Muhammad Yasir Arafat Muslim columns,urdu columns,epaper
04 فروری 2021 (13:36) 2021-02-04

2018ء کے انتخابات کے بعد جس سُرعت اور شتابی کے ساتھ مولانا فضل الرحمٰن صاحب نے کُل جماعتی اجلاس کا اہتمام کیا تھا اس کی افادیت اس وقت بھی اس طرح سامنے نہ آسکی جس جذبے سے اس کے قیام کا فیصلہ کیا گیا تھا ۔ اس کانفرنس میں انتخابی شکست کا نوحہ تو پڑھا گیا تھا مگر زمانہ حال اور مستقبل کے لیے مربوط حکمت عملی کے بغیر ۔ پھر جس طرح یہ اتحاد وزیراعظم کے انتخاب کے موقع پر کرچی کرچی ہوا تھا وہ اپنی جگہ خود ایک المیہ تھا۔ اس کے بعد تیرہ ماہ کے بعد ہی مولانا نے آزادی مارچ کا بھی اہتمام کیا جس میں اپوزیشن کی تمام سیاسی جماعتیں جمعیت علمائے اسلام کے اس آزادی مارچ میں شریک ہوئیں۔اس وقت بھی جب جمعیت کا آزادی مارچ اسلام آباد پہنچا تھا توحکومت نے افہام و تفہیم کی فضا پیدا کرنے کے بجائے جارحانہ رویہ اختیار کیا ۔ اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ دلیل اور 

کارکردگی کے باب میں بانجھ حکومت اور سیاسی جماعت کر بھی کیا سکتی تھی ۔مولانا فضل الرحمٰن نے اُس موقع پر بھی اپنے پہلے خطاب میں وزیر اعظم کو استعفیٰ کے لیے دو دن کی مہلت دی تھی اور یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو یہ مجمع وزیراعظم ہائوس میں داخل ہو کر ان سے استعفیٰ لینے کی قدرت رکھتا ہے۔ لیکن بعد میں یہی مولانا صاحب چند وعدوں اور یقین دہانیوں کے بعد واپس چلے گئے تھے۔ جس کا اعتراف چند روز قبل محترم سلیم صافی کے ایک پروگرام میں بھی مولانا نے کیا ہے۔ 

پی ڈی ایم نے حکومت کے خلاف جلسوں کا اعلان کیا تو ہر جلسے میں یہ کہا گیا کہ حکومت بس اب 31 دسمبر تک کی مہمان ہے اور اُدھر یکم جنوری کا سورج طلوع ہوگا اور اِدھر تحریک انصاف کے اقتدار کا سورج غروب ہوگا۔ لیکن آج فروری 2021 ء کا بھی آغاز ہو چکا اور اپوزیشن جوضمنی انتخابات اور 

سینٹ انتخابات کے بائیکاٹ کے ساتھ ساتھ اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کے اعلان کر رہی تھی آج ہر معاملے پر یوٹرن لے چکی ہے۔ جلسے اور استعفوں کی دھمکیوں کے خاطر خواہ نتائج حاصل نہ ہونے کے بعد اپوزیشن نے لانگ مارچ کا ڈول ڈال دیا ہے ۔ اس سے پہلے کہ لانگ مارچ کی حتمی تاریخ کا اعلان ہو پیپلز پارٹی نے حلیف جماعتوں کو اِن ہائوس تبدیلی کے راستے پر ڈال دیا ہے۔لیکن مسلم لیگ ن اور مولانا ماضی میں چیئرمین سینٹ کے انتخابات کے موقع پر پیپلز پارٹی کے کردار کو بھی یاد رکھے ہوئے ہیں۔ اب دیکھے اس تجویز پر پی ڈی ایم اپنے دامن میں کیا سمیٹتی ہے۔ 

