مشتاق احمد یوسفی کا عہد یوسفی(2)
04 جولائی 2018 2018-07-04



انھوں نے مسلم کمرشل بینک کے اپنے ایک پٹھان دوست کاذکر کئی تحریروں میں کیا۔لکھتے ہیں کہ جب ہم مسلم کمرشل بینک میں ملازمت کرتے تھے تو بینک کے ایک پٹھان ساتھی مجھے کہنے لگے ہرچند کہ آپ کی انگریزی اتنی اچھی نہیں جتنی میری پشتو ہے تاہم ایک درخواست انگریزی میں مسلم کمرشل بینک کے انگریز مینیجر کے نام اس مضمون کی لکھ دیجیے کہ مجھے مردان کا بنک مینیجر بنا دیا جائے۔ ہم نے کہا مردان میں تو مسلم کمرشل بینک کی کوئی شاخ ہی نہیں ہے۔ کہنے لگے کہ مجھے ترقی دینی ہے تو انگریز کو یہاں شاخ بھی کھولنی پڑے گے۔ اور ہاں یہ بھی صاف لکھ دیجیے کہ اگر میری ترقی نہ ہوئی تو میں پڑوسی کی لڑکی کو ٹیوشن پڑھاناشروع کر دوں گا۔ ہم نے کہا کہ یہ دھمکی تو پڑوسی کو دہلا سکتی ہے انگریز جزل مینیجر اس سے خوف کاہے کو کھائے گا۔ چلا کر بولے تو پھر وارننگ دے دیجیے کہ میں سپینش سول وار میں چلا جاؤں گا۔ ہم نے کہا کہ یہ خانہ جنگی تو بند ہو چکی۔ بولے اوہو، میں نے تو دو دن سے اخبار
نہیں دیکھا۔ میں نے عرض کیا کہ اس خانہ جنگی کو تو ختم ہوئے بندہ خدا تیرہ سال ہو گئے۔ فرمایا کہ اچھا تو پھر کوئی اور مناسب دھمکی تحریر کر دیں۔ ہم نے درخواست ایک انگلی سے ہجے کر کر کے اس طرح ٹائپ کی کہ جیسے ملکہ بخراج اور طاہرہ سید گانا ٹائپ کرتی ہیں۔ حیرت ہمیں اس پر ہوئی کہ چھ ہفتے کے اندر اندر مردان مین واقعی مسلم کمرشل بینک کی شاخ کھل گئی۔ اور وہ سچ مچ اس کے مینیجر مقرر ہو گئے۔ وہ اس دن سے ہماری انگریز دانی اور ہم ان کی انگریز شناسی کے قائل ہو گئے۔ کافی عرصہ گزر جاتا ہے اور وہ ریٹائر ہو جاتے ہیں۔ 1970 میں ہمیں نوشہرہ جانے کا اتفاق ہوا۔ بینک کے زیر تعمیر عمارت کے حوالے سے میرا ٹھیکہ دار سے جھگڑا چل رہا تھا کہ اتنے میں خان صاحب اک ٹانگے سے اترے،ہمارے پاس آئے، ٹھیکہ دار سے اس کا اور اس کے والد کا نام پوچھا اور پھر اس ٹھیکہ دار کا نام مع ولدیت لے لے کر اسے گالیاں دینی شروع کر دیں۔
انھیں اس چیز سے غرض نہیں تھی کہ جھگڑا کیا ہے اور کون حق پر ہے۔وہ دوست کے ساتھ تھے۔ ہم نے ثالث بن کر بیچ بچاو کروایا۔ خان صاحب کی غصے کی لالی ذرا مدھم پڑی تو ہمارا کلیجہ دھک سے رہ گیا۔ ملیشا کی شلوار قمیض، سفید چادر کا سینے پر کراس بنائے ہوئے، کف کے بٹن اور مصنوعی دانت غائب تھے۔ منہ کی پُڑیا سی بن گئی تھی۔ ہاتھ اور انگلیاں جیسے بوڑھے درخت کی جڑیں۔ایک آنکھ پر سبز رنگ کا چھکے نما کپڑا جو روشنی سے بچنے کے لیے آنکھ بنوانے کے بعد بعض لوگ لگاتے ہیں۔ شان ملیلہ، چہرہ گرد ملال سے اٹا ہوا۔ وقت نے کیسی عمارت ڈھائی تھی۔دوبارہ آنکھ بھر کر دیکھنے کی مجھے ہمت نہیں پڑ رہی تھی۔ بہت سوچا، کچھ سمجھ میں نہ آیا کہ کیا کہوں۔ آخر یہ مشکل انھوں نے خود حل کر دی۔ کہنے لگے، ہائے یوسفی صاحب یہ آپ کو کیا ہو گیا،وہ ہمارا دلدار کہاں گیا۔ہم نے آنکھ کے آپریشن پر اظہار افسوس اور ہمدردی کیا تو وہ دوسری آنکھ سے مسکراتے ہوئے بولے۔ جی ہاں! میری آنکھیں اب اتنی کمزور ہو گئی ہیں جتنی آپ کی بیس سال پہلے تھیں۔
