مکالمہ ضرور کریں
04 فروری 2019 2019-02-04

چیف جسٹس آف پاکستان،مسٹر جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کے ریاستی اداروں کے درمیان مکالمہ سے متعلق ریمارکس ایک بار پھر اس موضوع کو نیا کردیا ہے۔ گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں منعقدہ ایک مکالمے میں بھی مقررین نے اس طرح کا مکالمہ کرنے پر زور دیا۔ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے اعزاز میں منعقدہ ل کورٹ ریفرنس کے موقع پر چیف جسٹس آف پاکستان،مسٹر جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے تجویز دی کہ صدر پاکستان سے ریاستی اداروں کے مابین ڈائیلاگ کے لئے ایک سیمینار بلانے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہاہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ ایک چارٹر آف گورنس تشکیل دیا جائے، کہ آئندہ ماضی کی غلطیوں کو نہیں دہرایا جائے گا، مجوزہ سیمینار میں اعلیٰ پارلیمانی قیادت، اعلیٰ عدالتی قیادت اور اعلیٰ انتظامی قیادت (بشمول آرمڈ فورسز اور انٹیلی جنس ایجنسیاں) شمولیت اختیار کرکے ماضی کے زخموں پر مرہم رکھ کر زخموں کو مندمل کرنے کی کوشش کریں ،اور ایک قابل عمل پالیسی فریم ورک کے لئے کام کیاجائے تاکہ ریاست کا ہر ستون اپنے اپنے دائرہ کار کے اندر رہ کر کام کرے، اس ساری پریکٹس کا مقصد آئین، قانون اور جمہوریت کو مضبوط بنانا ہے تاکہ تمام ستون اس ملک کے شہریوں کے اصل مسائل پر توجہ دے سکیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پالیسی معاملات میں عدالتوں کی مداخلت پر بھی بات ہونی چاہئے، ہم تسلیم کریں کہ اداروں میں اعتماد کا فقدان رہا ہے اور ہر ایک کی اپنی وجوہ ہیں، اب یہ مسئلہ حل ہونا چاہئے۔اداروں کے درمیان مکالمہ کی تجویز ماضی بھی آتی رہی ہے ۔لیکن ماسوائے چند ابتدائی کوششوں کے کوئی عملی پیش رفت نہیں ہو سکی ۔

سیاست میں غیر سیاسی اداروں کی مداخلت کی طویل تاریخ ہے۔ ضیاء الحق نے آئین میں فوج کا کردار متعین کرنے کی کوشش بھی کی تھی۔ جس کو بعد میں ایک حد تک آرٹیکل 58-2(b) ی شکل میں آئینی شکل دے دی گئی۔ بینظیر بھٹو کے دوسرے دور حکومت میں ٹرائیکا وجود میں آیا۔ صدر، وزیراعظم، اور آرمی چیف تقریبا ہر ہفتے ملاقات کرتے تھے اور مخلتف ملکی معاملات پر غور کرتے تھے اور فیصلے کرتے تھے۔ 2013 میں سول اور ملٹری مکالمے کے لئے وزیراعظم کی سربراہی میں فوجی کمانڈرز اور بعض اہم وزراء پر مشتمل نیشنل سیکیورٹی کونسل بنائی گئی۔ اس فورم کے اجلاس نواز شریف کے دور میں بھی ہوتے رہے۔یہ کونسل اب بھی موجود ہے۔ جسمیں سول اور عسکری ادارے ملکی معاملات پرایک دوسرے سے باضابطہ مکالمہ اور فیصلے ہوتے رہے ہیں۔ 2008 کے بعد ملک کو جڈیشل ایکٹوازم کے تجربے سے گزرنا پڑا۔ جڈیشل ایکٹوازم کے اثرات کو2013 کے بعدحکومت اور پارلیمنٹ محسوس کیا جیسے وہ بااختیار نہیں۔ پاناما لیکس کے بعد نیب اور ایف آئی اے بھی بطور مضبوط ادارے کے سامنے آئے۔یہ کہا جانے لگا کہ ریاستی اور حکومت ادارے ایک دوسرے سے الجھ رہے ہیں۔ نیشل سیکیورٹی کونسل اور پارلیمانی کمیٹیوں کے چینلزکے باوجود وسیع تر ڈائلاگ کا آئیڈیا مسلسل آتا رہا۔ حال ہی میں موثر ترین آواز چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی ہے۔ اس تجویز پر تعجب کا اظہار کیا جارہا ہے کہ عدلیہ کے سربراہ کی طرف سے یہ تجویز آرہی ہے۔

ماضی قریب میں رضا ربانی بطور چیئرمین سینیٹ نے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کو 2015 میں سینیٹ کمیٹی کو خطاب کرنے کی دعوت دی۔ 2017میں آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے سینٹ کمیٹی کو بریفنگ دی۔

