Ata-ur-Rehman columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
04 فروری 2021 (13:41) 2021-02-04

ٹرانسپرنسی رپورٹ سامنے آجانے کے بعد کہ گزشتہ دو اڑھائی برس کے عرصے کے دوران پاکستان کرپشن کے لحاظ سے چار مزید نکات نیچے آن گرا ہے پورے ملک کے اندر حیرانی کی لہر دوڑ گئی ہے اور نئی بحث بھی چھڑ گئی ہے حیرانی اس امر پر ہے کہ اس عرصہ کے دوران بلکہ 2018ء کی انتخابی مہم اور اس سے ماقبل دو تین برسوں میں بھی پاکستان میں جس برائی یا کچھ سیاستدانوں کو نمایاں ترین جرم کا مرتکب ٹھہرایا گیا وہ ان کی کرپشن ہے جو ان کے کرتوتوں کی بدولت سرکاری سطح پر اوپر سے لے کر نیچے تک سرائت کر گئی ہے۔ نواز شریف کی حکومت اسی کی پاداش میں ختم کر کے رکھ دی گئی پھر 2018ء کے چنائو کی پوری کی پوری مہم کے دوران انہیں اور ان کی جماعت مسلم لیگ (ن) ملک کے اندر برائیوں کی سب سے بڑی جڑ قرار دے کر ان کی بدنامی کا گراف اس حد تک اونچا لے جایا گیا کہ جب تک اس جماعت اور اس کی لیڈرشپ خاص طور پر شریف خاندان کو مکمل طور پر ایوان ہائے حکومت سے نکال نہیں پھینکا جاتا کرپشن یا بدعنوانی کا عفریت پھنکارتا رہے گا۔ چنانچہ 2018ء کا نتیجہ جو سامنے آیا اس سے صاف ظاہر گیا گیا ووٹروں نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف کرپشن میں بری طرح آلودہ اور قومی خزانے کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے کے پراپیگنڈے سے متاثر ہو کر ان کی جماعت کو شکست سے دوچار کیا ہے اور ان کے متبادل کے طور پر اس لیڈر اور جماعت یعنی عمران خان اور تحریک انصاف کو تخت حکومت پر لابٹھایا ہے جن کے دامن کا کرپشن سے پاک ہونے کا شہرہ آسمانوں تک پہنچا ہوا تھا۔ ریاستی ادارے موصوف کو صادق و امین قرار دے چکے تھے۔ عمران خان نے خود بھی اپنے آپ اور قریبی ساتھیوں کو اس نوعیت کی ہر آلائش سے صاف قرار دینے کا اٹھتے بیٹھتے پروپیگنڈا کر کے اہل وطن کو باور کرانے میں کوئی کسر باقی نہ رہنے دی کہ ان جیسا دیانت دار شخص جب عنان اقتدار سنبھالے گا تو اس کے مثبت اثرات حکومتی مشنری اور دوسرے اداروں یہاں تک کہ قومی زندگی کی ہر سطح پر اس طرح پڑیں گے کہ کرپشن کو جڑوں سے اٹھا کر پھینک دینا ممکن اور آسان ہو جائے گا۔ حکمران وقت کی ذات بدعنوانی کے کسی عیب میں ملوث نہ ہو گی تو لامحالہ تمام ذمہ داران حکومت اپنے طرزعمل کی اصلاح پر مجبور ہو جائیں گے۔ کرپشن سے نفرت قومی وتیرہ بن جائے گی۔ حقیقی تبدیلی آنا شروع ہو جائے گی۔ پاکستانی قوم کو اس کے فوائد سے متمتع ہونے میں دیر نہیں لگے۔ ان کے بقول اس انقلاب زمان کے عمل کو اس وقت مزید تقویت ملے گی جب قومی خزانے کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے والے سابق حکمرانوں بالخصوص نواز شریف ان کا خاندان اور ان کے علاوہ زرداری صاحب اور پیپلز پارٹی میں ان کے ساتھیوں کو قانون کی گرفت میں لے کر کیفرکردار تک پہنچانے کا عمل شروع ہو جائے گا۔ عمران کے عزم صمیم کی بدولت ریاست اور حکومت کے آہنی ہاتھ سے انہیں قانون کی گرفت میں اس انداز میں لے لیں گے کہ فرار کی کوئی راہ نہیں رہے گی یعنی وہ جائیدادوں اور نقدی کی صورت میں چوری یا منی لانڈرنگ سے بیرون ملک جمع کی ہوئی رقوم واپس لانے پر مجبور ہو جائیں گے۔ قومی خزانہ بھر جائے۔ ایک جانب ملک کے اندر دیانت داری کا رواج عام ہو کر ہر سطح پر کرپشن کے داغ دھلنا شروع ہو جائیں گے۔ دوسری طرف قوم کی وہ رقوم واپس آجائیں گی جس پر سابق حکمرانوں نے دونوں ہاتھ دھوئے یوں ملکی معیشت تیزی کے ساتھ راہ راست پر آجائے گی۔ گویا پورے زور بیان سے ایک سنہرا خواب دکھایا گیا جس کے شرمندہ تعبیر ہونے کی خاطر عمران خان نے اگست 2018ء کو نئے وزیراعظم کا حلف اٹھایا۔ عمران خان کے عہدہ سنبھالتے ہی قوم بڑی امیدوں کے ساتھ اچھے دنوں کی منتظر ہو گئی۔

