Chaudhry Farrukh Shehzad columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
04 فروری 2021 (13:40) 2021-02-04

جیسے جیسے تحریک انصاف کی حکومت کا دورانیہ بڑھ رہا ہے ، اسی تناسب سے عوامی بے چینی بڑھتی جا رہی ہے جس کی بڑی وجہ مہنگائی اور غربت میں اضافہ ہے۔ حکومتی اعداد و شمار بہت حوصلہ افزا بتائے جاتے ہیں لیکن زمینی حقائق ان کی تصدیق سے قاصر ہیں۔ اب تو وزیراعظم عمران خان نے کہنا شروع کر دیا ہے کہ مسائل بٹن دبانے سے حل نہیں ہوں گے، طویل عرصہ درکار ہے۔ ایک بیان میں تو انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہر پانچ سال بعد الیکشن ترقی میں رکاوٹ ہیں کیونکہ تسلسل نہیں رہتا مرحوم جنرل ضیاء الحق جب 10 سال پورے کر چکے تو اس طرح کے بیانات انہوں نے بھی دینا شروع کر دیئے تھے کہ اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے کوئی بٹن نہیں دبا سکتا اور نہ ہی میں نے اس کا ٹھیکہ لیا ہوا ہے۔ 

پی ڈی ایم کی تحریک بھی اپنے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکی اور نہ ہی استعفوں کا آپشن استعمال کیا گیا ہے۔ بات چلتے چلتے اب سینیٹ انتخابات تک آ چکی ہے ۔ اگلے ماہ ایوان بالا نہیں سینیٹ کے 104میں سے 52ارکان اپنی 6 سالہ مدت پوری کر کے ریٹائر ہو رہے ہیں۔ وزیراعظم اور ان کی پارٹی چاہتی ہے کہ سینیٹ الیکشن میں ووٹ خفیہ رائے دہی کے بجائے اوپن ہو تاکہ پتہ چلے کہ کس نے کس کو ووٹ دیا ہے۔ اس پر نہ تو آئین اجازت دیتا ہے اور نہ ہی اپوزیشن رضا مند ہے جس کی وجہ سے حکومت اعلیٰ عدالت سے اپنے حق میں فیصلہ لینا چاہتی ہے مگر اس کے جمہوری سائیڈ افیکٹس سیاستدانوں کے لیے صحت افزا نہیں ہوں گے کہ آپ اپنا اختیار خود استعمال کرنے کے بجائے کسی اور کو دے دیں کہ وہ آپ کو حکم دے۔ یہاں پھر بات سیاسی اہلیت کی طرف چل نکلتی ہے۔ حکومت کی خواہش ہے کہ ان کا کوئی بندہ ان کے مخالف ووٹ نہ دے یہی نہیں وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ اپوزیشن پارٹیوں کے جو ایم پی اے اپنی پارٹی کے خلاف حکومت کو ووٹ دیں انہیں روکا نہ جائے اور اگر کوئی کاموش معاہدہ ہوتا ہے تو انہیں کرنے دیا جائے۔ 

سینیٹ الیکشن 1985ء سے لے کر اب تک ہمیشہ طوفان کی زد میں رہے ہیں جس میں ہارس ٹریڈنگ ایک حقیقت بن چکی ہے لیکن اس دفعہ اس کو بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے تا کہ حکومت معاملات کو اپنے حق میں استعمال کر سکے۔ ہمارا آئین ایم پی اے کو اپنا ضمیر استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے کہ وہ اپنی پارٹی کے خلاف ووٹ دے کر بھی پارٹی سے نہیں نکالا جا سکتا اور نہ ہی اس پر فلور کراسنگ کی شق لاگو ہوتی ہے یہ جمہوری بات ہے مگر نہ جانے کیوں حکومت بضد ہے کہ ووٹنگ اوپن ہو حالانکہ اوپن ووٹنگ میں بھی اگر کسی نے ووٹ بیچنا ہے تو اس کے لیے ایسی کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ ایک اہم نقطہ یہ ہے کہ اگر آپ ہر ووٹر کو پارٹی کی مرضی کا پابند کرنا چاہتے ہیں تو پھر الیکشن کی ضرورت ہی کیا ہے صوبائی اسمبلیوں میں پارٹی پوزیشن دیکھ کر ہر پارٹی کو ان کی سیٹوں کے اعتبار سے حصے دے دیں جیسے آپ خواتین کی نشستوں کے لیے کرتے آ رہے ہیں حالانکہ اس سے بڑی کوئی غیر جمہوری حرکت نہیں ہو سکتی جو کہ جمہوریت کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ 

