نئی ویزہ پالیسی اور سیاحت کا فروغ۔۔۔مگر یہاں آئے گا کون ؟
04 فروری 2019 (23:57) 2019-02-04

جیسے جیسے دنیا سمٹ کر ایک عالمی گاو¿ں کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے، ہر ملک کی یہ خواہش شدت اختیار کر رہی ہے کہ وہ دیگر ممالک کے شہریوں کو ایسی سہولیات فراہم کرے کہ وہ زیادہ سے زیادہ اس ملک میں آئیں اور اس کی اکانومی میں بہتری کا سبب بنیں۔

ہر ملک غیر ملکی Visitorsسے زیادہ سے زیادہ رزمبادلہ کما کر اپنی سیاست کو مزید فروغ دینے کا متمنی نظر آ رہا ہے۔ مگر پاکستان کی سابق حکومتیں اس حوالے سے ناقص اور غیر مو¿ثر حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھتی رہیں جس کی بدولت آج سیاحوں کو فروغ دینے اور اپنی ثقافت کے پرچار کے حوالے سے پاکستان کا نمبر 73 واں ہے۔ حیران کن بات تو یہ ہے کہ اس فہرست میں افریقی ممالک بھی ہم سے آگے ہیں۔ اور اب جبکہ وفاقی حکومت نے 50 ممالک کو آن ارائیول ویزہ یعنی ایئرپورٹ پر داخلے کی سہولت اور دیگر 175 ممالک کے شہریوں کو ای ویزا سہولت دینے کا فیصلہ کیا ہے تو حقیقت سے واقفیت رکھنے والا ہر فرد اس سوچ میں گم ہے کہ کوئی ہمارے ملک میں کیوں آئے گا؟ کیا ہم ثقافت کے فروغ میں پیش پیش ہیں یا ہم بہت پیچھے رہ گئے ہیں، یہاں نہ تو اب ماضی کی طرح ثقافتی میلوں کا انعقاد کیا جاتا ہے، نہ کھیل ہو رہے ہیں، نہ سیاحوں کو عالمی درجے کی سہولیات دی جا رہی ہیں اور نہ ہی امن و امان کی کوئی گارنٹی دی جا سکتی ہے۔ اگر موجودہ حکومت کی مذکورہ سہولت کی بات کی جائے تو اس سہولت سے طالب علم کی بھی فیضیاب ہوں گے جنہیں مختلف مدتوں کے لئے پاکستان میں داخلے اور قیام کی سہولت میسر آئے گی اسی طرح برٹش اور امریکن پاسپورٹ رکھنے والے بھارتی باشندوں کو بھی آن ارائیول ویزہ مل سکے گا اس سے قبل انہیں اپنے ملکوں میں پاکستانی سفارتخانے سے رجوع کرنا پڑتا تھا اس فیصلے کو پاکستان میں فروغ سیاحت کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

صحافیوں کو بھی لانگ ٹرم اور شاٹ ٹرم ویزے کی سہولت میں شامل رکھا گیا ہے۔ بلاشبہ حکومتی اقدام سے ایک طرف سیاحت دوسری طرف سرمایہ کاری کے شعبوں میں دنیاکو متوجہ کیا جاسکے اوراس کے بہتر نتائج برآمد ہوںگے۔ حکومتی پالیسی ہے کہ پاکستان کا مثبت امیج دنیا کے سامنے جائے اور اس میں کوئی دو آراءنہیں کہ آج کا پاکستان سرمایہ کاری، سیاحت ، اسپورٹس اور دیگرشعبوں میں ایک مثبت شناخت کے ساتھ سامنے آ سکتا ہے۔ آن ارائیول ویزا سہولت میں امریکہ،کینیڈا، روس، فرانس، جرمنی، برطانیہ بھی شامل ہیں ایاٹا سے منظور شدہ ٹریول آپریٹرز کو سیاحوں کو لانے کی اجازت دی جا رہی ہے اس طرح کینیڈا اور برطانیہ کا پاسپورٹ رکھنے والے بھارتی سکھوں کو رعایت دی گئی ہے۔

