04 جنوری 2019 2019-01-04

عبدالعلیم خان پنجاب کے نہ صرف وزیر بلدیات ہیں بلکہ صوبے کے چار، پانچ چیف منسٹرز میں سے ایک ’ ڈی فیکٹو چیف منسٹر‘ بھی ہیں، صوبے میں اختیارات کا ارتکاز ایک ہی شخص میں ہو تواس کے فائدے بھی ہیں اور نقصانات بھی، اسی طرح اگر گیارہ ، بارہ کروڑ افراد کے صوبے میں ایک سے زیادہ طاقت ور افراد وزیر اعلیٰ کے اختیارات استعمال کر رہے ہیں تو اس کے بھی کچھ فائدے ہیں یعنی سوشل میڈیا پر مشہور ہونے والے لطیفہ نما واقعے یا واقعہ نما لطیفے کی مثل میں کہا جا سکتا ہے کہ اب صرف عثمان بُزدار ہی نہیں بلکہ جہانگیر ترین، چودھری پرویز الٰہی، چودھری محمد سرور اور عبدالعلیم خان بھی پنجاب میں شہبازشریف ’لگے‘ ہوئے ہیں لہذا جب بندہ شہباز شریف لگا ہو تواس کی بات کو سنجیدگی سے لینا چاہئے۔ فائدے یہ ہیں کہ مختلف طاقت ور افراد مختلف شعبوں میں اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے بہتری لا سکتے ہیں۔عثمان بزدار کے شہباز شریف لگنے والا لطیفہ اس وقت مشہور ہوا جب زندگی بھر مسلم لیگ نون سے وفاداری نبھانے والے بہاولپور کے سمیع اللہ خان نے حالیہ انتخابات سے قبل پی ٹی آئی جوائن کر لی اور الیکشن جیتنے کے بعد صوبائی وزیر خوراک بھی بن گئے۔ وہ جنوبی پنجاب کے لق و دق صحرا نما علاقوں میں جناب عثمان بُزدار کو لے کر عوام کو یہ بتاتے ہوئے پائے گئے کہ محترم عثمان بُزدار وزیراعلیٰ ہیں اور اسی طرح ان کے پاس آئے ہیں جس طرح شہباز شریف آیا کرتے تھے، ہائے،انسان کے کیا کیا آئیڈیل ہوتے ہیں، کیا کیا حسرتیں ہوتی ہیں۔

