بنگلہ دیش کا سیاسی منظر نامہ
04 جنوری 2019 2019-01-04

بنگلہ دیشی پارلیمنٹ کی تین صدنشستیں ہیں ایک نشست پر الیکشن نہیں ہوابقیہ299 نشستوں کے لیے ووٹنگ ہوئی حالیہ عام چناؤ جیسے بھی ہوئے ہیں میں عوامی لیگ 288نشستیں جیت گئی ہے جبکہ قدامت پسند جماعت نیشنلسٹ پارٹی کی قیادت میں بننے والے اپوزیشن اتحاد کو صرف سات سیٹیں مل سکی ہیں جس کی بنا پر حسینہ واجد کے چوتھی بار وزیرِ اعظم کا منصب سنبھالنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے اپوزیشن اتحاد کے سربراہ کمال حسین نے عام انتخابات میں وسیع پیمانے پر ہونے والی دھاندلی کے الزامات عائد کرتے ہوئے نتائج کو نہ صرف تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے اور دوبارہ رائے دہی کا مطالبہ کیا ہے جبکہ شیخ حسینہ واجد نے دوبارہ رائے دہی کا مطالبہ رد کرتے ہوئے انتخاب کو شفاف کہتے ہوئے جیت کی وجہ اپنی معاشی پالیسی قرار دی ہے یوں بظاہر اپوزیشن کا مطالبہ تسلیم کرنے امکان نہیں جس کی کئی وجوہات ہیں لیکن ایک بات طے ہے کہ اب بنگلہ دیش کا سیاسی منظر نامہ مکمل طور پر بھارت کے حق میں ہوگیا ہے اور قدامت پسندوں کے جلد دوبارہ اقتدار میں آنے کا امکان نہیں مگر سکون نام کی چیز ناپید ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے

عوامی لیگ کی جیت پر نریندر مودی کی خوشی دیدنی ہے مکمل نتائج کا اعلان ہونے سے قبل ہی شیخ حسینہ واجد کو کامیابی کی مبارکباد دیتے ہوئے دونوں ممالک میں تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا عزم دُہرا دیاوجہ بھارت خطے کی طاقت بننا چاہتا ہے لیکن سابق وزیراعظم خالدہ ضیا پھر بھی کچھ آزاد خارجہ پالیسی پر کاربند تھیں ایسا ملک جو تین اطراف سے بھارت کے گھیرے میں ہوآزاد خارجہ پالیسی اپنائے کیونکر گوارہ ہو سکتا ہے لیکن شیخ حسینہ تو زبانی کلامی بھی ایسا تکلف دُہرانے کو تیار نہیں وہ خود کو فخریہ بھارتی حلیف کہتی ہیں اور دونوں ممالک کے تعلقات کو بڑے اور چھوٹے بھائی کے مشابہ قراردیتی ہیں اب تو یہ امر بھی ڈھکا چُھپا نہیں کہ دونوں ممالک کے مراسم برسرِ اقتدار جماعتوں تک قائم ہو چکے ہیں بے جے پی اور عوامی لیگ کی قیادت ایک دوسرے کوجماعتی پروگراموں میں بھی مدعو کرنے لگی ہیں بھارت اور امریکہ میں قربت دیکھتے ہوئے یہ تصور کرنادرست نہیں کہ واشنگٹن کو الیکشن میں ہونے والی بے ضابطگیاں نظر آئیں عین ممکن ہے 1971ء کے علیحدگی عمل کی مخالفت کرنے کی آڑ میں پاکستان سے محبت کو جرم بنا دینے کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوجائے ۔

خالدہ ضیا اگر گزشتہ الیکشن میں عام انتخابات کا بائیکاٹ نہ کرتیں تو آج اپوزیشن کی ایسی حالت نہ ہوتی لیکن اِس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ عام چناؤ کُلی طور پر شفاف ہوئے ہیں بلکہ اکثر نشستوں کے نتائج میں ہارنے اور جیتنے والے امیدواروں کے حاصل کردہ ووٹوں میں خاصہ فرق ہے مثال کے طور پر گوپال گنج3کے نتائج ہی دیکھ لیں جہاں سے شیخ حسینہ دو لاکھ چھیالیس ہزار پانچ صد چودہ ووٹ لیکر فتح مند ہوئی ہیں جبکہ نیشنلسٹ پارٹی کے امیدوار کو صرف 129ووٹ ہی مل سکے ہیں حالانکہ

اپوزیشن کے انتخابی اجتماعات میں عوامی شرکت بھرپور نظر آتی رہی جس کو مدنظر رکھتے ہوئے عام خیال یہ تھا کہ ہارجیت کا فرق چند ہزار سے زائد نہ ہو گا مگر نتائج ثابت کرتے ہیں کہ یکطرفہ طور پر بیلٹ بکس بھر ے گئے ہیں الیکشن سے قبل چٹاگانگ میں شہر میں درجنوں بیلٹ بکس ووٹوں سے بھرے میڈیا نے دکھائے جنھیں عوامی لیگ کے کارندے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر رہے تھے جب بھارت جیسا ہمسایہ پیٹھ ٹھونکنے کو موجود ہو اورواحد سُپر پاور امریکہ کی طرف سے بھی انگلی اُٹھانے کا خدشہ نہ ہوتو بھلاکون اخلاقی قدروں یا اصول و ضوابط کی پرواہ کرسکتا ہے۔