اہم بات یہ تھی کہ مولا نا صاحب اور نواز شریف اس ساری مہم میں اپنی تقاریر میں حکومت کی مخالفت کے ساتھ ساتھ حاضر سروس اعلیٰ افسران کا نام لے لے کر ان پر انتخابی نتائج میں مداخلت اور تحریک انصاف کی حکومت کی پشت پناہی کا الزام لگا رہے تھے۔ مولانا ہی نے پسِ پردہ قوتوں کو تنقید کا ہدف بنایا اور اس قدر سخت رویہ اختیار کیا کہ احتجاج کا مرکز سلام آباد کے بجائے راولپنڈی کو قرار دے دیا۔ یہ مولانا ہی تھے جو کہتے تھے کہ حکومت کیا چیز ہے ہماری لڑائی کسی اور سے ہے۔ اب سے کچھ روز پہلے تک اپنے طرزِ عمل سے مولانا فضل الرحمٰن نے یہ ثابت کیا تھا کہ حکومت اور مقتدرہ کے خلاف جدوجہد اور مزاحمت کی قیادت ان ہی کا حق ہے۔لیکن خدا جانے یہ نیب کی طلبیوں کا کیا دھرا ہے، یا پھر کوئی وعدہ فردا ہے یا پھر پی ڈی ایم کی دو بڑی جماعتوں کا ’’فرزیں سے بھی پوشیدہ ہے شاطر کا ارادہ‘‘ کہ مولانا مایوسی کے عالم میں یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ ’’ہماری جنگ حکومت کے ساتھ ہے، اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ نہیں۔اس سے ہمیں گلے شکوے ہیں اور شکایت اپنوں ہی سے ہوتی ہیـ‘‘۔ شکیل بدایونی نے شاید ایسی ہی صورتحال کے لیے کہا تھا کہ :  

بدلے بدلے مرے غم خوار نظر آتے ہیں

 مرحلے عشق کے دشوار نظر آتے ہیں

پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے تازہ ارشادات نے ان تمام لوگوں کی خوش فہمیوں کو ختم کردیا ہے جو پی ڈی ایم کی کامیابی کی صورت میں اس ملک میں حقیقی جمہوری کے قیام اور استحصالی نظام کے خاتمے کے لیے پُر امید تھے۔ صرف مولانا ہی نہیں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن بھی پسپائی کا راستہ اختیار کرتی نظر آرہی ہیں۔ وہ انقلاب جس کا نعرہ نواز شریف نے اقتدار سے تیسری بار بے دخلی کے بعد بلند کیا تھا اب محسوس ہوتا ہے کہ وہ فقط نعرہ ہی تھا؟۔ ووٹ کو عزت اور شفاف انتخابات کے مطالبات کے لیے عملی طور پر کوئی ایسی حکمت عملی تیارہی نہیں کی گئی کہ مطلوبہ نتائج حاصل کیے جا سکتے۔ پاکستان میں موجودہ سیاسی جماعتوں کی تخلیق یا پھر ان پر قابض طبقات کے مفادات کے پس منظر میں ہوئی ہے اور یہ کیسے ممکن ہے کہ اس نظام سے فیضیاب ہونے والے اس نظام میں دراڑ ڈالیں یا اسے نیست و نابود کردیں۔ 

لفظ انقلاب جس کا استعمال ہماری سیاسی جماعتیں کثرت سے یہ جانے بغیر استعمال کرتی ہیں کہ سماج کی طبقاتی ساخت کیا ہے؟ سماج کے پسے ہوئے طبقات کو سیاسی عمل سے باہر رکھ کر بالادست طبقات کے سیاست، معیشت اور سماج پر تسلط کے ہوتے ہوئے یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی سماجی اور معاشی انصاف پر مبنی انقلاب برپا ہوسکے ۔بقول تاجور نجیب آبادی کہ:  

نہ میں بدلا نہ وہ بدلے نہ دل کی آرزو بدلی

 میں کیوں کر اعتبارِ انقلاب آسماں کر لوں

مگر ہمارے یہاں تو ابھی’’ انقلاب ناتواں ہے شاید‘‘ والا معاملہ ہے!


ای پیپر