پیپلز پارٹی کے خلاف مہم، رائے عامہ پارٹی کے ساتھ
04 جنوری 2019 2019-01-04

ایک ہفتہ سے سندھ میں سیاسی سرگرمیاں اچانک عروج پر ہیں۔ سندھ حکومت جو ابھی ایم کیو ایم کے سابق رہنما علی رضا عابدی کے قتل کے بحران سے نہیں نکل پائی تھی کہ وہ ایک اور سخت دباؤ میں آگئی ہے۔ زرداری خاندان کے خلاف جے آئی ٹی کی تحقیقاتی رپورٹ مکمل ہو چکی تھی ، لیکن سپریم کورٹ میں پیش ہونے سے قبل یہ رپورٹ لیک ہو گئی۔ وفاقی کابینہ نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سمیت پیپلز پارٹی کی قیادت کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا ۔ اسی کے ساتھ تحریک انصاف نے مراد علی شاہ سے وزارت اعلیٰ کے عہدے سے مستعفی ہونے کا مطالبہ شروع کردیا۔پھر سندھ میں گورنر راج کی دھمکیاں دی جانے لگی۔، پیپلزپارٹی میں فارورڈ بلاک بنانے کی کوششیں کی گئیں۔اگرچہ عدلیہ کے ریمارکس سے جے آئی رپورٹ پر پیپلزپارٹی کو ایک حد تک ریلیف ملا۔ لیکن گزشتہ روز چیف جسٹس نے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران حکومت سندھ پر برہمی کا اظہار کیا کام نہیں کرنا چاہتے تو حکومت چھوڑ دو ۔سندھ کی میڈیا جو پیپلزپارٹی اور سندھ کی بڑی نقاد رہی ہے، لیکن اس موقعہ پرشاید ہی کوئی کالم یا مضمون وفاقی حکومت کے موقف کے حق میں شائع ہوا ہو۔ مجموعی طور پر میڈیا نے سندھ حکومت کا دفاع کیا۔اداریوں، کالم، مضامین، تجزیوں، اور تبصروں میں وفاقی حکومت کے اس موقف کو غیر جمہوری ،اور غیر سیاسی قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت کی گئی۔ایک مرتبہ پھر سندھ میں مضبوط رائے عامہ پیپلزپارٹی کے حق میں کھڑی ہو گئی۔

حالیہ مہم جوئی کے دوران یہ تاثر بھی پیدا ہوا کہ کراچی میں وفاقی منصوبے گورنر سندھ کی سربراہی میں کمیٹی کی نگرانی میں چلائے جائیں گے۔ عمران حکومت پورے سندھ کے بجائے صرف کراچی میں ترقیاتی کام کرنا چاہتی ہے۔بعد میں وفاقی حکومت کے بعض فیصلوں کے ذریعے یہ بات مزید واضح ہو گئی۔ اس سے وفاقی حکومت اور تحریک انصاف کے لئے اس صوبے میں کوئی اچھا تاثر نہیں بن پایا جاتا۔

