کشمیر کا حل، کیا ناممکن؟
04 فروری 2020 (00:59) 2020-02-04

بھارتی ظلم و استبداد اورکشمیریوں کا جذبہ¿ حریت

استصواب رائے کا آپشن نظر انداز کرکے مسئلہ کشمیر کا حل تلاش کرنا ناممکن ہے

نعیم سلہری

مقبوضہ کشمیر زمین پر موجود ان خطوں میں شامل ہے جہاں کئی دہائیوں سے ظلم و ستم کی چکی چل رہی ہے، وہاں کے باسی استبدادی قوتوں کے شکنجے میں زندگی گزار اور آزادی کے حصول کے لئے جانیں قربان کر رہے ہیں۔ مقبوضہ وادی میں بھارتی قبضے کو ستر سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ اس دوران کون سا انسانیت سوز سلوک ہے جو مظلوم کشمیریوں کے ساتھ روا نہیں رکھا گیا۔ بھارتی افواج آئے روز درندگی کا کوئی نہ کوئی نیا کھیل رچانے میں مصروف ہیں۔ نوجوانوں کو شہید کیا جا رہا ہے، خواتین کی آبروریزی کی جارہی ہے، معصوم بچوں کو یتیم اور آپاہج بنایا جا رہا ہے لیکن سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی دنیا میں جمہوریت اور انسانی حقوق کے چمپیئن کہلانے والے آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں، جب کہ بھارت سیکولرازم اور جمہوریت کا چوغا پہنے وحشت کا کھیل کھیلے جا رہا ہے۔

مقبوضہ وادی میں بھارت کی جانب سے کرفیو نافذ ہوئے 180 سے زائد دن گز چکے ہیں، کشمیری زندگی کی تمام بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔ یہ صورتحال 5 اگست 2019ءسے جاری ہے جب بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی تھی۔ ہندو قوم پرست حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت میں بھارتی پارلیمنٹ نے جموں اور کشمیر کا ریاست ہونے کے خلاف بل بھی منظور کر لیا تھا۔ اس طرح مقبوضہ کشمیر کو بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 اے کے تحت ملنے والی سیاسی خودمختاری اور جائیداد رکھنے کے حقوق کی حیثیت کو بھی واپس لے لیا گیا تھا۔ اس تبدیلی سے غیر کشمیریوں کو کشمیر میں جائیداد خریدنے کی آزادی مل گئی تھی۔ گو کہ بھارتی حکومت کے اس فیصلے کو اس وقت کم و بیش ساری دنیا نے ناپسند کیا تھا، لیکن اتنا وقت گز جاتے کے باوجود کشمیریوں پر عائد کی گئی پابندیاں جوں کی توں ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا ایک واضح مقصد یہ بھی ہے کہ وہاں غیر کشمیری بھارتی ہندوو¿ں کو آباد ہونے کی آئینی اجازت دی جائے تاکہ مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدل کر بھارت پر استصواب رائے کی لٹکتی تلوار کا اثر زائل کیا جا سکے۔ جیسا کہ ان فیصلوں کے بارے میں بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت کے فیصلوں کا سٹریٹیجک، ٹیکنیکل یا آئینی پہلوو¿ں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ یہ ایک نظریاتی پوزیشن ہے۔ یہ ہندو راشٹر سے جڑی ہوئی پوزیشن ہے جس کا مقصد مسلم اکثریت کو بے اختیار کرنا ہے اور اسے ایک علامت کے طور پر پیش کرنا اور بھارت آبادکاری، ثقافت اور نظام زندگی میں تبدیلی لا کر مقبوضہ وادی کو اپنے مفادات کے رنگ میں رنگ سکے۔

بھارت کے اس اقدام کے بعد پاکستان کی کوششوں سے مسئلہ کشمیر 50 سال بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں زیر بحث آیا، جس میں شرکا نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر اتفاق کیا کہ مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں بلکہ عالمی مسئلہ ہے۔ اجلاس میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے 15 اراکین ممالک کے مندوبین نے شرکت کی تھی۔ شرکا نے بھارتی جارحیت پر مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال کو انتہائی تشویش ناک قرار دیتے ہوئے اتفاق کیا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں بلکہ ایک عالمی تنازع ہے۔ اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے کہا تھا کہ پاکستان مسئلہ کشمیر پر سلامتی کونسل کے اجلاس کا خیرمقدم کرتا ہے، مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کی بات آج اعلیٰ ترین سفارتی سطح پر سنی گئی، پاکستان مسئلہ کشمیر پرامن طور پر حل کرنے کے لیے تیار ہے۔ کشمیریوں کو قید کیا جا سکتا ہے مگر ان کی آواز نہیں دبائی جا سکتی، پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کے عوام کے لیے جدوجہد کی ہے اور یہ مسئلے کے حل تک جاری رہے گی۔ اگست 2019ءمیں ہونے والے اس اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں تعینات چین کے مندوب کا کہنا تھا کہ سکیورٹی کونسل اجلاس میں کشمیر کے معاملے پر تفصیلی بات ہوئی اور تمام ارکان نے کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا، بھارت نے یک طرفہ طورپر کشمیر کی حیثیت تبدیل کی، لداخ سے متعلق بھارتی اقدام سے چین کو تشویش ہے، بھارتی اقدام نے چین کی خود مختاری کو چیلنج کیا ہے۔ سلامتی کونسل اجلاس کے بعد بھی بھارت اپنی ہٹ دھرمی کی پالیسی پر گامزن ہے لیکن دنیا پر ایک بار پھر یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ مسئلہ کشمیر بھارت کا اندرونی مسئلہ نہیں بلکہ یہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دوطرفہ مسئلہ ہے جس میں کشمیری سب سے بڑے سٹیک ہولڈر ہیں۔

