تبدیلی کہنے سے نہیں تبدیلی ہونے سے ممکن
04 جنوری 2021 2021-01-04

تبدیلی سرکار کو یہ بات سمجھنے کی اشد ضرورت ہے کہ تبدیلی کہہ دینے سے تبدیلی ممکن نہیں تبدیلی تبدیل ہونے سے ممکن ہے .سابق سی سی پی او کے خلاف حسا س ادارے نے وزیر اعظم کو رپورٹس پیش کی تھیں کہ وہ مالی اور اخلاقی کرپشن کے ساتھ لاہور میں قبضے کروا اور چھڑوا بھی رہے ہیں اس مقصد کیلئے وہ پولیس اور اختیارات کا بے جا نا جائز استعمال کررہے تھے حیرانگی کا یہ عالم ہے کہ وزیر اعظم کو ملنے والی رپورٹس کے مطابق شیخ محمد عمر فیملی سمیت کینیڈین نیشنلٹی ہو لڈر ہیں اور مبینہ طور پر منی لانڈرنگ میں بھی ملوث ہیں۔ سی سی پی او لاہور کے عہدے پر تقرری کے بعد انہوں نے لاہور میں ہی تعینات ایک ایس پی رینک کی پولیس افسر کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کی کوشش کی اور خاتون ایس پی کی مزاحمت پر ان کا تبادلہ کرادیا گیا۔ رات دو بجے ایس پی سی آئی اے دینے کے پیچھے بھی یہی بات کار فرما تھی کہ ایس پی سی آئی اے اس پولیس خاتون ایس پی کے ساتھ تھا اسی طرح ایک اور خاتون پولیس افسر جو حال ہی میں کینٹ ڈویژن سے تبدیل ہو چکی ہیں ان کی شیخ محمد عمر کے ساتھ مالی اور اخلاقی کرپشن کی رپورٹس نہ صرف وزیراعلیٰ بلکہ وزیر اعظم کو پیش کی گئی ہیں شیخ عمر اور خاتون پولیس افسر مل کر دس کروڑ روپے کی کرپشن کے مرتکب بھی ہوچکے ہیں اور اسی خاتون پولیس افسر کو بچانے کے چکر میں اپنی سیٹ سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ شیخ محمد عمر نے ڈی آئی جی آپریشن اور ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کے ڈسپوزل پر موجود فنڈز کو انہیں استعمال کرنے سے روک کر خود خرچ کرنا شروع کردیا تھا اور اس حوالے سے بھی کرپشن ہوئی ہے شیخ محمد عمر کی تقرری کے دوران پولیس کا مورال گرا اور پولیس افسر پریشان رہے.شیخ عمر کے بعد اس عہدے پر آنے والے غلام محمود ڈوگر منجھے ہوئے تجربہ کار افسر ہیں اور کرائم فائٹنگ کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں انہیں اس وقت کراچی میں پوسٹنگ کے لئے منتخب کیا تھا جب ایم کیو ایم کا عروج تھا اور بوری بند لاشیں ملنا بھتہ منشیات فروشی قتل ڈکیتی معمول تھا اور پولیس آفیسرز کراچی میں تعیناتی سے کتراتے تھے غلام محمود ڈوگر نے اپنے ویژن اور انتھک محنت سے اپنی تعیناتی کے علاقوں کو نہ صرف امن کا گہوارہ بنایا تھا بلکہ پولیس کا مورال بھی بلند کرنے کے لئے اقدامات کئے تھے عمر شیخ کی تعیناتی سے نہ صرف لاہور پولیس کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے بلکہ پولیس افسران و ملازمین کا مورال بھی بہت گر چکا ہے پولیس کا گرا ہوا مورال اپ کرنے کی اشد ضرورت ہے اور غلام محمود ڈوگر کا انتخاب لاہور پولیس کے لئے نہائیت عمدہ فیصلہ ہے کیونکہ انکا کردار جاندار جبکہ اخلاق فرینڈلی ہے .