شیخ حسینہ جیت کا انتظام کر کے ہی عام چناؤ کی طرف آئیں اختلافِ رائے جمہوریت کا حُسن ہے لیکن جمہوریت کے حُسن کی عوامی لیگ کو پرواہ نہیں خالدہ ضیا کرپشن کے ایسے کیس میں سترہ برس سے سزا کاٹ رہی ہیں جس کے شواہد مُبہم ہیں گواہان کے بیانات میں بھی واضح تضاد ہے جس پر ذرا بھی قانونی شُد بُد رکھنے والا سزا نہیں دے سکتا مگر الیکشن میں جیت اور طویل عرصہ اقتدار میں رہنے کے لیے اپوزیشن رہنما کو سزا دینا ضروری سمجھا گیا بلکہ کوشش کی گئی کہ خالدہ ضیا کا بیٹا بھی انتخابی عمل میں حصہ نہ لے سکے اور جلا وطن ہی رہے انتخاب کا اعلان ہونے کے بعد اپوزیشن کے سترہ رہنماؤں کو عدالتوں سے نااہل کرانے کے ساتھ بیس ہزار سے زائد گرفتار یاں ہوئیں اپوزیشن کو عوام تک موقف پہنچانے سے روکنے کے لیے انٹرنیٹ سروس کے ساتھ ملک کے کئی حصوں میں موبائل فون سروس بھی منقطع کر دی گئی نیوز چینل بند کر دیئے گئے تاکہ وہ انتخابی بے ضابطگیاں نہ دکھا سکیں درجن کے قریب صحافی گرفتار کر لیے گئے ظاہر ہے انتخابی ہیرا پھیریوں کی پردہ پوشی کا مقصد اِس کے سوا ممکن نہ تھا اسی لیے آزادانہ ذرائع ابلاغ الیکشن کو الیکشن نہیں سمجھتے بلکہ نتائج لوٹنے سے تعبیر کرتے ہیں مرنے اور زخمی ہونے والے افراد کی اکثریت اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھتی ہے ایسے حالات میں عام انتخابات کو کون آزادانہ، منصفانہ اور غیر جانبدا رانہ کہہ سکتا ہے ؟

شیخ حسینہ نے اقتدار میں آکر بنگلہ دیش کو بھارت کی جھولی میں ڈال دیا ہے تعلیمی اِداروں کی زبوں حالی کی بنا پر لوگ بچوں کو بھارت میں تعلیم دلانے پر مجبور ہیں نوبت یہاں تک آگئی ہے کہ پرائمری حصہ کے طالب علم بھی بھارت جاکر پڑھنے پر مجبور ہیں یوں بھارت اُن کے ذہنوں میں اپنی الفت جبکہ پاکستان سے نفرت راسخ کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے بھارتی آبی جارحیت سے بنگلہ دیش بنجر ہورہا ہے لیکن شیخ حسینہ کے سر سے بھارت کی محبت کا بھوت اُتر نہیں رہاایک طرف بھارت کے ہر فریب پر مطمئن لیکن اپنے ہم وطنوں کے لیے قہر کی دیوی بن چکی ہے۔ بنگلہ دیش کوبھلا کِس سے جارحیت کا خطرہ ہے؟ جب کہ اُس کے تین اطراف بھارت جبکہ چوتھی طرف سمندر ہے اگردہلی دوست ہے تو وسائل عام آدمی کے مسائل حل کرنے پر صرف کرنے کی ضرورت ہے لیکن بنگلہ دیش کا دفاع مضبوط بنانے کا نام دیکر بھارت لڑاکا طیارے اور گولہ بارود بیچ کراپنی اسلحہ کی صنعت کو فروغ دے رہا ہے لیکن شیخ مجیب کی دُختر پاکستان اور اسلام دشمنی میں اِتنی اندھی ہوچکی ہے کہ اُسے بھارتی چال کا ادراک ہی نہیں اگر بھارت صیح معنوں میں بنگلہ دیش سے مخلص ہوتا تو پانی روک کر بنگلہ دیش کو بنجر بنانے کی سازش کرنے سے باز رہتا اور خطرے کا نام نہاد ہوا دکھا کر ناکارہ طیارے و گولہ بارود بیچ کر بنگالیوں کے وسائل ہڑپ نہ کرتا ۔

حالیہ انتخاب شدید عوامی احتجاج اور مظاہروں کے بعدکرائے گئے ہیں لیکن نتائج سے لگتا ہے کہ استحکام کا خواب پھر بھی تعبیر نہیں پا سکے گا عین ممکن ہے دھاندلی کی وجہ سے احتجاجی لہر مزید تقویت پکڑ لے اور حکومت دوبارہ انتخاب کی طرف آنے پرمجبور ہوجائے کیونکہ سیاسی منظر نامے سے اپوزیشن کو ختم کر دیا گیا ہے اور یہ سب کچھ دھاندلی کی بدولت ہی ممکن ہوا ہے حکومتی طاقت سے زیادہ دیر عوام کو دبائے رکھنا ممکن نہیں سچ یہ ہے شیخ حسینہ نے حالیہ انتخابی معرکے سے نیک نامی کی بجائے بدنامی جیتی ہے کیاوہ واقعی کوڑھ مغز ہیں جو ملک کے سیاسی منظر نامے کو پراگندہ کر بیٹھی ہیں یا کٹھ پتلی کی طرح بھارت کے اشاروں پر رقصاں ہیں؟بظاہردونوں سوالوں کا جواب اثبات میں ہے۔


ای پیپر