Society, material progress, spiritual solace, sympathy, humanity
04 جنوری 2021 (12:14) 2021-01-04

برصغیر میں آئمہ کرام مغربی معاشرت کو حرف تنقید بنانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے،مدر پدر آزاد سماج گردانتے ہوئے بھی انہیں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہوتی،خاندانی نظام کی شکست وریخت بھی انکا موضوع بحث ہوتا ہے، سودی نظام کو یہ نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں،انگریز کی سامراجیت کو اپنی غلامی کا سبب مانتے ہیں،کفار کی برَبادی کی دعائیں ان کے لبَ پر ہمیشہ رہتی ہیں، تاہم یہ بھُول جاتے ہیں کہ جس سپیکر کی وساطت سے وہ مجمع سے مخاطب ہیں، جس لائٹ کی روشنی میں وہ تلاوت فرما رہے ہیں،ائیر کنڈیشن کی جس ٹھنڈی ہوا سے وہ لطف اندوز ہو رہے ہیں، جس نرم گداز قالین پر وہ سجدہ ریز ہیں یہ سب اس ٹیکنالوجی کی بدولت ممکن ہوا ہے جس پر مغربی دنیا کوملکہ حاصل ہے، ایک رائے یہ ہے کہ پاپائیت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے بعد انہیں یہ عروج ملا،سینٹ پال نے تمام الہامی قوانین کو پس پشت ڈال کر مادی اور صنعتی ترقی کرنے میں انکی معاونت کرتے ہوئے مذہب کو بھی دیس نکالا دے ڈالا،مادی ترقی میں ڈُوبی معاشرت اَب روحانی تسکین کی متلاشی ہے۔ جس میں ہمارا مذہبی طبقہ کیڑے نکالتا ہے۔

ہمارے ہاں بھی بعض آئمہ کرام مغرب کی طرح دین اور سیاست کو الگ الگ خانوں میں تقسیم کر چکے ہیں، جب تلک ان میں تفریق نہیں تھی پورے عالم میں مسلم حکمرانوں کا طوطی بولتا تھا،سائنس، ٹیکنالوجی، طب، ریاضی، فلسفہ، طرز حکومت میں ہمارا کوئی ثانی نہ تھا، آج ہماری مساجد میں انبیاء کرام کے قصے تو بتائے جاتے ہیں انکی کرامات کا ذکر تو ہوتا ہے،ان کے خاندانوں کو تو موضوع تقریر بنایا جاتا ہے،ان کے معجزات کو تو بیان کیا جا تا ہے لیکن سماج کے لئے اِنکی خدمات،اِنکے جنگی کارناموں، اُنکی تجارت، اِنکے عدل اور سب سے بڑھ کر اِنکی حکومت کا ذکر سننے کو کم ہی ملتا ہے، سیکولر،روشن خیال مزاج کے حامل افراد تو پہلے ہی مذہب اسکی روایات سے الرجک ہیں مگر بعض مذہبی مکاتب فکر بھی خود کو غیر سیاسی کہلوانے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔

