امریکہ کا طالبان سے بڑا مطالبہ
04 فروری 2020 (00:49) 2020-02-04

واشنگٹن:امریکا کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے طالبان سے واضح ثبوت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے نتیجے میں امن معاہدے پر دستخط اور امریکی فوجیوں کے انخلا سے قبل کشیدگی میں کمی آسکتی ہے۔

امریکی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق مائیک پومپیو نے ازبکسان میں نیوز کانفرنس میں کہا کہ معاہدے کے قریب ہیں لیکن اس سے پہلے بھی قریب پہنچے تھے مگرناکام ہوئے تھے کیونکہ طالبان سنجیدگی دکھانے میں ناکام ہوئے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ مزید کام کرنا باقی ہے تاکہ امن مذاکرات شروع کیے جاسکیں۔امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ نے کہا کہ ہم امن اور مصالحتی منصوبے پر کام کرر ہے ہیں جس میں کوما کو درست جگہ لگا رہے ہیں اور جملوں کو بھی ٹھیک کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم پہلے بھی معاہدہ کرنے کے قریب تھے، ایک کاغذ کا ٹکڑا جس کو ہم نے مشترکہ طور پر بنایا تھا اور طالبان اپنی مرضی یا صلاحیت یا دونوں وجوہات کے باعث کشیدگی میں کمی لانے کے لیے اس پر عمل نہیں کرپائے تھے۔

طالبان سے امن معاہدے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب ہم ان سے کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنے ارادوں اور صلاحیت کا ثبوت دکھانے کا مطالبہ کررہے ہیں تاکہ کم کشیدگی کے ماحول میں خطرات کم کیے جائیں اور انٹرا افغان مذاکرات ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم پرامید ہیں کہ وہ سب کچھ حاصل کر سکیں گے لیکن ہم اب تک متعلقہ پوزیشن پر نہیں ہیں اور کام کرنا باقی ہے۔مائیک پومپیو کا افغان امن عمل کے حوالے سے بیان امریکی نمائندے برائے افغانستان زلمے خلیل زاد کے دورے کے دو روز بعد سامنے آیا ہے جنہوں نے کابل میں افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات میں کہا تھا کہ طالبات سے مذاکرات میں اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

زلمے خلیل زاد نے کوئی وضاحت دیے بغیر کہا تھا کہ وہ کشیدگی کم کر کے طالبان کے ساتھ اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے پرامید ہیں۔زلمے خلیل زاد کابل جانے سے اسلام آباد پہنچے تھے جس کے حوالے سے امریکی سفارتخانے کا کہنا تھا کہ زلمے خلیل زاد طالبان کو حملوں میں کمی لانے اور معاہدے پر پاکستان کی حمایت حاصل کرنے کے لیے آئے ہیں 18 سال سے جاری افغان جنگ کو ختم کرنے کے لیے امن معاہدے کی جانب پہلا قدم ہے۔خیال رہے کہ طالبان نے امریکی نمائندے کے دورے سے قبل ایک بیان میں کہا تھا کہ انہوں نے امن معاہدے پر دستخط کے لیے زلمے خلیل زاد کو 10 روزہ جنگ بندی کا ایک موقع فراہم کیا تھا جس کو انٹرا افغان مذاکرات میں بھی جاری رکھا جائے گا۔

یاد رہے کہ امریکا نے 11 ستمبر 2001 میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں حملے کے بعد افغانستان میں القاعدہ و طالبان کے خاتمے کے لیے جنگ کا آغاز کیا تھا جو 18 سال سے زائد عرصے سے جاری ہے اور اس جنگ میں ہزاروں شہری اور فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔امریکا اور طالبان کے درمیان جاری اس جنگ کے خاتمے کے لیے دونوں فریقین کے درمیان اکتوبر 2018 میں مذاکرات شروع ہوئے تھے اور ایک سال سے زائد عرصے جاری رہے تھے۔

گزشتہ برس ستمبر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے طالبان کے ساتھ امن مذاکرات اچانک ختم کرنے کا اعلان کردیا تھا جب افغانستان میں ایک کارروائی میں امریکی فوجی کو مارا گیا تھا جبکہ مذاکرات حتمی مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں۔زلمے خلیل زاد نے طالبان اور افغان حکومت کے درمیان براہ راست مذاکرات کی کوشش بھی کی تھی اور ایک دور منعقدہ ہوا تھا جس کے بعد طالبان نے اشرف غنی کی حکومت کو امریکی کٹھ پتلی قرار دیتے ہوئے مذاکرات نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔


ای پیپر