موضوع وہی ہے جو عنوان میںد رج ہے یعنی اورنج لائن مگر اس کی لائن اینڈ لینتھ اسی طرح قائم نہیں ہورہی جس طرح حکومت نوبال پر نوبال کرتی چلی جا رہی ہے اور اپوزیشن کو آوٹ کرنے کی بجائے چھکے پر چھکے لگانے کا موقع دے رہی ہے۔ معاملات تو ہر شعبے میں ہی خراب ہیں مگر جو خرابی معاشی او راقتصادی امور میں ہے اس کا کوئی مقابلہ نہیں حتیٰ کہ جناب فرخ سلیم بھی حکومت پر تنقید کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔انسان کی کئی طرح کی مجبوریاں ہوتی ہیں اور ایک مجبوری ضمیر کی مجبوری ہے جو ہم جیسے صحافتی کارکنوں کے لئے سب سے بڑی مجبوری بنی ہوئی ہے مگر کسی بھی شخص کی سب سے بڑی مجبوری کیا ہو گی وہ اس کی اپنی تربیت، خیالات، مفادات اورماحول پر منحصر ہے۔ فرخ سلیم نے کہا کہ حکومت روپے کی قیمت ڈی ویلیو کرنے کے باوجود برآمدات بڑھانے میں ناکام رہی ہے بلکہ اس فیصلے کے منفی نتائج سامنے آ رہے ہیں جو ایک بڑا سچ ہے۔ جناب فرخ سلیم کو ہمارے وزیراطلاعات نے ایک ٹوئیٹ کے ذریعے حکومت کا معیشت اور توانائی میں ترجمان مقرر کیا تھا اور اپنی ہی ٹیم کے خلاف کئے جانے والے گول جیسے اس بیان کے بعد ایک دوسرے ٹوئیٹ سے علم ہواکہ ان کی تقرری معرض کھٹائی میں پڑ گئی تھی اور حکومتی ترجمان نے ٹوئیٹر پر اعلان کے باوجود کسی قسم کانوٹیفیکیشن جاری نہیں کیا تھا۔میر اگمان ہے کہ جناب فرخ سلیم صبر اور شکر کے ساتھ بہت سارے دن اس نوٹیفیکیشن کے ہونے کا انتظار کرتے رہے اور پھر انہوں نے موقع ملتے ہی اپنی موجودگی کا احساس دلا دیا۔ یہ موجودگی کا احساس دلانا بھی بہت خوب ہوتا ہے بالکل پنجابی کے اس گانے کی طرح، اساں جان کے میٹ لئی اکھ وے، جھوٹی موٹی دا پا لیا اے ککھ وے، کہ ساہڈے ول تک سجناں، پھر سجناں تک لیتے ہیں۔ ایک نجی چینل پر اپنے اول جلول تجزیوں سے کچھ ہی عرصے میں بہت مشہور ہوجانے والے تجزیہ کار نے بھی ایسا ہی فارمولہ لگایا کہ پی ٹی آئی کے رہنماوں سے بڑھ کے پی ٹی آئی کی ترجمانی کرنے کے باوجود جب حکومت کی طرف سے کوئی نظر کرم نہیں ہوئی تو اچانک مخالفانہ ٹوئیٹر بازی شروع کر دی اور پھر ان کی جناب عمران خان سے ملاقات ہو گئی۔ انہوں نے وزیراعظم کے ساتھ اپنی تصویریں ٹوئیٹ کیں اور یہ بھی بتایا کہ آنے والے کچھ ہی عرصے میں بہت سارے اپوزیشن رہنما گرفتار کر لئے جائیں گے، نجانے یہ باتیں حکومت کو کون بتاتا ہے؟

عبدالعلیم خان ایک باصلاحیت شخص ہیں اور انہوںنے بہت سارے دوسرو ں کی طرح قابل رشک ترقی کی ہے۔ میں ایسے تمام افراد پر ایک کتاب لکھنا چاہتا ہوں جو ساٹھ، ستر برسوں میں پاکستان کے نامساعد حالات کے باوجودآگے بڑھے ۔ہمیں کے ایف سی والے باباجی سے کمپیوٹروں والے بل گیٹس کی بجائے اپنے معاشرے سے ایسی موٹیویشنل سٹوریز زیادہ سے زیادہ نکالنی چاہئیں جو عام پاکستانیوں کو آگے بڑھنے کے لئے انسپائر کرسکیں۔ مجھے یقین ہے کہ اگر کچھ نادیدہ قسم کے مسائل درپیش نہ ہوتے تو عبدالعلیم خان پنجاب کے ایک تگڑے وزیراعلیٰ ہوتے اور ان کے ساتھ کھڑے کسی وزیر کو یہ نہ بتانا پڑتا کہ یہ پنجاب کے شہباز شریف لگے ہوئے ہیں۔ خان صاحب کی یہ تمام تعریفیں صرف ایک درخواست کے لئے ہیں کہ وہ ہمارے شہر لاہور میں اورنج لائن یعنی میٹرو ٹرین بننے دیں جس کا اسی فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔ انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں اورنج لائن کو سفید ہاتھی قرار دیا اور یہ بھی رپورٹ ہوا کہ اس سفید ہاتھی کو بند کرنے کے سوا کوئی دوسرا آپشن نہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ بریکنگ نیوز او رہیڈلائنز چلنے کے بعد ان کے ترجمان کی طرف سے ایک وضاحت آ گئی جس میں سفید ہاتھی کے الفاظ کو تو اپنا لیا گیا مگر بند کرنے کے آپشن کو عاق کر دیا گیا جس نے لاہور سے محبت کرنے والوں کوکچھ حوصلہ دیا تاہم بیان بازی سے ہٹ کر عملی صورتحال یہ ہے کہ اورنج لائن کا کام ٹھپ پڑا ہے، اس کے روٹ پر کوئی بڑا کنٹریکٹر تو ایک طرف رہا کوئی مزدور اور مستری بھی اپنی کانڈی، تیسی اور ہتھوڑی چلاتا ہوا نظر نہیں آتا، میٹرو ٹرینیں اپنے ڈپو میں مٹی اور گھٹے میںپھنسی نظر آتی ہیں۔