جو میں نے بیان کیے ہیں وہ عہد یوسفی کے صرف چند لمحات ہیں۔ عہد یوسفی کو ایک تحریر میں سمونا ممکن نہیں ہے۔ عہد یوسفی پچانوے سال کی داستان ہے جس کے ایک ایک لمحے میں اردو ادب سے محبت، مزاح کی توقیر اور تنقید کی تمیز جھلکتی ہے۔ ان کا مزاح سبق آموز تھا۔ ان کے لحجے کی معصومیت اور ان کے الفاظ کی کاٹ انھیں مظلوم جابر مذاح نگار کے طور پر آشنا کرواتی تھی۔ عہد یوسفی کی ایک خاصیت یہ بھی تھی کہ آپ جب تک ان کے دربار میں حاضر رہتے تھے تب تک آپ کے چہرے کی مسکراہٹ مدہم نہیں پڑتی تھی۔ یوسفی صاحب کا مزاح سمجھنے کے لیے اہل علم ہونا اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ انسان کا زندہ ہونا۔ جو لوگ اہل علم نہیں ہیں یوسفی صاحب کا مزاح ان کی سمجھ میں نہیں آ سکتا۔ وہ اپنے مزاح میں اردو ادب کے ایسے ایسے الفاظ استعمال کر جاتے تھے کہ آپ کو انھیں سمجھنے کے لیے اردو کی ڈکشنری کی ضرورت پڑ جاتی ہے۔ یہ سچ ہے کہ اردو ادب نے سنجیدہ اور رنجیدہ نثر میں بہت بڑے بڑے صورما پیدا کیے ہیں لیکن اردو ادب نثر کی مزاح نگاری میں جو نام مقام مشتاق احمد یوسفی نے پایا ہے وہ آج تک کسی کے حصے میں نہیں آ سکا۔ یوسفی صاحب کی مزاح نگاری کی خاصیت یہ تھی کہ انھیں پڑھنے اور سننے والے مسکراتے بھی جاتے تھے اور اہل علم بھی ہوتے جاتے تھے۔
یوسفی صاحب نے اپنی زندگی میں کم لکھا لیکن جتنا لکھا خالص لکھا اور خلوص کے ساتھ لکھا۔ انھوں نے اپنی تحریروں کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونے دی۔ ان کی تحریریں اردو ادب کے ہر ترازو پر برابر وزن کے ساتھ تولی جا سکتی ہیں۔ ان کی تحریروں میں نہ تو ایک لفظ کم ہوتا ہے اور نہ زیادہ بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ زیر زبر پیش شد اور مدکا وزن بھی پورا ہوتا ہے تو غلط نہیں ہو گا۔ لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ آج کی نسل مشتاق احمد یوسفی کی تحریروں کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ اکثریت کے لیے ان کی تحریریں بوریت پیدا کرتی ہیں اور وہ چند لائنیں پڑھنے کے بعد اکتا جاتے ہیں۔ اس پر ستم یہ کہ انھیں ان تحریروں کو سمجھانے اور ان کی افادیت بتانے والے اساتذہ بھی میسر نہیں ہیں۔ ہمارے معاشرے میں اردو ادب پڑھنے کے رجحان میں کمی نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا ہے۔ ہمارے نوجوان انگریزی مزاح نگاروں کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے سینہ چوڑا کر لیتے ہیں اور جب اردو مزاح نگاروں کا ذکر آتا ہے تو انھیں ان کی ایک بھی تصنیف کا علم نہیں ہوتا۔ جو خلا مشتاق احمد یوسفی پیدا کر گئے ہیں انھیں شاید کوئی پورا نہیں کر سکتا لیکن اگر یوسفی صاحب کی تحریروں اور مزاح نگاری کو سکولوں، یونیورسٹیوں اور کالجوں کے اردو سلیبس کا باقاعدہ حصہ بنا دیا جائے تو مشتاق احمد یوسفی جیسے کئی ہیرے تراشے جا سکتے ہیں جو مستقبل میں اردو ادب میں ایک نئی روح پھونک سکتے ہیں اور یہ یقیناًاردو ادب کی بہت بڑی خدمت ہو گی۔


ای پیپر