کیا ہمیں کسی دوسرے نظام حیات کی ضرورت ہے؟
04 فروری 2019 2019-02-04

ان دنوں بعض عوامی اور دانشور حلقوں کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ ملک کو ایک دوسرے نظام کی ضرورت ہے جسے صدارتی کہتے ہیں کیونکہ موجودہ نظام جو پارلیمانی کہلاتا ہے۔ عوام کی زندگی کو پُر آسائش نہیں بنا سکا انہیں بنیادی حقوق فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے عام آدمی کے مسائل آکاس بیل کی مانند بڑھتے ہی جا رہے ہیں اس کی وجہ یہی ہے کہ منتخب نمائندے عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں میں زیادہ دلچسپی نہیں لیتے انصاف کے تقاضوں کو پورا نہیں کر پا رہے۔ بد عنوانی کے عفریت نے مضبوطی سے اپنے پنجے گاڑ لیے ہیں ۔ عوام کی حالت روز بروز کمزور ہوتی جا رہی ہے انہیں ریاستی ادارے انسان تسلیم کرنے سے انکاری ہیں ایک بے بسی کا عالم ہے ۔ لوگوں کی عزتیں محفوظ ہیں نہ مال و متاع مہنگائی بے روز گاری نے نوجوانوں کے ذہنوں پر منفی اثرات مرتب کرنا شروع کر دیے ہیں۔ غرض ایک افراتفری پھیلی ہوئی ہے اور معاشی صورت حال خراب ہوتی جا رہی ہے اگرچہ اسے ٹھیک کرنے کی سر توڑ کوششیں کی جا رہی ہیں مگر مستقلاً ایسی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی کہ یہ مسئلہ حل ہو سکے ان کا خیال ہے کہ اس حوالے سے اختیارات اس نظام کو تفویض کیے جانے چاہئیں جو بہتر طور سے حالات کو تبدیل کرنے کی اہلیت اور طاقت رکھتا ہو۔ پارلیمانی نظام میں دو تہائی اکثریت کا حصول نا ممکن ہو چکا ہے کیونکہ ملکی سیاست اور سیاسی جماعتیں تقسیم در تقسیم ہو چکی ہیں لہٰذا قانون سازی کا عمل رک گیا ہے ۔ اگر قومی مفادمیں تمام جماعتیں متحد ہوجاتی ہیں تو کوئی روشن راستہ دکھائی دے سکتا ہے مگر کوئی بھی کسی دوسری جماعت جو بر سر اقتدار ہو اسے عوام کے قریب کرنے کے حق میں نہیں اس سوچ کے پیش نظر عوامی بہتری کے منصوبے سخت متاثر ہو رہے ہیں جو یکجہتی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں لہٰذا لازمی ہے کہ پارلیمانی نظام کی جگہ صدارتی لایا جائے تاکہمعاملات بہ احسن طریق چلائے جا سکیں اور فیصلہ کرنے کی طاقت صدارتی جمہوریت کے ہاتھ میں ہو ۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ وہ صدارتی نظام کی حمایت اس لیے بھی کرتے ہیں کہ صدر کو یہ دھڑ کا نہیں ہوتا کہ وہ ایوان زیریں کے اراکین کے ہاتھوں کھیل سکے گا ۔ کیونکہ وہ اسے عدم اعتماد کے ذریعے استعفیٰ دینے پر مجبور نہیں کر سکتے پھر وہ ایسے وزراء کا انتخاب ضروری نہیں منتخب نمائندوں میں سے ہی کرے گا لہٰذا وہ ان وزراء کو اپنی کابینہ میں شامل کرتا ہے جو اپنے شعبوں میں مہارت رکتھے ہیں اور پالیسیاں بنانے کی پوری صلاحیت بھی !

