شہباز شریف کی عمودی پرواز
04 جولائی 2018 2018-07-04

چند روز قبل مسلم لیگ (ن) کے قائد جناب شہباز شریف نے ایک نجی نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اداروں کے مابین محاذ آرائی کے سخت خلاف ہیں او ر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ معاشی اور خارجہ امور پر جرنیلوں سے مشاورت ہونی چاہیے۔ شہباز شریف صاحب کا یہ بیان مسلم لیگ کے اس غیر مزاحمتی کلچر کی عکاسی کرتا ہے جو ایوب خان کی کنونشن لیگ کے قیام سے پنپنا شروع ہوا اور اب ایک تناور درخت بن چکا ہے ۔
اسی کنونشن لیگ کے بعد سے مسلم لیگ کی سیاست جوڑ توڑ کی رہی ہے اور اس جماعت نے ہر آمر کے لیے ایک سیاسی کٹھ پتلی کا کردار ادا کیا ہے ۔ بانی پاکستان محمد علی جناح اور قائد ملت لیاقت علی خان کی وفات کے بعد سے جس طرح مسلم لیگ کے حصے بخرے ہونا شروع ہوئے اس سے لگتا یہی ہے کہ ا ردو حروف تہجی کا کوئی حرف ایسا نہ ہوگا جو مسلم لیگ کے لاحقے کے طور پر استعمال نہ ہو۔ بنیادی طور پر قائد کے بعد کی مسلم لیگ اس استحصالی نظام کی سرپرست اور محافظ رہی ہے جو پاکستان کی معاشرت اور معیشت پر پوری طرح حاوی ہے۔مسلم لیگ نے اس استحصالی نظام کے خاتمے کے لیے اٹھنے والی ہر عوامی لہر کے آگے بند باندھا ہے اور یہی اس کا نظریاتی اثاثہ رہا ہے۔ یہ درست ہے کہمسلم لیگ نواز نے پنجاب اور خصوصاََ لاہور میں انفراسڑکچر کے حوالے سے غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے لیکن :
قوم کیا چیز ہے ؟ قوموں کی امامت کیا ہے؟کے فلسفے سے مکمل طور پر بے بہرہ اور لا تعلق رہی ہے ۔ بنیادی طور پر ٹھیکدارانہ ذہنیت مسلم لیگ (ن) کی قیادت کا خاصہ رہی ہے۔ ان کے دور میں جو بھی ترقیاتی کام ہوئے ہیں وہ انفراسٹرکچر کے حوالے سے ہوئے ہیں۔ ان کے تینوں ادوار میں صنعت کو فروغ ملا نہ ٹیکنالوجی کو۔ تعلیمی نظام جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہوا نہ صحت کی سہولیات بہترہوئیں۔ صنعتی پس منظر رکھنے والے شریف برادران ملک کے لیے صنعتی ترقی کی بجائے فنانشل کیپٹل ازم کا ماڈل درست سمجھتے ہیں۔ جب کہ ان کے صنعتی پس منظر سے ابتدائی تاثر یہی لیا گیا تھا کہ یہ جاگیرداروں اوروڈیروں کی اجارہ داری کو ختم کریں گے۔ لیکن انہوں نے صنعتی انقلاب کے راستے کی بجائے فنانشل کیپٹل ازم کا راستہ اختیار کیا۔
جولائی ۲۰۱۷ ء میں جب نواز شریف صاحب کو اقتدار سے صرف اس جرم پر برطرف کیا گیا کہ انہوں نے اپنے صاحبزادے کی کمپنی سے اپنی تنخواہ وصول نہیں کی جو وہ وصول کرسکتے تھے۔ یہ مسلم لیگ ( نواز) کے پاس بہترین موقع تھا کہ اقتدار سے بے دخلی پر ملنے والی عوامی حمایت کو اس استحصالی نظام کے خلاف استعمال کرتے ہوئے ملک پر رائج جاگیرداروں ، وڈیروں، سرمایہ داروں ، پراپرٹی ٹائیکونز اور اسٹیبلشمنٹ کا تسلط توڑ تی اور کلی اختیار ات کے ساتھ اقتدار کے حصول کی خواہش کو بھی پایہ تکمیل تک پہنچاتی۔ اگرچہ کچھ عرصہ انہوں نے ان خطوط پر اپنی مہم کو چلایا بھی لیکن اس استحصالی نظام کے خلاف بات کرنے کی بجائے ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ کی گردان کرتے رہے اور نظام میں تبدیلی کی بات کرنے کی بجائے جلسے اور جلوسوں میں اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کے خلاف خوب بولے اور بقول فیضؔ :
