سیاسی درجہ حرارت اونچا جا رہا ہے
04 فروری 2019 2019-02-04

نریندر مودی اپنی حکومت کا آخری بجٹ پیش کر چکے ہیں جس میں غریبوں کے لیے کافی مراعات ہیں۔ ملازمتیں دینے کے وعدے ہیں دوسری جانب ایک نئی مشکل ان کے لیے کھڑی ہو گئی ہے ۔ ایک بار بھر مشہور سماجی کارکن انا ہزارے نے بھوک ہڑتال کر دی گئے اور حکومت کو دھمکی دی ہے کہ حکومت 5 سال قبل منظور کیے گئے لوک پال بل کو نافذ نہ کیا گیا تو انہوں نے بھوک ہڑتال کے ساتھ اب دھمکی دی ہے کہ وہ (پدم بھوشن) ایوارڈ واپس کر دیں گے۔ یہ معاملہ الیکشن کے ایشو کے طور پر زندہ رہے گا دوسری جانب بی جے پی سرکار کی جانب سے غیر ملکیوں کے لیے شہریت کا قانون نرم کیا گیا ہے مگر اس میں مسلمانوں کو باہر کر دیا گیا ہے ۔ البتہ کشمیر کے بارے میں ان کا جارحانہ رویہ ہے ۔ ان کے دور میں مسلمانوں کے ساتھ جو سلوک ہوا ہے وہ نامناسب ہے نریندر مودی کی حکومت اپوزیشن کے بکھرنے سے خوش تھی۔ مودی کے خلاف یو پی سے جولہر چلی تھی ، اس کا رخ تیزی سے دوسری ریاستوں کی طرف بڑھ رہا ہے خاص طور پر بنگال میں ممتاز بینرجی جو دیدی کے نام سے جانی جاتی ہیں کافی متحرک ہیں۔ گزشتہ انتخاب میں اس بڑی ریاست سے بی جے پی کو 2 نشستیں ملی تھیں۔ یہ ریاست نصف صدتک کمیونسٹوں کا گڑھ رہی اب دیدی کا ڈنکا بج رہا ہے ۔ یہ دیدی کا کمال تھا کہ اس نے یہاں سے 37 لوک سبھا نشستیں جیتی وہ خود بنگال کی وزیراعلیٰ ہیں۔ انہوں نے جنوری میں کلکتہ میں 21 جماعتوں کو اکٹھا کر کے بی جے پی کو شکست دینے کے لیے جو حکمت عملی بنائی تھی اب مودی اور بی جے پی کے صدر امیت شاہ نے سی پی آئی کو ممتا کے خلاف متحرک کر دیا ہے جس کے خلاف انہوں نے کولکتہ کے میٹرو سنیما کے سامنے دھرنا دیا ہے ۔ اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے اس کی مذمت کی ہے ۔ معاملہ اس وقت بگڑا جب سی بی آئی کی ’’شرح ورانت‘‘ کے بغیرپولیس کمشنر کلکتہ کے گھر پہنچ گئی۔ کانگرس اب تگڑی ہو گئی ہے ۔ یہ معاملہ ہائی لائٹ ہو چکا سماج واد پارٹی اور دہلی کی صوبائی سرکار کے علاوہ کانگریس ممتا کے حق میں کھڑے ہیں۔ سیاسی مہم میں کانگریس کو اس وقت کامیابی ملی جب اندرا گاندھی کی پوتی پریانیکا نے سیاست میں آنے کا اعلان کر دیا۔ یہ تبدیلی کیوں اور کیسے ہوئی پریانیکا جو بار بار عملی سیاست میں داخل ہونے سے انکار کرتی رہی آخر وہ کیسے رضا مند ہوئی۔ خود پریانیکا اپنی ڈائری میں لکھتی ہیں رہنمائی مہم شروع کرنے سے پہلے راہول گاندھی نے سونیا گاندھی سے کہا کہ اب پریانیکا کے نام کا اعلان کر دینا چاہیے۔ پریانیکا کے مطابق میں انہیں دیکھتے رہی رہ گئی۔ کیا راہول بابا واقعی ہی بڑے ہو گئے ہیں؟ کہیں تین ریاستوں کی جیت نے اچانک انہیں بڑا تو نہیں کر دیا؟ میں نے مما (سونیا گاندھی) سے کہا کہ مجھے الیکشن لڑنا ہے نہ انتظامی ذمہ داریاں سنبھالنا ہیں جس طرح پچھلے الیکشن (2014ء) میں یہاں اور وہاں جاتی رہی تھی اس بار بھی وہی کام کروں گی مگر راہول یہ سن کر ناراض ہو گئے۔ انہوں نے ’’مما‘‘ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’’پچھلی بار ان کے بچے سکول میں تھے اس بار میں چپ رہا اب بڑا لڑکا کالج جا رہا ہے ۔ بیٹی کالج جانے کی تیاری میں ہے پھر ایسی کونسی مجبوریاں ہیں جس کا بہانہ بنا کر یہ گھر تک محدود رہیں گی۔ ان سے کہیے نہرو اور گاندھی خاندان کی عزت داؤ پر لگی ہے ۔ بدستور خاموش رہیں۔اس پر راہول انہی پر برسنے لگے۔ آپ بھی عجیب ہیں آپ کو ہمارا دیکھ کر میں نے کانگریس کی صدارت قبول کر لی تا کہ جس پارٹی کے لیے ڈیڈی اور دادی نے جان دی وہ پارٹی بے سہارا ہو جائے گی۔ بی جے پی تو یہی چاہتی ہے ایک بار نہرو گاندھی فیملی کانگریس سے الگ ہو جائے بھر ان کے لیے حکومت کرنا آسان ہو جائے گا مگر میں ایک تاریخ ساز اور ملک گیر جماعت کو ایسے معمولی اقتدار کے بھوکے لوگوں کے حوالے نہیں کر سکتا اگر پریانیکا بی جے پی کے راج میں جینے کے لیے تیار ہیں۔ راہول کی باتوں میں وزن تھا ۔ مما کے ماتھے پر شکنیں ابھر آئی تھیں انہوں نے پیار سے میری طرف دیکھا پھر آہستہ سے بولیں راہول اکیلا ہو گیا ہے ۔ اب میں بھی اتنا وقت نہیں دے سکتی تم ساتھ ہو گی تو۔۔۔ یہ کہتے ہوئے ان کی آواز رندھ گئی۔ راہول سر جھکائے بیٹھے تھے۔ ایسے لگا جیسے تھوڑی دیر میں مما سے لپٹ جائیں گے۔ ’’ٹھیک ہے صدر صاحب! ہم آپ کا حکم ماننے کو تیار ہیں مگر ایک شرط پر مما دیکھا آپ نے یہ شرط لگا رہی ہے ’’جی ہاں ہماری شرط یہ ہے کہ اس الیکشن کے بعد آپ اکیلے نہیں رہیں گے؟

پریانیکا گاندھی کی ڈائری جو بھارت کے اخبار میں شائع ہوئی ہے کافی طویل ہے اس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ برصغیر میں موروثی سیاست کا عوام رونا روتے ہیں مگر جب ان کو قیادت جیتنے کا موقع ملتا ہے تو ان کا انتخاب یہی ٹھہرتے ہیں۔ راجیو گاندھی کے قتل کے بعد سونیا گاندھی اپنے بچوں سمیت سیاست سے الگ ہو گئی تو لیڈروں سے گاندھی خاندان کے بغیر کانگریس نہ چل سکی۔آخر کار سونیا گاندھی کو قیادت سنبھالنے کے لیے آگے آنا پڑا۔ 2004ء سے 2014ء تک کانگریس اقتدار میں آئی پھر بی جے پی کو کامیابی ملی۔ نریندر مودی کی حکومت چند ماہ کی مہمان ہے ۔ پرنیکا نے سیاست میں آنے کے بعد پہلا روڈ شو کیا عوام کا ردعمل زبردست تھا جس سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔ بھارت میں خاندانوں کی حکمرانی زوال پذیر نہیں ہو سکتی۔ آندھرا پردیش ہو یا یو پی بہار ہو بال ٹھاکرے کی ریاست خاندانوں کی سیاست چلتی لالو گیا تو بڑی دیوی کو لے آیا چندرا بابو نائید این ٹی را مار اؤ کے جانشین ہیں۔ یہ سب جانشین کی کہانی ہے ۔ بی جے پی سیکولر ریاست میں ہندو راج کی حمایتی ہے ۔ اس نے رام بندر کی تعمیر کے نام پر چار دہائیوں سے جو سیاست کر رکھی ہے اس کا نکتہ عروج 1992ء تھا جب بابری مسجد کو شہید کیا گیا اب بھی مذہب کی سیاست کا ہتھیار حکمران جماعت پھر استعمال کرنے لگی ہے ۔ اپنی اتحادی جماعت کی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کی حکومت جون 2018ء میں ختم کر کے مرکز کے ماتحت مقبوضہ کشمیر کو کر لیا۔ کانگریس ہو بی جے پی یا اتحادی حکومت کشمیر کے ایشو کو دبانے اور اقوام متحدہ سے لے کر آج تک مسئلہ ماننے کے باوجود ’’اٹوٹ انگ‘‘ کا ڈائیلاگ وقفے وقفے سے بولا جاتا ہے اگر یہ کر نہیں سکتے تو پھر اوپن یا بیک ڈور ڈپلومیسی کیوں کرتے ہو۔ کشمیریوں کی اب چوتھی نسل کشمیر کی آزادی کے ایشو کو لے کر چل رہی ہے یہ تحریک بے پناہ جبر کے بعد بھی کم یا ختم نہیں ہوئی۔ 2018ء کا سال تو تباہ کن تھا دنیا نے بھی مودی سرکار کے حربے کو دیکھا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ نریندر مودی کی کشتی کیسے پار لگتی ہے ، ایک اور دھماکہ دار ایشو ہے خاص طور پر الیکٹرونک ووٹنگ مشین کا معاملہ بھی اس وقت بھارتی انتخاب میں اٹھایا گیا ہے خاص طور پر ایک بھارت نژاد ایک امریکی نے یہ معاملہ اس وقت اٹھایا جب جرنلسٹ نے لندن میں ان سے بریفنگ لی اور انہوں نے اشارہ دیا تھا کہ 2014ء کے الیکشن میں ووٹنگ مشینوں میں ہیرا پھیری ہوئی تھی انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ہاں آج بھی میں اس میں ہیرا پھیری کر کے اپنا کرشمہ دکھا سکتا ہوں۔ اس انکشاف نے بھارتی انتخابی عمل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے ۔ بھارت کے چیف الیکشن کمشنر نے دہلی کے پولیس کمشنر کو ایک عرضی تحقیقات کے لیے بھیج دی ہے ۔ مودی کے لیے مسائل بڑھیں گے کانگرس کا مضبوط ہوتا چیلنج ہے تو آئین اور بھارت کی جمہوریت کو بچانے کے لیے آواز اٹھ رہی ہیں۔ راہول گاندھی نے پٹنہ کے تاریخی گاندھی میدان میں جلسہ کیا بڑی جذباتی تقریر کی ۔ بہار میں اتنا بڑا جلسہ کانگریس نے پہلی بار کیا ہے ۔ انہوں نے عوام کو نوید سنائی کہ بہار میں اب حزب اختلاف کی حکومت آنے والی ہے کارکردگی کو دیکھا جائے تو خود مودی نے اپنے وعدے پورے نہیں کیے۔ عوام کو بجٹ میں سہولتیں دی جائیں یا غریبوں کو پیکیج دیاجائے۔ عوام اب فیصلہ کارکردگی کو دیکھ کر ہی کریں گے۔


ای پیپر