سوال مگر یہ ہے کہ اگر فرد واحد نرگسیت کا شکار ہو اور اپنی مرضی عوام پر ٹھونسنا چاہے تو اسے کون روک سکتا ہے وہ دلیل کو بھی فضول سمجھتا ہو اور انسانی آزادی کے تصور کو غیر اہم قرار دیتا ہو کہ چونکہ ابھی لوگوں کو تعلیم و تربیت کے عمل سے گزرنا ہے اور ان میں سرکشی و بغاوت کا عنصر بدرجہ اتم موجود ہوتا ہے لہٰذا انہین شتربے مینار نہیں چھوڑا جا سکتا ایسی صورت میں وہ کیونکر عوام کی ضروریات و توقعات کو پورا کرنے کی کوشش کرے گا ؟

اب پارلیمانی نظام حکومت کو دیکھتے ہیں جسے جمہوری نظام کہتے ہیں اس میں عوام اپنے نمائندے براہ راست یعنی ووٹ کے ذریعے منتخب کرتے ہیں جو بعد اذاں جن جن سیاسی جماعت سے تعلق رکھتے ہوں اپنی اکثریت ظاہر کر کے حکومت سازی کرتے ہیں اور انہیں عوام کے سامنے جوابدہ ہونا پڑتا ہے اس نظام کے تحت بننے والی حکومت چونکہ جمہوریت پر یقین رکھتی ہے لہٰذا وہ عام لوگوں کے نظریات کا خیال رکھتی ہے قوانین عوام کی خواہشات کے مطابق بنائے جاتے ہیں فقط اس نظام ہی میں لوگ بحث و تنقید کے ذریعے حکومت کی پالیسیوں اور فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں اس طرح یہ نظام جمہوریت، اہلیت اور عوامی خوشحالی کے دوہرے مقاصد پورے کرتاہے۔ اس کی خوبی یہ بھی ہے کہ یہ عام لوگوں کی اخلاقی اقدار کو بھی فروغ دیتا ہے اس میں انفرادی ذمہ داری اور جزبہ دونوں ابھر کر سامنے آتے ہیں۔

لہٰذا اسی نظام کے تحت ہی عوامی خوشحالی ہو سکتی ہے۔ کیونکہ لوگ محسوس کرتے ہیں کہ حکومت ان کی اپنی ہے لہٰذا وہ اس پر فخر محسوس کرتے ہیں اور وہ جانتے ہوتے ہیں کہ انہیں اپنے حکمرانوں کو تبدیل کرنے کی کامل آزادی حاصل ہے ۔ پارلیمانی جمہوریت کے حق میں یہ بھی دلیل دی جاتی ہے کہ یہ وسیع پیمانے پر تعلیم و تربیت کا تجربہ ہے یہ شہریوں کی ذہنی و روحانی صلاحیتوں میں ترقی کا باعث بنتی ہے لوگ اجتماعی مسائل میں زیادہ دلچسپی لینے لگتے ہیں اس میں مساوات قائم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے یعنی جمہوری نظام طبقاتی حقوق کا اصول ختم کر کے مساوی حقوق کا اصول رائج کرتا ہے اور ہر کوئی اپنی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرنے کا راستہ تلاش کرتا ہے۔ یہی نہیں یہ نظام باہمی مشاورت سے چلایا جاتا ہے۔ ماہرین کا اس نظام کا بارے یہ بھی کہنا ہے کہ یہ بنیادی طور پر امن کا فلسفہ ہے یہ جنگ اور ہر قسم کے تشدد کا مخالف ہے پارلیمانی حکومت میں عوام کی شرکت عوامی ذمہ داری اور عوامی محاسبہ کے عناصر شامل ہیں !کچھ اس طرح کا اظہار کے پی کے صوبائی وزیر اطلاعات شوکت یوسف زئی نے چند روز پہلے ’’ قلم دوست‘‘ کی طرف سے دیئے گئے ظہرانے میں کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ نظام کوئی بھی ہوا سے چلنا چاہیے خرابی عمل در آمد کروانے والی مشینری میں ہوتی ہے اگر وہ چاہے تو عوام کو ڈلیور کیا جا سکتا مگر بد قسمتی سے یہان عوام کی خدمت سے پہلو تہی کی گئی ہے یہی وجہ ہے کہ پچھلے دس برس کے دوران پارلیمانی جمہوری نظام ناکام دکھائی دیتا ہے اور اس کا ذمہ دار وہ طبقہ ہے جو حکمران رہا ہے اس میں نظام قصور وار نہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ پارلیمانی نظام میں منتخب نمائندے مخصوص مفادات کو پیش نظر رکھتے ہیں اور مروجہ طریق انتخاب کے ذریعے ایوانوں میں آنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں پھر اس میں سے زیادہ تر زندگی کی دوڑ میں مصروف عمل ہو جاتے ہیں اس طرح عوام سے کیے گئے وعدے پس پشت ڈال دیئے جاتے ہیں اور اگر پارلیمنٹ میں کسی جماعت کو سادہ اکثریت حاصل نہیں ہوتی تو مطلوبہ تعداد کے لیے بھاگ دوڑ کرنا پڑتی ہے ظاہر ہے ایسی صورت میں ساتھ ملانے والوں کے بعض ’’ مطالبات‘‘ کو بھی مد نظر رکھنا پڑتا ہے اس کے با وجود پارلیمانی نظام کو چلنا چاہیے کیونکہ آہستہ آہستہ اس میں بہتری آئے گی اور لوگون کومخلص نمائندے منتخب کرنے میں کامیابی حاصل ہو گی!