کرکٹ کا ورلڈ کپ جیتنے والے کھلاڑی نے بھی وزیراعظم کی مسند پر رونق افروز ہوتے ہی اپنے ذمہ اولین فریضہ یہ سمجھا کہ سابق حکمرانوں خاص طور پر نواز شریف شہباز شریف اور ان کے کنبے کے دیگر اہم افراد کو خوب خوب رگیداجائے۔ تمام قومی گناہو ں کا ذمہ دار ان کی حکومت کو قرار دیا یہاں تک کہ اپنے اقتدار کی اب تک کی اڑھائی سالہ مدت میں سرزد ہونے والی تمام تر ناکامیوں کا سبب بھی انہیں قرار دیا۔ یوں پورے ملک کے اندر ایک فضا قائم ہو گئی کہ نواز شریف جیسے قومی مجرم کو جنہیں انہوں نے ڈاکو کا خطاب دے رکھا ہے قرار واقعی سزا دلوانا ہی حقیقی قومی خدمت ہے اس کے بغیر دم نہیں لیں گے۔ اس کے 

ساتھ ایسے بھرپور اقدامات بھی کریں گے کہ کرپشن کا مرض کیا اس کی علامات بھی باقی نہ رہیں ۔ یہ ہے وہ پس منظر جس کے پیدا کردہ ماحول میں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی تازہ ترین رپورٹ بم کا گولہ بن کر اہل وطن پر گری کہ گزشتہ اڑھائی برسوں یعنی عمران خان کے اب تک کے عرصہ اقتدار میں کرپشن پہلے کے مقابلے میں چار درجے بڑھ گئی ہے۔ حکومت کے ایک ترجمان نے فوری ردعمل میں کہا کہ انگریزی زبان سے مکمل واقفیت نہ ہونے کے سبب میڈیا اور حزب مخالف والوں نے اس سے غلط معنی اخذ کئے ہیں۔ اس میں جو اعداد و شمار پیش کئے گئے ہیں وہ نواز عہد کے ہیں۔ وہ تو خیر ٹرانسپیرنسی والوں کی جانب سے بی بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں واضح کر دیا گیا جس انگریزی میں رپورٹ پیش کی گئی ہے اسے سمجھنا اتنا مشکل نہیں ۔ اعداد و شمار واقعی عمران دور کے ہیں نہ کہ اس سے پچھلے سالوں کے۔ اس کے بعد جب وزیراعظم بہادر سے رپورٹ کے بارے میں براہ راست سوال کیا گیا تو فرمایا انہوں نے اسے پڑھنے کا تکلف ہی گوارا نہیں کیا۔ اس کے ساتھ لاہور اور دوسرے شہروں میں مسلم لیگ (ن) کے جن جن لیڈروں کی تعمیر شدہ جائیدادوں پر ہاتھ پڑا انہیں حکومتی مشینری کو بروئے لا کر انہدام کا عمل تیز تر کر دیا گیا تاکہ قوم کو تاثر دیا جائے اصل کرپٹ تو یہ لوگ ہیں مفت میں ہم کو بدنام کیا جا رہا ہے۔ قومی اسمبلی میں سوال اٹھا ان میں سے کئی جائیدادوں پر حکم امتناع ہے جبکہ آپ نے بنی گالہ کا محل محض 12 لاکھ روپے ادا کر کے اس پر قانونی اعتراضات رفع کرا لئے ہیں اور کیا پورے ملک کے اندر غیرقانونی تعمیرات یا قبضے صرف ن لیگ کے قائدین نے کر رکھے ہیں مگر اس سوال کو مکمل طور پر نظرانداز کر کے حکومتی عملے نے اپنا کام جاری رکھا۔ چنانچہ پوری کی پوری کارروائی پر سیاسی انتقام کا رنگ غالب آگیا۔ اس سب کے باوجود جو داغ ٹرانسپیرنسی 

