تحریکِ انصاف کا سیاسی فکری انقلاب
04 جنوری 2019 2019-01-04

چینی سفیر نے کہا ہے کہ پاکستان اس ڈگر پر رواں دواں ہے جس پر چین 35سال پہلے روانہ ہوا تھا۔ چینی قوم نشئی کے طور پر جانی جاتی تھی لیکن ایک لیڈر موزے تنگ کے آنے کے بعد صرف 35برس کے عرصہ میں چین کی محیرالعقول ترقی نے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ چین نے اس سفر کا آغاز کرپشن کے خلاف سخت فیصلوں سے کیا اور جلد ہی اس نے ملک سے کرپشن ختم کر کے چین کو ایک عظیم طاقت بنا دیا۔ اب پاکستان بھی چین کی طرح کرپشن کے خاتمہ کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ تحریکِ انصاف نے عوام میں ایک سیاسی فکری انقلاب پیدا کیا ہے۔ عمران خان نے قوم کو یہ سمجھا دیا ہے کہ ان کے حقوق کیا ہیں اورا ن پر ڈاکہ کیسے ڈالا جاتا ہے۔مگر تشویشناک بات یہ ہے کہ اپوزیشن کی تمام جماعتیں اپنے اپنے لیڈرز کو بچانے میں لگی ہوئی ہیں، سابق صدر آصف علی زرداری ایک نجی چینل کو انٹر ویو دیتے ہوئے کہا چےئر مین نیب کی جرأت ہے کہ وہ انہیں ہاتھ لگائے۔ اس انٹرویو سے اشرافیہ کا غرور جھلکتا ہے اور ہمارے ہاں ہوتا بھی یہی رہا ہے کہ طاقتور سمجھتے رہے ہیں ان پر کوئی ہاتھ نہیں ڈال سکتا ، وہ کسی قانون کے تابع نہیں۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ احتساب کے عمل میں اپوزیشن کی جماعتیں تحریکِ انصاف کی معاون ہوتیں، منی لانڈرنگ، بد عنوانی اور کرپشن میں ملوث لوگوں کو خود نیب کے حوالے کرتیں، مگر کرپشن کے الزامات میں ملوث ہونے کے بعد اشرافیہ انارکی کی سی کیفیت پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ہمارے عیار سیاستدانوں نے جھوٹے وعدوں، فریب و دھوکا دہی اور جھوٹ کے بل بوتے پر اقتدار برقرار رکھنے اور عوام کو بیووقوف بنانے کو باقاعدہ فن بنا دیا ہے۔عوام دشمن سیاسی اشرافیہ جب بھی کسی مشکل میں پھنس جاتی ہے تو عوام کو مس گائڈ کر کے سڑکوں پر لانے کی کوشش کرتی ہے ۔ عوام کو مشتعل کر کے پنجاب میں بھی اس طرح کی کوشش کی گئی لیکن اس میں ان کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ سیاسی اشر افیہ کا خیال تھا کہ وہ ماضی کی طرح زبان اور قومیت کے نام پر عوام کو استعمال کرنے میں کامیاب ہو جائے گی لیکن عوام اس کی بے دریخ لوٹ مار سے بری طرح ناراض ہیں۔ اس بار اس کی اربوں کی کرپشن کے اتنے اسکینڈلز سامنے آ گئے ہیں کہ سوائے ان نفسیاتی غلاموں کے جو ہمیشہ اشرافیہ کے کے عادی غلام کی طرح اس کے سامنے سر بسجود رہتی ہے اب نفرت سے اس کی طرف دیکھ رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر نیب، عدلیہ اور فوج کو ہدف بنانے کے لئے بدزبانی اور اشتعال انگیزی پر مبنی مہم کے پیچھے کرپشن کا مال لگایا جا رہا ہے۔پیپلز پارٹی کے لیڈروں کے بے نامی اکاؤنٹس کے ذریعے مبینہ طور پر ہونے والی منی لانڈرنگ کی تفتیش جاری ہے۔ اس معاملے کی تفتیش کے لئے بنائی گئی جے آئی ٹی نے کک بیکس اور کمیشن کے ذریعے جمع کئے گئے کالے دھن سے متعلق سپریم کورٹ میں شواہد جمع کروا دئے ہیں۔ بڑے پیمانے پر مالی بد عنوانیوں، بدعنوانیوں کے نت نئے طریقوں ، ملکی قوانین اور اختیارات کے ناجائز استعمال، ریاستی اثاثوں کی خرد برد، جعل سازی اور منی لانڈرنگ کے ہوشربا حقائق سے اس رپورٹ میں پردہ اٹھایا گیا ہے۔ عوامی جلسوں میں زرداری نے اشتعال انگیز اور جارحانہ لہجہ اپنایا ہوا ہے تا کہ عوام کو مشتعل کیا جا سکے اور بے یقینی کو اس سطح تک لے جایا جائے کہ سچ ہونے کا گمان ہو۔ یوں لگتا ہے کہ جنگل کا قانون ہے ہر طرف اندھیر مچا ہوا ہے۔

