Pakistan Foreign Policy
04 جنوری 2021 (22:42) 2021-01-04

سردار شیراز خان 

دینا بھر میں خارجہ پالیسی کا تعین قومی مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے،اس کی تشکیل کے لیے وزارت خارجہ متعلقہ وزارتوں، محکمہ جات اور سفارتی ماہرین کی مشاورت سے اپنی ترجیحات کا تعین کرتی ہے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ سات دہائیاں گزرنے کے باوجود ہم اپنے قومی مفادات کا تعین کرتے ہوئے علاقائی اور عالمی ترجیحات کا تعین نہیں کر سکے ہیں جبکہ خارجہ پالیسی پر اسٹیبلشمنٹ کی گرفت نے ہمیں عالمی سیاسی نظام سے الگ تھلگ کر رکھا ہے۔پاکستان تحریک انصاف نے تبدیلی کے پروگرام کے ساتھ اقتدار سنبھالا تھا مگر اڑھائی سال گزرنے کے باوجود وہ دوسرے شعبوں کی طرح خارجہ پالیسی کے شعبہ میں بھی کسی بھی قسم کی تبدیلی لانے میں ناکام رہی ہے۔تحریک انصاف کی اتحادی حکومت نظریاتی طور پرامریکہ کے ساتھ کھڑی ہے جبکہ ملکی مفاد اسے چین کی طرف کھینچ رہا ہے۔ امریکہ چین کشمکش کے باعث ہماری خارجہ پالیسی عملاً انتشار کا شکار ہے۔ ہم نے امریکہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے سی پیک کے منصوبے کو منجمند کرنے اورافغانستان سے نکلنے کے لیے اسے باعزت راستہ دلوانے کی یقین دھانی کروائی، امریکہ طالبان امن معاہدہ کروانے اور بین الافغان مذاکرات کے لیے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ اس کے باوجود امریکہ ہم سے خوش نہیں ہے۔ امریکہ نے ایک طرف پاکستان پر فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف)کی گرے لسٹ کی تلوار لٹکا رکھی ہے اور دوسری جانب سی پیک کے منصوبے پر تنقید کرتے ہوئے عالمی مالیاتی اداروں کو خبردار کر رہا ہے کہ پاکستان چینی قرضوں کی ادائیگی کے لئے آئی ایم ایف کے قرضوں کا استعمال کر رہا ہے۔ 

تحریک انصاف کی اتحادی حکومت کی خارجہ پالیسی کی کمزوری اور مسلم ممالک کے ساتھ اسکے تعلقات کی حقیقت اس وقت اور بھی بری طرح بے نقاب ہوئی جب بھارت کی جانب سے ریاست جموں و کشمیر کو نیم خود مختار حیثیت دینے والے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی کے بعد پاکستان نے امت مسلمہ کو سیاسی حمایت کے لیے پکارا۔ سعودی عرب سیمت بیشتر اسلامی ممالک نے کشمیر پر پاکستان کی حمایت کرنے سے انکار کرتے ہوئے کشمیر پر اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کا خصوصی اجلاس بلانے سے بھی معذرت کر لی۔ رہی سہی کسر اس وقت نکل گئی جب بیشتر اسلامی ممالک نے پاکستان اور امہ کے نظریاتی مفاد اور اتحاد کی پروا کیے بغیر بھارت اور اسرائیل کے ساتھ ترجیحی تعلقات کو استوار کرنے کا فیصلہ کیا۔ متحدہ عرب امارات نے پاکستان کی افرادی قوت کے لیے ورک ویزوں پر پابندی عائد کر دی جبکہ سعودی عرب بھی غیر اعلانیہ طور پر اسی پالیسی پر عمل پہرا ہے۔ اس وقت صرف ترکی، ایران اور ملائشیا تین ایسے ملک تھے جنھوں نے بھارت کے ساتھ اپنے تجارتی مفادات کو قربان کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر پر جاندار موقف اختیار کیا اس کے باوجود حکومت نے سعودی عرب کی ایما پر کوالالمپور میں ہونے والی اسلامی سربراہ کانفرنس میں شرکت نہ کر کے نہ صرف انھیں ناراض کیا بلکہ خود کو ایک کمزور ریاست کے طور پر پیش کیا۔ اس کے لیے ہم کسی دوسرے کو الزام نہیں دے سکتے ہیں۔

حکومت اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات کو معمول پر لانے میں ناکام رہی ہے، پاکستان کے بھارت کے ساتھ دو طرفہ تعلقات گذشتہ سالوں کی طرح اس سال بھی شدید تنائو اور کشیدگی کا شکار رہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان ہر قسم کے سفارتی، سیاسی اور تجارتی رابطے منقطع ہیں۔ بھارت کی اکھنڈ بھارت اور ہندوتوا ایجنڈے کے باعث پاکستان اور خطہ کے تمام ممالک اضطراب کا شکار ہیں۔ بھارت سرحدوں پر تنائو پیدا کر کے جنگی جنون کو ہوا دے رہا ہے جو خطہ کے امن اور سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ بھارتی حکومت پاکستان کو عدمِ استحکام سے دوچار کرنے کے لیے افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہی ہے، افغانستان پاکستان کا گھیرا تنگ کرنے کی بھارتی پالیسی کا سب سے بڑا سہولت کار ہے۔ بھارت ریاست جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے اور بھارتی یونین میں ضم کرنے کے بعد ریاست کے دوسرے حصوں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پر حملوں کی دھمکیاں دے رہا ہے جبکہ پی ٹی آئی کی حکومت بھارت کو ان مذموم مقاصد کے حصول سے روکنے کے لیے سفارتی سطح پر روایتی اتحادیوں کی حمایت حاصل کرنے میں بھی ناکام رہی ہے، ایسے میں چین نے ریاست جموں کشمیر کے سرحدی صوبے لداخ میں محاذ کھول کر بھارت کی پیش قدمی کو لگام دی۔

