پنجاب میں ووٹروں کے رجحانات (2)
04 جولائی 2018 2018-07-04

پنجاب کے قومی اسمبلی کے ہر حلقے میں آزاد ووٹروں کی تعداد25 ہزار(25000) سے 35 ہزار (35000) کے درمیان ہے۔ گزشتہ انتخابات میں پنجاب کے آزاد ووٹروں نے مسلم لیگ (ن) کو اکثریت دلانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ آزاد ووٹروں کی اکثریت نے مسلم لیگ (ن) کو اکثریت دلانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ آزاد ووٹروں کی اکثریت نے مسلم لیگ (ن) کو ووٹ دیا تھا۔ اس مرتبہ آزاد ووٹر واضح طور پر تقسیم ہیں۔ ان کا ایک حصہ تحریک انصاف کو ووٹ دے گا جبکہ دوسرا حصہ مسلم لیگ (ن) کو دوبارہ ووٹ دینے کا ارادہ رکھتا ہے جبکہ ان ووٹروں کے ایک حصے نے بھی ابھی تک فیصلہ نہیں کیا کہ وہ ووٹ ڈالیں بھی یا نہیں اور اگر ڈالیں گے تو کس جماعت اور امیدوار کو ڈالیں گے۔ انتخابی مہم کے آخری تین ہفتوں میں PTI اور PML-N کے درمیان ان ووٹروں کو جیتنے کی جنگ ہو گی جو بھی جماعت ان ووٹروں کیم حمایت حاصل کرنے اور انہیں پولنگ اسٹیشن تک لانے میں کامیاب ہو گی وہ کئی ایسی نشستوں پر کامیابی حاصل کر سکے گی۔ جہاں فتح و شکست کا فیصلہ محض چند ہزار ووٹوں سے ہو گا۔
پنجاب کے دیہی لعاقوں میں ابھی تک برادری ، مذہبی فرقے ، مقامی گروہوں اور سرپرستی کی سیاست کا غلبہ ہے۔ اسی کے ساتھ اب سرمائے ، مقامی انتظامیہ اور خصوصاً پولیس کا اثر و رسوخ اور مداخلت کا بھی دور ورہ ہے۔
سنٹرل پنجاب میں اگر ذات برادری ، خاندان اور مقامی گروہوں کو اہمیت حاصل ہے تو جنوبی پنجاب میں قبیلہ ، بڑے زمینداروں ، گدی نشینوں اور روایتی سیاسی خاندانوں کا بہت زیادہ عمل دخل اور غلبہ ہے۔
یہ کہنا مکمل طور پر غلط ہو گا کہ دیہی علاقوں اور چھوٹے شہروں میں سیاسی جماعتوں کے ووٹوں کا وجود ہی نہیں ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دیہی پنجاب سیاسی جماعتیں بہت کمزور ہیں جبکہ بااثر خاندان اور مقامی گروہ زیادہ طاقتور ہیں جو کسی بھی حلقے کا نقشہ بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مقتدر قوتوں کے لئے دیہیم حلقوں کی سیاست کو تبدیل کرنا اور اسے اپنی مرضی سے ڈھالنا قدرے آسان ہے۔ اس کام کے لئے کسی حلقے کے چند بااثر خاندانوں اور مقامی گروہوں کی سیاسی وابستگی میں تبدیلی حلقے کی صورت حال کو تبدیل کر دیتی ہے۔ دیہی پنجاب میں ایسے بااثر خاندانوں اور مقامی گروہوں کی کمی نہیں جو کہ مقامی انتظامیہ اور مقتدر قوتوں کے موڈ کے مطابق اپنی سیاسی وابستگی بدلنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ پنجاب میں ووٹروں کی قابل ذکر تعداد ایسی پارٹی اور امیدواروں کو ووٹ ڈالتی ہے جن کے بارے میں یہ تاثر عام ہو کہ یہ مقتدر قوتیں اس پارٹی کو جتوانا چاہتی ہیں۔ مسلم لیگ (ق) اور 2002ء کے عام انتخابات اس رجحان کا نمایاں اظہار تھے۔ 2002ء کے عام انتخابات میں ووٹروں کو اچھی طرح سے پتا تھا کہ جنرل مشرف مسلم لیگ (ق) کو جتوانا چاہتے ہیں۔ لہٰذا نام نہاد ایلیکٹ ایبلز نے مسلم لیگ (ق) میں پناہ لی تا کہ انتخاب جیت سکیں۔ 2013 ء میں عمومی متاثر یہی تھا کہ مسلم لیگ (ن) حکومت بنائے گی تو وہ یہ امیدوار اورمقامی گروہ اس میں شامل ہو گئے۔ جیسے ہی تحریک انصاف کے بارے میں یہ تاثر پھیلا کہ اگلی حکومت یہی بنائے گی تو تحریک انصاف ان طاقتور امیدواروں کو آما جگاہ بن گئی۔
