پیرس دھل گیا۔۔
04 جولائی 2018 2018-07-04

ڈا کٹر خیال لکھتے ہیں : ”پاکستان میں ہر سال برسات میں سیلاب آتے ہیں۔یہ سیلاب بلا روک ٹوک غریبوں کے گھروں میں گھس کر ان کی اقتصادی عصمت دری کرتے ہیں۔آج تک کسی سیلاب نے حکمرانوں کے گھروںمیں گھسنے کی جرا¿ت نہیں کی ۔سیلابوںکو معلوم ہے کہ اگر غلطی سے وہ کسی صدر یا وزیر اعظم کے گھر میں گھس گئے تو انہیں دہشت گردی کی عدالتوں کے حوالے کر دیا جائے گا۔انہوں نے آج تک ایسی غلطی نہیں کی ۔پاکستانی سیلاب بڑے مکار ہیں۔“
کچھ یہی حال ہے ان دنوں ،بارش کا پانی سڑکوں پر دندناتا ہوا لوگوں کے گھروں میں گھس گیا ہے۔ ہمارے ہاں برسات میں ہمیشہ سے ایسا ہی ہوتا ہے۔لاہور کو لگ بھگ، پچھلے تیس برس سے یہاں حکومت کرنے والے ، پیرس بنانے پرتلے ہوئے تھے۔ اسی پیرس میں، گزشتہ رات سے ہونے والی بارش نے تیس سالہ ریکارڈ توڑ دیا ہے اور اب لاہور کی سڑکیں ندی نالوں کی صورت اختیار کر گئی ہیں۔ ” اورنج ٹرین زدہ “ لاہور کی سڑکوں کی حالت نا گفتہ بہ ہے۔نہر کی سڑک کے انڈر پاسز بار ش کے پانی سے تالاب بنے ہوئے ہیں۔جگہ جگہ ٹریفک معطل ہے۔گھنٹوں لوگ اپنی اپنی گاڑیوں کو قطاروں میں لگائے،پانی میں رینگتے، سابقہ حکمرانوں کو ”دعائیں “ دے رہے ہیں۔ اور نگران خاموشی سے نگرانی کر رہے ہیں۔ نگرانی والے نگہبانی یا باغبانی کیوں کریں ؟ نگہبانی یا اصل نگرانی تو ہمارا میڈیا کر رہا ہے ،وہ سابقہ ذمہ دار افراد کو ان کی پچھلی تیس سالہ کارکردگی کا آئینہ دکھا رہا ہے۔اب تو سوشل میڈیا پر بھی ،ہر گلی ،محلہ اور سڑک پانی میں ڈوبی دیکھی جا سکتی ہے۔میڈیا میں اب تو باقاعدہ متعلقہ حلقے کا نام لے کر علاقے کی زبوں حالی کا نقشہ ناظرین کو دکھایا جا رہا ہے۔کمال یہ ہے کہ ہمارے لیڈروں کے ماضی کے بیانات تقاریر اور یو ٹرن بھی، ان کے منہ پر دکھائے جاتے ہیں۔
شدید بارش میں گٹر کھولتے ہوئے بوٹا کہہ رہا تھا کہ کسی زمانے میں گٹر نہیں ہوا کرتے تھے۔بارشیں بھی ہوتی تھیں مگر اس قدر پانی کھڑا نہیں ہوتا تھا لیکن جب سے میاں صاحبان نے لاہور کو پیرس بنایا ہے، حال برا ہو گیا ہے۔ہمارا پیرس کیا دُھلا ہے کہ نیچے سے اصلی لاہور نکل آیا ہے ۔سوشل میڈیا پر اس بارش کی تباہ کاریاں دیکھی جا سکتی ہیں۔متاثرین کے تاثرات بھی ملاحظہ کےے جا سکتے ہیں۔اکثر مقامات پر عوام اپنے سیاسی نمائندوں کو صلواتیں سناتے نظر آتے ہیں۔ایک صاحب فرما رہے تھے : کارپوریشن اگر سڑکوں پر پانی نکالنے سے ڈرتی ہے تو کم از کم چھوٹی چھوٹی کشتیا ںہی چلوا دے تاکہ لاہوری گھر سے باہر تو نکل سکیں۔ “
