ایک اور یوم یک جہتی کشمیر ۔۔۔!
04 فروری 2019 2019-02-04

کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے۵ فروری کو ایک اور یوم ِ یکجہتیِ کشمیر منایا جا رہا ہے ۔ تحریکِ آزادیِ کشمیر کے حوالے سے مذاکرے، سیمینار، احتجاجی جلسے، جلوس اور ریلیاں منعقد ہونگی۔ آزاد کشمیر میں کوہالہ پُل اور بعض دوسرے مقامات پر ہاتھوں کی طویل زنجیریں بھی بنائی جائیں گی۔ یہ سب کچھ ہم پچھلے اڑھائی تین عشروں سے جب سے 5 فروری کو یوم ِ یکجہتی کشمیر منانے کا سلسلہ شروع ہوا ہے کر رہے ہیں ایسا کیا بھی جانا چاہیے کہ پاکستان جہاں کشمیریوں کے حقِ خود اردیت کا سب سے بڑا حامی ہے وہاں کشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خلاف اقوامِ متحدہ میں اور عالمی رائے عامہ کے سامنے بھارت کے مقابلے میں ایک فریق کی حیثیت بھی رکھتا ہے۔ یہ کشمیریوں کی بد قسمتی ہے کہ سات عشروں سے جاری اُن کی جدوجہدِ آزادی قربانیوں کی ایسی داستان بنی ہوئی ہے جس کی قوموں کی تاریخ میں مثال ملنی مشکل ہے ۔ کیا اس سے بڑھ کر بھی قربانیاں ہو سکتی ہیں کہ ایک خطہِ ارض پر بسنے والے لاکھوں افراد اپنے اوپر مسلط کی جانے والی غلامی اور جبر و استبداد کے خلاف اتنے طویل عرصے سے برسر پیکار ہوں لاکھوں افراداپنی جانوں کی قربانی دے چکے ہوں بستیوں اور آبادیوں کے قبرستان شہیدوں کی قبروں سے بھرے پڑے ہوں، تعلیمی ادارے اور تفریحی مقامات قابض اور غاضب فوج کے کیمپ اور ٹارچر سیل بنے ہوئے ہوں ظلم وستم اور جبرو استبداد کا بازار گرم ہو اوراسکے خلاف ہڑتالیں احتجاجی مظاہرے، خونریز ہنگامے اور جلسے جلوس روز کامعمول بنے ہوئے ہوں لیکن پھر بھی اس خطہ ارض پر بسنے والے آزادی، خودمختاری اور اپنی منزل مقصود کو پانے سے محروم ہوں۔ یہ خطہ ارض جنت نظیر کشمیر ہے جو گزشتہ تقریباً سات دہائیوں سے اس المناک صورت حال سے دوچار ہے۔ کشمیری مسلمان اپنی جدوجہدِ آزادی جاری رکھے ہوئے ہیں اُن کی یہ جدوجہد آزادی پہلے ڈوگرہ راج کے خلاف اور پھر بھارت کے خلاف پچھلے کئی عشروں سے جاری چلی آ رہی ہے اور یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ کشمیریوں کی جدو جہد جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کی انگریزی راج سے آزادی کی تحریک کی شانہ بشانہ شروع ہو گئی تھی۔ مارچ 1931 ء میں کشمیر میں ڈوگرا راج کے خلاف مسلمان مظاہرین کو نشانہ بنایا گیا تو پورے کشمیر میں مسلمان احتجاج کے لئے اُٹھ کھڑے ہوئے۔ لیکن مارچ 1940 ء میں لاہور میں قرار داد پاکستان کی منظوری کے چار ماہ بعد جولائی 1940 ء میں کشمیری مسلمانوں کی نمائندہ جماعت آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس نے کشمیر کی آزادی کے لئے باقاعدہ قرار داد منظور کی۔ اور اپنے قائد احرار ملت چودھری غلام عباس مرحوم کی قیادت میں کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کو اپنی منزل قرار دیا۔ 3 جون 1947 ء کو تقسیمِ ہند منصوبے کا اعلان ہوا جس میں ہندوستان کی نیم خو د مختار ریاستوں کو جو براہِ راست تاجِ برطانیہ کے ماتحت تھیں یہ حق دیا گیا کہ وہ اپنے جغرافیائی محل وقوع اور اپنے عوام کی خواہشات کا خیال رکھتے ہوئے بھارت یا پاکستان میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کر سکیں گی یا اپنی نیم خود مختار حیثیت برقرار رکھ سکیں گی۔ کشمیر کا ڈوگرا ہندو حکمران مہاراجہ ہری سنگھ جو کشمیری مسلمانوں کی آزادی کے لیے شروع کی جانے والے تحریک کی بنا پر مسلمانوں کو اپنا دشمن سمجھتا تھا وہ کسی صورت میں کشمیر کا پاکستان کے ساتھ الحاق نہیں چاہتا تھا۔ اس کو دیکھتے ہوئے کشمیری مسلمانوں کی نمائندہ جماعت آل جمو ں و کشمیر مسلم کانفرنس نے 19 جولائی 1947 ء کو واضح لفظوں میں یہ مطالبہ کیا کہ ’’چونکہ جغرافیائی ، مذہبی ، تاریخی اور ثقافتی ہر لحاظ سے یہ ضروری کہ ریاست جمو ں و کشمیر اور گلگت و لداخ کا الحاق پاکستان کے ساتھ ہو لہٰذا مہاراجہ ہری سنگھ کو خبردار کیا جاتا ہے کہ اگر اُس نے اس کے برعکس کوئی فیصلہ کیا تو کشمیری عوام اُس کے خلاف اُٹھ کھڑے ہونگے‘‘۔

