” کمینے سے کام “
04 جنوری 2019 2019-01-04

بڑوں نے ضرب المثل بنانے سے پہلے ضرور غورو خوص تو کیا ہوگا، تبھی تو یہ کہتے ہیں ، کہ کمینے سے خدا کام نہ ڈالے، یعنی کم ذات اور بداَصل سے خدا پالا نہ ڈالے۔

میاں محمد بخش ؒ کھڑی شریف والے ، میں حلفاً کہتا ہوں کہ وہ میاں نواز شریف کے دُور پرے کے بھی رشتہ دار نہیں ہیں، ورنہ کہیں یہ نہ ہو، کہ میاں محمدبخشؒ کے خلاف ہی کھاتے نہ کُھل جائیں آج کل تو وَعدہ مُعاف گواہ مِلتے بھی دیر نہیں لگتی، بلکہ وعدہ مُعاف گواہ کا بندوبست پہلے کیا جاتا ہے، اور مقدمے بعد میں بنتے ہیں، جیسے کہ میں اکثر آپ کے گوش گزار کرتا رہتا ہوں، کہ ہماری ملکی سیاست اِس نہج پہ پہنچ چکی ہے، کہ مشرف بھی بُول اُٹھے ہیں، بلکہ پاکستان آنے کا بھی عندیہ دے دیا ہے، گو اِس حوالے سے چیف جسٹس آف پاکستان جناب ثاقب نثار صاحب نے قوم کو اور مشرف کو کچھ ضمانتیں بھی دی ہیں، مگر بقول ریٹائرڈ تیسری طاقت ، کہ تیسری طاقت کو اب آجانا چاہئے، مُلک اِس حال میں پہنچ گیا ہے، کہ جسے سنبھالنا سیاستدانوں کے بس کی بات نہیں گو میں عمران خان کے ساتھ ہوں، شاید ” اِس لئے کہ کبھی وہ بھی میرے ساتھ تھا“ جب اُس جیسے کوئی اور میرے ساتھ نہیں تھے مگر میاں محمد بخش ؒ تو فرماتے ہیں کہ

نیچاں دی اُشنائی کو لُوں فیض کِ سے نہ پایا

اب ایک جَید اور مُستند بزرگ ، جن کو ذات پات، چھوت چھات، عَصبیت حتیٰ کہ لسانیت جیسے جھمیلوں سے نہ کوئی سرو کار ہے نہ واسطہ مگر وہ بھی ” کمی کین “ کی بات کرتے ہیں، اور اُن کی اِس بات سے صرف میں بھی نہیں کروڑوں مُسلمان متفق ہیں، اگر ایسی بات نہ ہوتی، تو پھر سید ، قریشی ، ہاشمی کو میرے مُنہ میں خاک ، باقی ذاتوں ، اور قبیلوں پہ فوقیت کیوں ہوتی؟

آج کل کا دوردُور بھی ایسا دُور ہے، کہ اکابرین کی باتوں ، اور بیانوں کو خود سمجھنا پڑتا ہے، مثلاً ” ہم آپ سے ہیں، اور آپ ہم سے ہیں‘ ڈیم کی تعمیر میں حصہ ڈالیں، یہ کوئی مردنا داں نہیں کہہ رہا، یہ وہ قانون دان ہے، جو قانون کی گھتیاں سُلجھاتا، اور آئینی موشگافیوں کی تشریحات کرتا ہے، یہ وہ اُستاد ہے ، جِ سے کہتے تو قانون کا استاد ہیں، مگر اِس نے سید زادی ، کو یا سید زادی نے اِ سے ہاتھ دکھایا ہے ، ” آپ ہم سے ہیں“ قارئین اگر اِس بات کی سمجھ آپ کو آئی ہے، تو براہِ کرم مجھے بھی سمجھا دیں، میرے دانست میں تو یہ لفظ ہی بذات خود غیر قانونی اور قابل گرفت ہے،

دوسروں کے کندھوں پہ حکومت کرنے والے کے بارے میں حضرت علامہ اقبال ؒ، یعنی سینیٹر ولید اقبال کے دَادا فرماتے ہیں،

یہ مہر ہے بے مہری صیاد کا پردہ

آئی نہ مرے کام مری تازہ صغیری !

اگر اس شعر کا اطلاق موجودہ حالات کے ساتھ کریں، تو یہ حکومتی پیار و محبت اور الفت و حُب ، دَر اصل یہ شکاری کے جال میں پھنسانے کا ایک ایسا پردہ ہے، جو میرے کام اِس لئے نہیں آیا کہ یہ شکاری کی شکار کو پھنسانے کے لئے ” سیٹی “ ہے ، جو وہ مُنہ سے بجاتا ہے، اور

رکھنے لگا مُرجھائے ہوئے پُھول قفس میں

شاید کہ اَسیروں کو گوارا ہو اَسیری !