گزشتہ سال سینیٹ چیئرمین رضا ربانی نے چیف جسٹس ثاقب نثار سے ملاقات کی اور ججز کے تقرر کے حوالے سے پارلیمانی کمیٹی کے اختیارات کم کرنے پر تحفظات کا اظہار کیا۔ اگست 2017 میں سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی نے یہ آئیڈیا پیش کیا کہ ایک ایسے فریم ورک پر اتفاق رائے قائم کرنے کی ضرورت ہے جس کے تحت ریاست کے تمام ادارے 1973 کے آئین کے تحت کام کریں ۔ انہوں نے اس مکالمے کے لئے سینیٹ کے پلیٹ فارم کی پیش کش کی تھی۔ بعد میں انہوں نے سینیٹ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اس تجویز کو دہرایا تھا۔ رضا ربانی کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ ملک کا کمزور ترین ادارہ ہے۔ جس کو ماضی میں مارشل لا کے ذریعے کام نہیں کرنے دیا گی اور اب مختلف طریقے استعمال کئے جارہے ہیں۔ چیف جسٹس کے حالیہ ریمارکس پر رضا ربانی کہتے ہیں کہ ریاستی اداروں کے درمیان مکالمے کے لئے صدر کے بجائے پارلیمنٹ کا استعمال کیا جائے۔ صدارت کے عہدے کا ماضی میں اچھا ریکارڈ نہیں رہا۔ اس عہدے نے آئین کی شق 58-2 (b) کا استعمال کیا۔ یہ ادارہ سیاست کا مرکز بنا رہا۔ انہوں نے اس وجہ سے صدر کے کردار کی مخالفت کی۔ ان کا خیال ہے کہ اس کام میں صدر کو جوڑنے سے پارلیمنٹ کا درجہ گھٹانے اور ملک میں صدارتی نظام رائج کرنے کی باتوں کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ ملک کو درپیش پیچیدہ مسائل کا حل اداروں کے درمیان مکالمے میں ہے۔ پیپلزپارٹی جسٹس کھوسہ کی تجویز پر زیادہ پرجوش ہے۔ فرحت اللہ بابر نے چیف جسٹس کی اس تجویز کو سراہا ہے۔ نواز لیگ نے اس تجویز کا خیر مقدم کیا ہے تاہم وہ اس کو آئینی حدود میں دیکھنا چاہ رہی ہے۔ اس ضمن میں پارٹی کی ترجمان مریم اورنگزیب کا بیان بھی اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ حکمران جماعت تحریک انصاف اس تجویز پر زیادہ پرجوش نہیں۔ پی ٹی آئی کے سینیٹ میں رہنما شبلی فراز کہتے ہیں کہ چیف جسٹس کے ان ریمارکس کی مزید وضاحت کی ضرورت ہے۔ کیونکہ تمام ادارے پہلے سے ایک صفحے پر ہیں۔ تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ ملک کو جس طرح سے چلنا چاہئے اس طرح نہیں چل رہا ہے۔ 90 کے عشرے کے بعد ملک میں رونما ہونے والے سیاسی حالات اور واقعات کے بعد یہ سوچ شدت سے محسوس کی جارہی ہے کہ ملک کے اداروں کے درمیان مکالمہ ہونا چاہئے۔ مختلف اوقات پر شکایات کی وجہ سے یہ خیال اس لئے بھی پختہ ہوا کہ مختلف ادارے اپنے حدود سے تجاوز کر رہے ہیں۔ اور دوسرے ادارے کے دائرے میں ’’مداخلت‘‘ کر رہے ہیں۔ چیف جسٹس افتخار چوہدری اور اس کے بعد چیف جسٹس ثاقب نثار کے دور میں اس بات کو زیادہ شدت سے محسوس کیا گیا کہ عدلیہ انتظامیہ اور بعض اوقات پارلیمنٹ کے معاملات میں مداخلت کر رہی ہے۔ بعض اوقات عسکری اسٹبلشمنٹ کی ڈکٹیشن کی بھی باتیں ہوتی رہیں۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق جسٹس کھوسہ کے ریمارکس کے اہم نکات میں ماضی میں ریاستی اداروں کی کی گئی غلطیوں کا جائزہ لینا ، اداروں کی ایک دوسرے حدود میں تجاوز کرنا، مقدمات کا التوا، حکومتی دائرے میں فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کا رول، سویلین بلادستی اور اس کے ساتھ سویلین احتساب، اور چارٹر آف گورننس۔ بلاشبہ جسٹس کھوسہ نے بعض اہم امور کی طرف نشاندہی کی ہے۔جن کے حل کئے کوئی راستہ نکالنا چاہئے۔ حکومت کے اداروں کے درمیان رابطہ اور ایک دوسرے سے تعاون ضروری ہے۔ گزشتہ چند سال کا تجربہ بتاتا ہے کہ ہ اداروں کی جانب سے ایک دوسرے کے حدود میں ’’ مداخلت‘‘ یا تجاوز یا ٹکراؤکے رجحان کو اچھا نہیں سمجھا جارہا ہے۔ جس کی وجہ سے پارلیمنٹ اور حکومت جیسے اہم اداروں کو کام کرنے میں دقت پیش آرہی ہے۔ اس کا کوئی حل ضرور نکالنا چاہئے۔ پہلے سے موجود فورم کو موثر بنانکر یہ مقصد حاصل کیا جاسکتا ہے۔کیا عدلیہ کو اس باقاعدہ شکل میں اس فورم کا حصہ ہونا چاہئے؟ آئینی ماہرین کا خیال ہے کہ عدلیہ کو کسی فورم میں فریق بناننے عدلیہ کی غیر جانبداری کا رول متاثر ہونے کا احتمال ہے۔ نیشنل سیکیورٹی کونسل اور مختلف پارلیمانی کمیٹیز موجود ہیں جس کے ذریعے پارلیمنٹ اور عسکری ادارے ایک دوسرے سے مکالمہ کرتے رہے ہیں اور کر سکتے ہیں۔ ان فورمز کو مزید مضبوط بنایا جاسکتا ہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ تمام اداروں کے حدود کا تعین آئین میں موجود ہے۔ لہٰذا آئین سے ہٹ کر کسی نئے مکینزم کی ضرورت نہیں۔


ای پیپر