سی سی پی او کی تقرری کے بعد ان کی ٹیم میں ڈی آئی جی آپریشن اشفاق خان جو انتہائی عوام دوست اور محنتی افیسر گردانے جاتے ہیں اور ڈی آئی جی انویسٹی گیشن شارق کمال ہیں شارق کمال طویل عرصے تک اس کرا ئسز میں رہے ہیں کہ سابق وزیر اعظم نے انہیں بہاولنگر کے ایک ایم این اے کے حوالے سے نرمی اختیار کرنے کا حکم دیا تھا لیکن انہوں نے وزیر اعظم کا حکم ماننے سے یہ کہہ کر انکار کردیا تھا کہ میرٹ کے برعکس کچھ نہیں ہوگا اس وجہ سے سابق وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری نے ان کی باز پرس بھی کی تھی . پھر انہیں او ایس ڈی کردیا گیا تھا .بڑے عرصے بعد ان کو فیلڈ پوسٹنگ ملی ہے .یہ دونوں افسر ایسے ہیں جو غلام محمود ڈوگر کے ساتھ ملکر شہر میں مثالی امن قائم کرسکتے ہیں اگر ان کو فری ہینڈ دیا جائے ۔غلام محمود ڈوگر کوآئی جی پنجاب انعام غنی اور وزیراعلیٰ کی جانب سے نو ٹاسک نو ٹائم لیمٹ نو انٹر فیرنس پالیسی دی جائے تو ائی جی اور وزیراعلیٰ پنجاب پولیس کی کارکردگی کے حوالے سے سر اٹھا کر مثالی پولیس قرار دے سکیں گے . سی سی پی او کے بعد آئی جی پنجاب اور چیف سیکرٹری پنجاب کے تبادلے بھی زیر غور ہیں چیف سیکرٹری پنجاب کے عہدے کے لیئے اعجاز جعفر بابر تارڑ اور فضیل اصغر کے ناموں پر غور کیا جارہا ہے اعجاز جعفرمنجھے ہوئے پروفیشنل بیوروکریٹ ہیں لیکن وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے قریبی عزیز ہیں اگر وہ چیف سیکرٹری پنجاب تعینات ہو جاتے ہیں تو انکی جانب سے کسی قسم کی کوتاہی غلطی لاپرواہی عثمان بزدار کی ہی سمجھی جائے گی عثمان بزدار کا سامنا پہلے ہی انتہائی چیلنجز سے ہے اس لئے اعجاز جعفر کی چیف سیکرٹری تعیناتی موزوں نہیں رہے گی ایک کی غلطی کی ذمہ داری دوسرے پر بھی ڈال دی جائے گی اسی طر ح بابر تارڑ ن لیگ کے انتہائی اہم خاندان کے چشم و چراغ ہیں فضیل اصغر کو ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ سے مسلم لیگ ن سے قربت کا الزام میں تبدیل کیا گیا تھا .وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو درپیش گورننس کے چیلنجز میں طاہر خور شید کی بطور سیکرٹری ٹو سی ایم تقرری کے بعد کچھ کمی آئی ہے اور وزیر اعظم بھی طاہر خور شید کی صلاحیتوں کے معترف ہیں جبکہ متوقع طور پر طاہر خورشید مارچ میں گریڈ بائیس میں پروموٹ ہو رہے ہیں تو چراغ تلے اندھیرا کے مصداق وفاقی حکومت جو چیف سیکرٹری پنجاب کے عہدے پر تقرری کیلیئے موزوں بیو رو کریٹ کی تلاش کررہی ہے انہیں طاہر خور شید کے بارے میں غور کرنا چاہیئے جو اس عہدے کیلئے بہترین بیوروکریٹ ہیں وزیر اعلیٰ پنجاب کے ساتھ ان کی ورکنگ کوارڈینیشن بھی ہے اور بیورو کریسی انہیں پسند کرتی ہے اگر وہ پنجاب میں چیف سیکرٹری کے عہدے پر آتے ہیں تو وہ ایک بہترین ٹیم کیساتھ سرو کرکے گڈ گورننس کا خواب شرمندہ تعبیر کرسکتے ہیں .اور آئندہ انتخابات کی تیاری کے لئے تحریک انصاف کو پنجاب میں خوب صورت بیٹنگ پچ تیار کرکے دے سکتے ہیں۔


ای پیپر