Shafiq Awan columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
04 فروری 2021 (13:38) 2021-02-04

آج کا کالم میری نواسی ایشال رضوان کے نام وہ پوچھتی ہے نانا ابو میں پنسل چھوڑ کر پین کب استعمال کروں گی۔ کیا پین کی لکھائی بھی ربر سے مٹ جایا کرے گی۔ گھر میں اپنے بہن بھائیوں رامز رضوان اور رابیل رضوان کو دیکھ کر اسے بھی پین سے لکھنے کا اشتیاق ہوا۔ اس کا خیال تھا کہ پین سے لکھنے والوں کی والدین اور خاندان میں شاید زیادہ اہمیت ہوتی ہے۔ اس معصوم کو نہیں معلوم کہ پنسل سے پین کا سفر شاید اسے دلچسپ لگا ہو لیکن یہ سفر ذمہ داریوں کا ہے۔ میں نے اسے بتایا کہ بیٹا پین سے لکھی گئی تحریر مٹا کر درست نہیں کی جا سکتی۔ ایک ایک حرف اور ایک ایک نکتہ سوچ سمجھ کر لکھنا پڑھتا ہے۔ آپ کو شروع میں کچی پنسل اس لیے دی جاتی ہے کہ اس سے لکھی گئی تحریریں مٹا کر دوبارہ درست کر لیں تا کہ آئندہ غلطی نہ ہو لیکن اس کو عادت نہ بنا لیں۔ میری اس توضیح پر وہ آنکھیں پٹ پٹانے لگی۔ کچی پنسل ایک حد تک ہی اچھی لگتی ہے عمر کے ساتھ ساتھ جتنا جلد ہو سکے اس سے چھٹکارا پا لینا چاہیے۔ ایشال نے جو سوال کیا اس نے مجھے ہلا دیا اس نے پوچھا بابا اگر غلطیوں کی بات ہے تو پھر ہمارے وزیر اعظم اور سیاستدان بھی بڑے ہیں وہ غلطیاں کیوں کرتے ہیں، روز روز بیان کیوں بدلتے ہیں وہ کچی پنسل چھوڑ کیوں نہیں دیتے۔ میں نے حیرانگی سے اپنی بیٹی مصباح اور داماد رضوان کی طرف دیکھا کہ اتنی سی بچی کو یہ شعور کیسے۔ وہ ٹی وی کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگے کرونا کی وجہ سے سکول بند ہیں میں بھی گھر سے کام کرتا ہوں اور سارا دن نیوز چینل ہوتے ہیں یا سیاسی بحث بچے یہ سب دیکھ کر ہم سے بھی یہ سوال کرتے ہیں۔ ہمیں تو آپ منع کرتے ہیں کہ آپس میں پیار سے رہیں جبکہ آپ ہر وقت ٹی وی پر اتنے بڑے بڑے انکلز کی لڑائی والے شو (ٹاک شو) کیوں دیکھتے ہیں۔ قصہ یہیں ختم نہیں ہوتا نیوز چینل کی خبروں اور تجزیوں سے متاثر ہو کر بچوں نے کسی گڑیا گھر (Doll House) کا نام جاتی امرا، کسی کا بلاول ہاؤس اور کسی کا بنی گالا رکھ لیا ہے۔ اور پھر کھیل کھیل میں ایک دوسرے کا گھر گراتے رہتے ہیں ایک دوسرے کو جیل میں ڈالنے کی دھمکیاں دیتے رہتے ہیں۔ حتیٰ کہ ان کے کھیلوں کے کردار کیکریکٹر بھی سیاسی رہنماؤں اور اسی طرح کی دشنام طرازی پر مبنی 

ہوتے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ شروع میں تو انہوں نے کوئی نوٹس نہ لیا لیکن جب کھانے کی ٹیبل اور روزمرہ کے معمولات میں بھی چھوٹی چھوٹی باتوں پر سیاسی رہنماؤں کی طرح ایک دوسرے پر الزام لگانے اور اوئے توئے شروع کر دی تب ہمارا ماتھا ٹھنکا اور ہم نے ان کی موجودگی میں نیوز چینل اور سیاسی بحث بند کر دی۔ اس کے بعد حالات کچھ نارمل ہو رہے ہیں اور سکول کھلنے سے بھی فرق پڑا ہے۔ لیکن ایشال کی پنسل سے پین تک کی بات نے میرے ذہن کے دریچے کھول دیے اور میں نے اگلے کالم اسی موضوع پر لکھنے کا فیصلہ کر لیا۔

قارئین کرام! آپ کو میرے کالم کا عنوان شاید حقیقت کے برعکس لگے۔ کچھ اسے کتابت کی غلطی اور کچھ اسے زندگی کے تجربے کے برعکس سمجھیں۔ آپ کی بات ٹھیک ہے کہ اصل بات ’’کچی پنسل سے پین کا سفر‘‘ ہے۔ لیکن یہ عنوان میں نے بقائمی ہوش و حواس کے چنا۔ ہمیں کچی پنسل سے پین اس لیے دیا جاتا ہے کہ ہم جان جائیں کہ اب ہماری غلطیاں مٹائی نہیں جا سکتیں۔ اور یہ کہ ہم باشعور ہو چکے ہیں اور ہمیں زندگی کے سفر میں آئندہ قدم احتیاط سے رکھنا ہوں گے۔ لیکن ہم نے عمر کے اس حصے میں کچی پنسل استعمال کرنا شروع کر دی ہے جس وقت ارادوں میں پختگی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم نے بحیثیت قوم ترقی معکوس کی طرف چلنا شروع کر دیا ہے۔ ہماری نام نہاد اشرافیہ، ہمارے نظام حکومت، سیاست، تعلیم، ہمارا رہن سہن، روزمرہ کا برتاؤ، نظام عدل و انصاف، نظام صحت، ہمارے رویے، ہماری سیاست، بیوروکریسی، مذہبی اشرافیہ، میڈیا غرض کہ چاروں اطراف دیکھ لیں ہم نے پھر سے کچی پنسل پکڑ لی ہے کہ شاید غلطیاں درست ہو جائیں۔ لیکن یہ کچی پنسل محض ہمارے خیالوں میں جبکہ اس کے رنگ الفاظ کے ان گھاؤ کی طرح گہرے ہیں جو شاز ہی مٹ پاتے ہیں۔

