سپریم کورٹ نے ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کے تبادلے کو روک دیا
04 جولائی 2018 (16:41) 2018-07-04


اسلام آباد : سپریم کورٹ آف پاکستان نے اصغر خان کیس کا فیصلہ ہونے تک وفاقی تحقیقاتی ادارے کے سربراہ بشیر میمن کو تبدیل نہ کرنے کا حکم دے دیا ۔ سپریم کورٹ نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کے تبادلے سے روک دیا اور قرار دیا کہ اصغرخان کیس کی تفتیش مکمل ہونے تک ڈی جی ایف آئی اے کو تبدیل نہ کیا جائے۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ گذشتہ رات ٹی وی چینلز پر کافی شور تھا کہ ڈی جی ایف آئی کا تبادلہ کر دیا گیا ، سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کو بتا دیں کہ عدالتی حکم عدولی پر سخت کارروائی کی جائے گی۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اس حوالے سے الیکشن کمیشن کو آگاہ کر دیا ، سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو بھی آگاہ کر دیا جائے گا۔


چیف جسٹس نے سپریم کورٹ آف پاکستان میں خواتین کی افغانستان اسمگلنگ سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ ڈی جی ایف آئی اے کی تبدیلی احکامات کی خلاف ورزی ہو گی ۔دورانِ سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ افغانستان سے آ نے والی کالزکی تفصیلات حاصل کرلیں، کالز کو ٹریس کرنے کے لیے مزید مہلت دی جائے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ مجھے بتائیں کہ محسن حبیب وڑائچ کا نام ای سی ایل میں ڈالا؟


عدالت کے حکم کے بعد وہ لندن گیا، این آئی سی ایل کیس کا ملزم محسن وڑائچ لندن کیسے چلا گیا؟ ڈی جی ایف آئی اے نے کہاکہ مجھے ریکارڈ دیکھنا ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ خاتون شادیاں کرواتی تھیں، صوبہ خوست میں افغانستان حکومت کی رٹ بھی نہیں ہے،کوشش ہے کہ متعلقہ خاتون واپس آجائے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ مجھے توشک ہے کہ اس میں خاتون کا خاوند ملوث ہے۔


ای پیپر