انٹرنیشنل کی رپورٹ نے موجودہ حکومت کے دامن پر لگا دیا ہے کہ ان کے قدوم میمنت لزوم کی برکت سے پاکستان میں کرپشن ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی بلکہ پہلے کے مقابلے میں بڑھی ہے۔ وہ مٹائے مٹ نہیں رہا۔ عمران حکومت اور اس کے اعیان تمام تر جوابی الزامات اور وضاحتیں دینے کے باوجود اس کا مسکت جواب دینے سے قاصر نظر آرہے ہیں۔

وجہ ظاہر ہے کرپشن کے خاتمے کے موجودہ عمل کا آغاز حقیقت میں چوتھے قومی ڈکٹیٹر اور آئین کو دو مرتبہ غصب کرنے کے مجرم جنرل (ر) پرویز مشرف کے ہاتھوں اس وقت ہوا جب نیب جیسے ادارے کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس وقت واضح کر دیا گیا یہ ادارہ ججوں، جرنیلوں اور جرنلسٹوں کے علاوہ سب کو احتساب کے کٹہرے میں لاکھڑا کرے گا۔ یوں نیب کی پہلی اینٹ رکھتے ہی اس بارے میں ابہام باقی نہیں رہنے دیا گیا کہ اس کی تمام تر کارروائی کا نشانہ سیاستدان ہوں گے۔ دوسروں کو استثنیٰ کا درجہ حاصل ہو گا۔ یہ وہ امتیازی سوچ اور اپروچ تھی جو آج تک نیب پر چھائی ہوئی ہے۔ یہ خیال یقین کا درجہ حاصل کر چکا ہے کہ کرپشن میں اگر سیاستدان ملوث پایا جائے تو مجرم۔ دوسرے یعنی ریاست کے حقیقی طاقتور حلقے اس کے مرتکب نظر آ جائیں تو ہر قسم کے عوامی یا کھلی عدالتوں میں مواخذے سے باہر ہوںگے۔ کوئی کارروائی اگر بہ امر مجبوری کی بھی گئی تو بند کمرے کی خصوصی عدالتوں میں ہو گی۔ مقدس گائے کا تصور مزید مستحکم ہو گیا۔ یوں اس خیال کو اہل قوم کے دلوں اور اذہان کے اندر پیوست ہونے میں دیر نہیں لگی اصل جرم سیاستدان ہونا ہے وہ بھی حکومت وقت کا مخالف نہ کہ حقیقی معنی میں کرپٹ۔ جج یا جرنیلوں اور جرنلسٹوں میں کوئی ملوث پایا بھی جائے نظرانداز کر دینے کے قابل ہو گا بظاہر اس سے بدعنوانی کا گراف اوپر کی طرف جانا تھا خواہ آپ اس کے خلاف جتنا پروپیگنڈا کر لیں۔ اس پر متزادیہ کہ مشرف کے زمانے میں یعنی نیب کے حرکت میں آجانے کے فوراً بعد جس جس سیاستدان نے وفاداری تبدیل کر لی ڈکٹیٹر اور غاصب کی اطاعت کا عہد کیا اس کی فائلیں سردخانے کی نذر کر دی گئیں۔ گجرات کے چودھریوں کی مثال اس حوالے سے نمایاں ہے۔ وہ نہ صرف معاف کر دیئے گئے بلکہ مشرف آمریت کا سب سے ممتاز سویلین چہرہ بن 

