عام انتخابات اہم ہیں
04 جولائی 2018 2018-07-04

بلاشبہ وطن عزیز برس ہا برس سے معاشی، سماجی اور سیاسی بحرانوں کی زد میں ہے۔ جس سے لوگوں کی حالت خراب سے خراب ہوتی جارہی ہے انہیں زندگی کی سہولتیں وہ میسر نہیں جو ہونی چاہئیں۔ لہٰذا روز بروز ان کی زندگیوں میں نئی طرح کی تلخیاں آتی جارہی ہیں جو انہیں کسی ایک قومی نکتے پر اکٹھا ہونے سے روک رہی ہیں جبکہ ہمیں اس وقت ایک عظیم اتحاد کی ضرورت ہے تاکہ بیرونی بدخواہوں کا مقابلہ پوری یکسوئی اور طاقت کے ساتھ کیا جاسکے مگر افسوس پچھلی حکومتوں نے اس حوالے سے کبھی سنجیدگی سے نہیں سوچا اور وہ عارضی منصوبوں اور پروگراموں پر توجہ دیتی رہیں۔ نتیجتاً آج پورا معاشرہ متزلزل خیالات سے دو چار ہے کل کیا ہوگا اس کی اسے کوئی فکر نہیں جو لمحات جیسے بھی میسر ہیں انہیں گزارو یہ سوچ پیدا ہوچکی ہے۔ کیا ایسی صورت حال میں ملک ترقی کرسکتا ہے ہم ایک قوم ہونے کے بندھن میں بندھ سکتے ہیں اور کیا نئی نسل اس دھرتی سے ٹوٹ کر پیار کرسکتی ہے؟
اس تناظر میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا کہ انتخابات دو ہزار اٹھارہ ملک کی تقدیر بدل دیں گے درست معلوم ہوتا ہے کہ اب ایوانوں میں جو جائے گا۔ (اگر انتخابات ہوتے ہیں تو) وہ یہ سوچ کر کہ اسے پاکستان کو ہرنوع کے بحرانوں سے نجات دلانا ہے۔ وہ یہ نہیں کہہ سکے گا کہ اسے اپنی تجوریاں بھرنی ہیں کیونکہ ایک طرح سے ہنگامی صورت حال نافذ ہوچکی ہے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو بدعنوانی کے خلاف تمام ریاستی ادارے متحرک نہ ہوتے۔ اور نیب کی خصوصی کارروائیاں عمل میں نہ آتیں۔ لہٰذا کہا جاسکتا ہے کہ عام انتخابات دوہزار اٹھارہ غیر معمولی ہیں جوان نمائندوں کو آگے لائیں گے جو اس اہل ہوں گے کہ وطن عزیز کے خلاف ہرسازش ہر منفی پروپیگنڈہ اور ہر مشکل کا سامنا کرسکیں ان مسائل کو حل کرسکیں جنہوں نے اکیس کروڑ عوام کو ذہنی طورسے مفلوج اور مایوس کردیا ہے۔ !
بہرحال اگر یہ کہا جائے کہ عمران خان خود ایک دیانت دار سیاسی شخصیت ہیں تو غلط نہ ہوگا۔ ان کے بارے میں یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ وہ اس دھرتی کے لیے کچھ بڑا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں انہیں یہ احساس بھی ہے کہ ان کے لوگ غربت ، افلاس، ناانصافی اور جہالت کے نرغے میں ہیں جنہیں ان سب سے چھٹکارا دلانا بے حد ضروری ہے وہ ایک تڑپ رکھتے ہیں اپنے دل میں مجبور عوام کے لیے۔ مگر سوال یہ ہے کہ جب وہ عوام سے محبت رکھتے ہیں اور ان کے دکھ بانٹنے کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لارہے ہیں تو پھر اپنے ساتھ ان لوگوں کو کیوں کھڑا کررہے ہیں جو دولت کے پجاری اور عوامیت کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔ انہیں تو ایسے لوگ شامل کرنا چاہیے تھے جو غربت کی ٹیس۔ اور دوا کے بغیر جسم وجان پہ کیا گزرتی ہے کو بھی محسوس کرتے ہوں مگر انہوں نے نوابوں اور شہنشاہوں کی طرح زندگی بسر کرنے والوں کو اپنا ساتھی بنالیا جو ممکن ہی نہیں عوامی مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں انہیں تو ان سے کوئی دلچسپی نہیں مگر میں چیئرمین پی ٹی آئی کے اس مؤقف سے ایک حدتک اتفاق کرتا ہوں کہ اگر قابل انتخاب، کو شامل نہیں کیا جاتا تو وہ وزارت عظمیٰ تک کیسے پہنچ سکتے تھے اور اپنے منشور پر کیسے عمل درآمد کرسکتے تھے۔ لہٰذا انہوں نے جو کیا سوچ سمجھ کر کیا۔ ویسے ایک بات ہے کہ کپتان چونکہ
