Politics, worship, service, Pakistan, honest leadership
04 جنوری 2021 (12:37) 2021-01-04

قارئین سیاست کی بے شمار تعریفیں بیان کی گئی ہیں اس میں سے ایک جو تعریف جو مجھے سمجھ آتی ہے کہ ایمانداری سے امور ریاست چلانا، اقربا پروری سے پرہیز، ریاستی اداروں کا تحفظ، معاشرے کے مختلف طبقوں میں مساوات کا قیام، عدم تشدد کا پرچار، ظالم اور مظلوم، حاکم اور محکوم کے درمیان حقوق کی جنگ میں مظلوم کو مقدم رکھنا اور معاشرے سے جبر، ظلم، استحصال، استعماریت، رجعت پسندی کے خاتمے کی جدوجہد کو سیاست کہتے ہیں۔ مختصر یہ کہ سیاست عبادت اور خدمت کا نام ہے۔

مزید یہ کہ ریاست کا نظام، معاشرے میں تحفظ کا احساس و امن قائم رکھنا، معاشرے کے مختلف طبقوں کے درمیان مساوات خیر خواہی محبت و بھائی چارگی کا قیام۔ حقوق العباد اولین ترجیح ہونا بھی ہے۔

حضرت امام غزالیؒ احیاء العلوم میں سیاست کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں

’’ھی التالیف والتعاون والاجتماع علی اسباب المعیشۃ وضبطھا‘‘

ترجمہ: سیاست وہ تدبیر ہے جو زندگی کے وسائل اور انکے دائرے میں معاشرے کے افراد کے درمیان باہمی محبت، تعاون اور اتحاد پیدا کرے۔

سیاست خدمت کا دوسرا نام ہے لیکن فی زمانہ وطن عزیز میں سیاست محض اپنے لیے حصول اقتدار کا نام ہے اور ساری جدوجہد اس ایک مقصد کے لیے کی جاتی ہے۔ ایسا کرتے ہوئے ہم قائد اعظم محمد علی جناح کے اصولوں کو بھی روندتے چلے جاتے ہیں اور ان سنہری اصولوں کا پرچار نہیں کرتے ہیں کہ مبادا عوام کو آگاہی ہو جائے۔ نجی میڈیا کی کیا بات کی جائے ریاستی میڈیا بھی 24 گھنٹے سیاستدانوں کی آپسی لڑائیاں یا حکومت وقت کی تعریف میں لگا دیتا ہے، ایسے ماحول میں قائد کے فرمودات کو جگہ کہاں مل سکتی ہے۔

خیر بات ہو رہی تھی سیاست کے مقاصد کی تو سیاست میں آپ کا مخالف تمام برائیوں کی جڑھ ہوتا ہے اور اسی درخت پر لگنے والے پھل کے طور پر وہ خود کو پیش کرتا ہے۔ جب جڑ ہی برائیوں کا منبع ہو گی تو اس درخت کے پھل کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

محض اپنے لیے اقتدار کے حصول کے لیے عوام کو اس جہد میں بطور ایندھن استعمال کیا جاتا ہے اور عوام ایک کے بعد دوسرے اور پھر تیسرے سوراخ سے ڈسے جاتے ہیں اور جاتے رہیں گے۔ جب قیادت بے ایمان ہو جائے تو عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا اور قیادت سے میری مراد صاحب اقتدار اور اپوزیشن دونوں ہیں۔ دہائیوں اقتدار میں رہ کر سیاستدان تو ککھ سے لکھ بن جاتے ہیں لیکن عوام کا حال بقول حبیب جالب 

وہی حالات ہیں فقیروں کے

دن پھرے ہیں فقط وزیروں کے

اپنا حلقہ ہے حلقہ زنجیر

اور حلقے ہیں سب امیروں کے

ہر بلاول ہے دیس کا مقروض

پاؤں ننگے ہیں بے نظیروں کے

ہمارے ہاں سیاست مظلومیت کا رونا رو کر اور منتخب ہونے کے بعد فرعونیت کو فروغ دینے یا عام لوگوں کو کیڑے مکوڑوں کی طرح سمجھ کر اپنی جذبات و خواہشات کے بھینٹ چڑھانے کا نام ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے ہم ریاستی اداروں سمیت سب کچھ تہس نہس کرنے کو ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔

اس کی تازہ مثال پی ڈی ایم کے جاتی امرا کے حالیہ اجلاس کی روداد ہے جس میں ایک تجویز یہ بھی آئی کہ پی ڈی ایم اپنا دھرنا راولپنڈی یعنی جی ایچ کیو کے سامنے کرے۔ وہ تو بھلا ہو سابق صدر آصف زرداری صاحب کا کہ انہوں نے یہ تجویز یکسر نظر انداز کر دی اور مسلم لیگ نواز نے بھی اس کی تقلید کر دی۔ لیکن مولانا فضل الرحمان پھر بھی مصر رہے اور میڈیا بریفنگ میں پھر پنڈی دھرنے کی دھمکی دے ڈالی۔

اس سے قبل قابل احترام غفور حیدری صاحب ان کے قائد مولانا فضل الرحمان کی نیب طلبی پر پاک فوج کے پشاور کور کمانڈر ہاؤس کے سامنے دھرنے کی دھمکی دے چکے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ سیاست میں یہ انتہا پسندی ہمیں کہاں تک لے جائے گی۔ سیاست تو نام ہی رواداری کا ہے برداشت کا ہے ممکنات کا ہے یہ تو انتہا تک جانے کا نام ہی نہیں ہے۔ آخر اداروں کو کھلم کھلا دھمکیوں سے کس کو فائدہ ہو گا۔ میں کبھی اسٹیبلشمنٹ کا حامی نہیں رہا لیکن سیاست کو سیاہ ست میں بدلنے کا بھی کبھی حامی نہیں رہا۔ پی ڈی ایم یا اپوزیشن اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت کی سیاست ضرور کرے لیکن اس میں بھی ’’گرے لائن‘‘ نہ پھلانگے۔

میں بھارتی میڈیا پڑھ اور دیکھ رہا ہوں وہ جس طرح مولانا فضل الرحمان اور پی ڈی ایم کے دیگر لیڈران کے پاک فوج کے خلاف بیانات کو اچھال رہے ہیں اس کا موقع تو ہم خود دے رہے ہیں۔ بھارت کے ایک میڈیا ہاؤس نے تو پی ڈی ایم لیڈران کے پاک فوج کے خلاف بیانات کو ماضی کی بدنام زمانہ مکتی باہنی سے جوڑ دیا ہے۔ آخر ہم بھارت سے اس کے علاوہ اور کیا توقع کر سکتے ہیں لیکن ہمیں بھی محتاط رویہ اپنانا چاہیے۔ ازراہ تفنن عرض ہے اگر واقعی الیکشن دھاندلی زدہ تھے تو ایک سیٹ مولانا فضل الرحمان کو بھی جتوا دیتے۔ کم از کم سیاست میں اتنی تلخی نہ ہوتی اور قومی اسمبلی کی ایک سیٹ سے کیا فرق پڑ جانا تھا۔ شاید ہمارے پالیسی سازوں کو اس کے ردعمل کا ادراک نہ تھا۔

بلوچستان میں گیارہ کان کنوں کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا اس قتل عام کا تعلق ہزارہ برادری سے بتایا جا رہا ہے۔

بلوچستان میں ایک مخصوص فرقے کو مسلسل دہشت گردی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے لیکن کوئی حکومت بھی ان کو تحفظ نہ دے سکی۔ پی ڈی ایم قیادت کا بلوچستان میں خاصا اثر رسوخ ہے ان سے درخواست ہے کہ انہیں سیاہ ست سے فرصت ملے تو ادھر بھی توجہ دیں۔ حکومت اور اپوزیشن کو مل کر اس انسانی مسئلے کے طرف توجہ دینی چاہیے۔

حکومت کی طرف سے بھی اس واقع پر جو ردعمل آیا اس میں بھی اس قتل عام کی ذمہ داری اپوزیشن پر ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔


ای پیپر