بزنس ویزہ کی سہولت پہلے68 ملکوں کو حاصل تھی جو اب96 ملکوں کے لئے کردی گئی ہے اس سہولت کا ایک خوش آئند پہلو یہ بھی ہے کہ سرمایہ کاری بورڈ کو بھی خصوصی اختیارات دیئے گئے ہیں اور اس کی سفارش پر ورک ویزوں کا اجراءہو سکے گا۔ اسی طرح فیملی وزٹ کو بھی اس کٹیگری میں شامل کرتے ہوئے7 سے 10دن میں 5 برس کے لئے ملٹی پل ویزہ دینے کا بھی اعلان ہوا ہے۔ پاکستان نژاد غیر ملکیوں اور ان کے اہل خانہ کو بھی 5 برس کے ویزے مل سکیں گے۔ اس فہرست میں تبلیغی ویزہ کا ذکر ہے جو45 دن کا اور مشنری ویزہ ایک برس کے لئے ہوگا اس پالیسی میں پاکستان کی نظریاتی اساس اور سکیورٹی مقاصد کو بھی سامنے رکھا گیا ہے جس کے تحت مخصوص کنٹونمنٹ ایریاز میں غیر ملکیوں کی آزادانہ نقل و حرکت ممنوع ہو گی۔ بھارت اور بنگلہ دیش کو طریق کار کے مطابق ویزہ ملے گا۔ نیز اسرائیلی شہریوں کو ویزے کی سہولت کی فہرست سے باہر رکھا گیا ہے۔ عمومی طور پر حکومتی پالیسی کا خیر مقدم کیا گیا ہے اور اسے پاکستان کے دنیا بھرکے سامنے مثبت چہرہ پیش کرنے کی کوشش قرار دیا جارہا ہے اس پالیسی کا ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ70 برس کی حکومتوں میں پہلی بار اتنے بڑے پیمانے پر ویزا پالیسی میں ردو بدل سامنے آیا ہے اور29 شعبوں کے لئے ویزا طریق کار میں تبدیلیوں سے سرمایہ کاروں اور سیاحوں کو ترغیب ملے گی کہ وہ پاکستان کارخ کریں یہ ایسا حکومتی اقدام ہے جس کے مثبت اور غیر معمولی کا کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔

لیکن سوال یہ ہے کہ جن ملکوں کے شہریوں کے لیے پاکستان ارائیول ویزوں کا اہتمام کیا جا رہا ہے اُن کے لیے ہم نے کیا کیا ہے؟ کسی بھی ملک کی پہچان میں اس کی ثقافت اہم کردار ادا کرتی ہے، جس سے کسی دوسرے ملک کے باشندے کھنچے چلے آتے ہیں لہٰذا ثقافت سے انکار اپنی پہچان مٹانے کے مترادف ہے۔ ثقافت پہچان ہوتی ہے معاشرے کی، طرز زندگی، رہن سہن، زبان، اخلاق ، کھانوں کا نام ہی ثقافت ہے۔ دور حاضر میں کچھ قوموں کے سوا اکثریت اپنی تہذیب و ثقافت سے ناآشنا ہیں۔ آباءو اجداد کی زندگی تاریخ کا حصہ بنتی جا رہی ہے جس کی وجہ تہذیب و ثقافت کو زندہ رکھنے میں کوتاہی ہے۔ زندہ قومیں اپنی ثقافت اور طرز زندگی کو اپناتے ہوئے زندگی کے ہر شعبے میں آگے بڑھنے کی تگ و دو میں لگی رہتی ہیں۔ اپنے قیمتی اثاثوں کو ماضی کا حصہ قرار دے کر اغیار کی طرز زندگی کو اپنانے میں دلچسپی نہیں لیتیں۔

