حکومتی قرضے میں 9300 ارب کا اضافہ ہوا: اعظم سواتی
04 فروری 2020 (21:18) 2020-02-04

اسلام آباد: سینیٹ کو حکومت نے آگاہ کیا ہے کہ جون 2018 سے ستمبر 2019 تک سرکاری قرضے میں9300ارب روپے اضافہ ہوا ، ان میں سے 4.1ٹریلین روپے بجٹ خسارے کو پورا کرنے کیلئے لیا گیا ، 2.7ٹریلین ، ڈالرکے مقابلے میں روپے کی قدر گرنے کی وجہ سے ہوا ، باقی ماندہ 2.5ٹریلین روپے حکومت کی کیش بیلینسز کی وجہ سے ہوا ،30جون 2019تک حکومت چین سے لیئے گئے قرضوں کی رقم 9313 ملین امریکی ڈالر تھی ۔

                                                                                                                                        

 ان خیالات کا اظہار سینیٹ میں وقفہ سوالات کے دوران وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور اعظم خان سواتی نے ارکان کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے اور وزارت خزانہ نے تحریری جوابا ت میں کیا ۔ 18ستمبر 2019کو کابینہ کمیٹی برائے نجکاری نے سٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کی 20 فیصد حصص کی ابتدائی عوامی پیشکش کے ذریعے فروخت کرنے کے لیئے ایکٹو نجکاری پروگرام میں شامل کرنے کی منظوری دی۔اعظم خان سواتی نے ایوان کو بتایا کہ مالا کنڈ ڈویژن کے لیئے سی پیک کے تحت دومنصوبے رکھے گئے ہیں۔

                                                                                                                                

اعظم سواتی نے کہا کہ  مانیٹرنگ پالیسی کمیٹی نے 17 جولائی 2019 کے اجلاس میں پالیسی ریٹ کو 100 بی پی ایس سے 13.25فیصد بڑھایا ۔ یہ درست ہے کہ ملک میں تیار کی جانے والی گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ روپے کی قدر میں کمی ، اضافی کسٹم ڈیوٹی، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی، اضافی لیویز ، گاڑیوں کی تیاری میں بہتری اور ان میں اضافی خصوصیات متعارف کرانے کی وجہ سے ہوا ہے ، ڈالر کی قیمت میں اضافہ بھی گاڑیوں کی تیاری سے جڑی دیگر صنعتوں کو متاثر کرتا ہے ۔ ملک میں تیار کی جانے والی گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ روپے کی قدر میں کمی ، اضافی کسٹم ڈیوٹی، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی، اضافی لیویز ، گاڑیوں کی تیاری میں بہتری اور ان میں اضافی خصوصیات متعارف کرانے کی وجہ سے ہوا ہے، ڈالر کی قیمت میں اضافہ بھی گاڑیوں کی تیاری سے جڑی دیگر صنعتوں کو متاثر کرتا ہے ۔


ای پیپر