جاوید خیالوی کا نقطہ نظر ذرا مختلف ہے کہ اگر یہی نظام جاری رہتا ہے تو اس امر کی امید بہت کم ہے کہ تعمیر و ترقی کا عمل تیزی سے آگے بڑھے کیونکہ پچھلے دس برس میں جو لوٹ کھسوٹ کی گئی ہے اس سے بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ ملکی خزانے پر دباؤ بڑھے گا کم نہیں ہو گا اور پھر آئندہ اور موجودہ حکومت کے یکسوئی سے کام کرنے کے امکانات معدوم ہو جائیں گے کیونکہ نظریہ آ رہا ہے کہ کوئی بھی ایسی جماعت دو تہائی نشستیں حاصل کرنے کی پوزیشن میں نہیں لہٰذا قانون سازی بھی نہیں ہو سکتی اور ایسی قانون سازی نہیں ہو سکتی جو اشرافیہ کے لیے موزوں و مناسب نہ ہو چلیے قوانین بن بھی جاتے ہیں ان پر عمل در آمد کون کرائے گا کیونکہ جو بن چکے ہیں انہیں کوئی پوچھتا نہیں وجہ اس کی یہی ہے کہ ادھر اُدھر سے اکھٹے کر کے نمائندوں پر مشتمل حکومت بنائی جاتی ہے جو اپنی خواہشات کے اسیر ہوتے ہیں اور ہر وہ فعل سر انجام دیتے ہیں جو وہ چاہتے ہیں یہ سلسلہ اب تک جاری و ساری ہے اور اصلاح کی کوئی گنجائش نہیں جبکہ معیشت کے علاوہ سماجی مسائل بھی پریشان کر رہے ہیں اور اہل اقتدار اور اختیار کی حالت دیدنی ہے کہ وہ سر جھکائے بیٹھے ہیں۔لہٰذا میری رائے میں صدارتی جمہوری نظام کے بغیر صورت حال قانو میں نہیں آئے گی مگر شرط یہ ہے کہ صدر پُر خلوص ہو اور عوام کا درد اپنے دل میں رکھتا ہو!

کسی حد تک یہ بات درست بھی ہے کیونکہ ابھی تعلیم و تربیت کے مراحل سے عوام اور نمائندوں نے گزرنا ہے لہٰذا ان کا انتخاب مثالی نہیں ہو سکتا اور پھر مسائل کی چکی بھی یونہی چلتی رہے گی لہٰذا لازمی کسی دوسرے نظام حیات کی جانب بڑھنا ہو گا ۔ صلائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لیے !

نوٹ: صدارتی نظام سے مراد صدارتی جمہوریت ہے !


ای پیپر