نیب بدستور سرگرم رہی۔ دو تین ہفتے پیپلزپارٹی کی مرکزی قیادت کے خلاف تحقیقات اور اس حوالے سے گرما گرم خبریں اور’’ انکشافات‘‘ میڈیا کی زینت بنے رہے، جس کو پیپلزپارٹی میڈیا ٹرائل قرار دیتی رہی۔ لیکن اب پیپلزپارٹی سندھ کے چیئرمین نثار کھوڑو، سابق وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ کے بعدنیب بورڈ نے تین اہم سابق وزراء سہیل انور سیال جام شورو اور زاہد بھرگڑی کے خلاف تحقیقات کی منظوری دیدی ہے۔سابق وزیر داخلہ سہیل انور سیال اور سابق وزر بلدیات جام شورو میڈم فریال تالپور کے قریب سمجھے جاتے رہے ہیں۔ خیال ہے کہ پیپلزپارٹی کے درجنوں ایم پی ایز نیب کی پکڑ میں لئے جارہے ہیں۔ سکھر میں محکمہ جیل کے چھ بنگلوز، اور زمین کے کھاتے تبدیل ہو گئے۔ناجائز تجاوزات کو ہٹانے کی مہم کراچی شہر میں تو دم توڑ چکی ہے لیکن چھوٹے شہرو ں میں ابھی بھی جاری ہے۔ ایسے شہر بھی اس کی لپیٹ میں آگئے ہیں جہاں نہ ٹاؤن پلاننگ اور سٹی سروے کیا گیا ہے اور نہ کوئی میونسپلٹی موجود ہے۔ اس مہم میں جانبداری اور سیاست کی شکایات روز کا معمول ہیں جو میڈیا میں شایع ہو رہی ہیں۔ تھر میں قحط سالی اور بچوں کی اموات کا سلسلہ سندھ حکومت کے دعوؤں، سپریم کورٹ کی مداخلت کے باوجود رک نہیں پارہا ہے۔ قحط زدگان میں گندم کی تقسیم منصفانہ نہیں ہو پارہی۔ پہلے مرحلے میں 25750 متاثرین کو اور دوسرے مرحلے میں 23164 متاثرین کو فہرستوں میں نام ہونے کے باوجود گندم نہیں مل سکی ۔ اب صوبائی حکومت نے تیسرا مرحلہ شروع کردیا ہے۔ دو مرحلوں میں گندم کی تقسیم کو یقینی نہ بنانے کے باوجود تیسرا مرحلہ شروع کردیا گیا ہے۔

سندھ میں ایک ہی محکمہ میں سرگرمی نظر آرہی ہے وہ ہے محکمہ تعلیم۔ حال ہی میں نئے اساتذہ کی بھرتی کے لئے تھرڈ پارٹی کے ذریعے ٹیسٹ لئے گئے۔ ایک اسامیاں آٹھ ماہ پہلے پُر کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔سندھ حکومت نوجوان وزیر سید سردار علی شاہ کے ذریعے اس شعبے میں بعض اہم انتظامی، نصابی اور پالیسی کی تبدیلیاں کرنے جا رہی ہے۔ صوبے کے سکولوں میں امتحانات اپریل کے بجائے مارچ میں لئے جائیں گے۔ یکم مئی سے 30 جون تک موسم گرما کی چھٹیاں کی جائیں گی۔ اپریل میں امتحانات کرانے کی وجہ سے مئی میں پڑھائی نہیں ہوتی عملاً چار ماہ کی چھٹیاں ہو جاتی ہیں۔ تعلیمی سال 2020 کے بعد امتحانی پرچوں میں سوالات شعور پرکھنے سے متعلق کئے جائیں گے۔ 100 فیصد سوالات نصاب میں سے دینے کے بجائے تنقیدی جائزے سے متعلق سوالات دیئے جائیں۔ امتحانات کلاس رومز کے بجائے کھلے میدان میں لئے جائیں گے۔محکمہ تعلیم کی اسٹیئرنگ کمیٹی نے امتحانات میں نصاب سے باہر سوالات دینے اور نصاب میں تبدیلی کے لئے تجاویز بھی طلب کی ہیں۔

محکمہ تعلیم کی حالیہ سرگرمیاں اپنی جگہ پر ۔ اس محکمے کو بعض مسائل بھی ورثے میں ملے ہیں۔ ان میں سے ایک ماضی میں قانون سے بالاتر کی گئی بھرتیاں ہیں۔ 2012 میں ہزارہا اساتذہ کی غیر قانونی اور جعلی بھرتیوں کی تحقیقات کے لئے سپریم کورٹ کی ہدایت پر چیف سیکریٹری سندھ کی سربراہی میں قائم کمیشن نے کام شروع کردیا ہے۔ بھرتی ہونے والے ملازمین کو متعلقہ ڈاکیومینٹس پیش کرنے اور ان کے تقرر ناموں پر دستخط کرنے والے ڈائریکٹر اور دیگر افسران سے تصدیق کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جن چار سو اساتذہ وملازمین نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا ان کے تقرر ناموں کی تصدیق کی جائے گی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ2012ء میں محکمہ تعلیم میں ہزاروں ملازمین کو قانونی تقاضے پورے کئے بغیر بھرتی

