حریم شاہی سرکار !
04 جنوری 2020 2020-01-04

ہم نے یہ تو سنا تھا جیسے عوام ہوں گے ویسے حکمران ہوں گے۔ اب یہ بھی دیکھنے میں آرہا ہے جیسا وزیراعظم ہوگا، اُس کے وزیر مشیر بھی ویسے ہی ہوں گے، میں اُن لوگوں پر حیران ہوتا ہوں جو یہ سمجھتے ہیں یا جو یہ کہتے ہیں ”وزیراعظم خودتو بہت اچھا ہے، اُس کی ٹیم اچھی نہیں ہے“،....بندہ پوچھے ٹیم سلیکٹ کس نے کی ہے؟ اور اگر ٹیم کے کچھ ارکان ” اُوپر“ سے مسلط ہوئے ہیں تو ٹھیک ہی ہوئے ہیں کیونکہ انتخابات میں جیت بھی اُوپر سے مسلط ہوئی تھی، لہٰذا اُوپر والوں کا حق بنتا ہے اپنے کوٹے کے مطابق حصہ وصول کریں،کل کلاں اُوپر سے یہ حکم آگیا ”وفاقی وزراءمیں پچاس فی صد کوٹہ حاضر سروس جرنیلوں کی سفارش پر ریٹائرڈ جرنیلوں کا ہوگا تو ظاہر ہے اِس پر بھی انکار کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی، یہ جو رات کو مختلف چینلز پر اکثر ریٹائرڈ جرنیل حکومت کے حق میں کھسیانی بولی بول رہے ہوتے ہیں وہ شاید اِسی اُمید پر بول رہے ہوتے ہیں کل کلاں وفاقی وزارتوں میں ریٹائرڈ جرنیلوں کا کوٹہ مقرر ہوگیا وہ آرام سے اس میں ایڈجسٹ ہوجائیں گے ،....فی الحال وفاقی کابینہ میں اکیلے بریگیڈیئرڈ ریٹائرڈ اعجاز شاہ ہمارے ہیں، اُنہیں پہلے سیاسی امور کا وزیر مقرر کیا گیا تھا، حالانکہ اُنہیں ”فوجی امور“ کا وزیر مقرر کیا جانا چاہیے تھا، مگر فوجی امور کی فی الحال کوئی باقاعدہ وزارت نہیں ہے، یہ امور اکیلے وزیراعظم ہی دیکھتے ہیں، تو اعجاز شاہ کو ملک کی سب سے اہم اور حساس وزارت (وزارت داخلہ) سونپ دی گئی، حالانکہ اِس وزارت کے لیے چوبیس گھنٹے ہوش میں رہنا ضروری ہوتا ہے، اِس سے پہلے اُنہیں انتخابی ٹکٹ بھی جاری کرنا پڑ گئی تھی، کیونکہ خان صاحب کو پتہ تھا پی ٹی آئی کے تمام امیدواران شکست کھاسکتے ہیں بریگیڈیئر اعجازشاہ نہیں کھا سکتے، وہ صرف پی سکتے ہیں، اور پینا کوئی بُری بات نہیں، غم بھی تو کچھ لوگ پی ہی لیتے ہیں، ہوسکتا ہے ہمارے محترم وزیراعظم خان صاحب بھی آج کل صرف یہ غم ہی پیتے ہوں کہ کابینہ میں آدھے سے زیادہ اراکین اُنہیں اپنی مرضی کے خلاف رکھنا پڑ گئے ہیں، ....اُنہیں اقتدار بڑی مشکل سے ملا ہے، اِس مقصد کے حصول کے لیے سالہاسال اُنہیں ہاتھ پاﺅں ودیگر اعضاءمارنے پڑے ، کسے کیا کیا یقین دہانیاں کروانا پڑیں؟ وہی جانتے ہیں، ہم تو بس اتنا جانتے ہیں کچھ خفیہ قوتیں اُن کی مددگار نہ ہوتیں اقتدارکے حوالے سے وہ بے چارے”کنوارے“ ہی اس دنیا سے کوچ کر جاتے۔ وہ نہیں مانتے کہ کچھ خفیہ قوتیں اُن کی مددگار ہوئیں، اُن کا خیال ہے، بلکہ اُنہیں پکا یقین ہے یہ کسی ”روحانی قوت“ کا کمال ہے، ہمارا سوال بڑا سادہ ہے ”روحانی قوت“ وزیراعظم بنوا سکتی ہے تو وزیراعظم میں جو صلاحیتیں ہونی چاہئیں، یا جو ظرف ہونا چاہیے، وہ کیوں عطا نہیں کرسکتی ؟....محترم وزیراعظم کی ”روحانی قوت“ سے دست بدستہ ہماری گزارش ہے اُنہیں وزیراعظم تو بنوا دیا ہے اب اُنہیں کامیاب بھی کروادیں، کیونکہ ہمارے پاس فی الحال اور کوئی چوائس نہیں ہے، کوئی ایسا جنتر منتر اُن پر کریں اُن کے کہنے کے مطابق 2020واقعی ترقی کا سال بن جائے، صرف زلفی بخاری یا مراد سعید کی ترقی کا سال نہ بنے، ....