لوگوں کی الیکشن میں دلچسپی بہت کم ہے۔۔۔کیوں؟
04 جولائی 2018 2018-07-04

لیجئے 2018کے عام انتخابات کا دوسرا مرحلہ بھی گذر گیا یعنی سیاسی جماعتوں نے اپنے امیدواروں کے نام منتخب کر لئے اور انہیں پارٹی ٹکٹ دے دئیے۔اس سلسلہ میں جو مسائل ، پیچیدگیاں اور مشکلات کا ان سیاسی جماعتوں کو سامنا کرنا پڑا وہ ہم سب کو معلوم ہیں۔
امید تھی کہ جب نواز شریف کو ایک دفعہ زندگی بھر کے لئے نااہل قرار دلوانے کے بعد جو طریقہ داردات ’آسمانی مخلوق‘ نے بلوچستان میں استعمال کیا تھا وہی مرکز یعنی عام انتخابات میں بھی آسانی سے دہرائیں گے مگر لگتا ہے کہ نواز شریف ’لوہے کا چنا‘ ثابت ہو رہا ہے جسے آسانی سے نہیں چبایا جا سکتا۔
ہمارا یہ خام خیال تھا کہ ملک کی سب سے بڑی خفیہ ایجنسی جس کی قابلیت کو ساری دنیا مانتی ہے اس سارے عرصہ میں بہت پختہ اور تجربہ کار ہو گئی ہو گی اور جو کہتے ہیں کہ اگر کوئی گڑ دینے سے مارا جا سکتا ہے اسے زہر دینے کی کیا ضرورت ہے مگر ہمارے اس خیال کو بہت ٹھیس پہنچی جب ہم نے یہ دیکھا اور سنا کہ ملتان کے ایک نواز مسلم لیگ کے امیدوار کو آئی ایس آئی والوں نے تشدد کا نشانہ بنایا اور اسے اپنی وفاداری تبدیل کرنے کے لئے مجبور کیا۔(گو ہمیں معلوم ہے کہ اس بیچارے نے بعد میں کیوں بیان بدل لیا)۔
یہ بات دہرانے کی نہیں یا یہ ایک نعرہ ہے کہ پاکستان ایک بہت ہی نازک دور سے گذر رہا ہے ۔گو دہشت گردی میں کچھ کمی آئی ہے مگر کچھ نہ کچھ واقعات ہر دن ہوتے رہتے ہیں۔FATFنے حالیہ اجلاس میں پاکستان لو Grey ڈکلئیر کر دیا ہے ۔
پتہ نہیں آج اس مرحلہ پر بھی بعض لوگوں کو 25جولائی کو انتخابات ہوتے نظر نہیں آرہے ہیں گو عبوری وزیر اعظم کہتے ہیں کہ انتحابات وقت پر ہی ہوں گے۔
ان انتخابات میں ’آزاد‘ امیدوار بھی بہت اہمیت اختیارات کر گئے ہیں خاص کر جب چوہدری نثار علی نے آزاد انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا ہے اور جیپ کا نشان حاصل کیا ہے ۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ بھی ایک کوڈ ہے اور بہت سارے آزاد امیدواروں نے بہت کوشش کے بعد جیپ کا نشان حاصل کیا ہے ۔
NABبھی اس میں اپنا بھر پور حصہ ڈال رہی ہے ۔چوہدری نثار علی کے مقابلہ میں امیدوار کو گرفتار کرلیا گیا(ہمیں 1970کے الیکشن میں مختار رانا اور شمیم احمد خاں کی گرفتاری یاد آرہی ہے ) مگر ان کے بچوں کا باپ کی الیکشن مہم کو جاری رکھنا طمانیت اور رجیائیت کا باعث ہے ۔
بعض لوگوں نے محترمہ کلثوم نواز کے بیماری اور اس سلسلہ میں نواز شریف کا ملک سے باہر ہونے کے بارے میں علظ تاثر پھیلانے کی کوشش کی ہے ۔کہتے ہیں میاں نواز شریف نے چند دنوں میں وطن واپس آنے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔
کسی بھی سیاسی لیڈر کی کوئی نجی زندگی نہیں رہ جاتی، میں عمران خان کا اپنی ’پیرنی‘ بیوی کے ساتھ پاک پتن جانے کو بھی ذاتی مسئلہ نہیں سمجھتا ۔اگر کوئی مجھ سے پوچھے تو میں کہو ں گا کہ میں کسی ایسے شخص کو ووٹ نہیں دوں گا جو اپنی بیوی (یعنی خاتون اول) کو پردے میں رکھے۔
بدقسمتی سے الیکشن میں اس قسم کا جوش و خروش اور جذبہ نظر نہیں آرہا جسے اقبال احمد کہتا تھا کہ ’ الیکشن عوام کا میلہ ہوتا ہے ‘۔یہ حالات بہت ہی تشویک ناک ہیں کہ لوگ اپنے حکران چننے میں گہری دلچسپی نہ لیں اور اس سارے عمل سے ایک طرح کی لا تعلقی کا اظہار کریں۔لگتا ہے اصلی اور وڈے حکمران یہی چاہتے ہیں۔
آخر میں میں سمجھتا ہوں کہ وہ لوگ قابل تحسین ہیں جو ان نامسائد حالات اور ہر طرح کے دھونس اور دھاندلی کے باوجود نتائج کی پرواہ کئے بغیر نواز لیگ کے ساتھ کھڑے ہیں۔
چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کا پنڈی کے شیخ رشید کے ساتھ اس کے ہسپتال کا دورہ کرنا بھی دلچسپ منظر پیش کرتا ہے ۔ کند ہم جنس با ہم جنس پرواز!


ای پیپر