دھوکہ دہی کی سیاست کا راج
04 جولائی 2018 2018-07-04

پاکستان میں الزامات اور جھوٹ پر مبنی سیاست اپنی تمام حدوں کی چھوتی ہوئی عروج کی تمام منازل طے کرتی ہوئی نظر آ رہی ہے جھوٹے الزام کے حوالے سے اسلامی تاریخ میں موجود ایک واقعہ ملاحظہ ہو پھر آتے ہیں، اپنے اصل مدعا کی طرف ۔مدینہ شریف میں ایک حمام (غسل خانہ) تھا جس میں مردہ عورتوں کو نہلایا جاتا اور تجہیزوتکفین کی جاتی تھی ایک مرتبہ اس میں ایک متوفیہ کو نہلانے کیلئے لایا گیا۔غسل دیا جا رہا تھا کہ ایک عورت نے اس مردہ خاتون کو برا بھلا کہتے ہوئے کہا کہ تو بدکار ہے اور اس کی کمر سے نیچے ایک تھپڑ مارا برا بھلا کہنے والی اور مردہ عورت کو مارنے والی عورت کا ہاتھ جہاں اس نے مارا تھا، مستقل چپک گیا، عورتوں نے بہت کوشش و تدبیر کی لیکن ہاتھ الگ نہیں ہوا، بات پورے شہر میں پھیل گئی کیونکہ معاملہ ہی عجیب تھا۔ ایک زندہ عورت کا ہاتھ ایک مردہ عورت سے
چپکا ہوا ہے۔ اب اس کو کس تدبیر سے الگ کیا جائے۔ مردہ کو دفن کرنا بھی ضروری ہے اس کے لواحقین الگ پریشان ہوں گے معاملہ شہر کے حاکم تک پہنچ گیا۔ انہوں نے فقہاء و علماء سے صلاح مشورہ کیابعض نے رائے دی کہ اس زندہ عورت کا ہاتھ کاٹ کر الگ کیا جائے۔ کچھ کی رائے یہ بنی کہ مردہ عورت کے جس حصہ سے اس زندہ خاتون کا ہاتھ چپکا ہے۔ اتنے حصہ کو کاٹ لیا جائے کچھ کا کہنا تھا کہ میت کی بے عزتی نہیں کی جا سکتی کچھ کا کہنا تھا کہ زندہ عورت کا ہاتھ کاٹنا اسکو پوری زندگی کیلئے معذور بنا دے گا۔ شہر کا والی امام مالک ؒ کا قدرشناس اور ان کے تفقہ اورفہم وفراست کا قائل تھا اس نے کہا کہ میں جب تک اس بارے میں امام مالک ؒ سے بات کر کے ان کی رائے نہ لوں میں کوئی فیصلہ نہیں دے سکتا۔امام مالک ؒ کے سامنے پورا معاملہ پیش کیا گیا آپ نے سن کر فرمایا نہ زندہ خاتون کاہاتھ کاٹا جائے اور نہ مردہ عورت کے جسم کا کوئی حصہ الگ کیا جائے میری سمجھ میں یہ بات آتی ہے کہ مردہ عورت پر اس زندہ خاتون نے جو الزام لگایا ہے وہ اس کا بدلہ اور قصاص طلب کر رہی ہے لہٰذا اس الزام لگانے والی عورت کو شرعی حد سے گزارا جائے چنانچہ شرعی حد جو تمہت لگانے کی ہے یعنی 80 کوڑے مارنے شروع کئے گئے ایک، دو، پچاس، ساٹھ، ستر بلکہ اناسی کوڑوں تک اس زندہ خاتون کا ہاتھ مردہ عورت کے جسم کے کمر کے نچلے حصہ سے چپکا رہا جوں ہی آخری کوڑا مارا گیااس کا ہاتھ مردہ عورت کے جسم سے الگ ہو گیایقیناًاس واقعہ میں دوسروں پر بے جا تہمتیں لگانے والوں کیلئے بڑی عبرت موجود ہے رب العالمین ہم سب کو اس گناہ کے شر سے اپنی پناہ میں رحمت عطا فرمائے آمین (بحوالہ بستان المحدثین للشاہ عبدلعزیز دہلوی صفحہ25 )۔