ہم معاملات کو بالغ نظری سے دیکھنے یا فہم و فراست سے کام لینے کے بجائے ہر چیز کو تعصب کی آنکھ سے دیکھتے پرکھتے اور فیصلہ کرتے ہیں۔

 ہم غلطیاں پر غلطیاں کرتے چلے جا رہے ہی اور یو ٹرن لے کر سمجھ رہے ہیں کہ پچھلی غلطیوں پر پانی پھر رہا ہے۔ ایسا نہیں ہے یہ تاریخ کا انمٹ حصہ بنتی جا رہی ہیں جو ایک نہ ایک دن آئینے کی طرح ہمارے سامنے کھڑی ہوں گی اور تب انہیں جھٹلانا ناممکن ہو گا لیکن اس وقت اصلاح کا وقت گزر چکا ہو گا اور پچھتاوے سے کوئی تحریر مٹتی نہیں بلکہ مضبوط ہوتی ہے۔

جہاں ہماری سیاسی اور حکمران اشرافیہ کو ہم عوام کی قسمت کی تحریر پکی پنسل سے لکھنی چاہیے تھی گزشتہ 73 سال سے اس کو ترجیحاً کچی پنسل سے لکھتے ہیں۔ کبھی اس کچی تحریر کو مارشل لا والے بوٹوں کی نوکوں سے اڑا دیتے ہیں، کبھی مسلم لیگ ن والے مٹا ڈالتے ہیں تو کبھی پیپلزپارٹی والے اور کبھی پی ٹی آئی والے اس پر نئی تحریر لکھ دیتے ہیں جو ہر کسی کی سمجھ سے بالاتر ہوتی ہے۔ ان کے اپنے اپنے انداز تحریر سے نئی تحریریں تو ابھر آتی ہے لیکن اس لکھنے اور مٹانے کے کھیل میں عوام کی قسمت پر اتنی لکیریں پڑ جاتی ہیں کہ ان کی اصل شکل گم ہو جاتی ہے۔ ایک بار پھر سے اس شکل پر پوچا پھیرا جاتا ہے اور ایک نئی تحریر ثبت کر دی جاتی ہے لیکن پھر سے مٹانے کے لیے۔ پتہ نہیں کب تک ہم کچی تحریروں سے لکھے گئے کردار بنتے رہیں گے اور کب ہماری قسمت میں بھی پکی تحریر آئے گی۔

گلشن اقبال پارک کے مالیوں نے شاعر مشرق علامہ اقبالؒ سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے اپنی فہم و فراست سے ایک مجسمہ بنا کر پارک میں ایستادہ کر دیا۔ جسے ہماری گھگھو گھوڑی اشرافیہ نے انا کا مسئلہ بنا لیا۔ مجھے اس بات کا ادراک ہے کہ یہ مجسمہ علامہ اقبال سے بالکل میل نہیں کھاتا تھا لیکن اس پر جو ردعمل دیا گیا وہ بھی قطعاً مناسب نہ تھا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب جو عموماً صوبے کے بڑے سے بڑے مسئلہ پر خواب خرگوش کے مزے لیتے ہیں اس مجسمے کی تنصیب پر جاگ گئے اور انہوں نے بلا سوچے سمجھے تحقیقات کا بیان داغ دیا اور مجسمے کو کچی پنسل کی طرح مٹا دیا گیا۔ میری اطلاعات کے مطابق اقبال سے محبت کے اظہار کیلئے جو مجسمہ بنانے والے جملہ ذمہ داران کو معطل کر دیا گیا۔ یہ سوچے سمجھے بغیر کہ یہ آرٹسٹ نہ تھے۔ کاش گزشتہ 72 سال سے اس ملک کا چہرہ بگاڑنے والے اور عوام کی زندگی دگرگوں کرنے والے سیاسی اشرافیہ کو بھی کوئی معطل کرنے کی جرأت کرتا تو آج ہمارے یہ حالات نہ ہوتے۔ اشرافیہ سے التماس ہے کہ کچی اور پکی پنسل کو اس کی صحیح جگہ استعمال کریں تا کہ عوام کی زندگی میں بھی سکون آ سکے۔ لیکن شاید اس کی امید کم ہے۔

بقول محسن نقوی کے۔۔۔

خزاں کی دھوپ سے شکوہ فضول ہے محسن

میں یوں بھی پھول تھا آخر مجھے بکھرنا تھا

قارئین اپنی رائے کا اظہار 03004741474 پر وٹس ایپ، سگنل یا ٹیلیگرام پر کر سکتے ہیں۔


ای پیپر