Sajid Hussain Malik columns,urdu columns,epaper
04 فروری 2021 (13:34) 2021-02-04

پچھلے کالم میں احباب کے محدود حلقہ کی دو محترم شخصیات جناب عرفان صدیقی اور عزیز گرامی فواد حسن فواد کا ذکر ہوا تھا۔ اب اسی ذکر کو آگے لے کر چلتے ہیں۔ احباب کی اس محفل میں اچھے لذیذ کھانے کے ساتھ گپ شپ ، شعر و شاعری ، ادب و صحافت ، تازہ ترین ملکی حالات و واقعات پر تبصرہ آرائی، ہلکا پھلکاطنز ومزاح اور بیتے دنوں کی یادوں کو تازہ کرناوغیرہ سب کچھ ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ عرفان صاحب اور فواد اہم ترین ملکی مناصب پر فائز رہتے ہوئے ماضی قریب اور بعید کے کئی اہم ملکی حالات و واقعات کے چشم دید گواہ اور کئی معاملات اور قومی رازوں کے امین کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اب جبکہ انھیں اہم ترین مناصب سے فارغ ہوئے عرصہ ہو چکا ہے ، ان سے ہم احباب نے کبھی یہ تقاضا تو نہیں کیا کہ وہ جن نازک ملکی حالات و واقعات اور معاملات سے آگاہی رکھتے ہیں ان کے بارے میں کچھ بتائیں البتہ اتنا ضرور ہے کہ ان سے تمام احباب کا بالخصوص میرا اکثر یہ تقاضا رہتا ہے کہ وہ اپنی یادداشتوں کو کتابی شکل میں قلم بند کرکے سامنے لائیں کہ اس سے بہت سارے معاملات جن پر دبیز پردے پڑے ہوئے ہیں وہ کچھ نہ کچھ سامنے آسکیںگے۔ یہ دونوں احباب محب مکرم و محترم عرفان صدیقی اور عزیز گرامی فواد حسن فواد کب اس تقاضے کو پورا کرتے ہیں اس بارے میں حتمی طور پر توکچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن اتنا ضرور ہوا ہے کہ ان دونوں شخصیات نے جو اچھا شعری ذوق رکھنے کے ساتھ خوب صورت شاعر بھی ہیں نے اپنی بھولی ہوئی شاعری کی طرف توجہ دینا شروع کر دی ہے۔ عرفان صاحب کی اس دوران کچھ خوب صورت اور اعلیٰ پائے کی غزلیں جہاں سامنے آئی ہیں وہاں ان کی ماضی کے کچھ اہم ملکی واقعات کے بارے میں اپنی یادداشتوں پر مبنی تحریروں کے ساتھ ذاتی جذبات و احساسات کی ترجمانی کرتی ہوئی کچھ دیگر تحریریں بھی سامنے آئی ہیں۔ عزیزی فواد حسن فواد جو طالب علمی کے زمانے سے شعر و شاعری کے اچھے ذوق کے مالک ہیں اور سر سید کالج میں دوران تعلیم استاد گرامی محترم عرفان صدیقی سے شاعری میں کافی راہنمائی لیتے رہے ہیں اور بعد میں اپنے اعلیٰ شعری ذوق کی کسی نہ کسی صورت میں کچھ نہ کچھ تسکین کرتے رہے ہیں اب انہوں نے وسیع مطالعے کے ساتھ ساتھ اپنی شاعری کو اولیت دینی شروع کر رکھی ہے ۔ پچھلے ایک آدھ سال میں انہوں نے بہت خوب صورت اور اپنے ذاتی جذبات و احساسات سمیت کچھ زمینی حقائق کی ترجمانی کرنے والی غزلیں کہی ہیں۔ ان میں سے تازہ ترین غزل کے چند اشعار کالم کے آخر میں دیئے جا رہے ہیں۔ 

اب اپنے محدود حلقہ احباب کی انتہائی پیاری اور قابل قدر شخصیت عزیز گرامی ڈاکٹر ندیم اکرام کی طرف آتے ہیں۔ دیگر دو قابل قدر شخصیات جناب ڈاکٹر جمال ناصر اور محترم اسماعیل قریشی کا تذکرہ اس کالم میں شاید ہی ہو سکے گا۔ عزیزی ڈاکٹر ندیم اکرام کے بارے میں لکھتے ہوئے میں سوچتا ہوں کہ ان کی کون کونسی خوبیوں، اچھائیوں اور شخصیت کے پہلووں کا ذکر کروں ۔ان کے والد گرامی محترم اکرام قمر مرحوم آئی ایس پی آر میں مسلح افواج کے ترجمان جریدے "ہلال "کے ایڈیٹر تھے اور راولپنڈی کینٹ میں 22نمبر چونگی دھمیال روڈ پر ایک بڑے سے مکان میں رہائش پذیر تھے جہاں میں عزیزی ندیم اکرام کو کیڈٹ کالج حسن ابدال میں داخلے کے امتحان کی تیاری کے لیے کچھ عرصہ پڑھانے کے لیے بھی جاتا رہا اسی عرصے میں بعض وجوہات کی بنا پر 22نمبر چوک کی مرکزی جامع مسجد کے علاوہ ایک اور جامع مسجد کی تعمیر ناگزیر سمجھی گئی تو محترم اکرام قمر مرحوم نے دھمیال روڈ پر ہارلے سٹریٹ سے ملحق تقریباً ایک کنا ل کا قیمتی پلاٹ مسجد کی تعمیر کے لیے عطیہ کر دیا۔ ندیم اکرام کے تینوں بھائی عزیز اکرام ،ثاقب اور علی اکرام بھی سر سید سکول میں میرے شاگرد رہے ہیں۔ ماشاء اللہ اب اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونے کے باوجود انتہائی مودّب ، وفا شعار اور خدمت گزار ہیں لیکن ڈاکٹر ندیم اکرام کی بات ہی اور ہے۔ ان جیسی وفا شعار خدمت گزار اور مرنجاں مرنج شخصیت کم ہی ملے گی۔ سر سید کالج سے ایف ایس سی بہت اچھے نمبروں میں پاس کرنے کے بعد انہیں ایم بی بی ایس کے لیے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور میں داخلہ مل گیا۔ کالج کی تعلیم کے دوران ان کی اسلامی جمعیت طلباء سے وابستگی مزید پختہ ہوگئی جو اب بھی ان کی شخصیت میں کسی نہ کسی صورت میں جھلکتی رہتی ہے۔ راولپنڈی میڈیکل کالج کے الائیڈ ہاسپیٹلز بینظیر ہاسپیٹل مری روڈ ، ڈسٹرک ہیڈ کوارٹر ہسپتال فوارہ چوک اور ہولی فیملی ہسپتال میں ہی ان کی ملازمت کا بیشتر عرصہ گزرا ہے ۔ پچھلے کئی سال سے وہ بے نظیر ہسپتال کے شعبہ پیتھالوجی کے سربراہ کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ اور اپریل میں ریٹائر ہونے والے ہیں۔ 

