ہے کیونکہ جس تبدیلی کا خواب انہوں نے دیکھا ہے وہ اقتدار حاصل کیے بغیر نہیں لائی جا سکتی پر امر قابل ذکر ہے کہ عمران خان کی سابقہ اہلیہ ریحام خان جو تین سال پہلے ان سے طلاق حاصل کر چکی ہیں انہوں نے عین الیکشن کے موقع پر عمران کی نجی زندگی پر کتاب منظر عام پر لانے کا فیصلہ کیا جس کے سیاق و سباق عوام تک پہنچ چکے ہیں ، حیرت کی بات ہے کہ عمران خان کے چاہنے والوں نے اس کتاب کو مکمل طور پر نظر انداز کیا اور اسے ان کی کردارکشی کی منظم سازش قرار دیا گیا جس کے ثبوت بھی مہیہ کیے گئے۔ پر الیکشن پر اثر انداز ہونے کے لیے یہ بہت بڑا وار تھا جو خطا ہو گیا نہ صرف خطا ہوا بلکہ وہ لوگ بے نقاب ہو گئے جو اس سازش کے پیچھے تھے اور یہ وہی لوگ تھے جو بے نظیر بھٹو کے خلاف بھی اس طرح کی سازشوں میں ملوث رہے۔ مذکورہ کتاب اب ایک نان ایشو بن چکا ہے اور پارٹی اور عمران خان اس سے آگے بڑھ گئے ہیں۔ اسی طرح Electables والی سودے بازی کے باوجود عمران خان کے مداحوں میں کمی نہیں آئی ۔ تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ اب عمران اور وزیر اعظم ہاؤس میں بس 25 جولائی کا فاصلہ ہے۔
یہ بات پی ٹی آئی کے مخالفین بھی مانتے ہیں کہ پارٹی نے اپنے انداز سیاست میں نئی راہیں متعین کر ہیں جس کی ایک معمولی مثال یہ ہے کہ ٹکٹ نہ ملنے والے امیدوار اور ان کے حمایتیوں نے عمران خان کی رہائش گاہ کے باہر احتجاج کا سلسلہ شروع کر دیا ۔ کیا آج تک دیگر سیاسی پارٹیوں میں ایسا ہوا ہے کہ ٹکٹ نہ ملنے پر یوں احتجاج کیا گیا ہو یہ وہ تبدیلی ہے جس میں عوام اپنے لیڈر کے غلط فیصلے پر اس کا محاسبہ کرنے کے لیے نکل پڑے اور اسے مجبور کیا کہ وہ کئی حلقوں میں امیدواروں کی نامزدگی میں اپنا فیصلہ تبدیل کرے۔ ایک دوسری روایت جو سامنے آئی ہے کہ تمام پارٹیوں کے امیدواروں کو ووٹرز کی طرف سے تلخ سوالات کا سامنا ہے۔ وہ جب ووٹ مانگنے جاتے ہیں تو علاقے کے لوگ ان سے ایسے طریقے سے باز پرس کرتے ہیں جسکا پہلے کوئی تصور نہیں تھا بڑے بڑے جاگیرداروں کو بھی اس صورت حال کا سامنا ہے۔
نئی حکومت جس پارٹی کی بھی ہو اگر ملک سے Electable اور پیسے کی سیاست کا خاتمہ کرنا ہے تو اس کے لیے دو اقدامات بہت ضروری ہیں۔ پہلے نمبر پر Derolution plan کے مطابق علاقائی ترقیائی فنڈز ضلعی حکومتوں کو دیے جائیں اور پارلیمنٹ ارکان کی صوابدید ختم کر دی جائے۔ نالیاں بنانا اور سڑکیں پکی کرانا ارکان اسمبلی کا کام ہی نہیں ہے۔ ڈیوولیویشن کے بعد یہ ممبران قانون سازی پر توجہ دیں گے اور قومی سیاسی میں پیسے کی شدت میں کمی آ جائے گی۔ اور فنڈز کی خرد برد یعنی کرپشن کا خاتمہ ہو گا جب فنڈز ہی نہیں ہو گا تو خرد برد کہاں ہو گی۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ جنرل پرویز مشرف نے قومی اسمبلی کی 60 نشستیں خواتین کے لیے مخصوص کی تھیں۔ Women Empower کی جانب نہیں یہ تاہم سنگ میل تھا مگر اس کا جو طریقہ کار بنایا گیا اس نے سارے کیے پر پانی پھیر دیا۔ سیاسی پارٹیوں کو یہ سیٹیں ان کی پارلیمنٹ کے اندر نمائندگی کے تناسب سے دی جاتی ہیں اور اس سلسلے میں کلی اختیار پارٹی سربراہ کے پاس ہے کہ وہ کس خاتون کو اسمبلی میں لاتا ہے۔ یہ غیر جمہوری اور غیر نمائندہ طریقہ ہے۔ جس میں ترمیم کی ضرورت ہے۔ تاکہ پارٹیاں اپنی رشتے دار خواتین کو لانے سے باز رہیں۔ حقوق نسواں کی کاز بھی اسی لیے پروموٹ نہیں ہو رہی کے خواتین ارکان پارلیمنٹ عورتوں کی حقیقی نمائندگی کے تصور سے عاری ہیں۔ حالیہ انتخابات سے پہلے سیاسی پارٹیوں نے خواتین کی جو نامزدگیاں کی ہیں اس میں پی ٹی آئی واحد جماعت ہے جس کی خواتین پارٹی قیادت کی رشتے دار نہیں ہیں۔ جو کہ ایک اچمی روایت ہے۔

مزیدخبریں