Political maneuvers, tricks, master strokes, PDM, PTI, government
04 جنوری 2021 (12:51) 2021-01-04

2021ء کا سورج نئے فتنوں، نت نئے اعلانات، خدشات، تحفظات، رسہ کشی، کھینچا تانی اور رنگا رنگ بیانیوں کے مقابلوں کی بازگشت کے ساتھ طلوع ہو گیا۔ سال گزشتہ کا احوال وبال ہی وبال۔ لاک ڈاؤن، پابندیوں، کرونا وائرس، سیاسی کشیدگی،آس، امید اور بالآخر مایوسیوں کے ساتھ رخصت، حضرت علامہ اقبالؒ نے کہا تھا۔

ہاں دکھا دے اے تصور پھر وہ صبح و شام تو

 لوٹ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو

لیکن اس گردش ایام نے ملک کو کہیں کا نہیں رکھا۔ نئے سال کا پہلا کالم، لیکن 2021ء کے آغاز سے قبل ہی محیر العقول واقعات کا ظہور، زمینی لیڈروں کی طرح آسمانی سیاروں کا یو ٹرن آنے والے فتنوں کی خبر دے گیا۔ سال گزشتہ کے آخری ہفتہ میں دو سیارے زحل اور مریخ گلے ملنے زمین کے قریب آ گئے۔ فلکی سیاروں نے ایک دوسرے کو گلے لگا لیا۔ زمینی ستارے ایک دوسرے کی شکل دیکھنے نام سننے کو تیار نہیں، قیامت کی علامت صغریٰ ’’دلوں میں نفرتیں پلتی رہیں گی‘‘۔ لیکن سیاروں کی اپنے مدار سے ہٹ کر دوسروں کے مدار میں مداخلت، نظام میں تبدیلی کا الارم کہا گیا۔ ’’دو ستاروں کا فلک پر ہے ملن آج کی رات‘‘ قدرت کا اپنا نظام، سیارے ایک دوسرے کا کام اور اختیارات میں مداخلت نہیں کرتے، یہ شرف حضرت انسان نے سنبھال لیا ہے۔ فرشتوں نے اسی پر اعتراض کیا تھا۔ خیر گزری سیارے اپنے اپنے مدار میں واپس چلے گئے۔ ماہرین نجوم دور کی کوڑی لانے لگے۔ سیاروں کا قریب آنا اچھی علامت نہیں، کچھ ہونے والا ہے۔ اسی دوران سیاسی شطرنج پر مہرے بدلنے کا سالخوردہ ماہر اچانک سیاسی اسکرین پرنمودار ہوا اور ہلچل مچا گیا۔ تعزیت کے بہانے کوٹ لکھپت جیل میں قید شہباز شریف سے ملاقات، گرینڈ ڈائیلاگ کی پیشکش، لیکن قیدی کو مذاکرات کی دعوت چہ معنی دارد؟ کہا پیر پگارا کا اہم پیغام پہنچایا۔ ایک نام سے پورا مضمون واضح ہوگیا۔ ناصر کاظمی یاد آگئے۔

گئے دنوں کا سراغ لے کر کدھر سے آیا کدھر گیا وہ

 جانے والا خود سے کچھ نہیں کیا اہمیت ہے۔ لیکن جن کے ریفرنس سے گیا وہ انتہائی اہم، ان سے تعلقات جن کی اہمیت ہے جو ذمہ داری قبول کرتے ہیں یو ٹرن نہیں لیتے بلکہ رائٹ ٹرن کے قائل ہیں محمد علی درانی ایسے ہی موقع پر نمودار ہوتے ہیں، پچھلے دنوں مولانا فضل الرحمان سے بھی جا ٹکرائے، وہی پیغام وہی پیشکش، مولانا ان دنوں خاصے برہم ہیں ٹکا سا جواب دیا۔ ’’اپنا سا منہ لے کے رہ گئے ‘‘کیا ظاہر ہوتا ہے؟ با خبر حلقے جاگتے لوگ ملکی حالات سے لا تعلق نہیں ہیں ۔ سمندر کی تہہ میں پلنے والے طوفانوں کا رخ موڑنے کی کوششیں جاری ہیں۔ ادھر محترمہ بے نظیربھٹو شہید کی 13 ویں برسی میں آصف زرداری کی تقریر اور پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کے فیصلوں سے یوں لگا جیسے شطرنج کے مہرے بکھر گئے ہوں۔ وقتی طور پر پی ڈی ایم کے حلقوں میں صف ماتم 