پانامہ لیکس کا فیصلہ آنے اور منی لانڈرنگ کے بارے میں حقائق سامنے آنے کے بعدکوئی شبہ نہیں رہ جاتا کہ پاکستان کے استحکام کو سب سے بڑا خطرہ بد عنوانی سے ہے۔ آگے بڑھنے اور محفوظ مستقبل کی تخلیق کی صرف یہی ایک صورت ہے کہ احتساب کے عمل کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ آئے روز این آر او کے حوالے سے آنے والی خبروں سے عوام پریشان ہو جاتے ہیں۔ این آر او دراصل دو ذاتی مفادات رکھنے والے حکمران طبقات کے افراد کے درمیان ایسے معاہدے کو کہا جاتا ہے جس کا مقصد ایک فریق کے لئے اقتدار کی طوالت فراہم کرنا ہوتا ہے تو دوسرے فریق کو کرپشن کے الزامات سے نجات دلانا ہوتا ہے۔ بلاشبہ آج ملک کو کرپشن کی دلدل سے باہر نکالنے اور میرٹ پر مبنی معاشرے کو استوار کرنے کی ضرورت ہے۔ سابقہ ادوارِ حکومت میں کرپشن کلچر کے باعث ہی میرٹ اور آئین و قانون کی حکمرانی کے جنازے نکلتے رہے ہیں جس میں مجبور عوام ناانصافیوں کے بوجھ تلے دب کر مشکلات کا شکار ہوتے رہے ہیں جب کہ حکمران اشرافیائی طبقات کی من مانیوں اور ناجائز ذرائع سے قومی دولت و وسائل کی لوٹ مار کی زبان زدِ عام ہوتی داستانوں سے جمہوریت کا مردہ بھی خراب ہوتا رہا نتیجتاً اس طرزِ حکمرانی سے عوام کا اعتماد اٹھتا رہا۔

بد قسمتی سے ہمیں ایسے حکمران نہیں ملے جو قوم کی ضروریات کا خیال کریں اپنے ساتھ کچھ قوم کو بھی کھلائیں اس لئے ہم معاشی بدحالی کا شکار ہیں اور چونکہ معاشی حالات کو سدھارنے کی کوشش نہیں کی جاتی رہی اس لئے یہ بدحالی بڑھتی جا رہی ہے۔ ایک ایسا ملک بدحال ہے جس میں خوشحالی کے تمام اسباب اور وسائل موجود و میسر ہیں۔ معمول کے مطابق بھی ان وسائل کو استعمال کیا جائے تو ہم امیر نہ سہی غریب کبھی نہ ہوں۔ ایوب خان ایک آمر تھا لیکن اس نے ملک کی خوشحالی پر دھیان دیا ڈیم بنائے تو ہم اس خطے میں سب سے آگے نکل گئے لیکن بعد میں ذوالفقار علی بھٹو جیسے سیاستدان آ گئے جنہوں نے نے ایوب خان کی صنعتی ترقی کو قومی تحویل میں لے کر اسے جیتے جی ختم کر دیا۔ ان اداروں میں جب سرکاری اہلکار بیٹھے تو انہیں ان اداروں کی بہتری سے کوئی غرض نہیں تھی بس انہیں اپنے مال پانی کو بڑھانے کی فکر تھی۔ پھر چل سو چل ہم اپنا اندوختہ کھاتے رہے لیکن اس میں اضافہ نہ کر سکے اور اب یہ اندوختہ ختم ہو چکا ہے۔ آج ایک بار پھر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی قیادتوں پر کرپشن کے الزامات ہیں۔ ہمارے اربابِ اختیار باری باری اس ملک کو لوٹتے رہے اور پوری دنیا کے سامنے بڑی دلیری کے ساتھ صاحبِ وسائل بن گئے۔ آج عالمی مالیاتی اداروں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اگر پاکستان کی لوٹی ہوئی دولت ملک کو مل جائے تو اس کے قرضے ختم ہو جائیں اور ترقی کے لئے سرمایہ میسر آ جائے۔


ای پیپر