پنجاب کے وزیراطلاعات‘ جناب احمدوقاص‘ اور لاہورکا ڈبن پورہ
04 جولائی 2018 2018-07-04

میں کل عشاءکی نماز سے گھر جانے کے لیے نکلا، تو راستے ہی میں ”اُچک“ لیا گیا، میرے ہمسایے ، اور بھائی نما دوست یا دوست نما بھائی، جمیل صاحب نے میرے قریب پہنچتے ہی گاڑی کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھنے کا کہا تعمیل حکم میں اخلاقاً اور مروتاً بیٹھ گیا ، دوتین منٹ کی ”ڈرائیو “ کے بعد شکل سے نہایت ہی سلجھے ہوئے، متین، بردبار، بلکہ خاکسار نما شخص نے دروازہ کھول کر ڈرائنگ روم میں بٹھا لیا، اندرپہنچ کر معلوم ہوا، کہ یہ وزیراطلاعات پنجاب کا گھر ہے، میں سمجھا کہ ابھی وزیر اطلاعات اندر آئیں گے .... جس شخص نے ہمیں اندر بٹھایا تھا، اس سے میرے دوست جمیل صاحب، واضح رہے کہ میرے حقیقی بھائی کا نام بھی جمیل طاہر خان ہے، اور میرے منہ بولے بھائی کا نام بھی جمیل صاحب ہے گپ شپ شروع کردی، اور وہ احتراماً سرجھکا کر ان کی باتیں اور نصیحتیں سنتے رہے، اور مجھ سے بھی میری اوقات، اور بساط سے بڑھ کر گفت وشنید کی، جب دوران گفتگو انہوں نے بتایا کہ خزانہ اتنا خالی ہے، کہ ہم متفکر ہیں، کہ اپنے ملازمین کو تنخواہیں کیسے دیں گے تو یہ سن کر شاید میرے منہ سے ”ہیں“ نہ نکل گیا ہو، جیسے طارق عزیز، یا نواز میرانی کو دیکھ کر منہ سے نکل جاتا ہے، مگر میرے منہ سے حیرت، مسرت اور انسباط سے یہ سن کر موصوف ہی وزیراطلاعات ہیں، جنہوں نے امریکہ کی غالباً ہاروڈیونیورسٹی سے اکنامکس کی ڈگری سمیت بہت سی ڈگریاں لے رکھی ہیں ، میرے منہ سے شاید کوئی لفظ اس لیے نہیں نکلا کہ کل اس وقت سے لے کر اب تک مسلسل بارش ہورہی ہے، لاہور شہر پانی میں ڈوبا ہوا ہے، اور پاکستان گردن تک ”قرضے“ میں بھی ڈوبا ہوا ہے۔
اگلا کالم انشاءاللہ قرضے پر لکھوں گا، وزیراطلاعات سے اتنی جامع ، مثبت اور حکیمانہ گپ شپ میں وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوا، واپس گھر پہنچا، تو سکیورٹی گارڈ سمیت میرا بیٹا دلاور خان پریشانی کے عالم میں مجھے ڈھونڈ رہے تھے ، جبکہ میں سوچوں میں گم تھا، کہ پاکستان میں عبوری حکومت میں اتنے حقیقی معنوں میں، دانشور بلکہ دانشمند اصحاب عقل وخرد آجاتے ہیں مگر اسمبلیوں میں ایسے چہرے آجاتے ہیں، کہ چیف جسٹس بھی جنہیں ضیاءالحق کی طرح، جنہوں نے اپنی عمر نواز شریف کو لگنے کی، اور مغلیہ بادشاہت کے بانی بابر بادشاہ نے اپنے بیٹے ہمایوں کو لگنے کی دعا کی تھی، شیخ رشید نے چیف جسٹس ثاقب نثار کو دی ہے، اور وہ ان کے ساتھ چل پڑے، چلیں چھوڑیں، اس عمل کو یہ انتخابی عمل پہ، سنا ہے اثر انداز نہیں ہوتیں ۔ ویسے بھی آج کل Remixingکا دور ہے اور مجھے پتہ نہیں کیوں چوہدری رحمت علی صاحب، رہ رہ کر یاد آرہے ہیں۔ کہ انہوں نے پاکستان کا کتنا خوبصورت نام رکھا تھا، ورنہ تو صدقے جائیں شہروں اور قصبوں کے نام رکھنے والوں پہ اور اس سے بھی زیادہ ان پہ، جو صدیوں سے ایسے ناموں کی حفاظت کرتے چلے آرہے ہیں، جیسے میاں چنوں، چھانگا مانگا، چیچہ وطنی، جیا بگا، چیچوں کی ملیاں، بھائی پھیرو اور ہڑپہ وغیرہ وغیرہ، اور خداجھوٹ نہ بلوائے تو کئی ناموں پہ زیرزبر کا خصوصی خیال رکھنا پڑتا ہے، کہیں شریعت کورٹ میں طلبی نہ ہوجائے، یا ہائیکورٹ میں جسٹس شوکت علی صدیقی ازخود نوٹس نہ لے لیں۔ مثلاً للیانی، ڈونگہ بونگا، گھوڑے شاہ، پچھلے دنوں لا.... ہور کے ایک علاقے کے نام کا پتہ چلا، تو بڑی حیرانی ہوئی، علامہ اقبال ٹاﺅن کے ساتھ ایک جگہ ہے، اس کا نام ہے ” ڈبن پورہ “ پہلے تو میں سمجھا شاید مذاق مذاق میں دوست اسے ڈبن پورہ کہہ رہے ہیں لیکن ”صحافیانہ جستجو“ نے وہاں جاکر اور بورڈ پڑھ کر مجھے مجبور کیا، کہ واقعی یہی اصلی نام ہے، اور دراصل یہ Gatewayہے، اچھی کالونیوں مثلاً مرغزار کالونی سے ازمیرمیر، کالونی تک جہاں سعداللہ شاہ صاحب ، جن کے بیٹے ایل، ڈی، اے میں ہیں مگر پھر بھی ابھی تک وہیں رہتے ہیں، یہاں پہلے سیدارشاد احمد عارف صاحب بھی رہتے تھے، ہم سب مجموعی طورپر اس قدر لکیر کے فقیر ہیں کہ پون صدی گزر جانے کے باوجود لکشمی چوک، قلعہ گجرسنگھ، قلعہ دیدار سنگھ ، گھوڑے شاہ، موہنی روڈ وغیرہ کا کوئی اچھا سا اسلامی نام کیوں نہیں رکھ لیتے، اور اگر رکھتے بھی ہیں ، تو ایسا بڑا نام کہ جس کو یاد کرنے کے بجائے آیات کو یاد کرنا زیادہ آسان ہوتا ہے، مثلاً حضرت غوث الاعظم سید محی الدین جیلانی ؒ، یا شہنشاہ ہندوستان قطب الدین ایبک ، حالانکہ اسے جیلانی یا گیلانی روڈ، اور ایبک روڈ بھی لکھا جاسکتا ہے، مگر ان باریکیوں میں کون پڑے، حیرت تو یہ ہے کہ ڈبن پورہ اور ڈونگہ بونگا میں رہنے والے، اپنے طورپر نفسیاتی نکتہ نگاہ سے کوئی سبکی بھی محسوس نہیں کرتے .... جبکہ عملی طورپر ایسے ہے کہ یہی بونگے جب عملی طورپر میدان میں آتے ہیں، تو پنجاب کو آگے لگا دیتے ہیں۔ حالانکہ ڈونگا بونگامیں رہنے والے شاعر اپنے نام کے ساتھ ”بونگوی“ کیوں نہیں لکھتے؟ چھانگامانگا والے شاعر مانلوگھی بھائی پھیرو والے ”پھیروی“ للیانی والے ”للیانوی“ ہڑپہ والے ”ہڑپ وی“ لکھنے سے کیوں گریزاں ہیں؟ جبکہ ایسا ڈینس للی.... تو نہیں کرتا تھا۔لہٰذا بہتر تو یہی تھاکہ وہاں کے بسنے والے تھوڑی سی ہڈ حرامی چھوڑ کر ذرا سی تکلیف گوارا کرکے کوئی مناسب نام رکھ لیں، ورنہ ڈونگہ بونگا، اور ڈبن پورہ کے رہنے والے لوگوں کے جائز مسائل کو بھی کوئی سنجیدگی سے نہیں لے گا۔
قارئین آپ دیکھتے آئے ہیں کہ اگر کوئی امریکی یا برطانوی، کوئی ہمارے حکمرانوں سے بات کرے، تو ان کی بات کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے۔ بلکہ ان کا کام کرنے کی دھن میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا جاتا، جبکہ اپنے ملک میں حقائق کو مسخ کرنا، توڑ مروڑ کے پیش کرنا، اپنے مطلب اور مقاصد ومفاد کے حصول کے لیے نہ صرف جائز وناجائز سعی کی جاتی ہے بلکہ بعض اوقات ایسے واقعات دیکھ کر حیرانی اور اکثر پریشانی بھی ہو جاتی ہے، مثلاً پچھلے الیکشن میں انتخابی مہم کی بھرپور کوریج کی گئی تھی، گوآج کل بھی مختلف چینلز کے مالکان کی پسند پر ”امیدواروں“ کے حق میں یا مخالفت میں تبصرے، اور تبرے، قوم کو سنوائے جاتے ہیں۔
