پنجاب پولیس میں تبادلہ سازی!
04 فروری 2021 2021-02-04

پنجاب میں عوام کی بھلائی کےلئے کوئی ”قانون سازی“ تو پتہ نہیں ہورہی ہے یا نہیں؟ انتظامی ڈھانچے کی مزید تباہی کے لیے ” تبادلہ سازی“ البتہ خوب ہورہی ہے۔ پولیس میں تو اتنے تبادلے ہوتے ہیں جس روز کوئی تبادلہ نہ ہو یوں محسوس ہوتا ہے پنجاب سے محکمہ پولیس شاید ختم کردیا گیا ہے، .... ہمارا خیال تھا ”تبدیلی“ کے بعد پولیس میں سیاسی تقرریوں وتبادلوں کا سلسلہ مکمل طورپر ختم کردیا جائے گا۔ پر ہوا یہ جس طرح دوسرے شعبوں میں ”تبدیلی“ مزید خرابی کا باعث بنی، محکمہ پولیس میں بھی یہی کچھ ہوا۔ تقرریاں اور تبادلے حکومت کا اختیار ہے، موجودہ حکمران جس وسیع پیمانے پر روزانہ تقرریاں وتبادلے کرتے ہیں یوں محسوس ہوتا ہے اُن کے پاس بس یہی اِک اختیار ہے،.... تبدیلی کی بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کسی اچھے، اہل وایماندار چیف سیکرٹری اور آئی جی کی تقرریوں کے بعداپنے اپنے محکموں میں تقرریوں تبادلوں کا مکمل اختیار اُن کے سپرد کردیا جاتا، وہ اِس ضمن میں ایک پالیسی بنائے، پھر اُس پر ہرصورت میں کاربند رہتے، اِس سے پولیس وسول محکموں میں روز بروز بڑھتی ہوئی بہت سی خرابیاں رُک سکتی تھیں، افسوس ایسے نہیں ہوا،.... کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کوئی اچھا حکمران اِس ملک کی تقدیر میں واقعی اگر لکھ دیا جائے وہ جب مختلف اعلیٰ عہدوں مثلاً چیف سیکرٹری یا آئی جی وغیرہ لگانے کے لیے مختلف افسروں کے انٹرویوز کرے اُس کے کان یہ سننے کے لیے شاید ترس جائیں کہ ”سر اگر آپ نے ان اہم عہدوں پر ہمیں تعینات کرنا ہے پہلے ہمیں یہ گارنٹی دیں ہمارے اختیارات میں مداخلت نہیں کی جائے گی۔ اُس کے بعد ہم کوئی بہتری نہ لاسکیں صرف ہمارا تبادلہ نہیں ہمیں ملازمت سے ہی فارغ کردیا جائے“....اِس کے برعکس افسران بالا کے منہ سے یہ سُن سُن کر ہمارے سیاسی حکمرانوں کے کان شاید پک گئے ہوں گے کہ ”سرآپ ہمیں موقع دیں ہم آپ کے ہرحکم کی تعمیل کریں گے، آپ کی ”مالش“ میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے“.... ایک طرف ہمارے سیاسی حکمرانوں کو اب ”ناں“ سننے کی عادت نہیں رہی، دوسری طرف ہمارے انتظامی حکمرانوں یعنی افسروں کو بھی ناں کرنے کی جرا¿ت نہیں رہی۔ اِس صورت حال میں انتظامی ڈھانچہ اب صرف دفنانے کے لیے ہی باقی رہ گیا ہے، ....مجھے نہیں معلوم کسی کو کمشنر، آرپی او، ڈی پی او یا ڈی سی او وغیرہ لگانے کے لیے اب وزیراعلیٰ بزدار افسروں کے باقاعدہ انٹرویوز کرتے ہیں یا نہیں؟ پچھلے دور میں کوئی کمشنر کوئی ڈی پی او، کوئی ڈی سی او کوئی آرپی او”دربار شریف“ میں پیش ہوئے بغیر نہیں لگتاتھا، مختلف افسروں کو اپنے دربار میں باقاعدہ پیش کرواکر تعینات کرنے کی گندی رسم سابق وزیراعلیٰ میاں منظوراحمد وٹو نے ڈالی تھی، شہباز شریف، میاں منظور وٹوکو پسند نہیں کرتے تھے مگر اُن کی ڈالی ہوئی اِس گندی رسم کو انہوں نے نہ صرف پسند کیا بلکہ اُسے اتنا فروغ دیا دوسرے صوبوں کے حکمران اسے بھی شہباز شریف کا ایک ”اچھا کام“ سمجھ کر اپنانے لگے۔ حالانکہ یہ اقدام اداروں کو تباہ کرنے کے لیے اپنی مثال آپ تھا، .... البتہ پی ٹی آئی کے پچھلے دور میں کے پی کے میں ایک اعلیٰ سوچ کے حامل پولیس افسر ناصردرانی کو بطور آئی جی تعینات کرکے تقرریوں تبادلوں کا مکمل اختیار اُنہیں سونپ دیا گیا۔ اُنہوں نے اِس کے شاندار رزلٹس دیئے۔ اُن کے اختیارات کا عالم یہ تھا وزیراعلیٰ پرویز خٹک کے حلقے میں ایک ایسا ایس پی تعینات کردیا گیا جو اُن کے مخالف اُمیدوار کا بھائی تھا، وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے اِس پر آئی جی ناصر درانی سے احتجاج کیا تو اُنہوں نے فرمایا ” سر یہ ایس پی میرٹ پر کام کرے گا اِس کی جانبداری کی کوئی شکایت ملی میں فوراً اُسے ہٹادوں گا، .... کاش ہمارے خان صاحب وزیراعظم بننے کے بعد اپنے اُن ہی اُصولوں اور رویوں کی پاسداری فرماتے جو پچھلے دور میں خود ہی کے پی کے میں اُنہوں نے متعارف کروائے تھے، اور اُن کی بنیاد پر کے پی کے میں دوبارہ اپنی حکومت بنانے میں وہ کامیاب ہوگئے تھے .... بہرحال تقریباً ہرسرکار یا حکمرانوں کا طریقہ کار یہ ہے جہاں فیلڈ میں سفارشوں پر یا کسی اور مخصوص وجہ سے بے شمار نکمے افسروں کو وہ تعینات کرتے ہیں وہاں چند اچھے افسروں کو تعینات کرکے اپنی اس خرابی پر پردہ ڈالنے کی ہلکی سی کوشش بھی وہ کرلیتے ہیں، اُوپر میں نے ناصردرانی کا ذکر کیا ہے، اُنہی جیسی خصلت اور خوبیاں رکھنے والے ایک پولیس افسر اشفاق احمد خان کو ڈی آئی جی آپریشن لاہور تعینات کیا گیا تھا، گزشتہ ہفتے اُنہیں آرپی او سرگودھا لگادیا گیا۔ پہلے وہاں افضال کوثر بطور آرپی او کام کررہے تھے، وہ بھی ایک اہل اور ایماندارافسر ہیں۔ اپنے عرصہ تعیناتی میں سرگودھا میں اہلیت اور ایمانداری کی کچھ مثالیں اُنہوں نے ضرور قائم کی ہوں گی۔اشفاق احمد خان مزید اچھی روایات کی بنیاد رکھیں گے۔ افضال کوثر کی طرح وہ بھی پہلی بار آرپی او لگے، صرف میرٹ پر تقرریوں کا کوئی رواج اس ملک میں ہوتا وہ شاید بہت پہلے آرپی او لگ جاتے، شکر ہے افضال کوثر کے بعد وزیراعلیٰ عثمان بزدار اور آئی جی پنجاب انعام غنی نے سرگودھا میں کوئی بے ایمان ونااہل پولیس افسر تعینات نہیں کردیا، اشفاق احمد خان نے لاہور میں بہت محنت کی، لوگوں سے محبت بھی بہت کی، کوئی ایک مظلوم شخص شاید ہی ایسا ہوگا جو اُن کے پاس گیا ہو اور اُس کی داد رسی اُنہوں نے نہ کی ہو، لوگوں کو انصاف فراہم کرنے کی آخری حدتک وہ جاتے ہیں، یہ اُن کی عادت نہیں فطرت ہے، جہاں بھی گئے ایسی داستانیں چھوڑ آئے ہرکوئی انہیں دعائیں دیتا ہے، اُن کا عملہ بتاتا ہے لاہور میں جتنا عرصہ وہ رہے اُن کا کوئی ایک رشتہ دار ملنے اُن کے دفتر نہیں آیا، وہ فرماتے تھے رشتہ داروں نے ملنا ہے وہ گھر آئیں، ماتحتوں کے ساتھ اُن کے حُسنِ سلوک کا یہ عالم ہے میں نے کچھ ویڈیو کلپ دیکھے سرگودھا تبادلے کے بعداپنے دفتر لاہور سے وہ جب رخصت ہونے لگے ماتحتوں نے اُن پر پھولوں کی بارش کردی، شاید ہی کوئی ماتحت ایسا ہوگا جس کی آنکھیں بھیگی ہوئی نہ ہوں، ایسے ہی مناظر میں نے ایک اور شاندار پولیس افسر طارق عباس قریشی کے لیے بھی گوجرانوالہ اور ساہیوال سے اُن کے تبادلے پر دیکھے تھے ،.... پولیس کے کچھ متکبر، نااہل، بے ایمان ومتنازعہ افسروں کے دلوں میں کسی معجزے کے تحت سدھرنے کی کوئی خواہش پیدا ہو جائے، اپنے ماتحتوں اور عوام کے دل جیتنے کے سلیقے اُنہوں نے سیکھنے ہوں اشفاق احمد خان ان مقاصد کے لیے باقاعدہ اِک ادارہ ہیں، اور اگر کچھ پولیس افسروں نے تکبر، بے ایمانی، اور لوگوں کو نمائشی انصاف دینے کے گر سیکھنے ہوں پولیس کا ایک ”بابائے بدی“ ہی اُن کے لیے کافی ہے، وہ کتنا بدقسمت افسر تھا لاہور سے اُس کے تبادلے پر مٹھائیاں تقسیم ہوئیں، ماتحتوں نے اس کے تبادلے پر تاریخ میں پہلی بار بینڈ باجے بجاکر خوشی کا اظہار کیا، .... موجودہ سی سی پی او غلام محمود ڈوگرجناب اشفاق احمدخان کے تبادلے کی صورت میں اپنی ٹیم کے ایک اعلیٰ ترین رُکن سے محروم ہوگئے ہیں، بوقت رخصت جتنی عزت افزائی کا اہتمام اشفاق احمد خان کے لیے اُنہوں نے کیا اُس سے میرے دل میں اُن کی عزت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے، سابقہ متکبر اور بے ایمان سی سی پی او لاہور کے بالکل اُلٹ وہ بڑی عاجزی سے ہر قسم کی نمودونمائش سے بالاتر ہوکر امن وامان قائم رکھنے کی حکومتی پالیسی کو آگے بڑھا رہے ہیں، .... مجھے یقین ہے اِس ضمن میں ایک اچھی شہرت کے حامل نئے ڈی آئی جی آپریشن ساجد کیانی ان کے اُسی طرح دست وبازو بننے کی پوری کوشش کریں گے جیسے اشفاق احمد خان تھے !!


ای پیپر