pdm jalsa,maulana fazalur rehman,backbone,oppressed
04 دسمبر 2020 (23:01) 2020-12-04

ڈیرہ اسماعیل خان: پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ملک کے تمام شعبہ جات مشکل سے دوچار ہیں اور ہمیں ان مظلوموں کی آواز بننا چاہئے، معیشت جو کسی ریاست کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے وہ ٹوٹ چکی ہے ۔

ایک  تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ حکومت نمائش کیلئے چیزوں کی قیمتوں کمی کا دعویٰ کرتی ہے مگر جب سو روپے کی چیز ہزار روپے پر چلی جائے اور اس کی قیمت ساڑھے نو سوروپے کرنے کو کارنامہ قرار دیا جائے تو قوم ایسے لولی پاپ سے بہلنے والی نہیں ہمارے فاٹا کے عوام نے 125سال جس نظام کے تحت گزارے اور کئی نسلیں اس کے تسلسل میں پروان چڑھیں مگر نعرہ لگایا گیا کہ ایف سی آر ختم کی جائیں مگر جس بے ڈھنگے انداز سے قانون میں تبدیلیاں کی گئیں آج وہاں کوئی نظام نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ فاٹا میں لینڈ ریفارمز ممکن ہی نہیں کیونکہ لینڈ ریکارڈ ہی نہیں اور زمینیں قوموں کے نام پر تھیں۔ آج جب زمین تقسیم ہوتی ہے تو قبائل لڑ رہے ہیں یہ لوگ عوام اور قبائل کی نہیں اغیار کی جنگ لڑ رہے تھے۔ فاٹا کا انضمام بین الاقوامی قوتوں کا ایجنڈا تھا کہ پہلے فاٹا ور اور پھر گلگت بلتستان اور پھر کشمیر اور مجھے یہ بتایا گیاتھا جو آج ثابت ہورہا ہے۔ پہلے ہم نے کشمیر پر کتنی قربانیاں دیں مگر آج ہم اسے ہندوستانی بھیڑئیے کے منہ میں دے رہے ہیں اور ہمیں رحم نہیں آرہا۔ خطے میں ہندوستان کی بالادستی قائم کی جارہی ہے۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ  ہمارے حکمرانوں نے کشمیر پر ہندوستان کے قبضے کو تسلیم کیا ہے اور فلسطین کو نظر انداز کرکے اسرائیل کو تسلیم کرنے اور عرب دنیا میں اسرائیل کی بالادستی کی باتیں کی جارہی ہیں۔ امت مسلمہ کی قیادت کو کیا ہوگیا کہ کہ خدا کی بجائے امریکا کے سامنے سر جھکانے کی باتیں کی جارہی ہیں۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بجائے فلسطین تسلیم کرنے، بیت المقدس کی حوالگی مسلمانوں کے حوالے کرنے کی باتیں کوئی نہیں کرتا۔ ہم اپنے حقوق و اصول سے دستبردار ہوگئے ہیں۔


ای پیپر