گرجے ہیں بہت شیخ سر گوشہء منبر
کڑکے ہیں بہت اہل حکم بر سر دربار
لیکن جب نواز شریف صاحب کو نااہلی کی بنیاد پر پارٹی کی صدارت سے بھی علیحدہ کیا گیا تو جدوجہد کا جذبہ ماند پڑنے لگا۔ رہی سہی کسر ان ٹوٹتے بکھرتے مفاد پرست ارکان نے پوری کردی جنھوں نے یا تو مسلم لیگ سے کسی دوسری جماعت میں شمولیت اختیار کرلی یا پھر آزاد حیثیت سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ ایسے میں شہباز شریف صاحب کا مفاہمتی پیغام یا بیانیہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ مسلم لیگ نواز مزاحمت کا راستہ ترک کرنے پر تیار ہے۔ لیکن اگر مسلم لیگ کی منشاء کے مطابق مفاہمتی معاہدہ نہ ہوا اور مسلم لیگ کو دیوار سے لگانے کا سلسلہ جاری رہا تو ممکن ہے کہ:
(1)ملک کو درپیش مسائل اور اداروں کے درمیان تصادم کی فضا کے سبب مسلم لیگ (نواز) وفاق میں اتحادیوں کے ساتھ بھی حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہوتے ہوئے بھی حکومت نہ بنائے اور صرف پنجاب پر
ہی اکتفا کرلے ۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ قومی اسمبلی کے انتخابات کا بائیکاٹ بھی کردے جو کہ انتہائی قدم ہوگا ۔ کیونکہ اس صورت میں مسلم لیگ کو پنجاب سے بھی ہاتھ دھونا پڑے گا جو یہ کسی قیمت پر نہیں چاہے گی ۔ ۲۰۰۸ء میں بھی مسلم لیگ (نواز) نے سابق صدر پرویز مشرف اور ان کے زیرِ اثر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کام کرنے کی بجائے پنجاب کے اقتدار کو ترجیح دی تھی ۔
(۲)اگر مسلم لیگ نواز انتخابات میں اپنی توقع کے مطابق نتائج حاصل نہ کر پائی تو ملک میں سیاسی ابتری کے ایک ایسے دور کا آغاز ہوگا جس کی بنیاد ۲۰۱۳ء سے ۲۰۱۷ء کے عرصے میں عمران خان رکھ چکے ہیں۔ عمران خان نے تو۲۸ نشستوں پر ایک طوفان کھڑا کررکھا تھا ۔ لیکن اگر مسلم لیگ بھی اسی راستے پر چلی تو ان کے ساتھ وہ سیاسی اور مذہبی جماعتیں اور اتحاد بھی شامل ہونگے جو خیبر پختونخواہ میں تحریک انصاف کے حریف رہے ہیں۔
۲۰۱۸ء کے انتخابات کے نتائج کچھ بھی ہوں۔ لیکن یہ با ت طے ہے کہ پاکستان میں اس وقت عوام کی حقیقی نمائیندہ جماعت کا وجود نہیں ہے ۔ پاکستان کی تقریباََ نصف آبادی انتخابی عمل میں اس لیے حصہ نہیں لیتی کیونکہ وہ یہ سمجھتی ہے کہ مسائل کے حل کے نام پر ووٹ بٹورنے والے مسائل حل نہیں کرسکتے۔اس طبقے سے مسائل کے حل کی امید ایسے ہی ہے جیسے چیل کے گھونسلے میں ماس تلاش کرنا۔
یہ سیاسی جماعتوں کے نام پر مفاداتی گروہ ہیں جو ایلکٹیبلز ( جاگیرداروں، وڈیروں، سرمایہ داروں) کی محتاج ہیں۔ وہی الیکٹیبلز جو کبھی پیپلز پارٹی میں ہوتے ہیں، کبھی مسلم لیگ ن میں ، کبھی مسلم لیگ ق میں ہوتے ہیں اور اب تحریک انصاف میں ہیں۔ پاکستان کے مسائل کی بنیادی جڑ یہی الیکٹیبلز کا طبقہ ہے۔ حقیقی سیاسی اور عوامی رہنما کا کوئی وجود ہماری سیاست میں نہیں ہے اور بد قسمتی یہ ہے کہ دور دور تک اس کے آثار بھی نہیں ہیں:
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
نرگس اپنی بے نوری اور دیدہ ور کے انتظارمیں کب تک ماتم کناں رہے گی خبر نہیں ۔


ای پیپر