اطلاعات ہیں کہ سینیٹ الیکشن میں ایک ایم پی اے کو تین سے پانچ کروڑ روپے ملتے ہیں اور عام طور پر 50 کروڑ خرچ کر کے سینیٹ امیدوار کے لیے سیٹ حاصل کرنا محفوظ تصور کیا جاتا ہے۔ 50 کروڑ خرچ کرنے والا سوچتا ہے کہ سینیٹر بن کر وہ کسی نہ کسی سٹیڈنگ کمیٹی کا چیئرمین بن جائے گا اس کے بعد اس کے سامنے جو معاملات آئیں گے وہاں اپنی مرضی کا فیصلہ کر کے وہ کئی گنا زیادہ کما لے گا۔ 50 کروڑ تو کچھ بھی نہیں ہے۔ وہاں تو اربوں روپے کے فیصلے اس کی جنبش قلم کے محتاج ہوں گے۔ سینیٹر بننے والے اس لیے بھی یہ راستہ اختیار کرتے ہیں کیوں کہ ان کا ایم این اے کا الیکشن کا خرچ بچ جاتا ہے اور ٹکے ٹکے کے ووٹرز کے پیچھے ڈور ٹو ڈور جا کر منتیں کرنے سے بھی جان چھوٹ جاتی ہے۔ یہ باتیں ہم اپنی طرف سے نہیں کہہ رہے یہ ہمارے سیاستدانوں کی سوچ کی عکاس ہے۔ وزیراعظم کو بھی پتہ ہے کہ جو لوگ پارٹی کے لیے اربوں روپیہ خرچ کرتے ہیں، ان کو سینیٹ کی سیٹ کا ٹکٹ مروت میں بھی دینا پڑتا ہے۔ جو حکومت اپنے چیئر مین FBR کو کہہ سکتی ہے کہ یہ تو ہماری پارٹی کے لیے بڑی خدمات رکھتے ہیں لہٰذا انہیںپریشان نہ کیاجائے تو ایسے میں اپنے کسی ایسے ہی مہربان کو سینیٹ کا ٹکٹ دینا تو معمولی سی بات ہے۔ قصۂ مختصر یہ ہے کہ پاکستان کی قومی سیاست میں پیسے کا خاتمہ ہونے کے دور دور تک امکانات نہیں ہیں۔ 

اگر آپ نے واقعی سینیٹ سے پیسے کا کھیل ختم کرنے کا تہیہ کر لیا ہے تو قوم پر بہت بڑا احسان کرنے کا موقع ہے۔ آپ آئین میں سینیٹ الیکشن کے ووٹنگ کا طریقہ کار بدلنے کے بجائے کوئی بڑا قدم اٹھائیں اور اس پورے چیپٹر کو ہی بدل دیں امریکہ میں سینیٹر بننے کے لیے بھی عوامی ووٹ حاصل کرنا پڑتا ہے۔ آپ بھی سینیٹر منتخب کرنے کا اختیار صوبائی اسمبلی سے واپس لے کر عوام کو دے دیں یا امریکی کانگریس کی طرز کے ایسے نمائندگان ضلعی حکومت کی سطح پر ہو جو سینیٹ کو چن سکیں۔ پاکستان میں 105اضلاع ہیں اور اس وقت سینیٹ میں 104 ممبران ہیں جو تقریباً ہر ضلع سے ایک سینیٹر بنتا ہے انہیں آپ یا تو ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے منتخب لوگوں کے ووٹ سے چن لیں تو بھی ایم پی اے کے مقابلے میں یہ فیصلہ زیادہ عوامی سطح کا ہو گا اور اس میں آپ Grassroots یا عوام الناس کے اور زیادہ قریب ہو جائیں گے مگر اس میں بھی خرابی یہ ہو گی کہ پیسے کے استعمال کو روکنا آسان نہیں ہو گا تو پھر کیوں نہ اسے عوام کے براہ راست ووٹوں سے مشروط کر دیا جائے۔ اگر آپ نے تبدیلی لانی ہے تو انقلابی تبدیلی لائیں۔ 

اصل مسئلہ یہ ہے کہ سینیٹ الیکشن کے بعد بھی کوئی معجزہ رونما ہونے نہیں جا رہا یہ حالات جوں کے توں رہیں گے ۔ ایک معلق سینیٹ وجود میں آئے گی جس میں کسی پارٹی کو اکثریت نہیں ملے گی لہٰذا الیکشن کے بعد بھی چھوٹی پارٹیوں سے بڑی سودے بازی ہو گی اور ’مل جل کر‘ کام کرنے کا سلسلہ جاری رہے گا۔ چھوٹی پارٹیوں کے سینیٹر اور بلوچستان سے آنے والے سینیٹر ہی اصل فائدہ حاصل کریں گے۔ بلوچستان کے ایک ایم پی اے کا ووٹ پنجاب کے 5،6ایم پی اے کے برابر ہو گا۔آگے آپ خود سمجھ دار ہیں۔ تحریک انصاف نئے سینیٹ میں سب سے زیادہ سیٹوں کی مالک ہو گی مگر پی پی اور ن لیگ کی مجموعی سیٹیں تحریک انصاف سے زیادہ ہوں گی چھوٹی پارٹیاں ووٹ فروشی کا اصل فائدہ اٹھائیں گی۔ مثال کے طور پر تحریک انصاف کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس نے پنجاب سے سینیٹ کی 2 سیٹیں ق لیگ کو دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ کچھ ایسی قیاس آرائیاں بھی چل رہی ہیں کہ عثمان بزدار کی جگہ پرویز الٰہی کووزیراعلیٰ بنایا جائے گا۔ ہمارے سیاسی کلچر میں ویسے بھی بر سر اقتدار پارٹی آدھی مدت کے بعد کلیدی عہدوں پر تبدیلیاں کرتی ہیں تا کہ سب کو موقع دیا جائے کہ بہتی گنگا سے ہاتھ دھوئیں۔ اتفاق میں ہی برکت ہے۔ 


ای پیپر