Image Source : Facebook

تحریک انصاف حکومت نے غریبوں کی سب سے بڑی مشکل دور کر دی
04 فروری 2019 (21:30) 2019-02-04

اسلام آباد:وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ صحت کارڈ کے اجراءکرکے بہت بڑے وعدے کی تکمیل کی گئی ، صحت کارڈ پروگرام سے غریبوں کو تحفظ فراہم کریں گے، صحت کارڈ سے 7 لاکھ 20 ہزار روپے تک کا علاج بالکل مفت ہوگا، 20 فروری سے پنجاب کے 4 اضلاع میں صحت کارڈ پروگرام شروع ہوگا، پہلے مرحلے میں صحافی برادری، کیمرا مینوں کو بھی شامل کیا گیا ہے.

غریب آدمی کو بہترین طبی سہولتوں کی فراہمی اولین ترجیح ہے، صحت کارڈ خیبر پختونخوا سے شروع کیا گیا تھا، فنکاراور صحافیوں کو خصوصی طور پرصحت کارڈ پروگرام میں شامل کیا گیا ہے، غربت کے خاتمے کے لئے کام کرنے والی آرگنائزیشن کو اکٹھا کر رہے ہیں، صحت کارڈ سے غریب آدمی کو علاج کی بہترین سہولتیں ملیں گی، زرداری صاحب ان کے بچوں کا وقت زیادہ تر دبئی میں گزر ا ہے، میاں صاحب کے خون میں این آراو کی کمی پائی گئی ہے، انھیں صحت عطا فرمائے، صحت کارڈ پروگرام کے پہلے مرحلے کا آغاز کردیاہے ، میڈیا ورکرز کیلئے بھی خصوصی صحت پیکج شروع کررہے ہیں۔

صحت کارڈ کا بنیادی مقصد غریب طبقے کو طبی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ اب صحت کارڈ 7لاکھ 20ہزار روپے تک کا علاج فری کیا جاسکے گا چاہیے وہ سرکاری یا پرائیویٹ اسپتال جائیں علاج کرواسکیں گے جبکہ وزیر صحت عامر کیانی نے کہا کہ صحت انصاف کارڈ کے لئے مختلف ذرائع سے فنڈز جمع کئے جا رہے ہیں، پاکستان کے غریب طبقے کو سطح غربت سے اوپر لانا ہے،دوردراز علاقوں میں رہنے والوں کوایک ہزار روپے ٹرانسپورٹ کی مد میں دیں گے، خدانخواستہ کسی کا انتقال ہوتا ہے، تو تدفین کے لئے 10 ہزار روپے بھی دیں گے، عوام کو آمدنی کی بنیاد پر 3 کیٹیگری میں تقسیم کر کے صحت کارڈ دیا جائے گا، صحت کارڈ کے لئے آمدن کے لحاظ سے نشان دہی کر کے شہریوں کو بلایا جائے۔

پیر کو یہاں وفاقی وزیر نیشنل ہیلتھ سروسز اینڈ ریگولیشن عامر محمود کیانی اور وفاقی وزیرا طلاعات نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا ۔اس دوران وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات نے کہا ہے کہ 20فروری سے پنجاب میں ایک کروڑ لوگوں کو بھی صحت کارڈ ملنا شروع ہوجائیں گے۔ صحت کارڈ پروگرام کے پہلے مرحلے کا آغاز کردیاہے۔ ہم میڈیا ورکرز کیلئے بھی خصوصی صحت پیکج شروع کررہے ہیں۔ صحت کارڈ کا بنیادی مقصد غریب طبقے کو طبی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ اب صحت کارڈ 7لاکھ 20ہزار روپے تک کا علاج فری کیا جاسکے گا چاہیے وہ سرکاری یا پرائیویٹ اسپتال جائیں علاج کرواسکیں گے۔ پہلے ہم نے یہ خیبر پختونخوا میں شروع کیا۔ اب 20فروری سے پنجاب کے 4اضلاع میں صحت کارڈ پروگرام شروع کیا جائے گا۔ پنجاب کے ایک کروڑ خاندان اس سے مستفید ہوسکیں گے۔ وفاقی وزیر صحت کا بہت مشکور ہوں کہ انہوں نے پہلے ہی مرحلے میں تمام صحافیوں اور آرٹیسٹوں کو اس پروگرام میں شامل کیا ہے۔ وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ صحت انصاف کارڈ سے ہر خاندان کو 7لاکھ 20ہزار کی انشورنس ملے گی۔ اس پروگرام کو سٹیٹ لائف انشورنس کے تحت چلایا جائے گا۔ اس میں پیوند کاری کے علاوہ امراض قلب، کینسر ، زچہ بچہ ایمرجنسی کی صورتحال میں تمام کوکوریج ملے گی۔