عبدالعلیم خان درست کہتے ہیں کہ اورنج لائن ایک بڑے بجٹ کا منصوبہ ہے اور اس کے لئے چین سے نرم قر ض بھی لیا گیا ہے، یہ بات بھی درست ہے کہ جب اورنج لائن چلے گی تواس پر سفر کرنے والوں کی خاطرسب سڈی بھی دینی پڑے گی مگر دنیا بھر میں ایسے منصوبے بڑے بجٹ کے ہی ہوتے ہیں اور دنیا بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ پر سب سڈی ہی دی جاتی ہے یعنی ہم کوئی انوکھا کام نہیں کریںگے۔ عبدالعلیم خان اکیسویں صدی میں پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے فیصلہ ساز بنے ہیں اور میرا خیال ہے کہ وہ اس بچت کی سوچ کے ساتھ آج سے کچھ صدیاں پہلے 1540 میں شیر شاہ سوری کے مشیر ہوتے تو اسے کبھی اس راستے پر جرنیلی سڑک یعنی جی ٹی روڈ نہ بنانے دیتے جو 322 قبل مسیح یعنی چندر گپت موریہ کے زمانے سے بڑا راستہ تھا اور شیر شاہ سوری نے ایک سفید ہاتھی کے طور پر اس کو باقاعدہ سڑک بنایا،اس پر درخت لگائے اور سرائیں بنائیں۔ عبدالعلیم خان اگر انگریز کے زمانے میں ہوتے توانیسویں صدی کے وسط میں اسے برصغیر پاک و ہند میں ریل کا نظام بھی بنانے سے روک دیتے جو واقعی اپنی ٹرینوں، اسٹیشنوں ، سگنلوں اور پٹریوں کے ساتھ ایک سفید ہاتھی تھا۔ عبدالعلیم خان اپنی پارٹی پالیسی کے مطابق نوے کی دہائی میں بننے والی موٹر وے کے بھی مخالف تھے لیکن اگر موٹروے نہ ہوتے تو ہمارے سرگودھا، میانوالی اور چکوال جیسے اضلاع کبھی ترقی نہ کرتے اورجی ٹی روڈ اس وقت لاہور اور راولپنڈی ، اسلام آباد کے درمیان ٹریفک کا بوجھ اٹھانے کے قابل بھی نہ ہوتی۔

عبدالعلیم خان سے دست بستہ عرض ہے کہ وہ جس منصوبے کو سفید ہاتھی کہہ رہے ہیں یہ برطانوی شہریوں کو 1863 میں مل گیا اور اندرا گاندھی آنجہانی ہونے سے قبل 1984 میں ہندوستانیوں کو بھی دے گئیں ، اس وقت بھارت کے کلکتہ، ممبئی، چنائی اور نیو دلی سمیت دس شہروں میں میٹرو ٹرینیں رواں دواں ہیں۔ اگر یہ منصوبے واقعی سفید ہاتھی ہوتے تو برطانوی عوام ڈیڑھ سو برس پہلے اپنے ٹیکسوں کی کمائی اس پر خرچ نہ کرنے دیتے اور نہ ہی ربع صدی پہلے ہمارا دشمن اپنے شہریوں کو یہ سہولت دے رہا ہوتا۔ آپ سے درخواست ہے کہ سیاسی غصہ سیاسی میدان میں نکال لیں اور چاہے نواز شریف اور شہباز شریف کے بعد حمزہ شہباز شریف بھی گرفتار کرلیں مگر اورنج لائن کو اکتیس جولائی کی اعلان کردہ مدت میں اپنے نام کی تختی لگاتے ہوئے چلا دیں، اللہ تعالیٰ بھلا کریں، کرم کریں۔


ای پیپر