نت نئی ایجادات کی بدولت پرانا طرز زندگی، ثقافت، رسم و رواج اور طور طریقے لوگوں کے ذہنوں سے اوجھل ہوتے جا رہے ہیں۔ ایسے میںکچھ نہ کچھ اپنی تہذیب و ثقافت سے جڑے رہنے میں ہی عافیت ہے۔ تہذیبی وثقافتی عروج و زوال لازم و ملزوم ہیں لیکن یہ بات ذہےن میں رکھنی چاہئے کہ قوم کی پہچان اس کی ثقافت اور تہذیب و تمدن سے ہی کی جاتی ہے۔ پاکستان دنیا کا ایک ایسا ملک ہے جہاں کی ثقافت دھنک کے مختلف رنگوںکا مرقع دکھائی دیتی ہے جن میں مہمان نوازی سرفہرست قرار دی جا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کسی بھی خطے سے تعلق رکھنے والے لوگ ہماری مہمان نوازی کی بدولت بہت جلد گھل مل جاتے ہیں جو بھی ایک مرتبہ ہمارے پیارے وطن آتا ہے اور یہاں کے لوگوں سے ملتا ہے، وہ دوسری آنے اور لوگوں سے ملنے کی تشنگی اور خواہش رکھتا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ دوسروں کو بھی پاکستانیوں کی مہمان نوازی کی مثالیں دیتا نظر آتا ہے۔ یہ صورتحال صرف شہروں تک ہی محدود نہیںبلکہ دیہات میں بھی چلے جائیں، وہاں بھی مہمانوں کو بہت زیادہ عزت دی جاتی ہے۔ انواع و اقسام کے کھانوں سے تواضع کی جاتی ہے۔ ایسے تحائف دیئے جاتے ہیں جو علاقائی ثقافت کی عکاسی کرتے ہیں، جنہیں مہمان مدتوں یاد رکھتا ہے۔لہٰذاان سب چیزوں کو عالمی سطح پر پروموٹ کرنے کی ضرورت ہے۔

کھانوں کی بات کی جائے تو ہر علاقے کی مناسبت سے یہ مختلف ہوتے ہیں۔ کچھ سادہ کھانا پسند کرتے ہیں تو کچھ چٹخارے دار۔ جنوبی ایشیا میں پاکستان کے ثقافتی کھانوں میں ایک خاص مقام ہے۔ جس طرح پاکستان مختلف زبانوں اور ثقافتوں کو خود میں سمیٹے ہوئے ہے، اسی طرح مختلف علاقائی کھانے بھی پاکستان کی خوبصورتی اور ثقافتی تنوع کا مظہر ہیں۔ ہر علاقے کی کھانے پینے کی اشیاءقدرے مختلف ہیں۔

بات ہو رہی تھی نئی ویزہ پالیسی کے حوالے سے تو ہمیں زمینی حقائق کو مدنظر رکھ کر بات کرنی چاہیے ؟ کیونکہ جب ہمارے ملک میں کہیں کوئی ”ثقافتی سرگرمی“ نظر نہیں آئے گی تو کوئی کیوں کر پاکستان آئے گا؟ آج ہمارے سرد مقامات پر برف باری ہو رہی ہے اور خبریں آرہی ہیں کہ اتنے سیاحوں کو تین دن بعد ریسکیو کیا گیا ہے.... اور یہ خبریں بھی زیادہ دور سے نہیں اسلام آباد سے محض 50 سے 80کلومیٹر دور کے مقامات سے آرہی ہیں۔ جب ہم لوگ پاکستانی سیاحوں کو وہ سہولیات نہیں دے سکتے جو دی جانی چاہیئں تو ہم کیسے بلند و بانگ دعوے کر سکتے ہیں کہ بیرون ملک سے جوق در جوق سیاح پاکستان کے موسم سے لطف و اندوز ہونے آئیں گے.... یہاں ذرا سی موسمی خرابی کے باعث رابطہ سڑکیں بند ہو جاتی ہیں، ذرا سی برف باری کے بعد دوعلاقوں کا زمینی رابطہ خطرے میں پڑ جاتا ہے.... تھوڑی سی بارش زیادہ ہونے پر سیلاب کی سی کیفیت ہو جاتی ہے.... اور پھر کہیں 5 سٹار ہوٹل تو دور کی بات سیاحتی مقامات پر تھری سٹار یا فور سٹار سہولیات ہی نہیں ہیں.... سکیورٹی کی گارنٹی کوئی نہیں دے سکتا....