کیا گیا تھا۔ محکمہ تعلیم نے اس معاملے کی پہلے بھی مختلف انکوائریز کی تھی جن میں یہ بات سامنے آئی کہ کئی ملازمین غیر قانونی طور پر اور مجاز افسران کے دستخط کے بغیر اور سیکریٹری کی منظوری کے بغیر بھرتی کئے گئے جس کی وجہ سے ان کی تنخواہیں بھی جاری نہیں کی جا سکی تھی۔ ان ملازمین میں سندھی لینگوئیج ٹیچر، عربی ٹیچر، ڈرائنگ ٹیچر، اور دیگر ملازمین شامل ہیں ۔

روزنامہ سندھ ایکسپریس نے سندھ میں غیر فعال فوڈ اتھارٹی کا معاملہ اٹھایا ہے۔ اپنے اداریے میں لکھتا ہے کہ صوبے میں ہزارہا فوڈ اسٹال موجود ہیں جہاں پر غیر معیاری کھانا مہیا کیا جاتا ہے ۔ پتہ تب پڑتا ہے جب کوئی فوڈ پوائزننگ کا شکار ہو جاتا ہے یا موت کا شکار ہو جاتا ہے۔اس طرح کا ایک واقعہ کراچی میں ہوق چکا ہے جبکہ دوسرا واقعہ حال ہی میں حیدرآباد میں ہوا ہے۔ اخبار کے مطابق کراچی کے علاوہ صوبے میں کہیں بھی فوڈ اتھارٹی کا عملہ موجود نہیں۔لہٰذا یہ اتھارٹی عملاً غیر فعال ہے۔

روزنامہ کاوش نے اداریے میں سندھ میں سرکاری جنگلات پر ناجائز قبضے کے عنوان سے اداریہ میں لکھا ہے کہ جنگلات کی اراضی بڑھانا دور کی بات، جو اراضی اس مقصد کے لئے مختص ہے اس کو بھی بااثر افراد کو الاٹ کیا جارہا ہے۔ سپریم کورٹ نے سماعت کے دوران جنگلات کی زمین الاٹ کرنے پر برہمی کا اظہار کیا۔جب صوبائی حکومت خود کہہ رہی ہے کہ بااثر افراد کو جنگلات کی سرکاری زمین غیر قانونی طور پر الاٹ کی گئی ہے تو پھر یہ قبضے خالی کیوں نہیں کرائے جاتے؟ اخبار لکھتا ہے کہ سندھ میں سرکاری جنگلات الاٹ کئے جا رہے ہیں اور وہاں موجود درخت بیدردی سے کاٹے جارہے ہیں۔ لیکن حکومت کوئی تحرک نہیں لے رہی۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ ہر اقتداری دور میں محکمہ جنگلات کی زمین سیاسی حمایت حاصل کرنے اور سیاسی وفاداریاں خرید کرنے کے لئے استعمال ہوتی رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ زمینیں من پسند لوگوں کو غیر قانونی طور پر الاٹ کی جاتی رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صوبے میں جنگلات تقریبا ختم ہو چکے ہیں۔ دیہی معیشت اور مجموعی ماحول کا جنگلات سے گہراتعلق ہے۔اب بات سپریم کورٹ تک پہنچی ہے ۔ حکومت کے لئے بھی موقعہ ہے کہ وہ تمام سیاسی مصلحتوں کو ایک طرف رکھ کر جنگلات کی زمینیں خالی کرائے۔ اور جنگلات کی بحالی کا منصوبہ بنائے۔


ای پیپر