Source : Yahoo

بلاول بھٹو نے کالا باغ ڈیم پر خاموشی توڑ دی
04 جولائی 2018 (18:11) 2018-07-04

نواب شاہ : پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں جہاں کسی عدلیہ نے ڈیم بنایا ہو۔ کالا باغ ڈیم بنانے پر اتفاق رائے قائم کیا جاسکتا ہے۔ جو ڈیم بنانا چاہتے تھے ان کی اپنی ہی رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ ڈیم نقصان پہنچائے گا۔(ن)لیگ سے کہا تھا کہ بائیکاٹ کے بجائے الیکشن میں حصہ لے کیونکہ شکست کے ڈر سے دوڑ سے نکلنا نہیں چاہیے۔

پیپلزپارٹی وہ واحد جماعت ہیں جس نے سندھ میں کام کیا ہے، ایم کیو ایم کے پاس تو کوئی منشور نہیں ہے پھر وہ کیسے کام کریں گے۔وہ بدھ کو نواب شاہ میں میڈیا سے بات چیت کررہے تھے ۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم جمہوری جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، جو لوگ جمہوریت نہیں چاہتے وہ اکھٹے ہورہے ہیں۔ کٹھ پتلی الائنس کا کوئی نظریہ نہیں۔

ا نہوں نے کہا کہ ہم نے پہلے بھی (ن) لیگ کو کہا تھا کہ انہیں شکست نظر آرہی ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ انتخابی دوڑ سے الگ ہوجائیں۔ شکست کے ڈر سے دوڑ سے نکلنا نہیں چاہیے۔انہوں نے کہا کہ یہ جمہوریت کا صلہ ہے دوسری جمہوری حکومت اقتدار منتقل کر رہی ہے۔انہوںنے کہا کہ پاکستان میں سب سے بڑا مسئلہ پانی ہے، پیپلز پارٹی اس مسئلے کے حل کے لیے جدوجہد کر رہی ہے، پیپلزپارٹی نے سندھ میں چھوٹے ڈیم بنائے لیکن کسی جماعت نے اس مسئلے کو نہیں اٹھایا۔

الیکشن کے قریب آتے ہی سب کو پانی یاد آرہاہے اور ڈیم بنانے کی باتیں کی جارہی ہیں۔ ڈیم بنانا حکومت کا کام ہے، دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں جہاں کسی عدلیہ نے ڈیم بنایا ہو۔ کالا باغ ڈیم بنانے پر اتفاق رائے قائم کیا جاسکتا ہے، جو ڈیم بنانا چاہتے تھے ان کی اپنی ہی رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ ڈیم نقصان پہنچائے گا۔ بھارت کے پانی روکنے سے متعلق پاکستان کا واضح موقف ہے۔

ایم کیو ایم اور پی آٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے بلاول زرداری نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی وہ واحد جماعت ہیں جس نے سندھ میں کام کیا ہے، ایم کیو ایم کے پاس تو کوئی منشور نہیں ہے پھر وہ کیسے کام کریں گے۔ پی ٹی آئی کے کردار کے بارے میں لوگ جانتے ہیں، پیپلز پارٹی کو عوام پر اعتماد ہے کہ وہ کسی کٹھ پتلی پارٹی کے ساتھ نہیں۔ اور کٹھ پتلیوں کو بھی کہتا ہوں کہ عوام پر اعتماد کریں۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سندھ کے دورے کے دروان عوام کی جو محبت مل رہی ہے اس کا گفتگو سے اظہار نہیں کر سکتا۔ جگہ جگہ روک کر ہمارا والہانہ استقبال کیا جا رہا ہے۔ کراچی سے یہاں تک جوش و جذبے سے ہمارا استقبال کیا گیا۔


ای پیپر