وزیر صحت نے کہا کہ اس میں طبی سہولیات سے متعلق تمام امراض اس میں شامل ہیں۔ اسی لیے ہم نے پسماندہ طبقے سے شروع کیا۔ صحت کارڈ جیسا اقدام پاکستان کی تاریخ میں کسی حکومت نے نہیں اٹھایا۔ وزیراعظم عمران خان کا بھی یہی وژن ہے کہ پسماندہ طبقے کی بنیادی سہولیات زندگی تک رسائی کو ممکن بنایا ہے ہم نے غریب عوام کا معیار زندگی بلند کرنا ہے۔ وزیر صحت نے کہا کہ صحت کارد کی بدولت مریض کو 100روپے کا ٹرانسپورت خرچہ بھی دیا جائے گا۔ خدانخواستہ کسی مریض کی موت ہوتی ہے تو ورثاءکو تدفین کیلئے 10ہزار روپے دیئے جائیں گے۔ صحت کارد پروگرام کی مانیٹرنگ نادرا کررہا ہے۔ جس کیلئے حکومت نے نادرا کو 600ملین روپے دیئے ہیں۔ نادرا اس پروگرام کی لائیو مانیٹرنگ کرے گا۔ جیسے ہی صحت کارد استعمال ہوگا تو کارڈ کے مالک کو کال بھی آئے گی اور دیگر تمام معلومات بھی فراہم کردی جائیں گی۔ وزیر صحت عامر محمود کیانی نے کہا ہے کہ یہ ایک بڑا جامع منصوبہ ہے جو کے پی کے میں شروع کیا گیا اب اسے پنجاب کے اندر پھیلایا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں اسلام آباد اور فاٹا کے افراد مستفید ہوسکیں گے۔

پہلے مرحلے میں ہم خود مستحقین کو کارڈ فراہم کریں گے بعد میں اس کو بائی پوسٹ لوگوں تک پہنچایا جائے گا۔ تنخوا دار طبقے کیلئے بھی جلد پیکج لانچ کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ صحت کارڈ کے پہلے مرحلے میں ہم نے محروم طبقے کیلئے کام کرنے والی ارگنائزیشن بینظیر انکم سپورٹ اسکیم، بیت المال، زکواة فنڈ اور صوبوں کے اداروں کو ہم نے اکٹھا کیا ہے اور ڈاکٹر شانیہ نشتر کو اس کا سربراہ مقرر کیا ہے۔ جن لگوں کی انکم دو یا 3ڈالر سے کم ہے ان کا ڈیٹا پہلے سے ہی نادرا کے پاس ہے ان کو یہ صحت کارڈ فراہم کیا جائے گا۔ جن لوگوں کی ماہانہ آمدنی 75ہزار روپے ڈیرہ لاکھ سے زیادہ ہے ان کیلئے بھی انشورنس پیکج ہے جس میں کچھ حکومت رقم دے گی اور کچھ یہ لوگ خود جمع کرائیں گے۔ یہ رقم اتنی زیادہ نہین ہوگی ۔ اس طرح ہمارا سب تنخواہ دار طبقہ اس پروگرام سے مستفید ہوسکے گا۔ اس طرح سرکاری اسپتالوں پر بوجھ بھی کم ہوگا عوام سرکاری و غیر سرکاری اسپتالوں بھی مستفید ہوسکیں گے۔


ای پیپر