لہٰذا جوں جوں یہ تاثر تقویت حاصل کرے گا اور مزید پھیلے گا کہ تحریک انصاف اگلی حکومت بنانے جا رہی ہے تو ویسے ویسے دیہی پنجاب میں اس کی حمایت بڑھے گی۔
گزشتہ دو ہائیوں سے پنجاب کی سیاست میں برادری سے زیادہ اہمیت سرمائے اور سرپرستی کے مقامی نظام کو حاصل ہو گئی ہے۔ غریب اور کمزور افراد کی طرف سے ان امیدواروں کو ووٹ دیا جاتا ہے جو ان کی معاشی، سماجی اور سیاسی مدد کرتے ہیں۔ ایک طرف سرپرستی کا نظام تھانے ، کچہری، پٹواری اور مقامی انتظامیہ کے گرد گھومتا ہے جبکہ دوسری غربت کے مارے عوام جن کو ریاست نے ان کے حال پر چھوڑ دیا ہے اور وہ کسی بھی سماجی تحفظ کے پروگرام کا حصہ نہیں ہیں یا ان کی رسائی نہیں ہے تو کئی امیدوار طاقتور امیدوار ان کی مدد کرتے ہیں ان کو تحفظ فراہم کرتے ہیں جس کے عوض یہ ووٹر ایسے امیدواروں کی حمایت کرتے ہیں۔ ان میں کوئی شک نہیں کہ دیہی علاقوں میں ووٹوں کی خرید و فروخت ہوتی ہے مگر ایسا تو شہروں میں بھی ہوتا ہے۔ یہ سمجھنا غلط ہے کہ دیہی غریب آبادی اپنے ووٹ بیچتی ہے بلکہ وہ اپنے ٹھوس معروضی حالات میں ووٹ ڈالنے کا فیصلہ کرتی ہے جس کی مختلف وجوہات ہوتی ہیں۔ سنٹرل پنجاب کے برعکس جنوبی پنجاب میں بڑے زمینداروں، قبائلی سرداروں اور گدی نشینوں کا اثرورسوخ اور غلبہ زیادہ ہے۔ جنوبی پنجاب میں پیپلز پارٹی کئی دہائیوں تک سب سے بڑی جماعت تھی جس کا ہر حلقے میں ہزاروں ووٹ تھا۔ پیپلز پارٹی کا ٹکٹ جنوبی پنجاب میں کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا تھا۔ مسلم لیگ (ن) یا پھر (ق) زیادہ تر قبائلی سرداروں اور بڑے جاگیرداروں پر انحصار کرتی تھی ۔البتہ 1990ء کی دہائی میں مسلم لیگ (ن) نے جنوبی پنجاب کے شہروں میں اپنا ووٹ بینک بنایا۔
اس وقت تحریک انصاف 2013 ء کی نسبت زیادہ مضبوط ہے۔ سنٹرل پنجاب کی طرح جنوبی پنجاب کے پڑھے لکھے شہری نوجوانوں میں تحریک انصاف کی نمایاں حمایت موجود ہے مگر دوسرے جماعتوں سے آنے والے طاقتور امیدواروں کی وجہ سے نوجوانوں ووٹروں میں اب وہ جوش و خروش نہیں ہے جو کہ چند ماہ پہلے تک موجود تھا۔
جنوبی پنجاب کے کئی حلقوں میں سیاسی جماعتوں کی صورتحال اتنی خراب ہے کہ اگر انہیں طاقتور امیدوار دستیاب نہ ہوں تو وہ محض چند سو ووٹ لے سکتی ہیں۔ 2013ء میں بہاولنگر کے ایک حلقے سے تحریک انصاف کے امیدوار کو 2 ہزار سے بھی کم ووٹ ملے تھے۔ اسی طرح کی صورت مسلم لیگ (ن) کی بھی تھی جب اسے طاقتور امیدوار نہیں ملے تھے۔ اکثر دانشور ، تجزیہ نگار اور سیاسی ماہرین اکثریہ شکوہ کرتے نظر آتے ہیں کہ دیکھیں عوام انہی بدعنوان اور طاقتور امیدواروں کو ووٹ دیتے ہیں جو انہیں جاہل ، پسماندہ اور غریب رکھتے ہیں اور ان پر حکمرانی کرتے ہیں مگر یہ دانشور اور تجزیہ نگار یہ بھول جاتے ہیں کہ پاکستان کا ریاستی ڈھانچہ اور انتظامیہ انہی طاقتور خاندانوں ، جاگیرداروں ، قبائلی سرداروں اور گدی نشینوں کی سرپرستی کرتا ہے۔ پاکستان کا معاشی، سماجی اور سیاسی ڈھانچہ اس طرح ترتیب دیا گیا ہے۔ جس میں غریب اور کمزور عوام ایک یا دوسرے طاقتور کی مدد لینے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ اس مدد اور تحفظ کا صلہ ووٹ کی صورت میں وصول کیا جاتا ہے۔ جب تک اس ملک میں تھانے اور کچہری کی سیاست رائج ہے۔ یہی علاقوں میں اس قسم کے رجحانات غالب رہیں گے۔


ای پیپر