بچھ گئی۔ مولانا برہم، مریم نواز پریشان، پوری ن لیگ اپنے کیے پر پشیمان، مولانا نے خفگی سے کہا پیپلزپارٹی سے دو ٹوک بات ہوگی کیا بات کریں گے؟ پی پی چیئرمین کا اپنا راستہ اپنا وتیرہ، معذرت کے ساتھ استعفے لانگ مارچ، سینیٹ الیکشن سے پہلے حکومت گرانے کی حکمت عملی، ایک قلابازی نے  5 جلسوں، ظہرانوں اور عشائیوں میں نوجوان لیڈروں کے کیے کرائے پر پانی پھیر دیا۔ جلسوں پر کروڑوں کے اخراجات، نتیجہ کیا نکلا ’’جہاں سے چلے تھے وہیں آگئے ہم‘‘ کیا دنیا گول ہے؟ نادانی کس سے ہوئی؟ ان سے جنہوں نے سوچے سمجھے بغیر شعلوں کو ہوا دی۔ نواز شریف، مولانا فضل الرحمان، بلاول، مریم نواز سب کے بیانیے پاش پاش، دھواں دھار تقریریں ہوا میں تحلیل، اس موقع پر بانجھی مارنے کی کیا ضرورت تھی وزیروں مشیروں اور ترجمانوں کو موقع مل گیا۔ ’’اپنے‘‘ قریبی صحافی نے تاخیر کیے بغیر کہا پی ڈی ایم کے غبارے سے ہوا نکل گئی۔ ایک دل جلے نے تبصرہ کیا کہ ن لیگ نے بار بار ڈسے جانے کے باوجود پھر اسی سوراخ پر پائوں رکھ دیا۔ برسوں پرانے سیاستدان بھی ناکام ہی نکلے۔ ایسا تیرچلا کہ پی ڈی ایم کا پورا بیانیہ پاش پاش ہوگیا ایک نے دہائی دی ’’ہائے پی ڈی ایم لٹ گئی‘‘ لٹی یا لوٹی گئی؟ ایک کاریگر اور جوڑ توڑ کے ماہر شاطرسیاستدان نے لٹیا ڈبو دی۔ ایسا دھوبی ٹپڑا مارا کہ بنیادیں ہلا دیں۔ سارے مشیر وزیر ترجمان میدان میںکود پڑے۔ استعفے لطیفے اور لانگ مارچ کو ناک پر ہاتھ رکھ کر لونگ مارچ قرار دے دیا۔ وزیر اعظم خوش قسمت ہیں کہ ان کے وزیر نا اہل سہی۔ مشیر اور ترجمان بلا کے ذہین بلکہ فطین ہیں۔ آپا فردوس ایسی دور کی کوڑی لاتی ہیں کہ اپوزیشن کی سٹی گم ہوجاتی ہیں۔ ایک صاحب نے تبصرہ کیا۔ ’’عجیب خواب تھا تعبیر کیا ہوئی اس کی‘‘ آصف زرداری کی جانب سے بھرے پرے جلسے میں اس قسم کی سیاسی قلابازی کا موقع نہیں تھا۔ اس قسم کی باتیں اور تجاویز محدود اجلاسوں میں دی جاتی ہیں۔ ایک دوست نے فون پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔ ’’کسی نے بچھو سے پوچھا تھا ڈستے کیوں ہو، دم اٹھا کر بولا ’’فطرت ہے میرے اندر زہر بھرا ہے، شہد کا ذخیرہ لے کر پیدا نہیں ہوا۔‘‘ دوست ن لیگ پر برہم تھے 40 سال میں کتنی بار ڈسے گئے پھر بھی عقل نہ آئی۔ آپا فردوس کیوں پیچھے رہتیں کہنے لگیں۔ زرداری کی چال پی ڈی ایم کو لے ڈوبی، تبصرے، ریمارکس، میڈیا وار بلکہ ہائبرڈوار ایک طرف لیکن حکومت اور اپوزیشن نئے سال کے آغاز ہی سے ایک دوسرے کو بے بس کرنے کے لیے خطرناک راستے پر چلنے کی پالیسی پر گامزن ہوگئے ہیں۔ وزیر اعظم این آر او کی رٹ لگاتے لگاتے بوڑھے ہوگئے بھلے لوگوں نے سمجھایا کہ این آر او کوئی چیز نہیں پرویز مشرف نے اپنی منڈلی سجانے کے لیے ریلیف دیا تھا جسے سپریم کورٹ نے 16 دسمبر  2009ء کو کالعدم قرار دے دیا۔ مردہ گھوڑے کا بار بار ذکر، اپوزیشن اسے اعتراف  شکست قرار دیتی ہے۔ لیکن وہ بھی اپنی دھن کے پکے سوتے جاگتے این آر او کا ورد کرتے نہیں تھکتے، وہ ابھی تک ترجمانوں اور مشیروں کی شکل میں پیادوں کو آگے بڑھا رہے ہیں اور قومی اداروں کو ملوث کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں جبکہ پی ڈی ایم کے یکم جنوری کے سربراہی اجلاس میں اپوزیشن نے مایوسیوں کی چادر اتار کر ضمنی الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان کردیاہے۔ یہ پیپلز پارٹی کے روحانی پیشوا آصف علی زرداری کا ماسٹر اسٹروک ہے تاہم پی ڈی ایم استعفوں اور لانگ مارچ کے فیصلوں پر قائم ہے۔ مولانا اِدھر اُدھر دیکھے بغیر سرپٹ دوڑ رہے ہیں۔ کوئی سمجھے نہ سمجھے وہ اپنے مشن میں پر خلوص اور نواز شریف کے بیانیہ سے قریب تر ہیں کامیابی ناکامی وقت کا فیصلہ ہے لیکن فروری مارچ میں کچھ نہ کچھ ہونے جا رہا ہے۔ اگر اپوزیشن میں قلابازیوں سے احتیاط کی گئی تو حکومت کو ٹف ٹائم کا سامنا کرناپڑے گا لیکن ایک سینئر تجزیہ کار کی بات دل کو لگی کہ اپوزیشن کے لیے سب سے بڑا خطرہ خود اپوزیشن جبکہ حکومت کے لیے بڑا خطرہ حکومت ہے۔ حکومت اپنے بوجھ سے گرے گی۔ اسے سوچنا ہوگا کہ ’’سفر میں کچھ نہ کچھ تو بھول ان سے بھی ہوئی ہے۔ کہ ان کے پیچھے جو تھے پیچھے ہٹتے جا رہے ہیں‘‘ جبکہ اپوزیشن غیر ضروری قلابازیوں سے نقصان اٹھائے گی۔ پرانا محاورہ یاد آیا سو سنار کی ایک لوہار کی دیکھنا ہوگا کہ آئندہ دو ماہ میں کس کی ضرب کاری ثابت ہوتی ہے۔


ای پیپر