پہلے حضرت علامہ اقبال ؒ نفسیاتِ حاکم بتاتے ہیں، جو وہ اِصلاحات کے نام پہ کرتے ہیں، اور وہ ققس ، ققس کہتے ہیں، ایک روایتی ، خوش رنگ اور خوش آواز پرندے کو کہتے ہیں، اور یہ بھی کہا جاتا ہے، کہ اُس کی چونچ میں 360 سوراخ ہوتے ہیں، اور سوراخ سے ایک راگ نکلتا ہے، اور جب یہ پرندہ مرنے لگتا ہے ، تو پھر یہ سوکھی لکڑیوں کے ڈھیر پہ بیٹھ جاتا ہے، اور دیپک راگ گاتا ہے، جِس سے لکڑیوں کے ڈھیر میں آگ لگ جاتی ہے، اور وہ بھی جَل کر بَھسم ہو جاتا ہے، جب بارش ہوتی ہے، تو اِس کی رَاکھ سے انڈہ پیدا ہوتا ہے، جس سے دوسرا ققس نِکلتا ہے،

اب قارئین، آتے ہیں علامہ اقبال ؒ کے شعر جس میں اُنہوں نے ” قفس “ کے بارے میں کہا ہے، کہ حاکم مُرجھائے ہوئے پُھول ، انسانی قالب ، یعنی ڈھانچہ انسانی میں رَکھ دیتے ہیں کہ شاید قیدیوں ایسے ہی اسیری گوارا یعنی قبول کر لیں آپ کو یہ اشعار اور اپنے بے کار باتیں سُنوانے کا مقصد یہ ہے، کہ ایسے بیانات بے معنیٰ و مقصد عوام کو سُنوانے کا مقصد ، اور ایک دُوسرے پہ الزامات لگانے تک ہماری سمجھ سے تو باہر ہے، ہر انسان کو ، ہر حکمران کو اور ہر سیاستدان کو اپنے کام سے مقصد رکھنا چاہئے، جہاں تک اپنے حقوق کا تعلق ہے، تو پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ، ایک مُسلمان کے لئے تو یہ ہے کہ ایک مُسلمان کے دُوسرے مسلمان پر پانچ حقوق ہوتے ہیں، اور ایک انسان کا حق تین چیزیں ہوتی ہیں، کھانا، اُس کو اتنا کھانا چاہئے ، کہ جو کھانا اُس کی پُشت کو سیدھا رکھے، یعنی زیادہ کھانا نہیں کھانا چاہئے، حضور ﷺ کا فرمان یہ بھی تو ہے ، کہ کھانا بھوک رکھ کر کھانا چاہئے، یعنی ابھی تھوڑی بھوک باقی ہو تو کھانا چُھوڑ دینا چاہئے، مُوجودہ حکومت ، ریاست ِ مدینہ کے نام پر ریاعاکو کھانا انتہائی کم ، بلکہ ایک وقت کی رُوٹی چھوڑ دینے پر مجبور کر رہی ہے، دُوسرا حق یہ ہے ، کہ کپڑا ایسا ہونا چاہئے، جو اُس کی برہنگی چھپا دے، اور اِس حق پر بھی تحریک انصاف انتہائی شدومَد ، محنت اور مشقت بلکہ بڑی ریاضت اور قیمتیں آسمان پر پہنچا کر سنجیدگی سے کام کر رہی ہے، انسان کا گھر اتنا ہُونا چاہئے، کہ جو اُس کو پناہ دے سکے، اب یہ ہر انسان کی اپنی عقلی استعداد پہ منحصر ہے کہ پناہ سے وہ کیا مراد لیتا ہے، اگر اُس کی اِس فہم و فراست میں ، اُس کا ظرف بھی شامل کر دیں، تو بات زیادہ واضح ہو جائے گی، حضرت جنید بغدادی ؒ اِسی لئے فرماتے ہیں، کہ اُس شخص کے ساتھ محبت کرنی چاہئے کہ جو نیکی کر کے بُھول جائے، اور جو حَق اُس ہو وہ اَدا کرے، اب ہمارے صحافی بھائیوں کا اپنے وزیر فیصل واڈوا پہ کیا حق ہے ؟، اور وَاڈوا کا ان پر کیا حق ہے، یہ فیصلہ قارئین آپ خود کریں، لیکن مہمند ڈیم کا ٹھیکہ عبدالرزاق داﺅد کو دینے پر ہنگامہ جو برپا ہے، میں اِس پہ صرف ایک بات کرنا ضروری سمجھتا ہوں کچھ عرصہ پہلے عبدالرزاق داﺅد کی کمپنی ڈسیکون لاہور کے ایک سینئر عہدے دار پرویز صدیقی صاحب کام کرتے تھے، ایک ریسٹورنٹ میں اُن سے ملاقات ہوئی، ہمارے ایک مشترکہ دوست نے دعوت دی تھی، میں نے اپنے دُوست سے اُن کے بارے میں پُوچھا تو اُنہوں نے بتایا ، کہ یہ ہمارے وائس پریذیڈنٹ ہیں اور میں ان کے بارے میں قسم کھا سکتا ہوں کہ یہ انتہائی دیانتدار ، محنتی نہ بکنے والے اور اصول پسند ہیں، میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر ڈسکون کا ایک عہدے دار اتنا قابل تعریف ہے ، تو کمپنی کا مالک بھی اپنی شہرت اور خدمات پاکستان کو دے دے تو یہ میرٹ کے خلاف بالکل نہیں، کیونکہ عالمی طور پر یہ ایک مُستند و معروف و مشہور نام ہے، کسی یہودی اور ہنودی کو ٹھیکہ دینے کے بجائے ایک پاکستانی کہیں زیادہ بہتر ہے۔


ای پیپر