نشیبی علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی کھڑا ہے۔لوگ کس عذاب سے گزر رہے ہیں حکمرانوں کو کیا معلوم۔کالو مکینک نے بارش میں اپنا وڈیو کلپ لگا رکھا تھا۔ کہا : ”بارش واقعتا اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے ۔ساری جماعتوں نے الیکشن کے بینر زاور فلکس لاکھوں کی تعداد میں لگا رکھے تھے۔اللہ کی رحمت سے ان کی ساری پبلیسٹی زمین بوس ہو گئی۔اب دوبارہ سے بینرز اور فلکس بنےں گے اور اس سے وابستہ لوگ عام مزدور وغیرہ فائدہ اٹھائیں گے۔ہے ناں بارش اللہ کی رحمت ۔“
پانی میں ڈوبا ایک شخص آوازیں لگا رہا تھا: ” کہاں ہیں الیکشن میں حصہ لینے والے۔لائیں اپنی پجارو،جیپیں اور ہمیں یہاں سے باہر نکالیں۔نیچے کسی نے کمنٹ لکھا ہوا تھا ۔جیپ اور شیر کا مقابلہ ہے ۔پانی میںڈوبے ہوﺅں کو دیکھئے کون بچاتا ہے۔چودھری نثار کی جیپ کے پیچھے کئی جیپیں لگ گئی ہیں۔ہمارے محلے کا ایک سیاسی تجزیہ نگار نصیر کلغی کہہ رہا تھا : اس الیکشن کے نتائج عجیب و غریب ہوں گے۔یا تو عمران خان کی پی ٹی آئی بھٹو والے انتخابات کا ریکارڈ تو ڑڈالے گی اور کلین سویپ کرے گی ۔یا پھر جیپ اور آزاد ممبران مل کر کسی پارٹی کو جوائین کریںگے اور اس گروپ کے وزیر اعظم چوہدری نثار علی خاں ہوں گے ،شہباز شریف بچ گئے تو ایوان صدر میں نظر آسکتے ہیں واللہ اعلم با لصواب۔
انتخابات کے انتظامات مکمل ہواچاہتے ہیں پھر بھی کچھ آوازیں اٹھتی ہیں کہ الیکشن نہیںہوں گے اور الیکشن سے پہلے کئی تلخ واقعات و سانحات ہمارے سامنے آئیں گے۔اور یہ وقت ہمارے سیاسی رہنماﺅں کے لےے اچھا نہیں ہو گا۔۔مگر ہمارا ذاتی خیال ہے کہ ا للہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہوتے ۔۔اللہ خیر کرے ہمارے تمام سیاسی رہنما سکھی سلامت رہیں ۔یہ بھی دعا ہے کہ اگر ان میں سے کوئی حکومت بنائے تو وہ عام آدمی کے مسائل کو دھیان میں رکھے۔اب اگر الیکشن میں کامیاب ہو کر ان رہنماﺅ ںنے مخلوق خدا کا خیال نہ رکھا تو خوب جان لیں سوشل میڈیا تیز سے تیز تر ہوتا جا رہا ہے۔ہر اس شخص کو جگہ جگہ شرمندگی کا سامنا ہو گا جس نے ووٹ تو لیے لیکن دوبارہ حلقے کا رخ نہ کیا۔ سوشل میڈیا کے سبب اب ہر شخص کیمرے کی نظر میں ہے۔ہمیں بھی اپنی عادات بدلنی ہوں گی۔اپنی زبان لگام میں رکھنی پڑے گی، کوئی بھی فیصلہ سوچے سمجھے بغیر نہ کریں ۔سب سے زیادہ خیال سرکاری ذمہ دار بارسوخ ،مشاہیر قسم کے افراد کو رکھنا ہو گا۔ہمیں تو ہمارا دین بتاتا ہے کہ احتیاط او ر توازن کا دامن کبھی نہ چھوڑیں۔اپنے افعال اور کردار کو دھیان میں رکھیں سچ تو یہ ہے کہ حواس کی نگہداشت بھی تصوف کی ایک صورت ہے ۔دنیا میں سب سے مشکل کا م اچھا بننا ہے ۔اس کے لےے قدم قدم پر صبرو ایثار سے کام لینا پڑتا ہے خاص طور پر دوسروں کے ساتھ معاملات میںسرخرو ہونا پڑتا ہے تبھی انسان اپنے آپ تک پہنچ پاتا ہے۔میر تقی میر کا شعر یا د آتا ہے :
لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام
آفاق کی اس کا رگہ ِ شیشہ گری کا


ای پیپر