اِنکی درس گاہوں میں اگر آپ عالمی سامراج کے مظالم کا تذکرہ کر دیں، منبر سے کشمیر، فلسطین کے مظالم کو اُجاگر کر دیں تو اِنکے تیور بدل جاتے ہیں،ان کیمطابق یہ تو سیاسی بات ہے ،سیاست کو حرام سمجھنے والے نجانے یہ کیوںبُھول جاتے ہیں کہ پرندوں، جنوں، جانوروں کو قابو کرنے والے حضرت سلیمان علیہ اسلام جن کا تذکرہ ذوق و شوق سے وہ کر تے ہیں، اُنہوں نے خود اللہ تعالیٰ سے حکومت طلب کی تھی اور دُعا فرمائی تھی کہ مجھے ایسی بادشاہت عطا فرما جو میرے بعد کسی کو میّسرنہ ہو، بے شک تو بڑَا عطا کرنے والا ہے، اللہ تعالیٰ نے اِس دُعا کو شرف قبولیت عطا کیا اور واقعی اِیسی ہی بادشاہت عطا کی جس کی کوئی نظیر نہیں ملتی، انسانوں کے علاوہ، چرند، پرند، جانور آپ ؑ کی افرادی قوت کا حصہ تھے آپؑ ان سے سارے کام لیتے تھے جو انسانی فلاح کے لئے ناگزیر تھے  جس کا تذکرہ قران حکیم کی سات سورۃ اور سولہ مقامات پر ملتا ہے۔ اگرچہ انکی حکومت محدود علاقہ پر مشتمل اور انبیاء کی سرزمین پر تھی اور اسکا دورانیہ چالیس برس پر محیط تھا، لیکن ان کے عہد میں خوشحالی ، دولت کی ریل پیل تھی، اللہ تعالیٰ نے انہیں تانبے کی دھات کا چشمہ عطا کیا تھا، اس سے یہ بحری جہاز بناتے، اِنکی تجارت یمن سے لے کر بحرہ روم تک تھی ،بائبل میں ان کے بحری بیڑے کو ’’ترسی بیڑہ‘‘ کا نام دیا ہے، مملکت میں جنوں کی مدد سے بڑی دیگیں نصب کر رکھی تھیں جس میں ڈھلائی کا کام ہوتا تھا، اس سے برتن بنائے جاتے، سامان حرب تیار ہوتا تھا، جہاز سازی ہوتی تھی، حضرت سلیمان علیہ اسلام کو بڑی بڑی عمارات بنانے کا بھی شوق تھا، کہا جاتا ہے کہ انہوں نے یروشلم میں پہلا ٹمپل تعمیر کرایا تھا، صبا کی ملکہ جس کو اپنی طاقت اور ترقی پر ناز تھا جب وہ آپ ؑ کے حکم پر جدید طرز کے محل میں پہنچی تو اِس نے اَپنا لباس یہ سمجھ کر اُوپر کر لیا کہ شاید وہ پانی پر چل رہی ہے حالانکہ وہ شیشہ تھا جو اس میں لگا ہوا تھا، آپ ؑ نے منظم فوج تشکیل دی اچھے گھوڑے آپ ؑ کو بہت پسند تھے، روایت ہے کہ جب ہد ہد پرندے نے بتایا کہ ملکہ بلقیس اور اسکی رعایا آگ کی پُوجا کرتے ہیں تو انہیں بذریعہ ہد ہدجوخط بھیجا، اس کا آغاز اللہ تعالیٰ کے بابرکت نام سے کیا اِس میں تمام آداب کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے صرف ایک خدا کی عبادت کی دعوت دی، جنات آپ ؑ کے حکم سے سمندر سے ہیرے ،جواہرات لاتے جنہیں وہ اپنے تصرف میں لاتے تھے اللہ تعالی نے معاملہ فہمی، فیصلہ سازی، حکمت و دانائی جیسی خوبیوں سے نوازا تھا، اپنی طاقت کو وہ دشمن کے مقابلہ کے لئے صرف کرتے تھے،انکی سلطنت ایک مثالی ریاست تھی۔

 تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ اللہ تعالی نے انبیاء کرام کو نبوت کے ساتھ حکومتیں بھی عطا کی تھی تاکہ وہ اپنی قوت ،خداداد صلاحیت سے انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نکال کر اللہ تعالی کی بندگی میں دے دیں، عام فہم کی بات کہ اگر انہیں مکمل اختیارات عطا نہ کیے جاتے زمام کار کسی نااہل، بد کردار افراد  کے پاس ہوتی تو یہ انسانوں کو اللہ تعالیٰ کا مطیع کیسے بناتے، علامہ اقبال نے اس لئے فرمایا ہے۔

رشی کے فاقوں سے ٹوٹا نہ برہمن کا طلسم

عصا نہ ہو تو کلیمی ہے کار بے بنیاد

 بعض دانشور یہ موقف رکھتے ہیں کہ برصغیر میں مغلیہ خاندان اسلامی ریاست کی داغ بیل ڈالتا نہ تو وہ خود محکوم ہوتا نہ ہی مسلمانوں کو غلامی کے دن دیکھنا پڑتے، اسلامی ممالک کے عوام کی حالت زار اس بات کی غماز ہے کہ بھاری بھرکم وسائل کے باوجود اس کے حکمران انبیاء کرام کی سنت اور صفات سے محروم ہیں،عطا کردہ نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کا وژن ا ن میں موجود نہیں،جو ٹولہ اقتدار پر برا جمان ہے ،یہ تمام اخلاقی اقدار سے ماورا ہے ، برصغیر میں بڑی مذہبی جماعتیںسیاست کو حرام خیال کرتی ہیں،وہ انبیاء کرام کی ان صفات ہی کو عین مذہب تصور کرتے ہیں ،جن کاتعلق انکے معجزات سے ہے، یہ اسکا ہی فیض ہے کہ عدالت اورامامت کا کام مغربی اور بدیشی قانون سے لے کر غلامی ہی کی روایات کو آگے بڑھایا جارہا ہے،مذہب اور سیاست کو الگ رکھ کر مغرب’’ انسانی حقوق ‘‘کے نام پر جو چورن بیچ رہا ہے ، اس کا اصل مقصد ہی انسانوں کو انسانوں کی غلامی میں دینا اور اَ س چنگیزی کو روا رکھنا ہے جو دین اور سیاست کو ُجد ا کرتی ہے ، بھلا اَنبیاء کرام سے زیادہ انسانیت کا کون ہمدرد ہو سکتا ہے؟


ای پیپر