میں بات کررہا تھا، مشرف دور کی، جب بلاتفریق بلکہ ”بلاتمیز“ ہرجماعت کے انتخابی جلسے کی کوریج کی گئی تھی۔ ایسے ہی ایک جلسے کی خبریں سن کر بلکہ دیکھ کر میرے ایک دوست کی بیٹی نے اپنے والد سے پوچھا .... ابو کیا بات ہے، پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے جلسوں کو نہر یا دریا کی مانند دکھایا جاتا ہے، اور مسلم لیگ ”ق“ اس وقت کی حکمران جماعت کے جلسوں کو دیکھ کر ایسے لگتا ہے، جیسے لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ہو، جبکہ جماعت اسلامی کے جلسوں کو بالکل چھوٹا اور مختصر دکھایا جاتا ہے۔ حالانکہ جماعت اسلامی منظم اور بڑی جماعت ہے۔ اور اس کے کارکن بھی پورے پاکستان میں پھیلے ہوئے ہیں یہ سن کر میرے دوست زیرلب مسکرائے، اور بولے بیٹی ، دراصل بات یہ ہے کہ جب امیر جماعت اسلامی کی باری آتی ہے، تو ہمارے ٹی وی والے ، ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کو ، کوزے میں بند کردیتے ہیں۔ اور یہ سب ایسے بھولپن اور معصومانہ انداز سے کرتے ہیں کہ گمان تک نہیں ہوتا، کہ عوام کے ساتھ کیا مذاق کیا جارہا ہے، بظاہر معصوم، اور ”بونگے“ نظر آنے والوں نے ایسے ایسے کام دکھائے، کہ تاریخ کا رخ موڑ کر رکھ دیا۔
ہمارے زیرک، جہاندیدہ، اور اپنے طورپر اپنے آپ کو ”سیاسی گرو“ سمجھنے والوں پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو شہید نے یکے بعد دیگرے، جنرل ضیاءالحق مرحوم کو”بونگا“ سمجھ کر اور میرٹ کی خلاف ورزی کرکے، محض اس لیے ترقی دی کہ ان کی دانست میں اور عالمی دانشوروں کی رائے میں بھی یہ ”بونگا“ ان کے لیے باعث خطرہ نہیں، اور پھر دنیا نے دیکھا کہ اسی نے کسی بھی دباﺅ کو خاطر میں لائے بغیر خود کو ”زیرک“ اور دوسرے کو بونگہ ثابت کرکے الٹا لٹکا دیا۔ اور یہی غلطی ن لیگ کے بانی نے دوسرے کی تاریخی غلطی سے سبق حاصل کیے بغیر دہرائی اور پھر اونٹ اندر اور خود خیمے سے باہر، خیران کا آنا جانا تو معمول بن گیا ہے ....دراصل ہرحکمران کی سیاسی میدان میں عوام کے سامنے کی گئی شعبدہ بازیاں، ٹرمپ کے بالوں جیسے، سنہری مستقبل کے وعدے مملکت خداداد پاکستان کو اسلامی فلاحی مملکت بنانے کے خواب، عوام کو دہلیز پہ انصاف پہنچانے کے سراب، جس میں چیف جسٹس بھی ہاتھ کھڑے کردیتے ہیں، مگر نیب کے چیئرمین سابق جسٹس جاوید اقبال کی میرٹ اور بلاامتیاز احتساب کی خوش کن اور ”وجد آفرین“ باتیں۔ لیکن ہم ہیں کہ ہر بار آنے والے حکمران کے دام الفت میں گرفتار ہوکر بوس وکنار میں مصروف ہوجاتے ہیں، اور پھر وہ اپنی مرضی کی قانون سازی ، کرواکر سارا ملبہ پارلیمان پہ ڈال دیتا ہے۔ اور ہماری سوچ، امیدیں اور آسیں ادھوری کی ادھوری رہ جاتی ہیں کہ ہمارا ملک بھی کبھی ملائیشیا ، سنگاپور اور کوریا کی طرح شاندار ہوگا، مگر حکمران مدت حکمرانی پوری کرکے ہماری زندگی کو ” ڈبن پورہ “ بنا کر غائب ہوجاتا ہے۔
چونکہ آج کل عبوری حکومت ہے، آئینی طورپر یہ کچھ بھی نہیں کرسکتے، سوائے رشتہ ازدواج قائم رکھنے کے ، مگر جہاں کنوارہ رہنا ”عبوری“ کی مجبوری بن چکا ہو، تو ان سے کیسی امیدیں مگر ان سے شاید ایک درخواست تو کی جاسکتی ہے کہ عبوری حکومت ان مندرجہ بالا، مضحکہ خیز شہروں اور قصبوں کا نام تو تبدیل کرکے تاریخ میں اپنا نام زندہ رکھ سکتی ہے....ورنہ ان کا ڈاکٹریٹ کرنے، اور امریکہ سے تعلیم یافتہ ہونے کا کیا فائدہ، اس سے بہتر تو دوردراز قصبے کے مزاحیہ شاعر امام دین تھے، جنہوں نے مزاحیہ شاعری کرکے اور یہ شعر لکھ کر تاریخ میں اپنا نام ”امر“ کرلیا ہے، ان کا پنجابی میں کہا گیا شعر اردو میں لکھ رہا ہوں ....
کوئی تن بیچے کوئی من بیچے ،آگے سوالیہ نشان ،میں پوچھتے ہیں، کہ امام دین کیا بیچے ؟


ای پیپر