Senate Election Open Ballot
04 جنوری 2021 (19:30) 2021-01-04

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے سینیٹ انتخابات  اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے سے متعلق صدارتی ریفرنس کے معاملے پر پہلی سماعت کے بعد چیئرمین سینیٹ، اسپیکر قومی و صوبائی اسمبلیز، الیکشن کمیشن، وفاقی و صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز کو نوٹس جاری کرد ئیے۔

 اٹارنی جنرل اور دیگر کو اپنی تحریری معروضات جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے عدالت نے کہا کہ نوٹس اخبارات میں بھی شائع کیا جائے تاکہ جو اس معاملے پر رائے دینا چاہے وہ  2 ہفتوں میں تحریری معروضات عدالت میں جمع کرائے۔

پیر کوعدالت عظمیٰ میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ/شو آف ہینڈز سے کرانے کے لیے دائر صدارتی ریفرنس پر سماعت کی۔5رکنی بینچ میں چیف جسٹس گلزار احمد کیساتھ ساتھ جسٹس مشیر عالم، جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس یحیی آفریدی بھی شامل ہیں۔دوران سماعت اٹارنی جنرل برائے پاکستان خالد جاوید خان نے بتایا کہ آرٹیکل 226کی تشریح کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے، مذکورہ ریفرنس میں سینیٹ انتخابات خفیہ رائے شماری سے نہ کرنے کا قانونی سوال اٹھایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ کیا آرٹیکل 226 کا اطلاق صرف آئین کے تحت ہونے والے انتخابات پر ہوتا ہے، جس پر جسٹس یحیی آفریدی نے کہا کہ عدالت اس تضاد میں کیوں پڑے۔سماعت کے دوران عدالتی بینچ کے رکن جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ آپ کے مطابق آئین و قانون کے تحت انتخابات کا مختلف طریقہ کار ہے، آپ چاہتے ہیں عدالت آئین اور قانون کے تحت ہونے والے انتخابات میں فرق واضح کرے۔

علاوہ ازیں عدالت عظمی نے کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے سینئر ایڈووکیٹ ہادی شکیل کو عدالت میں پیش ہونے کا کہتے عدالتی معاون کے طور پر طلب کرلیا۔جس کے بعد کیس کی سماعت 11 جنوری تک ملتوی کردی گئی۔


ای پیپر