اگر پاکستانی ثقافت کی بات کی جائے تو یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ہماری قوم جس ثقافت کو بیان کرتی ہے۔ پاکستانی ثقافت کی سب سے بڑی اور خاص بات یہ ہے کہ اس میں مختلف تہذیبوں نے شامل ہو کر اس کے رنگ کو مزید نکھار ا، کہیں کشمیری رنگ ، کہیں سندھی رنگ ، کہیں صوفیانہ رنگ ، کہیں پشتو رنگ اور کہیں پنجاب کے رنگ نظر آتے ہیں۔

یہ بات بھی سچ ہے کہ پاکستانی ثقافت پر اسلام کی واضح ایک چھاپ ہے۔ آج کے پاکستان کی طرز زندگی، خوراک ، لباس ، مذہب ، رجحانات ، فنون اور دیگر پہلو گزشتہ ہزاروں سال کے اثرات قبول کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستانی ثقافت کی خصوصیات جن میں مخلوط ثقافت ، لباس ، غذائیں ، رسم و رواج ، میلے اور عرس ، کھیل اور تہوار پائے جاتے ہیں۔ہم ان میلوں ٹھیلوں کو کیش کر وا سکتے ہیں۔ مخلوط ثقافت جس میں دنیا بھر کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے لوگ پاکستانی علاقوں میں آکر بس گئے۔ جن میں ایرانی ، وسطی ایشیائی ، تورانی ، عربی ، یونانی ، عراقی ، اور یورپی شامل ہیں۔ جو گروہ بھی آیا اپنے ہمراہ اپنی رسومات ، روایات ، لباس ، خوراک اور اپنی زندگیاں گزارنے کے انداز لے کر آیا ان گروہوں نے ایک دوسرے پر اثر ڈالا اور ایک ملی جلی ثقافت سامنے آئی۔

پاکستان کا معاشرہ اور ثقافت مغرب میں بلوچ اور پشتون اور قدیم درد قبائل جیسے پنجابیوں، کشمیریوں، مشرق میں سندھیوں، مہاجرین، جنوب میں مکرانی اور دیگر متعدد نسلی گروہوں پر مشتمل ہے جبکہ شمال میں واکھی، بلتی اور شینا اقلیتیں۔ اسی طرح پاکستانی ثقافت ترک عوام، فارس، عرب، اور دیگر جنوبی ایشیائی، وسطی ایشیاءاور مشرق وسطی کے عوام کے طور پر اس کے ہمسایہ ممالک، کے نسلی گروہوں نے بہت زیادہ متاثر کیا ہے۔ کسی بھی معاشرے کے افراد کے طرزِ زندگی یا راہ عمل جس میں اقدار ، عقائد ، ر سم ورواج اور معمولات شامل ہیں ثقافت کہلاتے ہیں، ثقافت ایک مفہوم رکھنے والی اصطلاح ہے اس میں وہ تمام خصوصیات ( اچھائیاں اور برائیاں ) شامل ہیں جو کہ کسی بھی قوم کی پہچان ہوتی ہیں دنیا میں انسانی معاشرے کا وجود ٹھوس ثقافی بنیادوں پر قائم ہے انسان ثقافت و معاشرہ لازم و ملزوم ہیں ، ہم ان کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کر سکتے ۔ لہٰذاہمیں اُن ملکوں کو Followکرنا ہوگا جن کا دارومدار ہی سیاحت پر ہے اور اس حوالے سے بجٹ کا بھی تعین کرنا ہو گا اور اگر کہیں سیاحوں کے لیے سبسڈی کا اعلان بھی کرنا پڑتا ہے تو کیا جائے تاکہ سیاحوں کا اعتماد بحال ہو اور ملک حقیقی معنوں میں ترقی کی راہ پر چل پڑے ۔


ای پیپر