عزیز ی ڈاکٹر ندیم اکرام جہاں ایک ماہر اور نامور پیتھالوجسٹ ہیں وہاں انتہائی صاحب مطالعہ شخصیت بھی ہیں۔ ادب ، شعر و شاعر ی ، حالات حاضرہ ، ملکی سیاسی حالات و واقعات ، موجودہ اور ماضی کے حکمرانوں اورمعروضی صورت حال کاجائزہ ، غرضیکہ کوئی بھی موضوع ہو وہ انتہائی سیر حاصل، مدلل اور برسر زمین حقائق کی روشنی میں خوب صورت اور فکر انگیز تجزیہ کرنے کی استعداد رکھتے ہیں۔ تاہم بعض اوقات ٹھوس انداز میں سامنے آنے والے مخالفانہ نکتہ نظر کو ماننے کے بجائے خواہ مخواہ اپنی بات پر اڑ جاتے ہیں۔ ڈاکٹر ندیم اکرام جس طرح کے اعلیٰ اخلاق و کردار ، خدا خوفی ، صوم و صلوٰۃ کی پابندی اور دیگر شخصی خوبیوں جن میں خدا خوفی، ہمدردی ، خدمت خلق اور احباب کی خدمت گزاری وغیرہ شامل ہیںسے متصف ہیں۔اس کی اس دور میں کم ہی مثال ملتی ہے۔ سرکاری ہسپتال میں پوری محنت ، لگن اور جانفشانی سے اپنے فرائض کی ادائیگی کے ساتھ اپنی پرائیویٹ لیبارٹری میں بھی ذمہ داریوںکی سرانجام دہی میں اپنے احبا ب اور جاننے اور نہ جاننے والوں کی حتیٰ الوسع دستگیری کے لیے تیار رہتے ہیں۔ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ ان کی لیبارٹری سے اپنے یا اپنے کسی عزیز کے مختلف میڈیکل ٹیسٹوں کی فیس ادا کرنا پڑی ہو۔ 

ڈاکٹر ندیم اکرام بلاشبہ شگفتہ مزاج ہونے کے ساتھ اپنی سوچ ، فکر ، اپنے نظریات و افکار اور اپنی کمٹمنٹ پر کاربندرہنے والی اور اس ضمن میں کسی بھی صورت میں کمپورمائز نہ کرنے والی شخصیت ہیں۔ میں نے اوپر لکھا کہ وہ انتہائی کثیر المطالعہ اور شعر و شاعری کا عمدہ ذوق رکھتے ہیں۔ اُردو اور انگریزی زبانوں پر انہیں تحریر وتقریر بالخصوص تحریر میں اچھا عبور حاصل ہے۔ وہ اخبارات میں چھپنے والے اہم کالم وغیرہ باقاعدگی سے پڑھتے ہیں میں ان سے کئی بار کہہ چکا ہوں کہ وہ کسی قومی روزنامے یا جریدے میں باقاعدگی سے لکھنا شروع کر دیں تو یہ ان کے لیے کوئی مشکل امر نہیں ہوگا۔ ڈاکٹر ندیم اکرام کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ اس محدود حلقہ میں شامل احباب کے مل بیٹھنے کے پروگرام کے رابطہ کار کی بڑی خوبی سے ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ آخر میں فواد حسن فواد کی تازہ غزل کے چند اشعار

ہمیں لگا کہ کسی اور ہی دیار میں تھے

عجیب رنگ ہی اب کے برس بہار میں تھے

جو رد کفر کی بیعت کے مرتکب ٹھہرے

ہم اہل صدق و صفا کی اُسی قطار میں تھے

وہ منتقم تھا تو ہم تھے صبر نصیب بہت

اشارہ رب یزداں کے انتظار میں تھے

جو با کمال تھے سارے خزاں نصیب ہوئے

جو بے ہنر تھے وہ سب سایہ بہار میں تھے

جو وقت آیا تو بھیڑوں کے غول میں نکلے

ہمیں گماں تھا کہ وہ شیر کی کچھار میں تھے

تراش لی ہیں نئی منزلیں سبھی نے حسنؔ

بس ایک ہم ہی فقط جو تیرے انتظار میں تھے

(جاری ہے)


ای پیپر