قارئین کرام! اس واقعے کے تناظرمیں باالعموم آج اگر ہم اپنے گریبانوں میں جھانگیں اور اپنا احتساب شروع کریں تو بات بہت دور تلک جاتی دکھائی دیتی ہے بالخصوص سیاستدانوں اور سیاسی بیان بازی پر نظر دوڑائیں تو پتہ چلتا ہے فی الوقت پاکستان میں سارے سیاسی گروپوں اور جماعتوں کی سیاست الزامات کے سہارے ہی گھڑی ہے ہمارے جملہ سیاسی قائدین کوالزامات اور جھوٹ پر مبنی سیاست ترک کر کے ایسا راستہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے جس سے ہما را رب راضی ہو اور اسکی بدولت ارض وطن میں اللہ کی رحمت میں اضافہ اور برکت ہو ۔یقینایہ واحد راستہ سچائی ،دیانت داری، امانت داری کا ہی ہو سکتا ہے جس سے رب کائنات کی خوشنودی حاصل کر کے ہم اپنے لیئے کامیابی کی راہیں ہموار کر سکتے ہیں ۔ میاں نوازشریف کو کوئی قابل انسان مشورہ دیے کہ محض الزامات اور شکوک و شبہات کے سہارے فوج اور عدلیہ سے محاذآرائی سے گریز کریں اور فیصلہ اپنے حق میں آنے کی صورت میں اپنے پاؤں زمین پر رکھیں۔ موجودہ صورتحال میں یقیناًمسلم لیگ (ن) کیلئے اپنی قیادت اور سیاست کے حوالے سے اہم فیصلے کرنے ہیں اس تناظر میں میاں نوازشرف کو بھی دوراندیشی سے کام لینا ہوگا اور مسلم لیگ (ن) کے دوسرے عہدیداروں اور ارکان کو بھی اپنی پارٹی کا سیاسی مستقبل محفوظ کرنے کیلئے فہم و بصیرت کا مظاہرہ کرنا چاہے۔ اسی طرح اگر ن لیک کو جمہوریت کی عملداری مقصود ہے تو پارٹی کے ان ارکان کو بھی پارٹی قیادت سے دور رکھا جانا چاہیے جن کے بارے میں فوج اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اعلانیہ یا پس پردہ تعلقات کا شائبہ بھی موجود ہو پارٹی کی مستقبل کی سیاست کو اس طرح ہی محلاتی سازشوں سے محفوظ کیا جا سکتا ہے۔جمہوریت کی عملداری قائم رکھنے والی اپنی اس سیاست کے باعث ہی انہیں ماضی میں بھی آزمائش کے مراحل سے گزرنا پڑا۔ اپنی اس اصولی سیاست کے باعث انہیں 1993ء میں غلام اسحاق خان کے ہاتھوں وزارت عظمیٰ سے محروم ہونا پڑا اور اسٹیبلشمنٹ مخالف اس سیاست کی بنیاد پر ہی وہ 12 اکتوبر 1999ء کو
جرنیلی آمر مشرف کے ہاتھوں وزارت عظمیٰ سے محروم ہوئے اور حکومت ہی نہیں سیاست بدر بھی کردیئے گئے تھے۔ عدالت عظمیٰ کا فیصلہ آئینی اور قانونی حوالے سے یقیناً موضوعِ بحث بنا رہے گا تاہم اس وقت مسلم لیگ (ن) اور اسکی مخالف سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری سسٹم کو بچائے رکھنے کیلئے کردار ادا کرنے کی ہے۔اگر عدالتی فیصلوں پر تحفظات ہیں تو وہ ن لیگ کا حق ہے لیکن ان تحفظات کے تناظرمیں بیانات کی شدت پیدا ہوئی تو اس سے سیاسی محاذآرائی بڑھ سکتی ہے۔ تاہم اگر عدالت عظمیٰ کے فیصلہ کیخلاف سٹریٹ پاور کے استعمال کا راستہ اختیار کیا گیا تو اس سے سسٹم کیلئے خطرات پیدا ہونگے۔ ماضی کی تاریخ گواہ ہے کہ سیاسی محاذآرائی کی فضا میں ہی آمروں کو جمہوریت کی بساط الٹانے کا موقع ملتا رہا ہے۔ اگر اب مسلم لیگ (ن) کی قیادت اپنی مدبرانہ سیاست سے پارٹی کو محاذآرائی اور اداروں کے ساتھ مزاحمت کی سیاست سے روک سکے تو مستقبل میں اداروں کے درمیان حدود قیود کی پاسداری کیلئے بڑی کامیاب ہوگی۔


ای پیپر