5 اگست 2019ءکے بعد پاکستان مسئلہ کشمیر پر سفارتی محاذ پر بہت زیادہ متحرک رہا۔ اس ضمن میں وہ دنیا کو کافی حد تک اپنا اہم نوا بنانے میں کامیاب بھی ہوا۔ اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے ایک امریکی اخبار کے لئے بڑا مدلل مضمون بھی لکھا جس میںانہوں نے جہاں کشمیریوں کا مقدمہ بہترین انداز میں پیش کیا، وہاں مودی سرکار کا اصل چہرہ بھی اقوام عالم کے سامنے رکھنے کی کوشش کی۔ انہوں نے لکھا کہ” اگر دنیا کشمیر اور اس کے عوام پر بھارتی حملہ روکنے کے لیے کچھ نہیں کرتی تو پھر دو جوہری ہتھیاروں سے لیس ریاستیں براہِ راست فوجی محاذ آرائی کے قریب آ جائیں گی“۔ آگے جا کر مزید لکھتے ہیں” اگست میں اپنے انتہائی سفاکانہ اور گھناو¿نے اقدام میں نریندر مودی کی حکومت نے انڈین آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی کے ذریعے اپنے زیر انتظام کشمیر کی آئینی و قانونی حیثیت کو تبدیل کر ڈالا۔ جہاں یہ اقدام خود انڈین آئین کے تحت غیر قانونی ہے وہیں اس سے بھی زیادہ اہم پہلو یہ ہے کہ یہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی کشمیر سے متعلق قراردادوں اور انڈیا اور پاکستان کے درمیان شملہ معاہدے کے علاوہ ان معاہدوں کی بھی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ نریندر مودی کے نئے انڈیا نے کشمیر میں فوجی کرفیو نافذ کر کے، اس کی آبادی کو گھروں میں قید کر کے اور ان کا فون، انٹرنیٹ اور ٹیلی ویژن کنکشن کاٹ کر، ان کے پیاروں سے رابطے منقطع کر دیے۔“ وزیراعظم عمران خان نے تجویز پیش کی تھی کہ مسئلہ کشمیر پر بات چیت میں تمام ’سٹیک ہولڈرز‘ خصوصاً کشمیریوں کو شامل کرنا ہو گا۔”ہم سلامتی کونسل کی قراردادوں اور انڈیا کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کی جانب سے کشمیریوں سے حق خود ارادیت کے احترام کے وعدے کی روشنی میں متعدد آپشنز تیار کر چکے ہیں جن پر اس ضمن میں کام ہو سکتا ہے۔“ انہوں یہ بھی لکھا تھا کہ مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے سٹیک ہولڈرز کشمیری عوام کی دہائیوں کی تکالیف کے خاتمے اور خطے میں مستحکم اور انصاف پسند امن کی طرف بڑھنے کے ایک قابل عمل حل پر پہنچ سکتے ہیں۔“

مسئلہ کشمیر پر بھارت اور پاکستان کے مابین ماضی میں بھی مذاکرات ہوئے ہیں اور دونوں ممالک اس مسئلہ کو لے کر جنگ کی نوبت تک بھی پہنچ چکے ہیں۔ ہر بار مذاکرات کے بعد بات یوں ختم ہوئی کہ مسئلہ کشمیر سمیت تمام دوطرفہ مسائل باہمی گفت وشنید سے حل کئے جائیں گے۔ جواہر لال نہرو اور لیاقت علی خان ہوں، لال بہادر شاستری اور ایوب خان ہوں یا پھر ذوالفقار علی بھٹو اور اندرا گاندھی سب اسی نتیجے پر پہنچے لیکن نتیجہ کوئی نہ نکل سکا۔