14 اگست 1947 ء کو ہندوستان میں دو آزاد مملکتوں پاکستان اوربھارت کے وجود میں آنے کے بعد کشمیری عوام کے کشمیر سے پاکستان کے الحاق کے مطالبے میں اور شدت آگئی اور پورے کشمیر میں مسلمان اس مطالبے کے حق میں ڈوگرا راج کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے۔ پاکستان سے ملحقہ کشمیر کے علاقوں کو ڈوگرا راج سے آزاد کروالیا گیا اور 24 اکتوبر 1947 ء کوآزاد کشمیر حکومت کا باقاعدہ اعلان کر دیا گیا۔ ڈوگرا حکمران مہاراجہ ہری سنگھ شروع میں کشمیر کے بھارت کے الحاق کے حق میں نہیں تھا لیکن بھارتی وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو ،گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور بھارتی وزیر داخلہ سردار پٹیل کے دباؤ پر اس نے 26 اکتوبر 1947 ء کو کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق کا اعلان کر دیا۔ اور اسکے ساتھ ہی بھارتی فوجیں جو پہلے خفیہ طور پر ڈوگرا مہاراجہ کی حمایت کے لئے کشمیر میں موجود تھیں اب کھلم کھلا مسلمان مجاہدین کوکچلنے کے لیے حرکت میں آگئیں۔پاکستان کو بھی اپنے فوجی دستے کشمیر میں بھیجنے پڑے یکم جنوری 1948 ء کو بھارت کشمیر کا تنازع اقوام متحدہ میں لے گیا ۔اقوام متحدہ کی کوششوں سے بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی ہو گئی اورطے پایا کے کشمیری اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے میں آزاد ہونگے اورآزادانہ رائے شماری کے ذریعے پاکستان یا بھارت میں سے جس کے ساتھ چاہیں الحاق کر سکیں گے۔ بھارت شروع میں اقوام متحدہ کی قرادادوں پر عمل درآمد کرنے کی یقین دہانیاں کراتا رہا لیکن بعدمیں وہ کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دے کر ان قراردادوں سے منحرف ہو گیا۔

بلا شبہ بھارت نے کشمیریوں کے حقوق کو غصب کر رکھا ہے وہ کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے اور کشمیر (مقبوضہ کشمیر ) پر اپنا قبضہ برقرار رکھنے اور کشمیریوں کے جذبہ حریت کو کُچلنے کے لیے اُس نے اپنی سات لاکھ فوج مقبوضہ وادی میں تعینات کر رکھی ہے۔ مقبوضہ وادی میں بھارت کے خلاف احتجاجی مظاہرے، ہڑتالیں، جلسے جلوس اور ہنگامے روز کا معمول ہیں ان کے جواب میں درندہ صفت بھارتی فوجیوں کی مظاہرین کے خلاف فائرنگ، بے گناہ اور معصوم کشمیریوں کی جانوں کا ضیاع اور کرفیو کا نفاذ بھی روزانہ کا معمول ہے۔ بھارتی درندوں کے ہاتھوں جب بھی کوئی کشمیری نوجوان شہید ہوتا ہے تو کشمیریوں کا جذبہ حریت اور بھارتیوں سے نفرت اور پاکستان سے محبت کا اظہار دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ شہید کے جنازے میں جہاں ہزاروں کی تعداد میں افراد پاکستان کے حق میں نعرے بلند کر تے ہوئے شریک ہوتے ہیں وہاں شہید کے تابوت کو پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر لحد میں اتارا جاتا ہے۔

کشمیری یقیناً کشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضے کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ وہ بھارت سے آزادی چاہتے ہیں اور الحاقِ پاکستان ان کی آخری منزل ہے۔ اس کا تازہ ثبوت انہوں نے ابھی ۳ فروری کو بھارتی وزیر اعظم نرنیدر مودی کے مقبوضہ کشمیر کے دورہ کے موقع پر بہم پہنچایا جب آل پارٹیز حریت کانفرنس کی اپیل پر پوری مقبوضہ وادی میں ہڑتال رہی، احتجاجی مضاہرے اور جلسے جلوس منعقد ہوئے اور پاکستا ن کے حق میں نعرے بلند کیئے گئے۔ بے مثال قربانیوں سے عبارت کشمیریوں کی لازوال جدوجہد آزادی یقیناًایسی ہے کہ جس کی مثال قوموں کی تاریخ میں نہیں ملتی لیکن سوال یہ ہے کہ جدوجہد کب کامیابی سے ہم کنار ہوگی اور اس کے لئے سروں کی کتنی فصیلیں کٹنے کا انتظار کرنا پڑے گا اس کا جواب پاکستان سمیت علمی برادری با لخصوص امریکہ اور برطانیہ جیسے ممالک کے زمے ہے۔


ای پیپر