مسلسل آئی سی یو میں پڑے ہوئے عوام کی اُمید مکمل طورپر دم توڑ گئی تو اس کی کچھ قصوروار وہ ”روحانی قوت“ بھی ہوگی جس کے احترام، حکم یا خواہش پر خان صاحب کئی غلطیاں اب تک کرچکے ہیں اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے، ”گھریلو ٹوٹکے“ گھر چلانے کے لیے کام آسکتے ہیں، ملک چلانے کے لیے نہیں آسکتے، خان صاحب کو یقین ہے اِس ”روحانی قوت“ کے ہوتے ہوئے کوئی اُن کا بال بیکا نہیں کرسکتا، ویسے اپنا بال بیکا کروانے کے لیے اُنہیں کسی قوت کی ضرورت ہی نہیں، اِس مقصد کے لیے اُن کو اپنی قوت ہی ان کے لیے کافی ہے، جیسا کہ ہمارے محترم بھائی حسن نثار نے لکھا تھا ”عمران خان کو سوائے عمران خان کے کوئی نہیں مارسکتا“ ،.... ہماری اپوزیشن بھی عملی طورپر شاید اِسی لیے چُپ کرکے بیٹھی ہوئی ہے کہ اُن سے بڑی اپوزیشن اپنے لیے خیر سے خان صاحب خود ہی ہیں،.... یا اُن کے کچھ وفاقی وزیر مشیر خصوصاً اُن کے ”وسیم اکرم پلس“ کافی ہیں، .... گزشتہ ہفتے وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد، جنہیں اصل میں وفاقی وزیر ریلوے تکبر، بڑھک بازی، لوٹا سازی، جھوٹ ومکروفریب ہونا چاہیے تھا، اور ان جیسی ” صلاحیتیں“ رکھنے والے ان کے ”پنڈی بند بھائی“ فیاض الحسن چوہان کی ٹک ٹاک ماڈل حریم شاہ کے ساتھ جو آڈیو سوشل میڈیا پر ان دنوں زیربحث ہے، خان صاحب تو اِسے بھی اپنی حکومت کی ”نیک نامی“ ہی سمجھتے ہوں گے، اور اگر اُنہوں نے اسے ”خرابی“ بھی سمجھا ہوگا تو اُنہیں یہ کہہ کر مطمئن کروادیا گیا ہوگا کہ یہ نون لیگ کی سازش ہے، ہمارے کچھ وفاقی وزیروں کی کوئی خرابی، کوئی سکینڈل کوئی نااہلی سامنے آجائے وہ اُسے اپنے خلاف نون لیگ کی سازش قرار دے کر وزیراعظم کو مطمئن کردیتے ہیں، وزیروں نے وزیراعظم کی یہ ”کمزوری“ پکڑلی ہے لہٰذا وزیراعظم اب ان نااہل وزیروں کی کوئی خرابی نہیں پکڑ سکتے، ہمارے کچھ وفاقی اورصوبائی وزراءکے نزدیک کارکردگی سے نیک نامی حاصل کرنے سے ٹک ٹاک ماڈلز کے ذریعے ”نیک نامی“ حاصل کرناکہیں افضل ہے، شاید اس لیے کہ وزیراعظم بھی اسے کوئی ”خرابی“ نہیں سمجھتے، اگلے روز ایک وفاقی وزیر مجھ پر برس پڑے کہ تم نے فلاں خاتون کو میرے بارے میں یہ کہہ کر کہ میں شریف آدمی ہوں میری شہرت کو نقصان پہنچایا ہے، پہلے وہ خاتون تھوڑا بہت مجھے منہ لگا لیتی تھی، اب میری طرف دیکھتی بھی نہیں، بلکہ اُس نے مجھے دھمکی دی ہے کہ وہ وزیراعظم سے میری شکایت کرے گی کہ میں شریف آدمی ہوں“ ہمارے محترم وزیراعظم کے نزدیک نااہل اور گندے کردار کا مالک صرف وہی ہے جو ان کے سیاسی مخالفین کے لیے گندی زبان استعمال نہیں کرتا، یا اُنہیں اُس انداز میں بُرا بھلا نہیں کہتا جو وزیراعظم کو بڑا پسند ہے، کوئی اپنے یہ ”فرائض“ پوری لگن اور تندہی سے ادا کررہا ہو تودیگر حوالوں سے وہ چاہے کتنے ہی گندے کردار کا حامل کیوں نہ ہو، حتیٰ کہ شیخ رشید یا فیاض الحسن چوہان ہی کیوں نہ ہو، خان صاحب کو اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا،.... ملک میں بدزبانیاں اور بداخلاقیاں جس بدترین مقام پر پہنچ چکی ہیں اللہ جانے خان صاحب کو کب یہ احساس ہوگا اِس میں کچھ نہ کچھ حصہ اُن کا اور اُن کی پارٹی کا بھی ہے، .... میں تو اِس خدشے کا شکار ہوں وہ کسی روز شیخ رشید اور فیاض الحسن چوہان کی سفارش پر حریم شاہ کو بھی وفاقی وزیر نہ بنادیں، اُنہیں ”فحاشی امور“ کا محکمہ سونپا جاسکتا ہے، یہ کوئی ناممکن عمل نہیں، فردوس عاشق اعوان وفاقی وزیر بن سکتی ہیں، تو حریم شاہ کیوں نہیں بن سکتی؟ ، اسی بہانے وہ ملک میں واپس آجائے گی اور اُس کی سکیورٹی بھی ”ٹائیٹ“ ہو جائے گی!!


ای پیپر