معیشت کے سدھار میں ناکامی ۔۔۔ !
04 جنوری 2019 2019-01-04

تحریکِ انصاف کی حکومت کے ترجمان برائے معاشی امور ڈاکٹر فرخ سلیم نے کہا ہے کہ روپے کی قدر میں 30 فیصد کمی کے باوجود برآمدات نہیں بڑھا سکے ہیں۔ حکمتِ عملی کام نہیں کر رہی ۔ ہمیں متبادل سوچنا ہو گا۔ ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹر ویو دیتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ہم بیماری کا علاج نہیں کر رہے ہیں علامات کو دبا رہے ہیں۔ ہمیں بیماری کا علاج کرنا ہو گا۔ ہمارا تجارتی خسارہ قابو میں نہیں آ رہا اس وجہ سے ہمیں مختلف برادر اور دوست ممالک کے امدادی پیکج کی ضرورت پڑی۔ مختلف ممالک سے ہم جو امدادی پیکجز لے رہے ہیں زیادہ تر ایک سال کے قرضے کی صورت میں مل رہے ہیں ۔ ان کے اُوپر ہمیں سود بھی برداشت کرنا ہو گا۔

حکومت کے معاشی امور کے ترجمان کے اپنے انٹر ویو میں بیان کردہ ان حقائق سے وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے یہ کہہ کر بری الذمہ ہونے کی کوشش کی ہے کہ فرخ سلیم حکومت کے ترجمان نہیں ہیں وہ اپنی رائے دینے میں آزاد ہیں۔ تاہم اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا اس لیے کہ ملکی معیشت کی جو معروضی صورتحال ہے اور حکومت کو معیشت کو سنبھالا دینے اور سدھارنے میں جن مشکلات بلکہ ایک طرح کی ناکامی کاسامنا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ ایک ہی دن قبل موقر برطانوی جریدے ’’فنانشل ٹائمز‘‘ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ چین نے پاکستان کو دو ارب ڈالر قرض دینے کا فیصلہ کرلیا۔ اس سے پاکستانی روپے کی گرتی ہوئی قدر اور معاشی حالت بہتر ہونے میں مدد ملے گی۔ اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین نے ایسے وقت میں رقم دینے کا فیصلہ کیا ہے جب عمران خان کی قیادت میں قائم حکومت کمزور معیشت کو بہتر بنانے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ اخبار کے مطابق پاکستان آئی ایم ایف سے 7 سے 8 ارب ڈالر کا مالیاتی پیکج حاصل کرنے کے لیے بھی مذاکرات کر رہا ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے 2 ارب ڈالر وصول ہو چکے ہیں۔ سعودی عرب کے پیکج کے تحت پاکستان کو ایک ارب ڈالر کی تیسری قسط جنوری کے وسط میں مل جائے گی۔ متحدہ عرب امارات بھی پاکستان کی مالی مد د کرنے کا اعلان کر چکا ہے اس طرح تینوں ممالک سے پاکستان کو 8 ارب ڈالر کا بندوبست ہو گیاہے۔

پاکستان کی معیشت کے حوالے سے حکومت کے معاشی امور کے ترجمان ڈاکٹر فرخ سلیم (جنہیں وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات نے حکومت کا معاشی امور کا ترجمان تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے حالانکہ اُن کے معاشی امور کا ترجمان مقرر کیے جانے کی خبر سرکاری ٹی وی پر واضح لفظوں میں نشر کی گئی تھی ) کا یہ کہنا کہ حکمتِ عملی کام نہیں کر رہی ہمیں متبادل لائحہ عمل سوچنا ہو گا اس بات کی علامت ہے کہ حکومت معیشت کو سنبھالا دینے کے لیے جو اقدامات کر رہی ہے یا کر چکی ہے اُسے اس میں پوری طرح کامیابی نہیں مل سکی ہے ۔اس سے بڑھ کرحکومت کی پالیسیوں کی ناکامی اور کیا ہوسکتی ہے کہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 30% فیصدتک (یعنی ایک تہائی) جتنی بڑی کمی کرنے کے باوجود برآمدات میں اضافہ نہیں ہوا اور نہ ہی تجارتی توازن بہتر ہو سکا ہے بلکہ بھاری تجارتی خسارہ جوں کا توں موجود ہے۔ حکومت اگرچہ سعودی عرب سے ملنے والے مالیاتی پیکج کو جس کے تحت سعودی عرب نے تین ارب ڈالر سٹیٹ بینک آف پاکستان میں رکھوانے ہیں اپنی بڑی کامیابی قرار دیتی ہے ۔ اسی طرح متحدہ عرب امارات کی طرف سے بھی تین ارب ڈالر سٹیٹ بینک آف پاکستان میں رکھوائے جانے کے مالیاتی پیکج کو (جس پر عملدرآمد ہونا باقی ہے) اپنی بڑی کامیابی سمجھتی ہے لیکن ان پیکجز کی حقیقی صورتحال کو سامنے رکھا جائے تو اسے حکومتی کامیابی سمجھنا دل کو خوش کرنے کے لیے خیال اچھا ہے سے بڑھ