بنیادی طورپر عوام دوست ہیں لہٰذا ان کے جتنے بھی ساتھی ہیں ان کے کسی غیر عوامی فیصلے یا تجویز کو قطعی کوئی اہمیت نہیں دیں گے۔ اس کا ثبوت ان کا ماضی ہے آج بھی وہ اس پر عمل پیرا ہیں پھر ان میں جمہوریت کا عنصر بھی موجود ہے عوامی دباؤ کو بھی نظرانداز نہیں کرتے۔ کہ انہوں نے عوامی دباؤ پر ہی ایسے لوگوں سے ٹکٹ واپس لے لیے جنہیں لوگ ناپسند کرتے تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ ہاریں یا جیتیں مگر عوام کی نظر میں تو وہ مقبول ہیں اور اہل ہیں لہٰذا عمران خان چیئرمین پی ٹی آئی نے آنکھیں بند کرکے عوام کی بات کو تسلیم کرلیا۔ لہٰذا آنے والے لوگ سوفیصد تو پوتر نہیں ہوسکتے کیونکہ ابھی اس معاشرے میں تعلیم وتربیت کے حوالے سے خلاء موجود ہے۔ لہٰذا اس کے اثرات ان پر پڑے ہیں اس صورت میں مطلوبہ نتائج برآمد نہیں ہوسکتے۔ مگر یہ ضرور ہوسکتا ہے کہ اب وہ ایک قومی شاہراہ پر رواں ہوں گے۔ اور اگر کسی کا یہ خیال ہے کہ وہ اندھیر مچائیں گے قومی خزانہ لوٹیں گے۔ وہ دن گئے جب خلیل خاں فاختہ اڑایا کرتے تھے۔ وجہ اس کی یہی ہے جو اوپر بھی عرض کرچکا ہوں کہ معیشت ہچکولے لینے لگی ہے۔ ترقی کی رفتار رکتی چلی جارہی ہے سماجی خرابیاں بگاڑاور برائیاں کوندتی بجلیوں کی مانند دیکھی جانے لگی ہیں ۔ کوئی ریاست خراب وبدتر معاشی حالات میں کیسے اپنی بقا قائم رکھ سکتی ہے۔
یہاں میں یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ صرف ایوانوں میں پہنچنے والے نمائندوں کا ذمہ دار اور دیانت دار ہونا کافی نہیں ریاست کا پیسا جو لوگ لوٹ کر ہیراپھیری اور دھوکا دہی سے مغربی ممالک میں لے گئے ہیں اسے واپس لانا سب سے اہم ترین کام ہے تاکہ ہمیں مستقبل میں قرضوں سے چھٹکارا مل سکے جنہوں نے گویا ہمارے وجود کو یرغمال بنا رکھا ہے اور اس کے دینے والے ہمیں آئے روز طرح طرح کی شرائط وہدایات سے ’’نوازتے‘‘ رہتے ہیں ۔ یہ کسی خودمختار آزاد ریاست کے لیے انتہائی ضرررسان ہے وہ اپنے عوام کی خواہشات وضروریات کا خیال رکھنے سے قاصر ہوتی ہے۔ گزشتہ حکومتوں نے یہی کچھ کیا وہ عالمی مالیاتی اداروں سے بھاری قرضے لیتی رہیں ملک کا نظام معیشت چلانے کے لیے مگر انہوں نے اپنے مفادات کو بھی پیش نظر رکھنا اور انہیں (حکومتوں )ہدایات دیتے رہے جن پر عمل کرنا ان کی مجبوری بھی تھی لہٰذا صورت حال بگڑ گئی کیونکہ عالمی مالیاتی ادارے بنیادی معاشی، ڈھانچے کو تقویت دینے پر راضی نہ تھے سطحی ترقی کے حق میں تھے مقصد اس کا یہی تھا کہ ان کے قرضوں کی رنجیر نہ ٹوٹنے پائے اور پاکستان ان کی دہلیز پر اپنی ناک رگڑتا رہے اور وہ سود درسود وصولیتے رہیں آخر کار پورے کا پورا ملک ان کی خواہش کے مطابق ان کے معاشی جال میں پھنس جائے۔ کسی حدتک وہ اس میں کامیاب رہے۔ اور یہ کامیابی انہیں ان حکمرانوں کی حرص وہوس کی وجہ سے حاصل ہوئی کہ انہوں نے ان قرضوں میں سے ایک حصہ اپنے لیے مختصر کرلیا جسے چھپا کر وہ انہی کے ملکوں میں لے گئے۔ جب اس واردات کا علم ہوا تو پانی سر سے گزر چکا تھا۔ اب جس جس نے اکیس کروڑ غریب مفلوک الحال بے بس اور محکوم عوام کے ساتھ یہ ظلم کیا ہے ان کے گرد احتساب کا شکنجہ کسا جارہا ہے وہ چیخیں ماررہے ہیں کبھی وہ اسٹیبلشمنٹ پر اور کبھی عدلیہ پر برس رہے ہیں جو چاہتی ہے کہ ملک میں انصاف ہو آئین وقانون کی بالادستی ہو بدعنوان پکڑے جائیں، بدعنوانی کا سلسلہ رک جائے۔ جو لوٹ مار کی جاچکی آئندہ نہ ہو۔ بھلا اس میں کیا برائی ہے؟ اب سخت ترین فیصلوں کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ مگر لٹیروں کو کسی بھی صورت چھوڑا جائے۔ جتنے بھی مافیاز ہیں ان کی خبر لی جائے۔ جو انتخابات میں بھی حصہ لے رہے ہیں کہ خود کو محفوظ بنا سکیں ان کا بھی حساب کتاب ہو۔ کیونکہ ملکی سلامتی وبقا کا یہی تقاضا ہے لہٰذا یہ درست ہے کہ انتخابات دوہزار اٹھارہ ملک کا مستقبل روشن کردیں گے کیونکہ اب ہرکسی کو اس راستے پر چلنا ہوگا جو اس دھرتی کو خوشحالیوں، خوشبوؤں اور بادنسیموں سے ہمکنار کرتاہے!!


ای پیپر