سفارتی ماہرین کے مطابق پاکستان کو اس وقت جن کثیرجہتی چیلنجوں کا سامنا ہے۔ ان میں مشرق وسطی کے ممالک کے ساتھ تعلقات کی میزان کو توازن میں رکھنا سب سے بڑا چیلنج ہے۔  مشرق وسطی کے ممالک افرادی قوت کے لیے روز گار کی فراہمی،  ترسیل زر اور برادرانہ امداد کا اہم ذریعہ ہیں، جس کی پاکستان نے ہمیشہ ہی بہت ہی شرمناک قیمت ادا کی ہے۔  اب وقت آ گیا ہے کہ ان ممالک کے ساتھ تعلقات قائم کرنے میں آئیڈیلزم کے بجائے اپنے قومی مفادات کی بنیاد اور اپنی معاشی بدحالی کوختم کرنے کے لیے سی پیک جیسے متبادل منصوبوں پر توجہ مرکوز کی جائے۔ 

دوئم،  امریکہ بھارت کا جبکہ چین پاکستان کا تزویراتی اتحادی (اسٹریٹجک پارٹنر) ہے۔  بھارت کی تمام تر توجہ پاکستان پرجبکہ امریکہ کی چین پر مرکوز ہے، امریکہ اپنے عالمی مفادات میں کبھی بھی پاکستان کا اسٹریٹجک پارٹنر نہیں بن سکتا ہے۔  پھر یہ کہ امریکہ آج بھی واحد جامع عالمی طاقت ہے جبکہ بھارت خطہ میں امریکہ کا اتحادی ہونے کے ناطے پاکستان کا سب سے بڑا حریف ہے۔ امریکہ اور بھارت کے اس گٹھ جوڑ کے خلاف روس اور چین کی شراکت داری ایک بڑی قوت کے طور پر کھڑی ہے۔  ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنی عالمی اور علاقائی ترجیحات کا تعین کرتے ہوئے کسی ایک ملک کے مفادات کے تحفظ کی پالیسی کی بجائے تمام ممالک کے ساتھ اپنے قومی مفاد میں برابری کے تعلقات استوار کیے جائیں تاکہ ہمیں امریکہ اور چین کے درمیان انتخاب کرنے پر مجبورنہ کیا جا سکے۔ 

سوئم: وسطی ایشیا کے ساتھ رابطہ کاری پر مبنی تعلقات پاکستان کو تزویراتی گہرائی فراہم کرسکتے ہیں۔ اس کے لیے روس کے ساتھ تعاون میں بہتری کارآمد ثابت ہو  سکتی ہے جبکہ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انی شیٹو (بی آر آئی) منصوبے کے حصے کے طور پر سی پیک پاکستان کے لیے سنہرے موقعے پیدا کر سکتا ہے، ہمیں کسی ایک طاقت کی خوشنودی کے لیے ان مواقعوں کو ضائع نہیں کرنا چاہیے ہمیں یہ بات سمجھنا ہو گی کہ چین کے علاوہ کوئی دوسرا ملک پاکستان میں اتنی بڑی سرمایہ کاری نہیں کر سکتا ہے۔  ایسے سی پیک کے حوالے سے چین کے بڑھتے ہوئے خدشات کو دور کرنا ہوگا۔ ہمیں چین کے عظیم منصوبے بیلٹ اینڈ روڈ انی شیٹو  (بی آر آئی) جو کہ چینی قیادت کا ایک خواب ہے، اسے اشتراکی ویژن کے ساتھ باہمی مفاد میں بدلنا ہو گا۔ بی آر آئی چین کا اور سی پیک پاکستان کا مستقبل ہے۔

چہارم: بھارت کے ساتھ تعلقات میں بہتری مسئلہ کشمیر کے پر امن حل میں مضمر ہے، ایک ایسا حل جو کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہو۔  اس کے لیے کشمیر پالیسی پر نظر ثانی کی ضرورت ہے، ہمیں کشمیر میں دہشت گردی کے بھارتی بیانیے کو آزادی کی تحریک کے ساتھ بدلنا ہو گا، یہ مقصد کشمیری قیادت کو آگے لا کر حاصل کیا جا سکتا ہے۔  بھارت کی تمام تر اشتعال انگیزیوں کے باوجود پاکستان کو ہندوستان کی جانب تعاون کا ہاتھ بڑھاتے رہنا چاہیے تاوقتکہ حالات بدل نہ جائیں۔  ہمیں خطہ میں امن کو فروغ دینے اور مشترک معاشی مفادات کے حصول کے لیے پڑوسی ممالک کے ساتھ علاقائی باہمی تعاون کے رشتوں کو مضبوط بنانا ہو گا جن کی بنیاد پر  بین الاقوامی برادری کے ساتھ کثیرالجہتی تعلقات میں اپنا مقام پیدا کیا جا سکتا ہے۔

۔.۔.۔.۔.۔.۔.


ای پیپر