کر اور کچھ نہیں۔ اس لیے کہ یہ ڈالر سٹیٹ بینک آف پاکستان کی تجوری میں پڑے رہیں گے حکومتِ پاکستان اپنی ضروریات کے مطابق انہیں خرچ کرنے کی مجاز نہیں ہوگی ۔ البتہ جیسا ڈاکٹر فرخ سلیم نے کہا ہے حکومتِ پاکستان کو ان پر بھاری سُود (ایک خبر کے مطابق 3.7 فیصد) ادا کرنا ہو گا۔ اسی طرح چین سے دو ارب ڈالر کے جس قرضے کی بات ہو رہی ہے وہ چین کے تجارتی بینکوں سے ملے گا اور اس پر بھی بھاری شرح سے سود تقریباً 9 فیصد کے لگ بھگ سالانہ لاگو ہو گا۔ اس کے ساتھ اس حقیقت کو بھی جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین سے ملنے والے مالیاتی پیکج اگر پاکستان کی ضروریات کو پورا کرنے اور اس کی معیشت کو سنبھالا دینے کے لیے کافی ہوتے تو پھر پاکستان کو آئی ایم ایف سے مالیاتی پیکج لینے کے لیے مذاکرات کرنے کی ضرورت یقیناًنہ ہوتی ۔ پاکستان اگر آئی ایم ایف سے مالیاتی پیکج کے لیے مذاکرات کر رہا ہے اور آئی ایم ایف کی شرائط کو ماننے کے لیے پہلے ہی گیس اور بجلی کے نرخوں میں بھاری اضافہ کر چکا ہے تو اس کا مطلب یہ لیا جاسکتا ہے کہ سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور چین کے مالیاتی پیکج پاکستان کے لیے ناکافی ہیں۔