نہرو نے پاکستان کے وزیر اعظم لیاقت علی خان کے نام متعدد خطوط کے علاوہ اپنی تقاریر میں بار بار اس عہد کا اعادہ کیا تھا کہ کشمیر کا بھارت کے ساتھ الحاق مختصر مدت کے لیے ہے اور کشمیری عوام خود اپنا حق خود ارادیت استعمال کرتے ہوئے اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ وہ بھارت کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا پاکستان کے ساتھ۔ نہرو نے کہا تھا کہ وہ اقوام متحدہ کے زیر اہتمام کشمیر میں استصواب رائے کرانے کے عہد پر کاربند رہیں گے اور اس علاقے میں امن و امان بحال ہوتے ہی اس پر عمل درآمد کر لیا جائے گا۔

نہرو کے بعد 1965ءمیں پاکستان اور بھارت کے درمیان لڑی گئی۔اس کے بعد اس وقت کے سوویت وزیر اعظم الیکسی کوسیگن کی میزبانی میں تاشقند میں ہونے والے سمجھوتے میں بھارتی وزیر اعظم لال بہادر شاستری اور پاکستان کے صدر ایوب خان نے طے کیا کہ کشمیر سمیت دونوں ملکوں کے درمیان تمام مسائل بات چیت کے ذریعے پر امن طور پر طے کیے جائیں گے اور دونوں ملک اچھی ہمسائیگی کے اصولوں پر کاربند رہیں گے۔

اس کے بعد 1971ءمیں ہونے والی پاک بھارت جنگ کے نتیجے میں مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا۔ جنگ کے بعد صدر ذوالفقار علی بھٹو اور بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے درمیان شملہ میں ایک سمجھوتہ طے ہوا جسے شملہ سمجھوتے کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ اس سمجھوتے میں دونوں ملکوں نے اتفاق کیا کہ کشمیر سمیت تمام مسئلے دو طرفہ بنیادوں پر حل کیے جائیں گے۔

شملہ سمجھوتے کے بعد بھارت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے دور میں ایک مرتبہ پھر مسئلہ کشمیر حل کرنے کے سلسلے میں کوششیں ہوئیں۔ اپنے پہلے دور اقتدار میں وہ بس پر بیٹھ کر لاہور پہنچے اور انہوں نے اس وقت کے پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کے ہمراہ خیر سگالی کے جذبے کے تحت مینار پاکستان لاہور کا دورہ کیا۔ مینار پاکستان کا دورہ کرنے والے وہ بھارت کے پہلے وزیر اعظم تھے۔ اس دورے میں واجپائی نے کشمیر سمیت تمام مسائل پر امن طور پر حل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ واجپائی کے اس دورے کو مسئلہ کشمیر اور پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے ایک یادگار دورہ قرار دیا جاتا ہے۔

تاہم اس دورے کے کچھ ہی عرصے کے بعد دونوں ملکوں میں کارگل کی لڑائی ہوئی جس کے نتیجے میں مسئلہ کشمیر کے حل کی کوششیں ایک بار پھر کھٹائی میں پڑ گئیں۔ پاکستان میں جنرل پرویز مشرف کے برسراقتدار آنے کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات سرد مہری کا شکار ہو گئے۔ تاہم، واجپائی نے اپنی دوسری مدت کے دوران صدر مشرف کو آگرہ آنے کی دعوت دی جہاں دونوں رہنماو¿ں میں کشمیر کے مسئلے کے حل کے سلسلے میں جامع مذاکرات ہوئے، لیکن مسئلہ ابھی تک نہ صرف حل طلب ہے بلکہ اس میں بھارت کی انتہا پسندی پر مبنی پالیسیوں کے باعث مزید پیچیدگیاں پیدا ہو چکی ہیں۔

بھارت تو 5 اگست 2019 ءکے اقدام سے اپنے تئیں مسئلہ کشمیر کو اپنا اندورنی مسئلہ بنا چکا ہے لیکن زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔ بھارت کا یہ فیصلہ کشمیریوں کو کسی صورت قبول نہیں۔ وہ صرف اور صرف بھارتی استبداد سے آزادی چاہتے ہیں، آزادی سے کم کچھ نہیں۔ کشمری عوام آزادی کے لئے لڑ رہے ہیں اور پاکستان اخلاقی و سفارتی لحاظ سے ان کے ساتھ ہے، اور اس وقت تک رہے گا جب تک انہیں آزادی مل نہیں جاتی۔ بھارت اور دنیا کو اس بات کا داراک کر لینا چاہئے کہ اس مسئلہ کشمیر کا بہترین حل استصوابِ رائے ہے، اور اس پر عمل اس وقت ہی ہو سکتا ہے کہ کشمیریوں کو آزادی سے ان کی رائے کا اظہار کرنے کا موقع دیا جائے، اگر اس میں تساہل برتا گیا تو مودی سرکار کی کشمیر میں زیادہ سے زیادہ ہندوو¿ں کی آباد کاری کی پالیسی صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے، اس لئے پاکستان کو عالمی برداری کو اس بات پر تیار کرنا چاہئے کہ وہ بھارت کو جلد از جلد مسئلہ کشمیر استصوابِ رائے کے ذریعے حل کرانے پر آمادہ کرے کیونکہ اب یہ مزید تاخیر کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

٭


ای پیپر