گئے۔ ان کے ساتھ یہ سلوک عمران کے موجودہ دور تک جاری ہے۔ فائلوں کو تھوڑی سی دن کی روشنی دکھائی گئی۔ چودھریوں نے عمران کو بھی اپنے تمام تر تعاون کا یقین دلا دیا۔ فائلیں ایک مرتبہ پھر ٹھپ سے بند۔ یہ واحد مثال نہیں ایسے میں آپ کرپشن کے خاتمے کی جانب جو بھی قدم اٹھائیں گے نہ صرف کھوکھلا اور بے معنی ثابت ہو گا بلکہ اس میں اضافے کا باعث بنے گا۔ نہلے پر دھلا یہ ہوا کہ نواز شریف جو اس وقت بھی آج کی مانند اصل ہدف تھا اس کی بیرون ملک دولت کا سراغ لگانے کیلئے براڈشیٹ جیسے آنکھوں میں جھول ڈالنے والے تفتیشی ادارے کے ساتھ کروڑوں ڈالروں کا معاہدہ کیا گیا۔ یہ ادارہ الزامات کے مطابق شریف خاندان کے چھپا کر رکھے ایک ڈالر کا پتا تو نہیں لگا سکا مگر ہمارے حکمرانوں نے انتقام کے جذبے سے مغلوب ہو کر اس حد تک ناقص معاہدہ کر رکھا تھا کہ آج کروڑوں ڈالر جرمانے کی شکل میں ادا کرنا پڑے ہیں۔ اسی پر اکتفا نہیں عمران بہادر کے اڑھائی برسوں میں ملک کی معیشت کو بدترین قسم کے چینی اور آٹا چوری کے سکینڈلوں کا سامنا کرنا پڑا۔ قیمتیں آسمان کو چھو گئیں۔ ذمہ داران کے خلاف اب تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ ماسوائے اس کے نہ نظر آنے والے مافیا کو مجرم قرار دے کر جان چھڑا لی جاتی ہے۔سب سے بڑھ کر خود خان موصوف اور ان کی جماعت پر فارن فنڈنگ کیس کے حوالے سے سنگین الزامات ہیں جن پر مقدمے کی کارروائی کو سرکاری رسوخ کی وجہ سے آگے نہیں بڑھنے دے رہے۔ اس سے بھی ایک قدم بڑھ کر اس حقیقت کی طرف نگاہ ڈالئے کہ عمران خان نے اپنی وزارت عظمیٰ کے پہلے دن سے آج تک صبح شام یہ وظیفہ پڑھے بغیر دم نہیں کیا کہ موصوف جلد نواز کی لوٹی ہوئی دولت واپس لے آنے والے ہیں۔ان کے دور اقتدار کی آدھی آئینی مدت ختم ہو گئی ہے ایک پیسے کی کرپشن کا ثبوت ملا ہے نہ اسے لانے کا سامان پیدا ہوا ہے۔ اس سے نواز لیگ کو یہ کہنے کا موقع ملا ہے ہمارے خلاف سب کچھ جھوٹے الزامات وضع کئے گئے اور پرلے درجے کی انتقامی کارروائی کے طور پروان چڑھاگئے ہیں ایسے میں لامحالہ کرپشن پروان چڑھے گی اس کے باوجود جنہیں اس کے کم ہونے کی توقع یا امید ہے ان کا ٹھکانہ احمقوں کی جنت کے علاوہ کیا ہو سکتا ہے۔


ای پیپر