یہا ں ایک بڑے میڈیا گروپ کے انگریزی اخبار کے ایڈیٹر انویسٹی گیشن کی اسی میڈیا گروپ کے بڑے اُردو قومی معاصر میں پاکستان کی معیشت کی اب تک کی صورتحال کے بارے میں چھپنے والی رپورٹ کا حوالہ کچھ ایسا بے جا نہیں ہو گا کہ اس سے تحریکِ انصاف کی حکومت کی مالیاتی پالیسی کی ناکامی کا پتہ ہی نہیں چلتا ہے بلکہ حکومتی ارکان کی معیشت کے بارے میں کھوکھلی بیان بازی کا اظہار بھی سامنے آتا ہے۔معاصر کی رپورٹ کے مطابق تحریکِ انصاف کی حکومت کچھ ہی روز میں اپنے ہی اس پراپیگنڈے کا شکار ہونے جا رہی ہے جو پاکستان کے بڑھتے ہوئے کل قرضوں اورواجبات کے متعلق کرتی رہی ہے کہ یہ ہزاروں ارب روپے ماضی کے کرپٹ حکمرانوں نے لوٹے ہیں۔ وزارتِ خزانہ کے باوثوق ذرائع نے قومی معاصر کے نمائندے (ایڈیٹر انویسٹی گیشن) کو بتایا ہے کہ قرضے اور واجبات میں گذشتہ چھ ماہ میں جو اضافہ ہوا ہے اُس میں سب سے زیادہ اضافہ پی ٹی آئی کی حکومت کی چار ماہ کی مدت کے دوران ہوا ہے۔ اس بارے میں مکمل اعداد وشمار فی الحال اگرچہ دستیاب نہیں تاہم اس مدت کے دوران جتنا بھی قرضہ لیا گیا ہے وہ ماضی کے کسی بھی اتنے وقت کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ جون 2018 ء میں کل قرضے اور واجبات 29892 ارب روپے تھے جو ستمبر 2018ء کے آخر میں بڑھ کر 30875 ارب روپے تک پہنچ گئے۔ اس طرح اڑھائی تین ماہ میں تقریباً1000 ارب روپے اضافہ ہوا۔ جون 2018ء میں گراس پبلک قرضہ 24952 ارب روپے تھا جو ستمبر 2018 ء میں بڑھ کر 25783 ارب روپے ہو گیا گویا اس میں بھی اضافہ تقریباً1000 ارب روپے ہوا۔ اکتوبر تا دسمبر 2018ء کے مکمل اعداد وشمار ابھی تیار نہیں ہیں تاہم واضح طور پر ایسے اشارے موجود ہیں جن کو سامنے رکھ کر یہ کہا جاسکتا ہے کہ موجودہ مالی سال کے ابتدائی مہینوں میں جو قرضہ لیا گیا ہے وہ تمام مدتوں میں زیادہ ہے۔ تحریکِ انصاف یہ کہتی رہی ہے کہ جنرل مشرف کے دورِ حکومت کے اختتام (اوائل 2008 ) تک واجبات اور کل قرضہ 6000 ارب روپے تھا جو گذشتہ دس سالوں (پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے ادوارِ حکومت) میں 30000 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ تحریکِ انصاف کا یہ بھی کہنا تھا کہ قرضوں اور واجبات میں یہ اضافہ ماضی کے حکمرانوں کی کرپشن کی وجہ سے ہوا اور قرضوں میں اضافے کا پیسہ اُن کی جیب میں چلا گیا۔ معاصر کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ وزارتِ خزانہ کے ذرائع کے مطابق تحریکِ انصاف کو اب اندازہ ہو جائے گا کہ بڑھتے قرضوں کے متعلق جو بیانیہ اُس نے قائم کیا تھا وہ غلط سوچ پر مبنی تھا۔ ان ذرائع کے مطابق ترقیاتی حوالے سے قرض لینا اچھی علامت ہے تاہم ہمارے معاملے میں حکومتوں نے یکے بعد دیگرے اپنے جاری خرچوں کو پورا کرنے لیے قرضہ لینا شروع کیا اس میں موجودہ حکومت کو کوئی استثنیٰ نہیں بلکہ اس حکومت کی بد قسمتی اس کی آمدنی کی کمی ہے جو ابتدائی چھ ماہ کے دوران 175 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ تحریکِ انصاف کی حکومت کے دوران گردشی قرضہ جو گذشتہ دورِ حکومت میں 1.14 کھرب (1140 ارب) روپے تھا بڑھ کر 1.40 کھرب (1400 ارب) روپے تک پہنچ گیا ہے اس طرح گذشتہ چھ ماہ کے دوران اس میں 260 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے اس کا مطلب ہے کہ تحریکِ انصاف کی حکومت اپنی پیش رو حکومتوں کی طرح بجلی کے بڑے خسارے کو چیک نہیں کرسکی ہے۔ گردشی قرضے بڑے بجلی خساروں کا نتیجہ ہیں جن کا سبب بجلی چوری اور ترسیلاتی نظام کا غیر مؤثر ہونا ہی نہیں ہے بلکہ صارفین کی طرف سے بجلی کے واجبات کو جمع کرانے میں کوتاہی بھی ہے۔رپورٹ کے مطابق حکومت نے ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں تاریخی کمی کی لیکن اس سے بھی کوئی مثبت نتائج سامنے نہیں آئے یہی وجہ ہے کہ خود تحریکِ انصاف کی حکومت کے ترجمان ڈاکٹر فرخ سلیم کو بھی اقرار کرنا پڑا کہ معیشت کو سدھارنے کا حکومتی منصوبہ کار گر نہیں ہوا اور حکومت کو معیشت کی بہتری کے لیے کوئی نیا لائحہ عمل بنانا ہو گا۔


ای پیپر